بسْــــــــــــــــــمِ اﷲِالرَّحْمَنِ الرَّحِيم


 مرد مجاہد


 پارٹ 5


کلرک تو ویسے بھی بیٹھ کے کام کرنے کے عادی ہوتے ہیں ۔تیز تیز قدموں سے چلتے ہوئے کیپٹن واجد نے مجھے مخاطب کیا 
ہاہاہاہا  ۔ ۔ ۔میں نے ہلکا سا قہقہہ لگایا 
سر کلرک بھی میں پاکستان آرمی کا ہی ہوں اور پاکستان آرمی کے لیے سب سے پہلے پاکستان پھر دوسری ترجیحات ۔میں نے پرعزم لہجے میں کہا اور تیز قدموں سے آگے بڑھتا رہا۔باتوں باتوں میں ہم چوکی پہ پہنچ گئے ابھی نے کندھے سے گن اور دیگر سامان اتارا ہی تھا کہ ہمارے دیگر ساتھی بھی پہنچ گئے اور ایک بار پھر فضا اللہ اکبر اور پاکستان ذندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔سب نے ہمیں باری باری یوں گلے لگایا جیسے ہم کو ئی بہت بڑا محاذ سرکرکے آئے ہوں ۔ہمیں بھوک ستارہی تھی سو ہم نے جلدی سے یونیفارم تبدیل کیےاور کھانا کھانے میس کی طرف چل دئیے 
میرے چہرے سے میری اندرونی کشمکش کو خاور اور فیاض نے بھانپ لیا نماز کے بعد میں بنکر کی طرف گیا تو دونوں نے مجھے گھیر لیا ؟
اسفند کیا ہوا یار ؟کچھ پریشان لگ رہے ہو خاور نے کھوجتی نگاہ سے دیکھا اسکی ڈیوٹی کہیں اور تھی اور وہ ساری بات سے لاعلم تھا 
ہاں یہی بات میں بھی پوچھنے والا تھا فیاض بھی ہم دونوں کی طرف باری باری دیکھ کر بولا 
کچھ نہیں یارو کچھ سوالات ذہن الجھا رہے ہیں 
کیسے سوالات ؟خاور نے بھنویں اچکاکر کہا
یہی کہ دشمن نے ہم پر اٹیک کیوں کیا ؟انہیں ہمارے افسر کے وزٹ کا کیسے پتہ تھا اور انہوں نے اس لڑکی کو کیوں نہیں مارا ؟بہت سارے سوالوں میں,میں ان دونوں کو الجھا کر یک دم سے باہر آگیا اب میرا رخ حوالدار امتیاز کے کمرے کی طرف تھا 
آو آو اسفند خیریت کیوں اتنی عجلت میں دکھائی دے رہے ہو ؟میں دروازہ کھول کر تیزی سے حوالدار امتیاز کی طرف بڑھا تو انہوں نے بغور میری طرف دیکھ کر کہا 
سر۔ ۔ ۔ ۔وہ  لڑکی ابھی ذیادہ دور نہیں گئی ہوگی اسی گاؤں میں ہوگی ۔میں نے اس لڑکی کے بارے میں ڈیٹیل بتاتے ہوئے پرسوچ انداز میں دیکھا 
اوہ۔ ۔ ۔تو پھر کیا پلان ہے؟انہوں نے غور سے مجھے دیکھا
سر۔ ۔ ۔کیا اس بارے میں ہیڈ کوارٹر کو انفارمیشن ہے؟میں نے الٹا سوال داغ دیا 
نہیں ابھی تک تو نہیں ۔ انہوں نے نفی میں سر ہلایا 
کیوں خیریت تو ہے نا؟انہوں نے اچنبھے سے تکا
وہ یہ بات بھی اچھی طرح سے جانتے تھے کہ میں Inteligence unit میں بھی رہ چکاہوں 
آہم۔ ۔ سر خیریت ہی ہے بس یہ سوچ آرہی ہے کہ ہم نے دشمن کو منہ توڑ جواب دے تو دیا ہے اور اس نے اپنا کافی نقصان بھی کرالیا لیکن بہرحال وہ اپنا جاسوس ہماری سرحد میں داخل کرنے میں کامیاب ہو ہی گئے یہ مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا اور نہ ہی میں یہ ہرگز سننا چاہتا ہوں کہ ہماری بٹالین کے بارے میں لوگوں کا غلط تاثر ہو کہ ہمارے ہوتے ہوئے انکے علاقے میں جاسوس سرعام دندناتے پھررہیں۔میں کسی گہری سوچ میں ڈوب کر بولا 
سر۔ ۔ ۔میں اسکو خفیہ طریقے سے ہینڈل کرنا چاہتا ہوں اور میرا آپ سے وعدہ ہے کہ اگلے 72گھنٹوں میں اس لڑکی کو میں گرفتار کرلونگا،
مگر میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ اگلے 72گھنٹوں تک یہ بات صرف ہماری پوسٹ تک محدود رہے میں نے پراسرار انداز میں کہا 
آہم۔ ۔آہم رسک ہے اسفند پھر بھی سوچ لو وہ اچانک سے بولے
سر بھروسہ رکھیں میں نے انکے ہاتھ ہاتھوں میں لےکر گرم جوشی سے دبائے 
اوکے اسفند Best of luckاپنا بہت سا خیال رکھنا تھوڑے توقف کے بعد بلاآخر انہوں نے میری ضد کے آگے ہتھیار ڈالتے ہوئے کہا 
سرThank you so much آپ نے مجھ پر بھروسہ کیا میرے گال جوش سے تمتمانے لگے
میں اپنے کمرے میں شکستہ قدموں سے لوٹ آیا اور بستر پہ ڈھے سا گیا تھکاوٹ غالب تھی مگر دل کی بے چینی کسی کروٹ چین نہیں لینے دے رہی تھی نیند بھی آنکھوں سے کوسوں دور تھی کافی دیر تک بے خیالی میں چھت کو گھورتا رہا اور آگے کا لائحہ عمل سوچتا جانے کب نیند کی مہربان آغوش میں جا سویا 
اسفند۔ ۔ ۔اسفند کوئی مجھے پاؤں پہ ہاتھ لگاکر اٹھا رہا تھا 
اسفند your deuty time start nowجلدی سے یونیفارم پہن لو میں نے آنکھیں کھولیں اور سست روی سے اٹھ کر بیٹھ گیا خاور مجھے اٹھا کر یونیفارم بدلنے چلاگیا 
میری گھڑی پہ نگاہ پڑی اور میں وقت دیکھ کر فوراً الرٹ ہوا
اگلے پانچ منٹ میں میں یونیفارم پہن کر ڈیوٹی پر پہنچ چکا تھا 
میری ڈیوٹی کا دورانیہ شام چھ بجے سے رات بارہ تک ہوتا تھا ۔ دوران ڈیوٹی بھی میں عجیب تذبذب کا شکار رہا.مجھے سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ کروں تو کیا کروں میرا ذہن مختلف قسم کی سوچوں کی آماجگاہ بناہوا تھا 
بعض دفعہ انسان عجب مخمصے میں پھنس کر رہ جاتا ہے جب اس سے کسی چیز کے بارے میں فیصلہ نہ ہوپارہا ہو تو وہ اندر ہی اندر مرنے لگتا ہے ٹوٹ سا جاتا ہے کچھ ایسا میرے ساتھ بھی ہورہا تھا ویسے تومیں بڑے مظبوط اعصاب کا مالک ہوں مگر اس معاملے میں میرے اعصاب جواب دیتے جارہے تھے دل سلگ رہا تھا میرا اور آنچ تک دکھائی نہ دے رہی تھی کسی کو 
کیا کمال ِ ضبط تھا میں اپنی سوچوں میں غلطاں تھامیں نے کبھی بھی فیصلہ لینے میں اتنی دیر نہیں کی لیکن ۔ ۔ ۔ ۔
پتہ نہیں کیوں آج صبح سے میرے اندر عجیب سی تبدیلی رونما ہوگئی تھی میری سوچیں جیسے سلب ہوکر رہ گئی ہوں ۔ ۔ ۔ ۔کیا کرتا معاملے کی نزاکت ہی ایسی تھی کہ کسی سے مشورہ بھی نہیں کرسکتا تھا اور وقت تھا کہ گزرنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا فیاض کی ڈیوٹی میرے بعد تھی خدا خدا کرکے بارہ بجے اور میں نے لپک جھپک فیاض کو اٹھایا
فیاض کے ڈیوٹی سنھبالتے ہی میں نے اسے بتایا کہ میں گل لالہ سےملنے جارہا ہوں اور تاکید کی کہ اس بات کا کسی کو علم نہ ہونے پائے خاور کے بعد فیاض بھی میرا شریک راز بن چکا تھا 
اسفند آج یونیفارم نہیں تبدیل کروگےاور یہ گن کیوں لے کر جارہے ہو؟فیاض نےحیرت سے میرا حلیہ ملاحظہ کیا کیونکہ اس سے پہلے میں کبھی بھی یونیفارم اور اسلحہ لیکر اس سے ملنے نہیں گیا تھا فیاض کے لیے یہ بات یقیناً حیران کن تھی 
فیاض آج کا حملہ خطرے کی کئی گھنٹیوں کو بجارہا ہے وہ حملہ صرف حملہ نہیں تھا،
بلکہ اس لڑکی کو بچانے کے لیے ان دشمنوں کی حکمت عملی تھی ۔ ۔ ۔ ۔اور وہ لڑکی ۔ ۔ ۔ ۔اسی علاقے میں ہے تم سمجھ رہے ہو ناں ؟میری بات میں نے اپنے حلیے کی وجہ بتائ
ٹھیک ہے اللہ آپکی حفاظت کرے۔فیاض نے سر ہلا کر کہا اور اپنی ڈیوٹی پہ نکل گیا 
میں تیز تیز قدموں سے بغیر آواز پیدا کیےاگلے بیس منٹ میں گل لالہ کے گھر کے پچھواڑے اپنی ملاقات کی مخصوص جگہ پہ کھڑا تھا....اور آج خلاف توقع گل لالہ مجھ سے بھی پہلے سے وہاں پہ موجود تھی اور آسمان پہ نگاہ جمائے جانے کیا سوچ رہی تھی میرے قدموں کی مخصوص آواز پر وہ میری طرف بڑے والہانہ انداز میں لپکی اور میرے گلے میں اپنے مرمریں بازوں حمائل کرکے وارفتگی سے بولی 
آج تو میرا شہزادہ یونیفارم میں ہی آگیا ہے اور یہ کیا کہ گن بھی ساتھ ہی لے آئے میں کیا کوئی دشمن ہوں ؟اس نے شوخ لہجے میں کہتے ہوئے میرے سینے پر ہلکا سا مکا بھی جڑدیا
ہاہاہاہا آج شاعری نہیں سناوگی کیا ؟میں ہولے سے ہنسااور سوالیہ انداز سے دیکھا 
ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ ہماری ملاقات ہو اور اسکی شاعری نہ ہو 
کیوں نہیں جناب میری شاعری تو صرف اور صرف میرے فوجی  کےلیے ہے۔اس نے موتیوں جیسے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے کہا
آنکھوں نے تمہیں دیکھا تھا اور دل نے پسند کیا 
صاحب اب تم ہی بتاؤ آنکھیں نکال دوں یا دل
اس نے ایسی ادا سے تکتے ہوئے شعر سنایا میں لمحہ بھر کو سب بھلا بیٹھا
میں نے گن اتار کر سائیڈ پر رکھی اور ایک دم سے گل لالہ کو اپنی بانہوں میں جکڑ کر اٹھالیا میرے مضبوط اور توانا بازوؤں میں وہ مجھے چھوٹی سی نازک سی ہلکی پھلکی سی گڑیا لگ رہی تھی 
ارے ارے کیا کررہے ہو گراوگے کیا مجھے ؟وہ سراسیمہ سی ہوکر بولی 
تم ہی تو میری سب سے بڑی دشمن ہو میں نے اسکی میں آنکھیں ڈال کر سرد لہجے میں کہا 
میرے منہ سے یہ الفاظ سنتے ہی گل لالہ کے چہرے پر ہوائیاں سی اڑنے لگی وہ ہولے سے لرزی جسے میں نے واضح محسوس کیا 
تم ہی نے تو میرا چین وقرار لوٹا ہے میری راتوں کی نیند چھینی ہے۔میں نے اسکی اڑی رنگت دیکھ کر اپنے لہجے میں چاشنی سموتے ہوئے اسے دھیرے سے نیچے اتار دیا
اسفند کے بچے ۔یو چیٹر۔تم نے تو میری جان ہی نکال دی تھی وہ چہک کر بولی اور یک لخت وہ مجھ سے لپٹ گئی اسکے پنکھڑیوں جیسے ہونٹ میری گردن سے ٹکرائےاسکے لبوں کی حدت نے میرے جسم میں بجلی کی لہر سی دوڑادی اور میرے اندر اک آگ سی بھر گئی میرے ہاتھ بےاختیار اسکی کمر پر سرک گئے میرے فولادی بازوؤں کا شکنجہ کب اسکی کمر پر سخت ہوا مجھے احساس ہی نہ ہوسکااور میری گرفت بڑھتی چلی گئی
اسفند میرا دم گھٹ رہا ہے کیا کر رہے ہو ؟اس سے پہلے کہ میں جذبات کی رو میں بہک جاتا گل لالہ کی گھٹی گھٹی سی آواز مجھے ہوش وحواس کی دنیا میں لے آئی میں نے ایک دم اپنی گرفت ڈھیلی کی اور گل لالہ کو ایک جھٹکے سے خود سے الگ کرکے اپنے مخصوص پتھر پر بیٹھ گیا
وہ خاموش کھڑی میرے چہرے کے تاثرات کا جائزہ لے رہی تھی اچانک اسکے پیچھے مجھے سرسراہٹ سی محسوس ہوئی،
وہ ایک چھوٹا سا سانپ تھا جو دھیرے دھیرے گل کی طرف بڑھ رہا تھا 
گل حرکت نہیں کرنا آنکھیں بند کرلو میں نے سرگوشیانہ انداز میں کہا اور ایک وزنی سا پتھر اٹھالیا جیسے ہی وہ سانپ گل کے قریب آیا  میں نے بجلی کی سی تیزی سے لپک کر پتھر سے اسکا سرکچل دیا وہ وہی بے دم ہوگیا گل نے آواز پر آنکھیں کھولیں اور دھشت ذدہ ہوکر دو قدم پیچھے ہٹ گئی 
اوہ میرے خدا وہ دونوں ہاتھ اپنی گالوں پہ رکھ کر خوفزدہ سی پتھر کے نیچے کچلے ہوئے سانپ کو دیکھ رہی تھی
وہ میرے پاس دوڑ کر آئی اور ساتھ لگ گئی 
اسفند اگر یہ  مجھے ڈس لیتا تو۔ ۔ ۔میں تو مر جاتی نا وہ ابھی تک اس خوف سے باہر نہیں نکلی تھی
نہیں گل نہيں مرتی تم اور ویسے بھی سانپ انسانوں سے ذیادہ بےضرر ہوتا ہے اسکا ڈسا تو پھر بچ جاتا ہے انسانوں کا ڈساتو زندہ درگور ہوجایا کرتا میں سردمہر لہجے میں بولا اور آہستہ سے اسے خود سے الگ کیا
اسفند آج تم کیسی باتیں کررہے ہو اسکا منہ اترگیا
ارے میری جان میں تمہیں کچھ ہونے دیتا۔ ۔کسی کی مجال ہے کہ وہ اسفندیار کے ہوتے ہوئے اسکے پیار اور اسکے وطن کا بال بھی بیکا کرسکے میں نے مسکراکر اسے تسلی دی وہ مطمئن سی ہوکر میری گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی 
اب میرے سارے ڈر سارے واہمے ختم ہو گئے ہیں اسفند وہ میرا ہاتھ چوم کر بولی
اسفند ایک بات پوچھوں ؟وہ مخمور نگاہیں میرے چہرے پہ ٹکاکر بولی 
ہاں جاناں پوچھو؟میں نے پیار سے دیکھتے ہوئے اسکے سلکی بالوں میں ہاتھ پھیرا 
اسفند آج تم اتنے پریشان اور الجھے الجھے سے کیوں ہو؟اور ہاں یاد آیا آج دن میں LOCکی سائیڈسے بہت ذیادہ فائرنگ کی آواز بھی آرہی تھی وہ کھوجتی نگاہوں سے  دیکھ کر بولی 
ہاں گل آج ہمارے افسران کا وزٹ تھا اور ہمیشہ کی طرح مکار دشمن بزدلانہ وار کرنے سے باز نہیں آیا مگر الٹا اسے ہی منہ کی کھانی پڑی اور ہم فتحیاب رہے میں نے ٹھوس لہجے میں فخر سے کہا
ہم ابھی انہی باتوں میں مصروف تھے کہ زور سے بجلی کڑکی اور بارش کی بوندیں جیسے زمین کو بوسہ دینے کو بےتاب ہونے لگیں تھیں 
گل چلو کمرے میں چلیں ۔ ۔ ۔ ۔میں نے گل کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا جو بجلی کے کڑکتے ہی سیدھی ہوکر بیٹھ چکی تھی 
نہیں نا۔ ۔ ۔بارش انجوائے کرتے ہیں نااس نے تردد کیا
پاگل یہ بارش انجوائے کرنے والی نہیں ہے اور میری یونیفارم اور گن دونوں بھیگ جایئں گے میں نے نرم لہجے میں کہا 
اچھا رکو۔ ۔ ۔میں دیکھ کرآتی ہوں کوئی جاگ تو نہیں رہا وہ تیزی سے سرہلاکر بولی
بارش کی بوندوں نے تیزی سے برسنا شروع کردیا تھا میں بارش سے بچنے کے لیے دیوار کی اوٹ میں ہوگیا لیکن بارش چونکہ آناً فاناً برسی تھی اور ایسی برسی کہ تیز بوچھاڑ سے میں بھیگ کر رہ گیا ۔میں نے حتی الامکان بارش سے بچنے کی کوشش کی مگر بے فائدہ  میں اچھا خاصا بھیگ چکا تھا اور میری گن بھی
گل کا کمرہ قریب ہی تھا مگر اس نے واپس آنے میں اتنی دیر کیوں لگادی میرا ماتھا ٹھنکامیں مذید یہاں نہیں رک سکتا تھا،
سردی کی بڑھتی لہر بھی میرے وجود کو کپکپارہی تھی لہذا میں آہستہ آہستہ قدموں سے اسکے کمرے کی جانب بڑھتا گیا ابھی میں دروازے تک ہی پہنچا تھا کہ گل بھی چلی آئی 
آجاؤ جلدی سے اندر اس نے میری طرف اپنا ہاتھ بڑھایا اور مجھے لیکر کمرے کی طرف بڑھ گئی 
میں نے سب سے پہلے اندر داخل ہو کر گن کو ایک کپڑے سے خشک کیا اور اسے ایک طرف رکھ کر خاموشی سے بیٹھ گیا 
میرا لباس قدرے بھیگ چکا تھا اور میرے بال گیلے ہوکر پیشانی پر چپک گئے تھے 
ارے۔ ۔ ۔آپ تو پورے بھیگ چکے ہو میں آپ کے لیے ابوجی کے کپڑے لے کر آتی ہوں اس نے اپنے آنچل سے میرا چہرہ صاف کیا اور میرے بال بھی خشک کیے مجھے اچھا لگ رہا تھا اسکا اپنا پن اسکی اوڑھنی سے ایک بھینی سی خوش بو آرہی تھی جسے میں نے گہرا سانس بھر محسوس کیا 
نہیں رہنے دو۔۔ ۔۔ ۔۔ہاں اگر ہوسکے تو ایک کپ چائے پلادو سردی محسوس ہورہی ہے میں نے نرمی سے منع کیا
اچھا میں بناکر لاتی ہوں یہ کہہ کر وہ باہر نکل گئی اور کمرے سے بیس قدم کے فاصلے پر موجود کچن میں گھس گئی تقریباً دس سے پندرہ منٹ بعد ہی وہ گرما گرم بھاپ اڑاتی چائے کے دو کپ لیے کمرے میں داخل ہوئی میں اپنی مخصوص جگہ پر کروفر سے براجمان تھا
رات کے دو بج رہے تھے خلقت خدا سب نیند کے خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھی اور یہاں رت جگا منایا جارہا تھا 
جلدی میں بنائی ہے پتہ نہیں کیسی بنی ہے وہ ہولے سے مسکراکر چائے کا کپ مجھے پکڑا کر میرے پاس ہی بیٹھ گئی 
میں اپنے خیالوں میں گم اسے ایک ٹک دیکھتا جارہا تھا 
ایسے کیا دیکھ رہے ہو اسفند ؟آج کچھ بدلے بدلے سے لگ رہے ہو ۔ ۔ ۔سب خیریت ہے نا؟وہ میرے پل پل بدلتے رویے سے خائف ہوکر بولی 
ہاں جاناں سب خیریت ہے۔ ۔ ۔بس ایک چھوٹی سی الجھن ہے جو سلجھ کے ہی نہیں دے رہی میں نے پراسرار سے لہجےمیں کہا
کیسی الجھن گل لالہ نے پریشان ہوکر سوالیہ نگاہ سے دیکھا 
کچھ خاص نہیں ۔ ۔ ۔میں نے ٹال دیا اور خالی کپ اسے تھمادیا وہ ہولے ہولے چسکیاں بھرنے لگی اسکی چائے ابھی باقی تھی وہ میرا کپ رکھ کر مڑی تو مجھے اپنی طرف گھورتا پاکر سہم سی گئی
کیا ہے اسفند ۔ ۔ ۔آپ گھورتے کیوں کیوں ہو؟آپکو پتہ ہے نا۔آپکے گھورنے سے مجھے ڈر لگتا ہے وہ اداسے پلکیں جھپکا کر بولی 
اچھا ۔ ۔ ۔میرے گھورنے سے تمہیں ڈر کیوں لگنے لگا ؟پہلے دن تو تم بالکل نہیں ڈری تھی بلکہ مجھے لتاڑ کر رکھ دیا تھا میں ہولے سے ہنسا اور پھر سنجیدہ ہوکر بولا
آج کے بعد کبھی نہیں گھورونگا گل لالہ ۔ ۔ ۔میرا لہجہ خود بخود سخت ہوگیا 
کیوں اسفند ایسا کیوں کہہ رہے ہو وہ گبھرا کر بولی اور مجھ سے لپٹ گئی 
اسفند ۔ ۔ ۔وہ میرے سینے کےساتھ سر لگاکر بولی
جدائی کی بات کبھی مت کرنا آپ کی گل مرجائے گی آپ کے بغیر وہ یہ کہہ کر سسکنے لگی 
میں نے دونوں ہاتھوں سے اسکا چہرہ اوپر کیا اسکی شربتی آنکھوں سے آنسو رواں تھے میں تھم سا گیااسکے بہتے ہوئے آنسو میرے دل میں اترتے ہوئے محسوس ہوئے اور میرا دل موم کی طرح پگھلنے لگا،
میری محبت آزردہ تھی میرا دل مغموم ہورہا تھا لیکن اگلے ہی لمحے میں نے سنبھلتے ہوئے حتمی لہجے میں کہا
گل میں ایک فوج کا سپاہی ہوں آرڈرز کا پابند ہوں غازی بننا یاشہادت کا رتبہ پانا میری اولین ترجیح ہےتم جانتی ہوناکہ ذلزلے سے کشمیر میں کتنی تباہی ہوئی ہے اور فوج کوبھی کافی نقصان اٹھانا پڑا ہے ہماری نفری بھی کم ہے ہمیں بلاخوف و جھجھک دشمن کا مقابلہ کرکے دشمن کوتہہ وتیغ کرنا ہے انہی وجوہات کی بنا پر تو ہمیں بٹالین ہیڈکوارٹر سے یہاں بلایا گیا ہےگل ایک فوجی کی محبوبہ ہوکر فوجی والا جگر تمہیں رکھنا ہوگا وہ میرے ساتھ کر سسک رہی تھی اور میں اس کے بالوں کو سہلاکراسے دلاسے دے رہا تھا
میں آپ سے ملنے آتا رہونگا مگر مجھ پر اس وطن عزیز کی مٹی کے بھی کچھ قرض ہیں مجھے انہیں بھی تو ادا کرنا ہے میں نے اسکی تائید چاہی
اسفند میں آپ کے بنا نہیں رہ سکتی وہ آنسو پیتے ہوئے لب کچل کر  بولی
میں بھی تمہارے بنا نہیں رہ سکتا پگلی ۔ ۔ ۔تمہارا اسفند تمہارے بنا کیسے رہ پائے گا یہ کہتے ساتھ ہی میری آنکھوں میں بھرآنےوالا پانی اشکوں کی صورت چھلک کر ایک لکیر سی بن کر میرے گالوں سے ہوتا ہوا اسکے نرم و نازک رخساروں پہ جا ٹہرا اور اسکے آنسوؤں میں مدغم ہوگیا 
کچھ دیر لگی مجھے سنبھلنے میں تب تک گل بھی اپنے آپ کو سنھبال چکی تھی جدائی کا تصور ہم دونوں کے لیے ہی کتنا سوہانِ روح تھا یہ صرف ایک ساتھ ڈھرکنے والے دو دل ہی جان سکتے تھے 
کل جی ایچ کیوGHQ کا اعلیٰ سطحی وفد اگلی چوکیوں کا دورہ کرےگا اور صورتحال کا جائزہ لےگا...مجھے لگتا ہے کہ کل ہمیں بٹالین ہیڈکوارٹر جانے کا حکم مل جائے گا شائد ۔ ۔ ۔ ۔میں نے سنجیدگی سے کہا 
اسفند مجھے چھوڑ کر مت جانا ۔ ۔ ۔نہیں جاؤگے نا؟وہ دیوانوں کی طرح مجھے جھنجھوڑ کر بولی اس کی آنکھیں شدت گریہ سے لال ہورہی تھیں اور  وہ اور بھی حسین لگ رہی تھی
میں مزید ایک حرف ِ تسلی بھی منہ سے نہ نکال سکا صرف پیار سے اسے سینے سے لگایا ماتھا چوما اور تھپکی دے کر جانے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا
زندگی رہی تو پھر ملاقات ہوگی میں نے الوداعی نگاہ ڈالی
اسں نے میرا ہاتھ تھام لیا اب وہ آس بھری نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھی اور ایک بار پھر اسکی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے 
لیکن مجھے ہر حال میں جانا تھا میرا مقصد ,میری منزل اور میرا ذہن اب بدل چکا تھا میں اسے نظر انداز کرکے دروازے تک پہنچا بارش تھم چکی تھی وہ گم   سم سی عین میرے پیچھے کھڑی تھی میں نے مڑ کر آخری بار اسے سینے سے لگایا اور کہا 
گل وہ بے آواز رورہی تھی میرے مخاطب کرنے پر آنسو صاف کرتےہوئے بولی 
جی جی میرے اسفند جس اپنائیت سے اس نے یہ کہا میرا دل کٹ کر رہ گیا
یہ لو تمہاری پازیب ۔ ۔ ۔شائد کہیں گرگئی تھی میں نے جیب سے پازیب نکال کر اسکی آنکھوں کے سامنے لہرائی ۔اور وہ تقریباً گرتے گرتے بچی اس نے دروازے کو تھام لیاوہ ششدر سی مجھے ہی دیکھ رہی تھی میں نے پازیب اسکے ہاتھ میں تھمائی اور باہر نکلا۔۔۔،

(جاری ہے)
 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney