غرور ہستی 

قسط نمبر2


گارڈنے طنزیہ اندازمیں اُس کی طرف دیکھااورپھرحقارت سے بولا۔” سلطان صاحب بھکاریوں سے نہیں ملتے۔جاﺅپھوٹویہاں سے۔“
” میں کسی سلطانِ سے ملنے نہیں آیا۔تم شایداُونچا سنتے ہو؟ میں اسفندغوری سے ملناچاہتا ہوں۔“
” چھوٹے صاحب بھی نہیں ہیں گھرمیں۔جاﺅدفع ہوجاﺅ۔“ گارڈ نے نخوت سے جواب دیا۔
وہ بولا۔” تم نے کبھی راجو ٹارگٹ کلرکانام سنا ہے؟“
گارڈنے چونک کراُس کی طرف دیکھااورپھرگھبراکرکہا۔” تمہاراراجو سے کیا تعلق ہے؟ شایداُس کانام لے کرمجھے ڈرانا“
” میں تجھے ڈرانہیں رہا۔“ اُس نے قطع کلامی کی۔”بلکہ وارننگ دے رہاہوں کہ اگرتم نے مجھے اسفندغوری سے نہ ملوایاتومیرے ایک اشارے پرتیری کھوپڑی میں سوراخ ہوجائے گا۔وہ سامنے بلڈنگ دیکھ رہے ہونا؟ وہاں تیسری منزل کی کھڑکی میں میراایک ساتھی دُورماررائفل لیے موجود ہے۔رائفل پہ ٹیلی سکوپ لگاہوا ہے۔نشانہ خطاہونے کا ایک فی صدچانس بھی نہیں ہے۔“
” مممگرتم نے تو اپنا نام رضوان بتایا ہے۔“ گارڈ بوکھلا اُٹھا۔” راجو کوتو آج تک کسی نے دیکھابھی نہیں ہے؟“
” تم خوش قسمت ہو کہ تمہیں راجوسے ملاقات کرنے کاشرف حاصل ہورہا ہے۔جاﺅ اسفندغوری سے بولو کہ اُس سے کوئی ملناچاہتا ہے۔“
” کسی گارڈ کوکوٹھی کے اندرجانے کی اجازت نہیں ہے۔ہرملاقاتی سے پہلے لالہ فیروزخان ملاقات کرتا ہے۔“
وہ بولا۔” تو لالہ فیروزخان سے ملاقات کراﺅمیری۔“ 
” ٹھیک ہے جی آپ اِدھراندرآجائیں۔“ گارڈ نے پہلی باراُسے ادب سے مخاطب کیاتھا۔
وہ گارڈ کے ساتھ ایک کمرے میں داخل ہوگیا۔مین گیٹ کے ساتھ بنا ہوایہ کمرا ناصرف استقبالیہ کے طورپر استعمال ہوتا تھا۔بلکہ گیٹ پرتعینات گارڈزڈیوٹی آف ہونے کے بعد آرام بھی اسی کمرے میں کرتے تھے۔کمرے میں تین بیڈاور مہمانوں کے بیٹھنے کے لیے ایک بڑاسوفاسیٹ لگاہواتھا۔گارڈنے اُسے بیٹھنے کا اشارہ کیااورپھرانٹرکام پرفیروز لالہ سے بات کرنے لگا۔لالہ! آپ کسی راجونام کے مشہورآدمی کوجانتے ہیں؟“گارڈ نے کن اکھیوں سے رضوان کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
” کیوںتم کس لیے پوچھ رہے ہو؟“ فیروز لالہ نے اُلٹاسوال کردیا۔
وہ بولا۔” راجو اس وقت یہاں استقبالیہ میں موجود ہے۔وہ چھوٹے صاحب سے ملاقات کا خواہش مندہے۔“
” اُسے کسی طرح ٹال دویار! وہ تو بہت خطرناک انسان ہے۔“
” لالہ! میں نے ایسا کرنے کی کوشش کی تھی۔لیکن آپ تو جانتے ہی ہیں کہ وہ“ گارڈ نے جملہ نامکمل چھوڑ دیا۔
” اوکے میں آرہاہوں مگر اُسے استقبالیے سے باہرمت نکلنے دینا۔“ فیروزلالہ نے عجلت سے جواب دیتے ہوئے رابطہ منقطع کردیا۔
گارڈ نے ریسیورکریڈل پر رکھتے ہوئے رضوان کی طرف دیکھااورپھرزبردستی کی مسکراہٹ لبوں پرسجاتے ہوئے بولا۔” فیروزخان لالہ آرہا ہے۔“
اُس نے سرکو اثباتی جنبش دی اورپھرکمرے کے دروازے کی طرف متوجہ ہوگیا۔چند لمحوں کے بعدجو شخص اندر داخل ہوا اُسے دیکھ کر رضوان کو حیرت کا ایک جھٹکالگا۔وہ ایک دم اُٹھ کر کھڑاہوگیا۔مگراس سے قبل کہ وہ منہ کھولتانوواردنے گارڈ کی نگاہیں بچاتے ہوئے اُسے خاموش رہنے کا اشارہ کردیا۔دوسرے ہی لمحے رضوان کے چہرے سے شناسائی کے آثار غائب ہوچکے تھے۔اب اُس کے چہرے پرمکمل اجنبیت طاری تھی۔نووارد آگے بڑھا اوراُس سے ہاتھ ملاتے ہوئے بولا۔” میں نے آپ کوپہچانا نہیں۔شاید یہ ہماری پہلی ملاقات ہے۔پلیز آپ اپنا تعارف وغیرہ کرا دیں؟“
” ناچیز کورضوان تنولی کہتے ہیں۔اسی شہر کا باسی ہوں اور ایک میڈیسن کمپنی میں کام کرتا ہوں۔“ اُس نے یوں جواب دیا جیسے انٹرویودینے لگا ہو۔
نووارد بولا۔”اوکےمیرانام فیروزخان ہے اور میں فیروزلالہ کے نام سے مشہور ہوں۔کہیے میں آپ کی کیاخدمت کرسکتا ہوں؟“
” ہوں فیروزلالہ۔“ وہ مسکرایا۔” اچھا نام ہے اورآپ کی شخصیت کے عین مطابق ہے۔“
” تو آیئے۔“ فیروزلالہ نے اُس کاہاتھ پکڑا۔” گیسٹ روم میں میں بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔“
رضوان اثبات میں سرہلاتے ہوئے اُس کے ساتھ چل دیا۔
” تمہاری اداکاری کی داددیناپڑی گی فیروزلالہ۔“ کمرے سے باہرنکلتے ہی رضوان مسکرایا۔
” تو اورکیا کرتا؟ مجبوری کے عالم میں تجھے ” آپ جناب“ کہنا پڑا۔“ فیروزلالہ نے جواب دیا۔ 
٭٭٭
” یہیہ تم کیا کہہ رہے ہو؟“ فیروزلالہ نے پریشانی کے عالم میں اُس کے چہرے کی طرف دیکھا۔” چھوٹے صاحب بھلاایسا کیسے کرسکتے ہیں؟نہیں راجو! مجھے لگتاہے تمہیں کوئی غلط فہمی ہو گئی ہے؟“
وہ بولا۔” فیروزلالہ!ہم نے برسوں مل کر کام کیاہے۔تم اچھی طرح جانتے ہو کہ مجھے جھوٹ سے سخت نفرت ہے۔ یہ سب کچھ تومیری نظروں کے سامنے ہوا ہے۔ اُس کی اسپورٹس کارکی نمبرپلیٹ بطورثبوت میرے پاس موجود ہے۔“
” چلومان لیا کہ یہ سب کچھ جوتم نے بتایاہے۔سچ ہے۔لیکن اس مسئلے کا حل کیاہوگا؟“
” یہ میں تم پرچھوڑ تاہوں۔تم کیا کہتے ہو؟“
” میں سلطان صاحب سے کہہ کرتمہیں خون بہا دلا سکتا ہوں۔“ فیروز لالہ نے آفرکی۔
” واہ فیروز لالہ واہ“ وہ طنزیہ لہجے میں بولا۔” مالک کا وفادارہو تو تمہارے جیسا۔ہم نے بھائیوں کی طرح وقت گزرا ہے۔کیاوہ تمہیں یاد نہیں رہا؟ کیاتم یہ بھی بھول گئے ہوکہ تمہاری یہ زندگی میرے ہی ایثارکانتیجہ ہےبھُول گئے ہو تم نے مجھ سے کیا وعدہ کیاتھا؟“
” دیکھ راجو!“ فیروزلالہ نے ناصحانہ اندازمیں کہا۔” تمہارا بچہ کیااسفندغوری کومارنے کے بعد واپس آجائے گا؟نہیں نا!توپھرخون بہا لینے میں حرج ہی کیا ہے اور پھر یہ بھی تو سوچوناکہ یہ ایک حادثہ تھا۔اسفندغوری نے جان بوجھ کرتوتمہارے بیٹے کونہیں مارا۔ میں توتمہیں یہی مشورہ دوں گا کہ خون بہالے کراس معاملے کویہیں ختم کردو ورنہ سلطان صاحب بہت ظالم انسان ہیں۔تم اُن کامقابلہ نہیں کرپاﺅگے۔“
” کون سلطان اورکہاں کا سلطان؟“
” اسفندغوری کاباپ سلطان ارجمندغوری، کیاتم نے اُن کانام کبھی نہیں سنا؟“
” اوہ“ اُس کے لبوں پرطنزیہ مسکراہٹ رینگ گئی۔”تو وہ سلطان کہلاتا ہے۔ میں تو سمجھاتھاکہ تم کسی سلطنت کے سلطان کی بات کررہے ہو؟“
” وہ کسی سلطنت کے سلطان سے کم نہیں ہے۔تم کسی غلط فہمی میں مت رہنا۔“ فیروز لالہ نے جواب دیا۔
” غلط فہمی تو شاید تجھے ہورہی ہے۔میں دونوں باپ بیٹے کودیکھ لوں گا۔“
” اس کامطلب ہے کہ تم مجھ سے دشمنی مول لوگے۔“ فیروز لالہ نے کہا۔”مجھے اُنہوں نے دشمنوں سے نمٹنے کے لیے ہی رکھا ہوا ہے۔“
” میری طرف سے پہل نہیں ہوگی فیروزلالہ!میں تجھے آج بھی اپنابڑا بھائی سمجھتا ہوں۔جب تک تمہاراہاتھ میرے خلاف نہیں اُٹھے گا تب تک یہ رشتاقائم رہے گا۔ بصورتِ دیگراگرتم نے میرے خلاف اپنے مالک کاساتھ دیاتوپھرمیں یہ بھول جاﺅں گا کہ میں نے کبھی تمہاری زندگی بچائی تھی؟ بہترہوگا کہ خود کو اس معاملے سے دُور رکھو۔یہ میرا اور اسفندغوری کامعاملہ ہے۔“
فیروزلالہ بولا۔” اگرچھوٹے صاحب کوتم نے ہاتھ بھی لگایا تومجھ سے بُراکوئی نہیں ہوگا۔“
وہ ہنسا۔” فیروزلالہ!تم توکیا پوری دنیامل کربھی اُسے میرے انتقام سے نہیں بچا سکتی۔جس دن وہ مجھے نظرآگیاوہ اُس کی زندگی کاآخری دن ہوگا۔“
” راجو!تم میرے محسن ہو اور میں نہیں چاہتا کہ میرامحسن میرے ہی ہاتھ سے ماراجائے۔خون بہالے کرمعاملہ ختم کردو۔یہی تمہارے حق میں بہتر ہوگا۔“
” فیروزلالہ!خون بہا وہ لیتے ہیں جن کی ہڈیوں میں گودے کی بجائے پانی بھراہوتا ہے۔“
” ایسے ڈائیلاگ فلموں میں اچھے لگتے ہیں اور“
” اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔“ اُس نے قطع کلامی کی۔” کہ یہ فلمی ڈائیلاگ تھے یاحقیقی؟ اور وہ وقت بہت جلد آنے والاہے۔“
” جا تُوجوکرسکتا ہے کرلے۔“ فیروز لالہ نے چیلنج کے اندازمیں جواب دیا۔
” میں جوبھی کروں گاتجھ سے اجازت لے کرنہیں کروں گا۔“
” راجو!“ اُس نے انگلی کھڑی کرتے ہوئے کہا۔” چلے جاﺅ یہاں سے ورنہ میرادماغ گھوم گیاتو تمہاراکھیل یہیں ختم ہوجائے گا۔“
” کھیل تواب شروع ہوگا فیروز لالہ۔“ رضوان نے ذومعنی انداز میں جواب دیااور پھرتیزی سے اُٹھ کرکمرے سے باہر نکل گیا۔
٭٭٭
” سدو! تم ماں کوہمارے گھربھیج رہے ہو یا نہیں؟“ اُس نے حتمی اندازمیں پوچھا۔
وہ بولا۔” ارم! پلیزمیری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو،میں ابھی شادی افورڈ نہیں کرسکتا۔مجھے ابھی بہت سارے قرض چکانے ہیں۔“
اُس نے کہا۔” اور وہ قرض تم یہ ٹیکسی چلاکراُتاروگے، کیا یہ ممکن ہے؟“
” تم شایدپوری طرح میری بات سمجھ نہیں پائیں میں نے کسی اور قرض کی بات کی ہے۔کچھ قرض ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں چکاتے ہوئے بدلے میں جان دینی پڑتی ہے۔اس لیے فی الحال تم انتظارکروکہ اسی میں ہم دونوں کی بھلائی ہے۔“
” یہیہ تم کس قرض کی بات کررہے ہو؟“ ارم کے اندازسے حیرت کے ساتھ ساتھ پریشانی بھی چھلک رہی تھی۔
” بس ہے ایک قرض جو میرے ذمہ واجب الاداہے اور مجھے مرنے سے پہلے یہ قرض چکاناہے۔“
” کیا مجھے نہیں بتاﺅگے؟“
” قبل ازوقت بتاکرتجھے پریشان نہیں کرنا چاہتا۔البتہ جب قرض چکانے کا وقت آگیاتو تجھے ضروربتاﺅں گا۔“
” نہیں آج تومیں یہ بات جان کرہی رہوں گی۔میں نے ہمیشہ تمہیں انہی خدشات میں مبتلادیکھا ہے۔“
وہ بولا۔”ارم میری جان!خداکی قسم اگریہ بات بتانے والی ہوتی تومیں سب سے پہلے تجھے بتاتا۔پلیزضد نہ کرو میری مجبوری کوسمجھنے کی کوشش کروچلو آﺅ آج تجھے آئس کریم کھلاتا ہوں۔“
” میں بچی نہیں ہوں کہ آئس کریم کے ایک کپ سے بہل جاﺅں گی۔“ اُس نے تنک کرجواب دیا۔
” اوکے دو کھا لینا۔“ وہ ہنسا۔
” دانت مت نکالو بہت بدصورت لگتے ہو۔“
” دل سے کہہ رہی ہو کہ صرف زبان سے؟“ اُس نے ہنس کر پوچھا۔
” نہیں بتاﺅں گی۔“ وہ چڑ کربولی۔” تمہیں جب مجھ پراعتماد نہیں ہے تو میں کس لیے تم پراعتمادکروں؟“
” دیکھو میری جان!“ وہ اُس کا نرم وگدازہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے بولا۔” میں تم سے بے حدپیارکرتا ہوں ۔اتناکہ تم اندازہ بھی نہیں لگا سکتیں مگر یہ معاملہ ایسا ہے کہ فی الحال اسے مخفی رکھنا بہت ضروری ہے۔ہو سکتا ہے یہ قرض چکاتے وقت مجھے کبھی تمہاری ضرورت پڑگئی تو وعدہ کرتا ہوں کہ تمہیں ضروربلاﺅں گا۔چلو اب غصہ تھوک کسی کیفے میں چل کربیٹھتے ہیں۔“
” نہیں۔“ اُس نے انکار میں سرہلایا۔” میں آنٹی اورانکل سے ملنا چاہتی ہوں؟“
” اُن سے مل کرکیا کرو گی؟“ سدو نے مشکوک اندازمیں پوچھا۔
” بھئی! میں اُن کی ہونے والی بہوہوں۔جب چاہوں اُن سے مل سکتی ہوں ۔تم کون ہوتے ہو سوال کرنے والے؟“
” اوکے ٹھیک ہے لیے چلتا ہوں مگرامی سے یہ بات مت کہنا کہ میں کوئی قرض چکانا چاہتا ہوں۔وہ خواہ مخواہ پریشان ہوجائیں گی۔“
” نہیں کہوں گی۔“ اُس نے اثبات میں سرہلایا۔” اب چلو مجھے دیر ہورہی ہے۔“
” تشریف رکھیے میڈم۔“ وہ ٹیکسی کی عقبی کھڑکی کھولتے ہوئے بولا۔” غلام ابھی لیے چلتا ہے۔“
ارم مسکراتے ہوئے ٹیکسی میں بیٹھ گئی۔سدو نے اسٹیرنگ سنبھالااور ٹیکسی ایک جھٹکے سے آگے بڑھ گئی۔لگ بھگ نصف گھنٹے کے بعدوہ سدو کے گھر پہنچ گئے۔سدو کی ماں ارم کودیکھ کرخوشی سے کھل اُٹھی۔
” کتنے عرصے کے بعد چکر لگایا ہے ۔تم بھی نا!اب کٹھور ہوتی جارہی ہو؟“ سدوکی ماں نے مسکراکر شکایت کی۔
” ارے یہ کیا آنٹی!سدو تواب بھی مجھے یہاں لانے کے لیے تیارنہیں تھے۔وہ تو میں زبردستی آگئی ہوں۔“ 
” یہ کیا کہہ رہی ہے بیٹے!“ اُس نے سدو کی طرف دیکھا۔”شادی ابھی تک ہوئی نہیں ہے اور ان بن پہلے سے شروع ہوگئی؟“
” نہیں امی! یہ جھوٹ بولتی ہے۔میں نے تو اسے کبھی انکار نہیں کیا۔“
وہ بولی۔” بہترہوگا کہ اب تم دونوں کی شادی کردی جائے۔اس کے بعد شوق سے لڑتے رہنا۔“
” شادی بھی ہوجائے گی امی! اوکے آپ لوگ باتیں کریں میں ابو کو دیکھتا ہوں۔“ وہ عجلت کے اندازمیں کہتاہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔
” دیکھاآنٹی!آپ کالاڈلاشادی کا نام سنتے ہی کیسے بدک کربھاگ گیاہے؟“ ارم شکایتی اندازمیں بولی۔” جب کہ اُدھرہمارے گھرمیں امی اورابوروزانہ میری شادی کے موضوع پرہی لگے رہتے ہیں۔خاص کرامی توچاہتی ہیں کہ بس ابھی کہ ابھی مجھے رخصت کردیں۔“
” کیوںساجدہ بہن کیاتمہیں بوجھ سمجھنے لگی ہیں؟ میں خود اُن سے بات کروں گی۔وہ کون ہوتی ہیں میری بہورانی کو تنگ کرنے والی؟“
وہ بولی۔” نفیسہ آنٹی!اس میں امی بچاری کا کیا دوش ہے؟ بیٹیوں کوتو آج کل سبھی بوجھ سمجھتے ہیں۔اورپھر یہ بھی تو سوچونا!کہ امی کے کندھوں پرتوایک کی بجائے چار چار جوان بیٹیوں کا بوجھ ہے۔“
” سب ٹھیک ہوجائے گا بیٹی!تُوکیوں فکرمندہوتی ہے۔میں ہوں نا!اللہ نے چاہاتوتمہاری سب بہنوں کے رشتے اچھے خاندانوں میں ہوں گے۔“ نفیسہ آنٹی نے اُسے تسلی دیتے ہوئے جواب دیا۔
” بس آپ ہی کا تو آسراہے آنٹی!ورنہ دل چاہتا ہے گھرسے کہیں بھاگ جاﺅں۔“
” ناںایسی باتیں نہیں کرتے۔“ نفیسہ آنٹی نے نفی میں سرہلایا۔” میں آج ہی سدو کے ابا سے بات کرتی ہوںاچھا اب یہ بتا کہ چائے چلے گی یا ٹھنڈا؟“
” چائے ٹھیک رہے گی آنٹی!مگربناﺅں گی میں خود۔“ ارم نے جواب دیااورپھرکچن کی طرف بڑھ گئی۔
٭٭٭
بڑے صاحب اپنی وسیع وعریض کوٹھی کے ڈرائنگ روم میں ایک نفیس سوفے پر براجمان گہری سوچ میں غرق تھے۔اُ ن کے ہاتھ میں ایک سلگتاہوا امپورٹڈسگار موجود تھا۔ سگارکی خوشبوپورے ڈرائنگ روم میں پھیلی ہوئی تھی۔بڑے صاحب نے ایک کش لگایا،دھواں فضامیں چھوڑااورپھرسوفے سے اُٹھ کرٹہلنے لگے۔اُن کے ماتھے پرشکنوں کا ایک جال سابنا ہوا تھا۔اُس وقت وہ کریم بھائی کے متعلق سوچ رہے تھے۔جس نے تھوڑاہی عرصہ قبل بڑے صاحب کی پارٹی جوائن کی تھی ۔مگرآج وہ پارٹی لیڈربننے کے خواب دیکھ رہا تھا۔کریم بھائی کی یہ جرا ¿ت بڑے صاحب کے نزدیک ناقابلِ معافی جُرم تھا۔ابھی اُس کے نئے نئے پرنکلے تھے اوروہ اُڑنے کی تگ ودو کررہاتھا۔لیکن بڑے صاحب اُڑان بھرنے سے پہلے ہی اُس کے پرنوچ لینا چاہتے تھے۔وہ ہمیشہ سے تشدد کی سیاست کے قائل چلے آرہے تھے۔اُن کے نزدیک سیاست اور تشدد لازم و ملزوم تھے۔ٹہلتے ٹہلتے اُنہیں بڑی دیر ہوگئی مگراس مسئلے کا کوئی مناسب حل اُن کے ذہن میں نہیں آیا۔تھک کروہ دوبارہ سوفے پر بیٹھ گئے۔ایسے ہی وقت ایک گھریلوملازم ڈرائنگ روم میں داخل ہوا اور مو ¿دب میں بولا۔” سائیں! ایک بنداملاقات کی غرض سے آیا ہے۔“
” ارے بابا! اُس سے نام پتا پوچھا ہے کہ ایسے ہی چلے آئے ہو۔کون ہے کہاں سے آیا ہے اورہم سے کیوں ملنا چاہتا ہے؟“ بڑے صاحب نے اپنے مخصوص اندازمیں پوچھا۔
” سائیں! وہ اپنا نام راجو بتاتا ہے۔“
” تم نے ٹھیک سے تو سنا ہے نا!بابا؟“ بڑے صاحب نے چونک کر پوچھا۔
” ہاں سائیں! میں نے پورا پتاکرلیا ہے۔اُس کا اصل نام رضوان ہے۔لیکن وہ کہتا ہے کہ آپ اُسے راجوکے نام سے جانتے ہیں۔“
” تو بابا! اُسے جلدی سے اندر بھیجو اور کچھ کھانے پینے کے لیے بھی لے آﺅ۔“ بڑے صاحب نے حکمیہ اندازمیں جواب دیا اور ملازم تیزی سے باہر نکل گیا۔
چند لمحوں کے بعد رضوان راجو اندر داخل ہواتو بڑے صاحب اُسے دیکھ کرکھل اُٹھے۔” ہمیں پتا تھا بابا! ایک دن تم نے اِدھر ہی آنا ہے۔“
” ہاں بڑے صاحب!“ راجونے اُداسی کے عالم میں کہا۔” مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے۔اب میں آپ کو چھوڑکر کہیں نہیں جاﺅں گا۔“
” راجو!اگرصبح کا بھولا شام کو گھر لوٹ آئے تو اُسے بھولا نہیں کہتے۔“ بڑے صاحب نے قہقہہ لگایا۔” ویسے بھی ہم تجھے اپنا بیٹا سمجھتے ہیں۔کبھی کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی اور نہ آئندہ ہو نے دیں گے۔“
” آپ کے یہی احسان تو مجھے واپس کھینچ لائے ہیں ورنہ“
” ہمیں سب خبرہے بابا!“ بڑے صاحب نے ہاتھ اُٹھا کرقطع کلامی کی۔” تجھے ارجمند غوری کی دشمنی یہاں کھینچ لائی ہے۔ورنہ ہمارے بلانے سے تُو کب واپس آنے والا تھا؟“
وہ بولا۔” بڑے صاحب!میں جب تک اسفندغوری کو جہنم رسید نہیں کردیتا تب تک مجھے کسی پل بھی چین نہیں آئے گا۔بس آپ سے اتنی گزارش کرنے کے لیے آیا تھا کہ آپ میرے مقابلے میں ارجمند غوری کا ساتھ نہیں دیں گے۔“
” ارے بابا! نہیں دیں گے بالکل نہیں دیں گے لیکن تمہیں واپس آناپڑے گا ہمارے پاسبولو منظور ہے؟“
” منظور نہ ہوتا تو آپ کے در پہ کبھی نہ آتا۔“ اُس نے پُرعزم لہجے میں جواب دیا۔
” تو جاﺅبابا شوق سے اپنا بدلہ لوویسے یہ ارجمند غوری آج کل ہمارے لیے بھی دردِسربنتا جارہا ہے۔ہماری مہربانیوں کواس نے ہماری بزدلی سمجھ لیا ہے۔ کریم بھائی کو ہمارے خلاف آئے دن اُکساتا رہتا ہے۔“
” بڑے صاحب!میں وعدہ کرتا ہوں کہ ان سب کوصفحہءہستی سے مٹادوں گا۔بس مجھے آپ کے دستِ شفقت کی ضرورت ہے۔“
” ارے بابا!ہمارا دستِ شفقت تو ہمیشہ تمہارے سرپہ رہا ہے۔بس تم ہی ہمیں چھوڑ جاتے ہو۔“ بڑے صاحب نے مسکراکر شکوہ کیا۔
وہ بولا۔” اب ایسا کبھی نہیں ہوگا بڑے صاحب!ہم جیسوں کوشرافت کی زندگی کبھی راس نہیں آتی۔آغازبھی گولی انجام بھی گولی۔“
بڑے صاحب نے کہا۔” راجو!ہمیں لگتا ہے اب تم موت سے ڈرنے لگے ہو۔پہلے تو تم نے کبھی ایسے مایوسی کی باتیں نہیں کی تھیں؟“
” نہیں بڑے صاحب!میں موت سے نہیں ڈرتا البتہ نازنین کی وجہ سے اب قدرے محتاط رہنا پڑتا ہے۔عمران کی موت کے بعد تو وہ بے چاری بالکل ہی ٹوٹ گئی ہے۔ پہلے تو عمران کے ساتھ اُس کادل بہلارہتا تھا ۔لیکن اب تو وہ“
” تم اُسے یہیں لے آﺅ، یہاں نوکرچاکر ہیں اُس کاخیال رکھنے کے لیے۔“ بڑے صاحب نے قطع کلامی کی۔
” بہت بہتربڑے صاحب۔“ اُس نے اثبات میں سرہلایااور سلام کرتے ہو ئے باہرنکل گیا۔
چندلمحوں کے بعد وہ موٹربائیک پہ سوارٹیکسی اسٹینڈکا رخ کررہاتھا۔
٭٭٭
سدو ٹیکسی اسٹینڈ کے چائے خانے میں بیٹھادودھ پتی سے لطف اندوز ہورہاتھا۔جب اچانک اُس کی نظررضوان پرپڑی جو متلاشی نگاہوں سے اِدھراُدھر دیکھ رہاتھا۔ جلد ہی رضوان نے اُسے تاڑلیااورمسکراتاہوا اُس کے قریب آکرخالی کرسی پر بیٹھ گیا۔رسمی علیک سلیک کے بعدسدو نے ایک دودھ پتی کا آرڈردیااورپھرشکایتی اندازمیں بولا۔ ”آپ تو جناب غائب ہی ہوگئے تھے۔میں نے آپ کوڈھونڈنے کی بہت کوشش کی مگرناکام رہا۔“
” تم فون پربھی توبات کرسکتے تھے۔“ رضوان نے دودھ پتی کا کپ اُٹھاتے ہوئے کہا۔”میں نے تمہیں اپنانمبردیاتھانا؟“
” نہ وہ فون رہا ہے اور نہ نمبر۔“ سدونے قہقہہ لگایا۔” یہاں ہرہفتے نیا فون خریدناپڑتا ہے۔“
” چلوکوئی بات نہیں فون اور آجائے گا۔فی الحال مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔“
” شوق سے کرو میں سن رہا ہوں۔“
وہ بولا۔” سدو! یہ جگہ مناسب نہیں ہے۔کہیں اور چل کربیٹھے ہیں۔“
” ٹھیک ہے اگرایسی ہی کوئی خاص بات ہے تو پھر میرے گھرچلے چلتے ہیں۔امی اور ابوکو آپ سے ملنے کابہت شوق ہے۔اسی بہانے آپ کی اُن سے ملاقات بھی ہو جائے گی۔“ سدو نے جیب سے والٹ نکالتے ہوئے جواب دیا۔
” اوکے ۔“ رضوان نے سرہلاکراُس کی تائید کی۔
سدونے والٹ سے ایک نوٹ نکال کربل چکایااورپھروہ دونوں چائے خانے سے باہرنکل گئے۔
باہرنکل کر سدو بولا۔” آپ ٹھہریں،میں ٹیکسی نکال لاتا ہوں۔“
ذرادیرکے بعدوہ دونوں سدو کے گھرکی طرف روانہ تھے۔سدواپنی ٹیکسی میں آگے تھا۔جب کہ رضوان اُس کے پیچھے اپنی بائیک پرتھا۔پون گھنٹے کی ڈرائیونگ کے وہ سدو کے گھر پہنچ گئے۔سدونے جب ماں سے اُس کا تعارف کرایاتو نفیسہ بیگم مسکراکر بولی۔” بیٹے! یہ سدو گھرمیں اکثرتمہارا ذکرکرتا رہتا ہے۔اس لیے مجھے تم سے ملنے کا بہت شوق تھا۔اچھاہواکہ تم سدوکے ساتھ خودہی آگئے۔“
وہ بولا۔” آنٹی!اگرمیں یہ کہوں کہ یہاں میں کسی مقصدکے تحت آیاہوں تو شایدآپ کو بُرالگے گا۔مگرحقیقت یہی ہے کہ یہاں مجھے میری ضرورت کھینچ لائی ہے۔“
” کوئی بات نہیں بیٹے! انسان ہی انسانوں کے کام آتے ہیں۔ہمیں خوشی ہوگی تمہارے کام آکر، تم بلاجھجک ہوکر اپنی ضرورت بتاﺅ،ہمارے بس میں ہوئی تو ضرورپوری کریں گے۔“
وہ بولا۔” آنٹی!میں اپنی ضرورت سدو کو بتاﺅں گا۔مجھے یقین ہے کہ یہ مجھے انکارنہیں کرے گا۔“
” جان بھی حاضرہے رضوان بھائی آپ حکم تو کریں؟“سدونے پُرجوش اندازمیں مداخلت کی۔
” ابھی نہیں جب وقت آئے گا تو ضرور بتاﺅں گا۔“
” تو چلیے پھرمیں آپ کوابوجان سے ملاتا ہوں۔“ سدو اُٹھتے ہوئے بولا۔”امی!آپ چائے وہیں لے آئیں۔“
” تم لوگ جاﺅ، میں ابھی چائے لاتی ہوں۔“ نفیسہ بیگم نے اثبات میں سرہلاکر جواب دیا۔
چندلمحوں کے بعد وہ سدو کے ساتھ ایک کمرے میں داخل ہواتو اُسے حیرت کا ایک جھٹکالگا۔کمرے میں موجود شخص اُس کے لیے اجنبی نہیں تھا۔وہ اُسے اچھی طرح جانتا تھا۔تاہم وہ شخص اُسے نہیں جانتا تھا۔اُس کے سامنے ایک معروف اخبارکا ایڈیٹرمحمودغزنونوی موجودتھا۔جو منہ میں قلم پکڑکر کچھ لکھ رہاتھا۔کیوں کہ اُس کے دونوں ہاتھ کلائیوں سے کٹے ہوئے تھے مگروہ ہونٹوں میں قلم تھامے نہایت ہی روانی کے ساتھ لکھ رہاتھا۔رضوان نے سلام کیا تو اُس نے سرکی جنبش سے جواب دیا۔
رضوان بولا۔” جناب! مجھے آپ سے مل کربہت خوشی ہورہی ہے۔آپ مجھے نہیں جانتے لیکن میں آپ کو اچھی طرح جانتا ہوں۔“
محمودغزنوی نے مسکراکر اُس کی طرف دیکھااوراثبات میں سرہلانے لگا۔
” سر!کیا آپ نے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے؟“ رضوان نے ہنس کرپوچھا۔
محمودغزنوی نے چونک کربیٹے کی طرف دیکھاتو وہ بولا۔”ابو! یہ میرادوست ہے رضوان۔اسے میں نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ آپ بول نہیں سکتے۔تاہم اس کااور ہمارا دشمن ایک ہی ہے ۔ارجمندغوری، وہی ارجمندغوری جس نے آپ کے ہاتھ کاٹنے کے ساتھ ساتھ آپ کو قوتِ گویائی سے بھی محروم کردیا تھا۔“
ارجمندغوری کانام سن کرمحمودکے چہرے پراذیت وحقارت کے ملے جلے تاثرات اُبھرکرمعدوم ہوگئے۔رضوان نے اُلجھن آمیزنگاہوں سے سدوکی طرف دیکھا تووہ بولا۔”رضواں بھائی! ابو کی اس حالت کا ذمہ دارارجمند غوری ہے۔وہ ظالم انسان جو اس شہرکا فرعون بنا ہوا ہے۔“
” لیکن کیوںغوری کی آپ لوگوں سے کیا دشمنی تھی؟“ رضوان نے سوال کیا۔
” کوئی دشمنی نہیں تھی۔“ سدونے تاسف کے عالم میں سرہلایااورپھرساراواقعہ تفصیل کے ساتھ اُس کے سامنے بیان کر دیا۔
” اوہ تو یہ بات ہے۔“ اُس نے معنی خیزنظروں سے سدوکی طرف دیکھا۔” میں سمجھ گیا مسٹرمسعودغزنوی عرف سدو بھائی۱ تم تومیرے بھی اُستاد نکلے۔بھئی داد دینا پڑے گی تمہاری اس پلاننگ کی۔“
” پلاننگکیسی پلاننگرضوان بھائی؟“ سدونے حیرت کے عالم میں پوچھا۔
” انکل کوپتاہے تمہاری اس منصوبہ بندی کا؟“ رضوان نے اُلٹا سوال کردیا۔
” کککیسی منصوبہ بندی؟“ سدو بدستوراُلجھا ہواتھا۔” آپ کچھ بتائیں گے تو مجھے معلوم ہوگانا؟“
” تم میرے بارے میں کیاجانتے ہو؟“
” کککچھبھی نہیںجانتا۔“ سدونے ہکلاکر جواب دیا۔
” جھوٹ بول رہے ہوتم۔“ وہ چلایا۔” اپنے باپ کے سرپرہاتھ رکھ کرقسم کھاﺅ کہ تم میرے بارے میں کچھ نہیں جانتے؟“
” سوری رضوان بھائی! میں شرمندہ ہوں آپ سے۔“ سدو نے ندامت سے سرجھکاتے ہوئے جواب دیا۔
” مطلب تم میرے بارے میں سب کچھ جانتے ہو؟“ اس باررضوان نے نرم لہجے میں پوچھا۔
” ہاں۔“ سدو نے اثبات میں سرہلایا۔
” اوکےاُٹھو چلیں۔“ رضوان کے لہجے میں تحکم تھا۔
” کککہاں؟“ سدونے خائف ہوکرپوچھا۔
وہ بولا۔” مجھے تم سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں جو یہاں انکل کے سامنے مناسب نہیں ہوں گی۔اس لیے میرے فلیٹ پر چلتے ہیں۔“
” ٹھیک ہے ۔“ سدو نے اثبات میں سرہلایا۔
رضوان محمود غزنوی کی طرف متوجہ ہوا،جو بڑی دیرسے پریشانی کے عالم میں اُن کی گفت گو سن رہاتھا۔” انکل! آپ بالکل پریشان نہ ہوں۔میرے ہوتے ہوئے سدو کا کوئی بال بیکابھی نہیں کرسکتا۔“ 
محمود پریشانی کے عالم میں سدوکی طرف دیکھنے لگا۔
سدوبولا۔” ابو! آپ پریشان نہ ہوں۔بس میرے لیے دعا کریں اور ہاں امی کو اس بارے میں کچھ بھی بتانے سے گریزکریں وہ خواہ مخواہ پریشان ہو جائیں گی۔“
ایسے ہی وقت نفیسہ بیگم ایک ٹرے لیے اندر ڈاخل ہوئی جس میں چائے کے ساتھ ساتھ کھانے کی کچھ ہلکی پھلکی چیزیں رکھی ہوئی تھیں۔سو اُن دونوں کوچائے پینے کے لیے کچھ دیررکنا پڑا۔
٭٭٭

جاری ہے


 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney