- ناول غرباء سے اقتباس


تمہیں پتا ہے بے نیازی کیسے ملتی ہے

ایسے کہ کسی کی بھی ضرورت محسوس نہ ہو...؟"، خولہ آنکھوں میں نمی لیے، لان میں ویل چیئر پر بیٹھی ڈوبتے سورج کو دیکھتے ہوے مریم سے پوچھ رہی تھی
.
مریم کو اس کے سوال پر حیرت نہیں ہوئی تھی. وه پچھلے کئ ماه سے اسے اس ہی طرح درد اور اضطراب سے گزرتے دیکھ رہی تھی۔
"اسکے لیے الله سے دوستی کرنی پڑتی ہے۔
کانٹوں پر چلنا پڑتا ہے. دل کو مارنا پڑتا ہے. اپنی ذات کو اسکے سامنے مٹانا پڑتا ہے، تب کہیں جا کے وه مقام ملتا ہے جسکا تم سوال کر رہی ہو۔۔"
خولہ بنا پلک جھپکے اسے یک ٹک دیکھے جا رہی تھی۔
"الله سے دوستی کیسے کی جاتی ہے؟"، وه اپنی بےچینی نہ چھپا سکی. اسکی آنکھیں اسکی روح کے سلگتے زخموں کی درد بھری جھلک لیے ہوئے تھی۔
مریم اب بہت محبت سے مسکرا کر کہنے لگی، "اس رب سے محبت کر کے۔
لیکن۔
اسکی محبت کے سمندر کو تیر کر پار نہیں کیا جاتا۔
اسکو پانا ہے تو اس سمندر میں ڈوب جاؤ۔
تمہیں ایسی بےنیازی عطا کی جائے گی جو دنیا تمہارے قدموں تک لے آئے گی۔"
خولہ سن گن بیٹھی اسکی باتیں اپنے اندر اتار رہی تھی۔
مریم پھر سے گویا ہوئی، "تمہیں پتا ہے الله قرآن میں سمجھاتے ہیں کہ وه تمہارے اور میرے لیے اکیلا ہی کافی ہے۔
تم نے کبھی اس پر غور کیا ہے ، کتنی بڑی بات ہے یہ؟ 
اگر ہم اسکو واقعی دل کی زبان سے پڑھتے تو کبھی سہارے تلاش نہ کرتے۔
جب اس رب نے کہہ دیا ہے کہ وه اکیلا ہی کافی ہی تمہارے ہر مسئلے کے لیے تو پھر لوگوں کو اپنی بیساکھی بنا کر خود کو لوگوں کے ہاتھوں ٹوٹنے کے لیے کیوں بھاگتے پھرو؟
الله کے سامنے رو۔
خوب دل کھول کے رو۔
وه تمہارے قیمتی آنسو پونچھے گا، تمہادے درد کی دوا بنے گا، اور تمہیں وه مضبوطی اور استقامت دے گا جو تمہیں ہر سہارے سے بےنیاز کر دے گی۔
پر اسکے لیے تمہیں اس پر بھروسہ کرنا سیکھنا ہو گا۔
اندھا اعتماد سمجھتی ہو؟
حضرت ابراھیم کی طرح کچھ بھی سوال کیے بنا آگ میں اترنا ہو گا۔
تب تم دیکھو گی تمہیں وه بےنیازی ملے گی جو صرف خاص لوگوں کو دی جاتی ہے."
اس نے دیکھا خولہ کے گال مسلسل بھیگ رہے تھے. آنسووں کا ایک سریا تھا جو اس وقت اسکی آنکھیں بہا رہی تھیں. وه اپنا سر جھکائے خاموشی سے رو رہی تھی. اس نے کیا کچھ نہیں کیا تھا ایک انسان کی محبت میں۔
مریم نے پھر سے اپنی بات کا سلسلہ وہیں سے شروع کیا، "ایک حدیث میں آتا ہے کہ الله کہتے ہیں تم بس آخرت کی فکر میں لگ جاؤ، میں دنیا تمہارے قدموں میں ڈال دوں گا. دنیا ناک رگڑتے ہوے تمہارے پاس آئے گی. بس تم آخرت کی فکر میں اسکے لیے کام کرتے جاؤ۔
یہ ایک حدیث کا مفہوم بتایا ہے۔
تم بس اپنے رب کے قریب ہو جاؤ خولہ ، تمہیں کسی کی ضرورت نہیں رہے گی۔
الٹا دنیا تمہارے پیچھے بھاگے گی۔
دنیا کا مطلب، دنیا کی نعمتیں. جس میں خوشیاں، محبت، عزت، نیک زوج۔
ہر اچھی چیز جو تم سوچ سکتی ہو وه سب اس کے معنی میں آتا ہے۔"
خولہ پر جیسے ایک نئی دنیا کھل رہی تھی. الله نے خوشیوں کا ایک شارٹ کٹ بھی رکھا تھا؟ لیکن یہ شارٹ کٹ مشکل راستوں سے جاتا تھا۔۔
اور وه تو بہت کمزور تھی۔۔
خولہ سوچتے سوچتے اداس ہو گئی۔
"تم یہ سوچ رہی ہو گی کہ یہ سب کرنا کتنا مشکل ہے. ہے ناں؟"، مریم نے جیسے اسکے خیالات پڑھ لیے تھے۔
وه کچھ بھی کہہ نہیں پائی. بس ہلکا سا سر ہلا دیا۔
"ہاں مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔
جو چیز جتنی قیمتی ہوتی ہے اسکو حاصل کرنے کا راستہ اتنا ہی مشکل ہوتا ہے۔
پر ایک بات یاد رکھنا۔
انسان کو کوئی بھی چیز ہرا نہیں سکتی جب تک کہ وه خود ہی نہ ہار مان لے"
.خولہ بس دم بخود مریم کو دیکھے گئی
اسکی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے
 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney