غرورِ ہستی

قسط نمبر 1

(دولت اور طاقت کا نشہ اکثر سر چڑھ کر بولتا ہے۔یہ نشہ انسان کو اس خودفریبی میں مبتلاکردیتا ہے کہ دنیامیں اُس کے مانندکوئی دوسرانہیں ہے۔وہ اس وقتی عروج کو دائمی سمجھ کرایسے ایسے کام کرگزرتا ہے۔کہ اُس جیسے دوسرے انسانوں کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔یہ طاقت اور اختیار ہی کا تو نشہ ہے۔کہ کبھی انسان کھوپڑیوں کے مینارتعمیرکرتارہاہے تو کبھی خداہونے کادعویٰ۔مگروہ یہ بھول جاتا ہے کہ سب طاقتوں کا سرچشمہ ومنبع تو وہ خالق ہے۔جس نے انسان کو پیداکیااور اُسے اشرف المخلوقات ہونے کی سند عطا فرمائی۔ وہ جب جب کسی ظالم کی درازرسی کھینچتا ہے توپھردنیاکی کوئی طاقت اُس کے کام نہیں آتی۔سب سہارے ایک پل میں ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔کیااپنے ،کیا بیگانے؟ سب توتے کے مانندآنکھیں پھیرکراُسے تنہاچھوڑجاتے ہیں۔)
{ غرورِہستی میں مبتلاعصرِحاضرکے ایک فرعون کا قصہ۔اُسے عین عروج میں زوال نے آلیاتھا۔}
بیس کنال کے رقبے پرپھیلی ہو ئی وہ ایک محل نما کوٹھی تھی۔اُس میں چاربڑے دروازے تھے۔ہردروازے پرتین تین باوردی گارڈز تعینات تھے۔جو ہمہ وقت جدید اسلحے سے لیس رہتے تھے۔اس کوٹھی کا مالک ارجمند سلطان تھا۔جو ناصرف ملک کا مشہورومعروف بزنس مین تھا بلکہ کئی بارصوبائی الیکشن جیت کرایم پی اے بھی رہ چکا تھا۔وہ نہایت ہی متکبر اور ظالم انسان تھا۔اُس کاشمارملک کے امیرترین اشخاص میں ہوتاتھا۔اس کوٹھی جیسی اُس کی اوربھی بہت سی کوٹھیاں تھیں۔جوملک کے بڑے بڑے شہروں میں واقع تھیں۔ اسی طرح اُس کا بزنس بھی پورے ملک میں پھیلا ہوا تھا۔تقریباً ہر بڑے شہرمیں اُس کی کوئی نہ کوئی فیکٹری موجود تھی۔نام تو اُس کاارجمند سلطان غوری تھا۔لیکن وہ سلطان ارجمندغوری کہلانا پسند کرتا تھا۔اُس کی بیوی اور اکلوتے بیٹے تک کویہ اجازت نہیں تھی۔کہ وہ اُسے ارجمندسلطان غوری کہہ سکتے۔ارجمندغوری سے پہلے لفظ ” سلطان“ سننا اُس کی کم زوری تھی۔اُس کے سبھی جاننے والے اُسے سلطان ارجمندغوری ہی کہتے تھے۔تاہم صرف” سلطان غوری“کہلوانے پربھی وہ معترض نہیں ہوتاتھا۔بس غوری سے پہلے لفظ ”سلطان“ لگاناضروری تھا۔ غالباً اس کی وجہ یہ تھی ۔کہ وہ خودکوماضی کے کسی سلطان کے جیسا سمجھتاتھا۔یہ کوئی بھی نہیں جانتاتھا کہ وہ واقعی غوری ہے یاپھر دولت کے بل بوتے پرغوری بناپھرتا ہے؟ اُس کے خوف اور دہشت کی وجہ سے کوئی بھی اس معاملے میں پڑنے کی جرا ¿ت نہیں کرتا تھا۔
ارجمندغوری کی عادت تھی کہ وہ صبح ناشتے کی ٹیبل پرنئے دن کے اخبارات ضرورپڑھتا تھا۔ناشتا وہ ہمیشہ اکیلے کرتا تھا۔بیگم اوربیٹااسفندغوری اُس سے پہلے ہی ناشتا کرلیاکرتے تھے۔اُس روزناشتاکرنے کے دوران اُس کی نظرایک معروف اخبارکی سُرخی پرپڑی تو وہ سرتاپاسلگ اُٹھا۔اُسے یوں لگا جیسے کسی نے سرِبازاراُسے ننگا کردیا ہو۔ سُرخی پڑھنے کے بعداُس نے خبرکی تفصیل پڑھنے کی زحمت ہی گوارانہیں کی تھی۔سُرخی تھی۔”معروف سیاست دان ارجمندغوری کی نئی سیاسی پارٹی کے رہنما سے خفیہ ملاقات“ ایڈیٹر بچارانادانستگی میں ایک زہریلے ناگ کی دُم پرپاﺅں رکھ بیٹھا تھا۔اخبارپھینک کراُس نے فوراً جیب سے سیل فون نکالا،ایک نمبرملایااورپھررابطہ ہوتے ہی سردلہجے میں بولا۔ ”فیروزخان!تم کہاں ہو اس وقت؟“
” حکم کیجیے جناب! اس وقت گھرپہ ہی ہوں ۔“ فیروزخان کی مو ¿دب آوازسنائی دی۔
” فوراً ہماری کوٹھی پرپہنچو۔“ اُس نے حکم سنایا۔
” جو حکم جناب۔“ فیروزخان نے غلامانہ لہجے میں جواب دیا۔
ارجمند غوری نے کال منقطع کردی اورکرسی سے اُٹھ کربے چینی کے عالم میں ٹہلنے لگا۔اُسے خفیہ ملاقات کے افشاہوجانے پر بے حدغصہ تھااور یہ سب کچھ اُس ایڈیٹر کی وجہ سے ہواتھا جس نے یہ خبرلگائی تھی۔اس ملاقات کو مخفی رکھنے کااُس نے پورا اہتمام کیا تھا۔مگریہ میڈیا والے کسی نہ کسی طرح خبرحاصل کرہی لیتے تھے۔ یہ ایسی غلطی نہیں تھی کہ ارجمندغوری اُسے معاف کردیتا۔وہ فیروزخان کے پہنچنے تک بدستورغصے اوربے چینی کے عالم میں ٹہلتارہا۔جب فیروزخان پہنچ گیاتووہ قدرے پُرسکون ہوگیااوردوبارہ بیٹھ گیا۔
” حکم کیجیے جناب۔“فیروزخان نے اندرداخل ہوتے ہی سرجھکاکرکہا۔
” اِدھرآکریہ سُرخی پڑھو۔“ ارجمند غوری نے تحکمانہ اندازمیں کہا۔” اور پتاکرو کہ کون ہے اس اخبارکاایڈیٹر؟ ہمیں وہ شام سے پہلے پہلے ہمارے فارم ہاﺅس پہ چاہیے۔“
” جو حکم سر۔“ فیروز خان نے سرجھکاکرجواب دیا اورپھراُس سُرخی کی طرف متوجہ ہوگیا۔جس کی نشاندہی ارجمندغوری نے کی تھی۔
” جناب! اس اخبارکاچیف ایڈیٹر“
” اُسے ہم جانتے ہیں۔“ ارجمند غوری نے قطع کلامی کی۔” چیف ایڈیٹرصرف نام کا ہوتاہے۔ساراکام ایڈیٹرکرتا ہے۔ایڈیٹر کو اُٹھاﺅاور ہمارے فارم ہاﺅس پہ پہنچادو۔“
” پہنچادیاجائے گا سر۔“ اُس نے فرماں برداری سے جواب دیااوراُلٹے قدموں باہر نکل گیا۔
فیروز خان کے باہرنکلتے ہی ارجمندغوری نے جیب سے سیل فون نکالااورایک نمبرملادیا۔
” اوہسلطان غوری صاحب!“ رابطہ قائم ہوتے ہی دوسری جانب سے ایک بھاری آواز سنائی دی۔”یہ صبح صبح آپ کو ہماری یادکیسے آگئی بابا؟“
وہ بولا۔” جناب!آپ ہماری پارٹی کے لیڈرہیں اور ہم جوکچھ آج کرنے والے ہیں اُس کے متعلق آپ کومعلوم ہوناچاہیے۔“
” آپ آزادہیں سلطان غوری صاحب!جو دل چاہے کریں۔آپ پرکوئی آنچ نہیں آئے گی۔“
” معاملہ میڈیاپرسن کا ہے۔یہ نہ ہو کہ بعد میں آپ“
” اوہ نو سلطان غوری!“ پارٹی لیڈرنے قطع کلامی کرتے ہوئے قہقہہ لگایا۔”آپ بے فکرہو جائیں۔ہم سب سنبھال لیں گے۔آپ سے بس اتنی گزارش ہے کہ کوئی بھی غیرقانونی قدم اُٹھاتے وقت ثبوت نہ چھوڑاکریں۔“
” ڈونٹ وری جناب!عمر گزری ہے اس دشت کی سیاحی میں۔“ ارجمندغوری نے جوابی قہقہہ لگاتے ہوئے رابطہ منقطع کردیا۔
٭٭٭
محمودغزنوی گزشتہ پندرہ سال سے پرنٹ میڈیاکے لیے کام کررہاتھا۔وہ لگ بھگ چھیالیس برس کاایک صحت مندشخص تھا۔پندرہ سال قبل اُس نے ایک معمولی رپورٹرکی حیثیت سے وہ معروف روزنامہ جوائن کیا تھا۔ جس کا آج وہ ایڈیٹرتھا۔اُس کے آباﺅاجدادکاتعلق چونکہ غزنی سے تھا۔اس لیے وہ اپنے نام کے ساتھ غزنوی لکھتاتھا۔کبھی کبھاروہ اخبارکے لیے کالم بھی لکھتا رہتا تھا ۔مگراُس کا اصل کام ایڈیٹری تھا۔اپنی ڈیوٹی سرانجام دینے میں وہ نہایت ہی فرض شناس تھا۔ادارے کا مالک اُس پربے حداعتماد کرتا تھااور اُسے اُس کی خدمات کاقابلِ قدرمعاوضہ ادا کرتا تھا۔ محمود غزنوی نے آج تک کبھی بھول کربھی مالک کے اعتماد کوٹھیس نہیں پہنچائی تھی ۔چنانچہ اُس بڑے شہرمیں وہ نہایت ہی پُرسکون زندگی بسر کررہاتھا۔اُس کا ایک ہی بیٹاتھامسعود غزنوی جوکمپیوٹرسائنس میں ماسٹرکررہاتھا۔
اُس روزوہ صبح دس بجے آفس پہنچا تو پیون نے اطلاع دی کہ ایک صاحب کافی دیرسے اُس کے منتظر ہیں۔اُس نے جب ملاقاتی کے متعلق استفسار کیا تو پیون بولا۔” سر! اُس نے صرف اپنانام بتایا ہے۔اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں بتایا۔“
” کیانام ہے اُس کا؟“ غزنوی نے پوچھا۔
” انورحسین ۔“
” کہاں ہے وہ؟“ غزنوی نے سوال کیا۔
” استقبالیے میں تشریف فرما ہے جناب۔“ پیون نے بتایا۔
” ٓاوکےاُسے اندربھیج دو۔“ غزنوی نے سیٹ سنبھالتے ہوئے کہا۔” اورہاں دوکپ اچھی سی چائے بھی بھیجوادینا۔“
پیون ” جی سر“ کہتے ہوئے غائب ہوگیا۔جب کہ غزنوی ٹیبل پر پڑی ہوئی ایک فائل کی طرف متوجہ ہوگیا۔ابھی اُس نے فائل کھول کر چندہی کاغذات ملاحظہ کیے تھے کہ ایسے ہی وقت دروازے سے ایک نوجوان نمودارہواجس نے شلوارقمیص کے اوپرگرم چادراوڑھ رکھی تھی۔گوکہ وہاں بہت کم سردی پڑتی تھی ۔لیکن شایداُس نوجوان کو زیادہ محسوس ہوتی تھی۔تبھی اُس نے گرم چادر اوڑھ رکھی تھی۔نوجوان نے اندرداخل ہوکرغزنوی کوسلام کیااور پھرغزنوی کا اشارہ پاکرایک سوفے پربیٹھ گیا۔
” فرمایئے انورصاحب!میں آپ کی کیاخدمت کرسکتا ہوں؟“ اُس کے بیٹھتے ہی غزنوی نے سوال کیا۔
نوجوان نے کہا۔” میں اخبارکے ایڈیٹرسے ملنے کے لیے آیا ہوں۔کیا آپ کے علاوہ بھی یہاں کوئی ا یڈیٹرہے؟“
” نہیں۔“ غزنوی نے قدرے چونک کرکہا۔”ایڈیٹرصرف میں ہی ہوں۔لیکن آپ“
” مطلب ہرقسم کی نیوزآپ ہی لگاتے ہیں۔“ نوجوان نے قطع کلامی کی۔
” ہاں میں ہی لگاتاہوں۔لیکن آپ یہ سب تفتیش کیوں کررہے ہیں؟“ غزنوی نے قدرے جھنجھلاکر پوچھا۔اُسے شایدنوجوان کی قطع کلامی بُری لگی تھی۔
” بس ایسے ہی پوچھ رہا تھا۔ ویسے یہ اندر کی باتیں آپ لوگ معلوم کیسے کرلیتے ہیں؟“
”ہمارے اپنے سورس ہوتے ہیں بھئی!آپ جان کر کیا کریں گے؟“ اُس نے درشت اندازمیں جواب دیا۔
نوجوان ایک جھٹکے کے ساتھ سوفے سے اُٹھا۔تیزی سے آگے بڑھااورپھرچادرکے اندرسے ہی ریوالورکی نال غزنوی کے پہلوسے لگاتے ہوئے سردلہجے میں بولا۔”اُٹھواورمیرے ساتھ چلو، کوئی بھی غلط حرکت کی تو پہلومیں سوراخ کردوں گا۔“
” کککون ہو تم اوریہ کیابدتمیزی ہے؟“ غزنوی نے خوف زدہ اندازمیں پوچھا۔
” تم چلتے ہو یامیں ٹریگردبادوں؟“نوجوان نے یوں مطمئن ہوکرکہا جیسے کسی چیونٹی کومارنے کی بات کررہاہو۔
غزنوی چاروناچارسیٹ سے اُٹھ کر کھڑاہوگیا۔نوجوان کا لہجہ بتارہاتھا کہ جوکچھ وہ کہہ رہاہے ۔اُس پرعمل کرگزرے گا۔
” دروازے کی طرف بڑھو۔“ نوجوان نے حکم دیا۔”اورسنوکوئی بھی چالاکی تمہیں مہنگی پڑسکتی ہے۔چہرے کے تاثرات درست کرلودیکھنے والوں کویوں لگے جیسے تم بخوشی میرے ساتھ جارہے ہو۔“
” تتتماچھا“
” خاموش رہو۔“ نوجوان نے سرد لہجے میں اُسے دھمکی تووہ بات ادھوری چھوڑ کردروازے کی طرف چل دیا۔راستے میں آفس کے چندایک لوگوں نے قریب سے گزرتے ہو ئے غزنوی کوسلام بھی کیا۔مگر اُن میں سے کسی کوبھی یہ خبرنہ ہوسکی کہ غزنوی کوگن پوائنٹ پراغواکر کے لے جایاجارہا ہے۔پیون راہداری میں چائے لے کرآرہاتھا۔ اُس نے غزنوی کو قدرے تعجب سے دیکھا لیکن وہ بھی کوئی سوال کیے بغیرنزدیک سے گزرگیا۔نوجوان بڑی آسانی کے ساتھ اُسے عمارت سے باہر لے آیا۔مین گیٹ کے قریب ہی ایک گاڑی موجود تھی۔نوجوان نے گاڑی کی عقبی کھڑکی کھول کرغزنوی کواندردھکیلااورپھرخودبھی اُس کے ساتھ جُڑکربیٹھ گیا۔گاڑی کی کھڑکیوں کے شیشے ڈارک تھے ۔باہرسے کچھ بھی نظر نہیں آتاتھا۔چنانچہ نوجوان نے غزنوی کی آنکھوں پرسیاہ پٹی باندھ دی تھی۔ اُن کے بیٹھتے ہی ڈرائیونگ سیٹ پرموجود شخص نے گاڑی اسٹارٹ کی اورگئیر لگاتے ہوئے آگے بڑھادی۔گاڑی تقریباً ڈیڑھ گھنٹاچلتی رہی ۔اس کے بعدایک بڑے سے فارم ہاﺅس میں جاکررک گئی۔دورانِ سفراُن کے درمیان خاموشی ہی رہی تھی۔
غزنوی کو گاڑی سے اُتارکراُنہوں نے ایک کمرے میں بند کردیا۔اورخودفارم ہاﺅس کے لان میں جاکرکرسیوں پربیٹھ گئے۔ڈرائیورنے مسکراکرنوجوان کی طرف دیکھاتو وہ بولا۔”نادر خان!اس بچارے سے نادانستہ غلطی سرزد ہوئی ہے۔اب پتانہیں ارجمند صاحب اس کے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟“
نادرخان نے کہا۔”فیروز لالہ! ویسے یہ بہت مشکل کام تھا ۔مگرتم نے چٹکیوں میں سرانجام دے دیا۔آج توارجمندصاحب تمہیں منہ مانگا انعام دیں گے۔“
فیروزخان مسکرایا۔” فکرمت کروتجھے بھی کچھ نہ کچھ ضرورملے گا۔“
” ہاں بس اُونٹ کے منہ میں زیرے والی بات ہوگی۔“ اُس نے منہ بنایا۔”تمہیں نوٹوں کی گڈی ملے گی اور مجھے چندہزارروپے۔“
” خطرہ بھی تو میں نے مول لیا ہے نا!تم تو مزے سے گاڑی میں بیٹھے رہے۔“
وہ بولا۔” نوٹوں کی پوری گڈی نہ سہی ،ایک تہائی گڈی تو میرا حق بنتا ہے۔میں نے بھی تمہارے ساتھ خطرہ مول لیا ہے؟“
” یہ گلہ تو تم ارجمندصاحب سے بھی کرسکتے ہو۔“ فیروزخان نے قہقہہ لگایا۔” یاتومالامال ہو جاﺅگے یاپھربدحال۔“
” شیرکے منہ میں ہاتھ ڈال کراُس کے دانت گننے والااحمق ہوتا ہے۔میں کیا تمہیں بے وقوف نظر آتاہوں؟“
” شکل سے تو اچھے خاصے ذہین لگتے ہو لیکن باتیں بعض اوقات بے وقوفوں سے بڑھ کراحمقانہ کرتے ہو۔“
وہ بُرامان کربولا۔” میں بے وقوف نہیں ہوں ۔بس تجھے دوست سمجھ کردل کی بات بتادی۔مجھے معلوم نہیں تھا کہ تم میرا مذاق اُڑاﺅگے ورنہ میں ایسی غلطی کبھی نہ کرتا؟“
” میں تو تمہاری ساتھ دل لگی کررہاتھا یار۔“ فیروزخان مسکرایا۔” تم تو سنجیدہ ہی ہوگئے۔“
” مجھے دراصل آج کل پیسوں کی اشد ضرورت ہے ۔اگرتم مجھے کچھ رقم قرض کے طورپردے دو تومیں تمہاراممنون ہوں گا۔“ نادرخان نے اپنی ضرورت بتائی۔
” اوکے میں کچھ کرتاہوں۔“ فیروزخان نے اثبات میں سرہلایا۔”ویسے کتنے پیسوں میں تمہارا کام چل جائے گا؟“
” کم سے کم ڈیڑھ لاکھ تو ہوناچاہیے۔“
” ٹھیک ہے میں ارجمندصاحب سے اس سلسلے میں بات کروں گا۔مجھے اُمید ہے کہ تمہارا کام ہوجائے گا۔“ فیروز خان نے اُسے اُمید دلائی۔
” فیروزلالہ!اگرایسا ہوگیاتومیری بہت بڑی پریشانی دُورہوجائے گی۔“
” فکرمت کرو ہوجائے گا۔“ فیروزخان نے جواب دیااورپھرارجمند غوری کوکال کرنے لگا۔
رابطہ ہوتے ہی وہ پُرجوش اندازمیں بولا۔” سر! کام ہوگیا ہے۔“
” ویلڈن فیروزخان!آج ہم تمہیں منہ مانگاانعام دیں گے۔“ ارجمند غوری نے خوش ہوکرجواب دیا۔
فیروزخان نے کہا۔”سر! آپ اُس کانام جان کرحیران رہ جائیں گے۔“
” وہ کیسے بھلاکیا اُس کانام بہت عجیب ہے؟“
” جناب!اُس کانام محمودغزنوی ہے۔“
” اوہپھرتولطف آجائے گاکہ وہ بھی ہماری طرح ایک تاریخی نام کاحامل ہے۔“ ارجمندغوری نے قہقہہ لگایا۔” اوکے شام کے وقت اُسے دیکھ لیں گے۔“
” میرے لیے کیاحکم ہے سر؟“ فیروزخان نے پوچھا۔
” تم وہیں فارم ہاﺅس پہ رہو۔“ ارجمندغوری نے حکمیہ اندازمیں کہااورکال منقطع کردی۔
٭٭٭
ٹھیک سورج غروب ہوتے ہی ارجمندغوری کی شاندار پراڈوفارم ہاﺅس میں داخل ہو ئی اورطویل کاریڈورکے عین سامنے پہنچ کررُک گئی۔ڈرائیورانجن بندکیے بغیرتیزی سے نیچے اُترا اور گاڑی کی عقبی کھڑکی کھولتے ہوئے ایک طرف ہوگیا۔ارجمندغوری شاہانہ اندازمیں گاڑی سے باہرنکلاتو اُس کی گردن غرورسے تنی ہوئی تھی اور چہرے پررعونت طاری تھی۔اُس نے ہاتھ میں ایک نیوزپیپربھی پکڑرکھاتھا۔ایک ایک قدم تکبرکے ساتھ اُٹھاتے ہوئے وہ یوں آگے بڑھا جیسے کسی وسیع و عریض سلطنت کا سلطان ہو۔ابھی اُس نے کاریڈورکے اندرپاﺅں رکھاہی تھا کہ فیروزخان دوڑتا ہوا پہنچ گیا۔
” سر!مجرم کونے والے کمرے میں ہے۔“ فیروزخان نے سرکوخم کرتے ہوئے مو ¿دب اندازمیں بتایا۔
” اُسے کھانا وغیرہ تو کھلادیا تھانا؟“ اُس نے رعونت بھرے لہجے میں پوچھا۔
” سر! میں نے بہت کوشش کی تھی۔مگروہ بہت ہی ڈھیٹ انسان ہے۔اُس نے ایک لقمہ بھی نہیں کھایا۔“
” اوکے۔“ اُس نے گردن ہلائی۔” اُسے ہمارے سامنے پیش کرو۔“
” جو حکم جناب۔“ فیروزخان نے سرجھکاتے ہوئے جواب دیااورپھرکونے والے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
ارجمندغوری بھی آگے بڑھ کرایک کمرے میں داخل ہوگیا۔یہ کمرہ باہرسے جس قدر خوب صورت تھا۔اندرسے اتناہی بھیانک تھا۔دیواروں پرخُون کے جیسا سُرخ پینٹ کیا گیاتھا۔کمرے کے عین وسط میں ایک جدیدطرز کی آرامشین پیوست تھی۔جس پربیلٹ نما تیزدھارآری چڑھی ہوئی تھی۔ایک کونے میں دیوہیکل آہنی الماری ایستادہ تھی۔ الماری کے دائیں جانب دیوار سے قدرے ہٹ کرماربل کاٹیبل لگا ہواتھا۔جس کے عقب میں ایک آرام دہ اورکشادہ کرسی رکھی ہوئی تھی۔ غوری نے آگے بڑھ کرالماری کے دونوں پٹ کھول دیے۔الماری کے اندر ایذا رسانی کے قدیم و جدید آلات بھرے ہوئے تھے۔وہ چند لمحے الماری کاجائزہ لیتا رہااورپھر اُوپری خانے سے ایک سفید اورآل اورسرجری گلوزنکالنے کے بعدالماری بند کردی۔دونوں چیزیں ٹیبل پررکھنے کے بعدوہ کرسی پربیٹھ گیا۔اُس کی نگاہ کمرے کے دروازے پر جمی ہوئی تھی۔ ایسے ہی وقت فیروزخان، محمود غزنوی کولے کرپہنچ گیا۔
” مجرم حاضرہے جناب۔“ فیروزخان نے مو ¿دبانہ اندازمیں کہا۔
ارجمندغوری نے حقارت بھرے اندازمیں غزنوی کی طرف دیکھااورپھر ٹیبل سے اخباراُٹھاکراُس کی آنکھوں کے سامنے لہرایا۔” یہ خبرتم نے لگائی ہے نا؟“
” ہاں میں نے لگائی ہے۔“ اُس نے قدرے حیران ہوکر کہا۔” کیا یہ خبرجھوٹی ہے؟“
” اوں ہوں۔“ وہ تحقیرآمیز اندازمیں مسکرایا۔” خبر سو فی صد درست ہے۔بس تمہیں لگانے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے تھی۔“
” کیوں خبرلگانا کوئی جُرم ہے؟“
غوری نے کہا۔” تمہیں ہم سے پوچھ کریہ خبرلگانا چاہیے تھی۔“
” وہ کس لیے؟“
” وہ اس لیے کہ ہمیں اپنی تشہیرسخت ناپسند ہے۔اب تمہاری بھلائی اسی میں ہے کہ تمہیں اس خبرکی تردیدی خبرلگاناپڑے گی۔“
” یہ ناممکن ہے۔میں نے زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولا اور نہ کبھی بولوں گا۔“
” اس کامطلب ہے تمہیں اپنی زندگی سے ذرابھی پیار نہیں ہے؟“ ارجمند غوری نے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔
” زندگی اور موت کے فیصلے آسمانوں پہ ہو تے ہیں مسٹرغوری!آپ یہ دھمکی کسی اور کودیں۔“ اُس نے بے خوف لہجے میں جواب دیا۔
” کبھی کبھی زمین پربھی ہوجاتے ہیں یہ فیصلے۔“
” ہوتے ہیں تو ہوتے رہیں مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔“
” اوکے اپنی قیمت بتاﺅ؟“ ارجمند غوری نے کاروباری اندازمیں پوچھا۔
” ایمان کی کوئی قیمت نہیں ہوتی مسٹرغوری! میں ایمان فروش نہیں ہوں۔میری ”ناں “ کو آپ ہاں میں نہیں بدل سکتے۔“ اُس نے ترت جواب دیا۔
ایسے ہی وقت فیروز خان کا ہاتھ گھومااورغزنوی کا دایاں کان سائیں سائیں کرنے لگا۔اُسے جملہ مکمل کرنے کی مہلت ہی نہیں ملی تھی۔فیروزخان کا ہاتھ کسی ہتھوڑے کے مانند وزنی تھا۔
” احمق انسان!“ فیروز خان چلایا۔” تمہیں کس گدھے نے ایڈیٹربنایاہے۔اتنی سی بات بھی تمہاری سمجھ میں نہیں آتی کہ صاحب کو ”ناں“ سننے کی عادت نہیں ہے۔ جانتے ہو کس کے سامنے انکارکررہے؟ یہ سلطان غوری ہے۔حکومت کے ایوانوں تک اس کی پہنچ ہے۔“
غزنوی اپنی یہ تذلیل برداشت نہ کرسکا۔چنانچہ طنزیہ لہجے میں بولا۔” یہ کون سی سلطنت کا سلطان ہے؟ نام کے ساتھ غوری لکھنے سے کوئی سلطان نہیں بن جاتا۔“
فیروزخان نے کہا۔” تیرے جیسا دوٹکے کا ایڈیٹر اپنے نام کے ساتھ غزنوی لکھ سکتا ہے تو پھر صاحب سلطان غوری کیوں نہیں بن سکتے؟“
” میرے آباﺅاجدادکا تعلق غزنی سے تھا۔اس لیے میں اپنے نام کے ساتھ غزنوی لکھتا ہوں۔“
ارجمند غوری نے مداخلت کی۔” ہمیں لگتا ہے تم نے اپنے اجداد سے کچھ بھی نہیں سیکھا اورنہ ہی تاریخ پڑھی ہے ورنہ یوں کسی غوری کے سامنے سراُٹھاکربات کرنے کی جسارت بھول کربھی نہ کرتے۔تمہیں معلوم ہے بہرام شاہ غزنوی کے ساتھ علاﺅالدین غوری نے کیا سلوک کیا تھا؟“
” ہاں وہ بھی معلوم ہے۔“ غزنوی نے سرہلایا۔” اور یہ بھی معلوم ہے کہ سیف الدین سوری جوکہ غوری تھااُس کے ساتھ بہرام شاہ نے کیاسلوک کیا تھا؟ شایدآپ کو معلوم نہ ہو تو میں بتا دیتا ہوں۔بہرام شاہ نے سیف الدین غوری کامنہ کالا کرنے کے بعداُسے ایک کمزورگائے پہ بٹھاکرپورے غزنی شہرمیں گھمایاتھا۔غزنی کے بچوں نے اُس کا جلوس نکالاتھا۔ جب کہ بچیوں نے دف بجاکراُس روز انجوائے کیا تھا۔“
ارجمند غوری کی اس قدر تذلیل کب ہوئی تھی۔ اُس نے ایک قہرآلود نگاہ غزنوی پرڈالی ۔اورآل پہنااورگلوزاُٹھاتے ہوئے بولا۔”ہمیں خوشی ہوئی یہ سن کر کہ تمہیں اپنے اجداد کی تاریخ یاد ہے۔مگرآج ہم جو تاریخ رقم کرنے والے ہیں وہ تم مرتے دم تک نہیں بھولوگے۔“
غزنوی بولا۔” تم کیاکرلوگےزیادہ سے زیادہ مجھے مارڈالوگے نا! تو مارڈالو۔“
ارجمندغوری تیزی کے ساتھ کرسی سے اُٹھا اور آہنی الماری سے ایک تیزدھار اُسترا نکال لیا۔
” فیروزخان اس کے دونوں بازوجکڑ لو۔“ اُس نے آگے بڑھتے ہوئے فیروز خان کو حکم دیا۔
فیروزخان نے ” جی سلطانِ معظم“ کہہ کرغزنونوی کے دونوں بازومروڑ کراُس کی پشت سے لگا دیے اور پھر اُسے یوں جکڑلیا کہ غزنوی ہلنے سے بھی قاصر ہو گیا۔
غوری نے سرجری گلوز پہنے ، ہاتھ میں پکڑاہوا اُسترا کھولااورپھردائیں ہاتھ سے غزنوی کا گلا دباتے ہوئے غرایا۔” بولو خبرکی تردیدکروگے کہ نہیں؟ ورنہ گلے پہ اُسترا پھیردوں گا۔“
” پھپھپھیردو، میںایک ظالم کے سامنے سرنہیں جھکاﺅں گا۔“ غزنوی کے گلے سے بمشکل پھنسی پھنسی سی آوازنکلی۔
” ہاںبول دو مجھے مجبورمت کرو، یہ نہ ہوکہ مجھے تمہاری زبان کاٹنی پڑجائے؟“ ارجمندغوری نے اُسے دھمکی دی۔
” زبان کٹتی ہے تو کٹ جائے لیکن میں اپنے پیشے سے بددیانتی نہیں کروں گا۔“
غوری فیروزخان سے مخاطب ہوا۔” فیروزخان! یہ ایسے نہیں مانے گا۔اس کے ہاتھ مضبوطی سے باندھ دواورپھراس کا گلادباﺅ،ہم دیکھتے ہیں کہ یہ کیسے ہاں نہیں کہتا۔“
” جو حکم جناب۔“ فیروزخان نے اثبات میں سرہلاتے ہوئے جواب دیااورپھررسی لے کرغزنوی کے ہاتھ باندھنے لگا۔
” ارجمند غوری! خدابننے کی کوشش مت کرو۔“ گلے سے ہاتھ ہٹتے ہی غزنوی چلایا۔”تم سے پہلے بھی اس زمین پریہ مذموم حرکت کئی بارکی گئی ہے اورجنہوں نے یہ حماقت کی وہ اپنے وقت کے بڑے بڑے تاجدارتھے۔لیکن ہواکیا؟ حشرتک کے لیے نمونہءعبرت بن کر رہ گئے۔“
غوری نے کہا۔” جتنا چاہے بول لو کہ اس کے بعدتمہاری بولتی ہمیشہ کے لیے بند ہوجائے گی۔“
وہ بولا۔” خدا نے ہرفرعون کے لیے ایک موسیٰ پیداکیا ہے۔مجھے یقین ہے کہ اُس نے تمہارے لیے بھی کوئی موسیٰ ضرور پیدا کیاہوگا۔جو تجھے نیست ونابود کردے گا۔“
” اُس موسیٰ کوبھی ہم دیکھ لیں گے۔“وہ پُرغرورلہجے میں بولا۔”تم بس اپنی خیرمناﺅ۔“
فیروز خان نے غزنوی کے ہاتھ باندھنے کے بعداُسے زمین پرپٹخااوراُس کے سینے پرسوارہوکردونوں ہاتھوں سے اُس کا گلادبانے لگا۔غزنوی نے بہت کوشش کی کہ اُس کی زبان باہرنہ نکلے۔مگرکب تک؟ آخرکار اُس کی ہمت جواب دے گئی۔اِدھراُس کی زبان باہرنکلی تو اُدھرغوری کا اُستراچلا۔غوری کی زبان پلک جھپکنے کی دیرمیں کٹ کرفرش پر جاگری۔اُس کی ٹھوڑی اورگردن خون سے رنگین ہوگئی۔مگرغوری کاغصہ پھربھی ٹھنڈانہ ہو سکا۔غزنوی کوفرش پرتڑپتاہواچھوڑ کروہ آرامشین کی طرف بڑھااوراُسے آن کردیا۔
” فیروزخان!اس کے ہاتھ کھول کراِدھرلے آﺅ۔“ اُس نے بے رحم اندازمیں حکم سنایا۔
” جو حکم سلطانِ معظم۔“ فیروزخان نے جواب دیااورپھرغزنوی کے ہاتھ کھول کراُسے گھیسٹتاہواآرامشین تک لے گیا۔
غوری نے ایک جھٹکے سے اُس کا ہاتھ پکڑابرق رفتاری سے چلتی ہوئی آری کے سامنے لایاتوغزنوی کی جگرپاش چیخ سے ماحول تھرا اُٹھا۔آری نے کلائی سے اُس کا ہاتھ کاٹ ڈالاا۔غزنوی بے تحاشاتڑپ رہاتھا۔چیخ رہاتھا مگرغوری کے چہرے پررحم کاشائبہ تک نہیں تھا۔اُس کااورآل اور گلوزغزنوی کے خون سے رنگین ہو چکے تھے۔اُس کے چہرے پردرندگی چھائی ہوئی تھی اورآنکھوں میں قہرہی قہر تھا۔پھر دیکھتے ہی دیکھتے اُس نے غزنوی کے دوسرے ہاتھ کے ساتھ بھی یہی حشرکیا۔غزنوی اذیت کے کئی سمندر عبور کرنے کے بعدآخرکارہوش وخردسے بے گانہ ہو گیا۔
غوری نے اورآل اورگلوزاُتارکرپھینک دیے۔اس کے بعد اُس نے جیب سے نوٹوں کی ایک گڈی نکالی اورفیروزخان کوتھماتے ہوئے بولا۔” یہ نوٹ اس کی جیب میں ڈالواوراسے کسی ہاسپٹل کے سامنے پھینک دو۔اب یہ عمربھرنہ توبول سکے گا اورنہ لکھ سکے گا۔“
” بہترجناب۔“ فیروزخان نے مو ¿دب اندازمیں جواب دیااور نوٹ لے کرغزنوی کی جیب میں ڈال دیے۔
٭٭٭
وہ موٹر بائیک ساحلِ سمندرکی طرف جانے والی کشادہ سڑک کے کنارے کھڑی ہوئی تھی۔بائیک کی ٹینکی پرایک خوب صورت گوراچٹا بچہ بیٹھا ہوا تھا۔جس کی عمر لگ بھگ پانچ سال تھی۔موٹربائیک سے چندقدم دُورایک مضبوط اورصحت مند شخص کھڑاہوا تھا۔جو بڑے اطمینان سے سگریٹ کے کش لگارہاتھا۔یہ رضوان تنولی تھا جوبیٹے کوساحلِ سمندرکی طرف سیرکرانے کے لیے لے جارہاتھا کہ اچانک اُسے ایک دوست کی طرف سے کال موصول ہوگئی۔تب اُس نے موٹربائیک روک کرکال سنی اورپھرسگریٹ سلگالی۔ یونہی کش لگاتے لگاتے وہ موٹربائیک سے قدرے دُور نکل گیا۔غالباًوہ کسی مسئلے میں اُلجھا ہوا تھا۔اس لیے وقتی طورپر وہ بیٹے اوربائیک کوبھول گیا۔دوست نے بات ہی ایسی کی تھی کہ وہ پریشان ہوکررہ گیا تھا۔اُس کادل چاہ رہاتھا کہ سیر کا پروگرام ملتوی کرکے واپس لوٹ جائے لیکن ننھے عمران کی خواہش ٹالنا اُس کے لیے ناممکن تھا۔وہ عمران سے جنون کی حدتک پیارکرتا تھا۔بڑی منتوں اورمرادوں کے بعدپیداہواتھا عمران،سو رضوان کی جان اُس میں اٹکی رہتی تھی۔وہ اُسے خود سے انتہائی مجبوری کے عالم میں کبھی کبھار ہی جُدا کیا کرتا تھا۔ورنہ تو عمران ہمیشہ اُس کے ساتھ ہی رہاکرتا تھا۔رضوان کی ملازمت ہی ایسی تھی کہ وہ باآسانی بیٹے کو ساتھ رکھ سکتا تھا۔وہ ایک میڈیسن کمپنی میں کام کرتاتھا۔نئی ادویات کے سیمپل متعارف کرانااوراسٹورمالکان سے آرڈروصول کرنا اُس کی ذمہ داری تھی۔یہ ذمہ داری نہایت ہی آسان تھی۔چنانچہ دورانِ ڈیوٹی عمران اُس کے لیے کبھی مسئلہ نہیں بنا تھا۔کمپنی اُسے اچھی خاصی ماہانہ سیلری اداکرتی تھی۔جس سے اُس کی گزراوقات بڑے اچھے طریقے سے ہوجاتی تھی۔لہٰذاوہ فکرِ معاش سے آزاد تھا۔
وہ انہی سوچوں میں گم تھا کہ معاً اُسے خطرے کا احساس ہوا۔وہ تیزی سے پلٹا مگراُسے دیرہوچکی تھی۔وہ وقت سے تیزنہیں دوڑ سکتا تھا۔وہ ابھی بائیک سے چندقدم دُور ہی تھا کہ اچانک ساحلِ سمندرکی طرف سے آنے والی ایک تیزرفتاراسپورٹس کارپوری قوت سے موٹربائیک سے ٹکرائی۔ٹینکی پہ بیٹھاعمران فضامیں بلند ہوااورپھرایک دھماکے ساتھ سرکے بل پختہ سڑک سے ٹکرایا۔ایک پل میں اُس معصوم بچے کی کھوپڑی پاش پاش ہوگئی۔رضوان ہذیانی اندازمیں چیختا ہواعمران کی طرف بھاگااوراُسے اُٹھاکرسینے سے لگالیا مگر وہ اب وہ بہت دُورجا چکا تھا۔موت نے اُس معصوم کوچلانے کی مہلت بھی نہیں دی تھی۔رضوان نجانے کتنی ہی دیربیٹے کوگودمیں لیے روتا رہا۔اس دوران کچھ لوگ وہاں اکٹھے ہو گئے اور انہوں نے رضوان کو سنبھال لیا۔ایک نوجوان نے جیب سے سیل فون نکالتے ہوئے کہا۔” سب سے پہلے اس واقعے کی اطلاع پولیس کودیناچاہیے آپ نے گاڑی کانمبرتو 
نوٹ کیا ہوگا؟“
” نہیں پولیس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔“ وہ بھرائی ہوئی آوازمیں بولا۔” میں خوداُس سے نمٹ لوں گا۔“
” آپ چاہیں تو میں آپ کوآپ کے گھرتک چھوڑسکتا ہوں۔“ نوجوان نے پُرخلوص آفرکی۔” ویسے بھی میں شہرکی طرف جارہاہوں۔“
” ہاں مجھے مددکی ضرورت ہے۔“ اُس نے اثبات میں سرہلایااورپھرسڑک کے کنارے گری ہوئی موٹربائیک کی طرف بڑھ گیا۔
بائیک کی ہیڈلائیٹ اوراگلاپہیامکمل طورپرناکارہ ہوچکے تھے۔جب کہ عقبی جانب والاحصہ معمولی سی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا تھا۔وہ بائیک کا جائزہ لے ہی رہاتھا کہ اچانک اُس کی نظرایک نمبرپلیٹ پرپڑی۔اُس نے آگے بڑھ کرپلیٹ اُٹھالی۔یہ ایک مضبوط دھاتی پلیٹ تھی۔جو ٹکرکے نتیجے میں ٹوٹنے سے محفوظ رہی تھی۔تاہم درمیان سے ٹیڑھی ضرورہوگئی تھی۔لیکن نمبرباآسانی پڑھاجاسکتاتھا۔نوجوان نے بھی اُسے نمبرپلیٹ اُٹھاتے دیکھ لیاتھا۔وہ آگے بڑھا اوررضوان کے کندھے پرہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔” یہ اُسی گاڑی کی نمبرپلیٹ ہے۔اب وہ کہیں نہیں چھپ سکتا۔اچھا ہوا کہ اتنااہم ثبوت آپ کے ہاتھ لگ گیاورنہ انسانوں کے اس جنگل میں اُسے ڈھونڈناممکن نہیں تھا۔“
وہ بولا۔” میرے لیے کچھ بھی مشکل نہیں ہے مسٹر“
” لوگ مجھے سِدّو کے نام سے جانتے ہیں۔“ نوجوان نے قطع کلامی کی۔” آپ بھی مجھے سدو کہہ سکتے ہیں۔“
رضوان نے کہا۔” بہت شکریہ بس مجھے میرے گھرتک چھوڑدیجیے۔بائیک میں بعدمیں اُٹھوالوں گا۔“
”مجھے خوشی ہوگی جناب۔“ نوجوان نے اثبات میں سرہلایااورپھرسڑک کے کنارے موجود ایک ٹیکسی کی طرف بڑھ گیا۔
چندلمحوں کے بعدرضوان ٹیکسی کی عقبی سیٹ پربیٹھاگھرکی طرف روانہ تھا۔مردہ عمران کو اُس نے بازوﺅں میں اُٹھارکھا تھا۔اُس کے چہرے پرکچھ ایسی کیفیت طاری تھی جسے کوئی بھی نام نہیں دیا جاسکتا تھا۔
ٹیکسی میں چندلمحے خاموشی چھائی رہی،پھرسدو پہل کرتے ہوئے بولا۔” گوکہ اس وقت آپ سے کچھ بھی پوچھنا نہایت ہی نامناسب حرکت ہوگی مگرکیا کروں کہ دنیاداری کا یہی تقاضہ ہے۔یہ حادثہ ہوا کیسےغلطی کس کی تھیآپ کی یا اُس گاڑی والے کی؟“
رضوان تنولی چندلمحے چپ بیٹھارہا،پھر ساراواقعہ اُس کے سامنے دوہرادیا۔
سدو بولا۔” اس کا مطلب ہے کہ ساری غلطی اُس اسپورٹس کاروالے امیرزادے کی تھی۔مجھے سمجھ نہیں آتی کہ یہ امیرزادے ہم جیسے عام انسانوں کوانسان کیوں نہیں سمجھتےکیوں دولت اورطاقت کے نشے میں چُورہوکرغریبوں کے خون سے ہولی کھیلتے رہتے ہیں توکبھی اُن کی عزتِ نفس کاجنازہ نکال دیتے ہیں؟“
” میں عام آدمی نہیں ہوں سِدو۔“ اُس کے لہجے سے عزم جھلک رہاتھا۔”وہ جوبھی تھا اب مجھ سے بچ نہیں پائے گا۔پچھتائے گا کہ اُس کا واسطہ رضوان تنولی سے کیوں پڑگیا؟“
سِدونے چونک کراُس کی طرف دیکھااورپھردوبارہ سڑک پرنظررکھتے ہوئے بولا۔” دوست!اس شہرمیں اسپورٹس کاررکھنے والاکوئی عام شخص نہیں ہوگا۔یقینا کسی سیاست دان یابیوروکریٹ کی اولاد ہوگا۔آپ اُن سے کیسے لڑوگے؟قانون تو یہاں ہمیشہ طاقت ور کا ساتھ دیتا ہے۔“
”قانون کے پاس کمزورجاتے ہیں سدو! اور میں کمزور نہیں ہوں۔تم اگردیکھناچاہتے ہوکہ میں اُس کے ساتھ کیاسلوک کروں گاتوپھرچنددنوں کے بعدمجھ سے رابطہ کرنا ۔“
” میں میں ضروررابطہ کروں گا جناب۔“ وہ پُرجوش اندازمیں بولا۔” اورایک امیرزادے کا عبرت ناک انجام اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہوں گا۔کیا آپ میری یہ خواہش پوری کردیں گے؟“
” ضرورکروں گا۔بے فکررہو میں تجھے ساتھ لے کرجاﺅں گا۔“
سِدو نے کہا۔” بہت بہت شکریہ جناب! کیا میں آپ کو بڑے بھیا کہہ سکتا ہوں؟“
” اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن تم نے اپنے متعلق تو کچھ بتایا ہی نہیں ہے؟ شکل وصورت اوربول چال سے توتم مجھے ناصرف پڑھے لگتے ہو بلکہ کسی شریف اور اچھے خاندان کے بھی لگتے ہومگریہ ٹیکسی ڈرائیور مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی؟“
” میں نے کمپیوٹرسائنس میں ماسٹرکیاہے۔مگرجاب پھربھی نہ مل سکی ۔سوٹیکسی چلاکررزق کمارہاہوں۔“
” ماں باپ، بہن بھائی؟“
”اکلوتا ہوں۔ماں باپ بوڑھے ہیں اورگھرمیں رہتے ہیں۔بلکہ باپ تو دائمی مریض ہے۔“ سِدونے دکھی ہوکربتایا۔” کاش میرے بس میں ہوتاتو میںابوکو علاج کے لیے امریکہ یا برطانیہ لے جاتا۔“
اسی دوران ٹیکسی رضوان کے گھرکے سامنے پہنچ گئی۔اُنہوں نے آپس میں فون نمبرز کا تبادلہ کیااورپھر رضوان نے جیب سے والٹ نکال لیا۔
” اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے بھیا!“ سِدونے انکارمیں سرہلایا۔”میں یہ نہیں لے سکتا۔“
وہ بولا۔” یہ تمہاری محنت کی کمائی دوست!بھلے اس وقت میں غم کی جس کیفیت سے گزررہا ہوں وہ ایسی باتوں“
” نہیں رضوان بھائی! آپ اصرارکریں گے تو مجھے دُکھ ہو گا۔پلیزرہنے دیں۔“ سِدونے قطع کلامی کی۔
” بہت شکریہ دوست!ہم دوبارہ ملیں گے۔“رضوان نے جواب دیااورمُردہ عمران کوبازوﺅں میں اُٹھائے گھرکے گیٹ کی طرف چل پڑا۔
سدو نے ایک نظردُورجاتے ہوئے رضوان پر ڈالی اورپھرٹیکسی میں بیٹھ گیا۔اُس کے چہرے پراُداسی اور دُکھ کی ملی جلی کیفیت طاری تھی۔
٭٭٭

جاری ہے

 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney