بہنوئی سے پردہ کرنا جائز ہے یا ناجائز ہے 

بعض لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ بہنوئی سے پردہ نہیں ہے۔ اسکی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ اللہ رب العزت نے بہنوئی سے نکاح حرام فرمایا ہے۔ تو چونکہ اس سے بھی نکاح حرام ہے تو وہ محرم ہوگیا اب اس سے پردہ نہیں۔ یہ دلیل بالکل بے بنیاد ہے۔ اللہ رب العزت نے محرم ان کو قرار دیا ہے جن سے نکاح ابدی (ہمیشہ) حرام ہو جیسے بھائی، ماموں، چچا، باپ، بیٹا، بھانجہ، بھتیجہ، داماد اور سسر۔ یہ وہ رشتے ہیں جن سے کبھی بھی کسی بھی زمانے کسی بھی کیفیت میں نکاح ہو ہی نہیں سکتا۔ اسلیے ان سے پردہ بھی نہیں ہے۔
چونکہ بہنوئی سے نکاح صرف وقتی طور پر حرام ہوتا ہے یعنی جب تک ایک بہن اس کے نکاح میں ہے تب تک اس سے نکاح نہیں ہوسکتا جیسے ہی ایک بہن طلاق یا انتقال کے بعد نکاح سے نکلی دوسری بہن سے اسکے لیے نکاح حلال ہوجاتا ہے۔
شریعت نے آخر پردے کا حکم کیوں دیا ہے؟ کیونکہ بہنوئی سے پردہ نا کرنا ایک بہت بڑا فتنہ ہے۔ بہت سی معصوم لڑکیاں بہنوئی کو "بھائی" سمجھ کر محبت بکھیر دیتی ہیں اور پھر اپنی ہی بہن کا گھر نادانستہ طور پر تباہ کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ یاد رکھئیے بہنوئی شریف، متقی پرہیزگار بعد میں ہوتا ہے پہلے "مرد" ہوتا ہے۔ اسی لیے اللہ نے یہ نہیں فرمایا کے علماء سے، اساتذہ سے، بزرگوں سے، یا بوڑھوں سے پردہ نہ کرو کے وہ تقوی والے ہیں۔ بلکہ فرمایا ہر نامحرم سے پردہ ہے چاہے وہ کتنا بڑا علامہ ہی کیوں نا ہو جتنا بھی تقوی والا ہو وہ "مرد" پہلے ہے۔ سونے کی تاروں سے لکھا جانے والا حضرت یوسف علیہ السلام کا قول قرآن نے کچھ یوں بیان کیا ہے
وَ مَاۤ  اُبَرِّیُٔ نَفۡسِیۡ ۚ اِنَّ  النَّفۡسَ لَاَمَّارَۃٌۢ بِالسُّوۡٓءِ  اِلَّا مَا رَحِمَ  رَبِّیۡ ؕ اِنَّ رَبِّیۡ  غَفُوۡرٌ  رَّحِیۡمٌ ﴿۵۳﴾
اور میں یہ دعوی نہیں کرتا کہ میرا نفس بالکل پاک صاف ہے، واقعہ یہ ہے کہ نفس تو برائی کی تلقین کرتا ہی رہتا ہے، ہاں میرا رب رحم فرمادے تو بات اور ہے ( کہ اس صورت میں نفس کا کوئی داؤ نہیں چلتا) بیشک میرا رب بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔ (٣٣)۔
لہذا یہ آپ کے معاشرے میں عام ہے کہ بہنوئی بہت سی دفعہ اپنی ہی سالی کو پسند کرلیتے ہیں کیونکہ "سالی تو آدھی گھر والی ہوتی ہے" اور پھر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اصل بیوی کو چھوڑ کر سالی سے معاملات شروع اور بہت سی دفعہ سالی کے ساتھ فرار بھی ہو جاتے ہیں۔ پہلے خود بیویاں اپنی بہنوں کو قابو میں نہیں رکھتیں اور بعد میں روتی رہتی ہیں۔ اسی لیے اللہ پاک نے ہر اس دروازے پر ہی تالا لگا دیا جس سے فتنے کا اندیشہ تھا۔ اللہ پاک ہمیں سمجھ عطا فرمائیں۔

 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney