غرور ہستی

قسط نمبر3۔۔۔آخری قسط

فیروزلالہ نے ارجمندغوری کویہ بتادیاتھا کہ اسفندغوری کی زندگی خطرے میں ہے۔مگریہ نہیں بتایاتھاکہ کس سے اُسے خطرہ ہے؟ غالباً اُسے اپنے ماضی کے دوست سے ہمدردی تھی،جس نے کبھی اپنی جان پر کھیل کر اُس کی جان بچائی تھی۔اُسے آج بھی وہ مناظر یاد تھے۔جب سکیورٹی فورسزنے اُنہیں چاروں طرف سے گھیرلیاتھا اوروہ گرفتاری پیش کرنے کی بجائے مقابلے پرتل گئے تھے۔اُن پرچاروں طرف سے گولیاں برس رہی تھیں۔جن کی تڑتڑاہٹ سے پورا علاقہ گونج رہاتھا۔وہ دونوں بھی جوابی فائرنگ کررہے تھے۔مگرسکیورٹی اہل کاروںکی تعدادبہت زیادہ تھی۔چنانچہ وہ تیزی سے اُن کے قریب آتے جارہے تھے۔جب کہ اُن دونوں کی مدافعت لمحہ بہ لمحہ کم زورپڑتی جارہی تھی۔اُن کے پاس گولیاں بھی ختم ہونے کے قریب تھیں۔ایسے ہی وقت راجوچلایا۔” فیروزلالہ!تم بھاگ جاﺅ میں انہیں روکتا ہوں۔“
” کیا تم پاگل ہوگئے ہو؟“ فیروزلالہ نے چیخ کرپوچھا۔” میں بھلاتجھے اکیلاچھوڑکرکیسے بھاگ سکتا ہوں؟“
” لالہ! تجھے میری قسم بھاگ جاﺅ،گن پھینکو،چہرے سے نقاب اُتارواورعقبی راستے سے نکل جاﺅ، تجھے کوئی بھی نہیں پہچان سکے گا۔“
” مگرراجومیںمیں یہ“
” لالہ! تم وقت ضائع کررہے ہو۔“ راجونے چلاکراُس کی بات کاٹی۔” یقین کرو مجھے کچھ بھی نہیں ہوگا۔البتہ اگرتم نہ گئے توہم دونوں کتے کی موت مارے جائیں گے۔ پلیزمیری بات مان لوپلیز“
چاروناچار فیروز لالہ نے اُس کی ہدایت پرعمل کیااور وہاں سے چھپتا چھپاتا نکل گیا۔تاہم اُسے آج تک یہ معلوم نہیں ہوسکا تھا کہ راجووہاں سے کیسے نکلا تھا؟
ارجمندغوری کے باربارکے استفسار پرفیروزلالہ نے صرف اتنا ہی بتایاتھا کہ وہ کوئی ٹارگٹ کلرہے جو اسفند غوری کو مارنا چاہتا ہے۔چنانچہ ارجمند غوری نے اکلوتے بیٹے کی سکیورٹی کاخاطرخواہ انتظام کردیاتھا۔دوعدد گارڈزجو کہ جدید اسلحے سے مسلح تھے ہروقت اسفندغوری کے ساتھ رہتے تھے۔گوکہ گارڈزکی موجودگی میں وہ کوفت محسوس کیاکرتا تھا لیکن باپ کے سامنے اُسے دم مارنے کی جرا ¿ت نہیں ہوتی تھی۔فطرتاً اسفندغوری ایک عیاش طبع شخص تھا۔اس لیے گارڈزکی موجودگی اُسے ہمیشہ کھٹکتی رہتی تھی۔اُس کے بس میں ہوتا تو اُن گارڈزکو کھڑے کھڑے فارغ کردیتا مگرباپ کے خوف نے اُس کی زبان پرمصلحت کے تالے لگا رکھے تھے۔ہر دوسرے تیسرے دن ساحلِ سمندرپر جانا اُس کی کم زوری تھی۔ساحلِ سمندرپرہمیشہ اُسے اپنامن پسندشکارمل جاتا تھا۔تاہم گزشتہ کچھ روزسے گارڈزکی موجودگی نے اُس کا یہ دھنداچوپٹ کررکھا تھااور وہ سخت بے چین تھا۔اُسے کسی نہ کسی طرح ان گارڈزسے جان چھڑاناتھی۔تبھی وہ اپنا شوق پوراکر سکتا تھا۔
اُس روز جب وہ دوپہرکے وقت ناشتاکرنے کے بعدکوٹھی سے نکلاتو حسبِ معمول دونوں گارڈز اُس کے ساتھ تھے۔دل ہی دل میں وہ اُن سے جان چھڑانے کا پلان سوچنے لگا۔مگرکوئی مناسب پلان اُسے سجھائی نہیں دے رہا تھا۔کہتے ہیں کہ آدمی کی جب موت آتی ہے تو وہ خودہی اس سمت بھاگ اُٹھتا ہے۔جہاں موت اُس کی منتظرہوتی ہے۔ اسفندغوری کی موت کا وقت بھی قریب آچکاتھا۔لہٰذا وہ بھاگ کراُسی سمت جاناچاہتا تھا۔اُس وقت وہ ایک ویران سڑک سے گزر رہے تھے ۔جب اچانک ایک فول پروف پلان اُسے سوجھ گیا۔دونوں گارڈزگاڑی کی عقبی نشست پر بیٹھے ہوئے تھے۔سو وہ اسفندغوری کی چالاکی سے واقف ہی نہ ہوسکے۔اسفند غوری نے چلتی گاڑی کا انجن بند کردیا اور گاڑی تھوڑی دورجاکر خودبخودرک گئی۔
” اوہ شٹاسے بھی ابھی خراب ہونا تھا۔“ اُس نے جھنجھلاکراسٹیرنگ وہیل پرایک مکا مارا۔
” کیا ہوا جناب؟“ عقبی نشست سے ایک گارڈ نے استفسارکیا۔
” پتانہیں چلتے چلتے خود ہی بند ہوگئی ہے۔شایدانجن میں کوئی گڑبڑہوگئی ہے۔“ اُس نے پریشانی کے عالم میں جواب دیا۔
” نوپرابلم سر! یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ہم نیچے اُترکرگاڑی کو دھکالگاتے ہیں ۔ابھی اسٹارٹ ہو جائے گی۔“ گارڈ نے عین اُس کی توقع کے مطابق مسئلے کا حل بتایاتو وہ دل ہی دل میں مسکرا دیا۔
” سوری۔“ وہ قدرے نادم ہوکر بولا۔”تم لوگوں کو تکلیف دے رہاہوں۔یہاں قریب کوئی ورکشاپ بھی تو نہیں ہے ورنہ“
” کوئی بات نہیں جناب۔“ گارڈ نے فوراًقطع کلامی کی۔”یہ تو ہماری ڈیوٹی ہے۔تکلیف کیسی؟“
دوسرے ہی لمحے دونوں گارڈ گاڑی سے نیچے اُترے اور گاڑی کو عقب سے دھکا لگانے لگے۔گاڑی آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگی۔تبھی اچانک اُس نے اگنیشن میں لگی چابی گھمادی۔گاڑی کا طاقت ور انجن ایک دم سے غرایااوردوسرے ہی لمحے گاڑی تیزی سے آگے نکل گئی۔جب کہ گارڈکچھ نہ سمجھنے والے اندازمیں ایک دوسرے کی شکلیں دیکھ رہے تھے۔اُن کے وہم وگمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ اسفندغوری یوں اُنہیں دھوکا دے جائے گا۔سوائے ہاتھ ملنے کے وہ کچھ بھی نہ کرسکے۔
٭٭٭
گارڈزکو غچہ دے کروہ سیدھا ساحلِ سمندرپہ پہنچ گیا۔گاڑی کو حفظِ ماتقدم کے طورپراُس نے درختوں کے ایک جھنڈمیں پارک کیااور چہل قدمی کے اندازمیں ساحل کی طرف چل پڑا۔اُس کی نگاہیں اِدھراُدھر یوں گھوم رہی تھیں جیسے اُسے کسی کی تلاش ہو۔وہاں بہت سے لوگ گھوم رہے تھے۔کچھ من چلے سمندرکی تند لہروں کے ساتھ قوت آزمائی میں بھی مصروف تھے۔کتنے ہی لوگوں کووہ بے رحم سمندر نگل چکاتھا مگرلوگوں نے کبھی نصیحت حاصل نہیں کی تھی۔وہ مرنے کے لیے خود ہی وہاں پہنچ جاتے تھے۔یونہی گھومتے گھومتے معاً اُس کی آنکھیں چمکنے لگیں۔وہ بالکل وہی تھی جو گزشتہ کئی دنوں سے اُسے وہاں اکیلے گھومتے ہوئے نظرآرہی تھی۔جینزکی چُست پتلون اورسلیولس شرٹ میں وہ دیکھنے والوں پر بجلیاں گراتی ساحل پرچہل قدمی کررہی تھی۔پتلون کے پائنچے اُس نے گھٹنوں تک چڑھائے ہوئے تھے۔اُس کی سرخ وسفیداورگدازپنڈلیاں دیکھ کراسفندغوری کے دل کی دھڑکنیں اتھل پتھل ہونے لگیں اورمنہ میں جیسے شہدسا گھلنے لگا۔وہ جرا ¿ت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگے بڑھااورچہرے پرمسکراہٹ سجاتے ہوئے اُس دشمنِ جاں سے مخاطب ہوا۔ ” ہائے بے بی!آئی ایم اسفند غوریکیا آپ مجھے چندلمحوں کی کمپنی دینا پسند فرمائیں گی؟“
” وائے ناٹ۔“ وہ مسکرائی تو اُس کے موتیوں جیسے صاف وشفاف دانت چمکنے لگے۔” آئی ایم ارم سعیدآپ سے مل کربہت اچھا لگا۔“
” تھینک یو سو مچ ڈئیر۔“ وہ یوں مسکرایا جیسے اُس سے برسوں کی شناسائی ہو۔”آﺅ کسی کیفے میں چل کربیٹھتے ہیں۔آئس کریم وغیرہ کھائیں گے۔“
” تم پاگل ہو مسٹرغوری۔“ وہ ایک دم فری ہوگئی۔” میں یہاں آئس کریم کھانے تو نہیں آئی۔“ اُس کے لبوں پرذومعنی مسکراہٹ تھی۔
” اوہ یو ناٹی گرل۔“ اسفندغوری کا چہرہ تمتما اُٹھا۔” میں سمجھ گیابولو کہاں چلا جائے؟“
” میرے فلیٹ پر۔“ اُس نے دُور درختوں کے ایک جھنڈ کی طرف اشارہ کیا۔” وہاں اُن درختوں کے عقب میں میرافلیٹ ہے۔وہاں میں اکیلی رہتی ہوں۔ چلو گے کیا؟“
” ضرورچلوں گابے بی۔“ خوشی سے اُس کی باچھیں چوڑی ہوئی جارہی تھیں۔” تم کہو اور ہم نہ آئیں یہ بھلا کیسے ممکن ہے؟“
” اوکے فالومی۔“ وہ مستانہ چال چلتی ہوئی آگے بڑھی تو اسفند غوری سدھائے ہوئے کتے کی طرح اُس کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔
لگ بھگ دس منٹ کے بعدوہ ایک فلیٹ میں داخل ہورہے تھے۔جو دوکمروں ،کاریڈور اورکچن پہ مشتمل تھا۔ارم نے ایک کمرے کا لاک کھولااور اسفند غوری سے بولی۔” چلو اندر آجاﺅ، یہاں ہرسہولت میسر ہے۔“
” سہولت کو گولی مارو بے بی! مجھے تو بس“ بقیہ جملہ اُس کے حلق میں اٹک کررہ گیااوروہ متحیراندازمیںاُن دواشخاص کی طرف دیکھنے لگا جو ایک سوفے پربراجمان اُسے طنزیہ نگاہوں سے گھوررہے تھے۔دونوں کے ہاتھ میں جدیدہتھیارموجود تھے۔یہ رضوان اور سدو تھے۔
” موسٹ ویلکم موسٹ ویلکم مسٹر اسفند غوری۔“ رضوان نے باقاعدہ اُٹھ کراُس کا استقبال کیا۔
” کککون ہو تم لوگ اور مجھے یوں چارا ڈال کریہاں کس لیے بلایا ہے؟“اُس نے حتی الوسع لہجے کوبارعب بناتے ہوئے پوچھا۔
” یہ تجھے چارانظرآتی ہے اُلو کے پٹھے؟“ سدوسے ارم کی توہین برداشت نہ ہو سکی۔” چاراتو مچھلیوں کو ڈالا جاتا ہے اورتم تو گندے جوہڑمیں رینگنے والے کچھوے سے بھی بدتر ہو۔“
” حوصلہ سدو حوصلہ۔“ رضوان نے مداخلت کی۔” کیاتم نہیں جانتے کہ یہ ایک سلطان کا ولی عہد ہے؟“
” کون سا سلطان اور کہاں کا سلطانسلطان نام رکھ لینے سے کوئی سلطان تھوڑی بن جاتا ہے؟“ سدو نے طنزیہ اندازمیں جواب دیا۔
” سدو!مجھے لگتاہے تم اپنے باپ کا انجام بھول گئے ہو، شاہوں سے پنگا لوگے توزبان سے محروم کردیے جاﺅگے اورتمہارے ہاتھوں کو“
” بس رضوان بھائی بس۔“ سدو ہاتھ اُٹھاتے ہوئے چلایا۔” اس سے آگے ایک لفظ بھی نہیں کہنا۔“
” سلطان نہ سہی ولی عہد سہی سدو۔“ وہ معنی خیزلہجے میں بولا۔” کم سے کم اسے پتا تو چلنا چاہیے کہ اس کے باپ نے کیا کیاتھا؟“
سدو ایک دم سوفے سے اُٹھا اوربھوکے عقاب کی طرح اسفندغوری پرجھپٹ پڑا۔اُس کاپہلاگھونسا اسفند کے چہرے پر پڑا۔گھونسا اس قدر شدید تھا کہ اسفند غوری کی ناک سے خون ٹپکنے لگا۔اُس نے چیختے ہوئے دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپالیا۔لیکن سدوپرتو جنون سوار ہوچکا تھا۔اُس نے وحشیانہ اندازمیں اسفند غوری کو گھونسوں اورلاتوں پر رکھ لیا۔کمرے میں اسفندغوری کی چیخیں گونج رہی تھیں۔وہ جوابی وار کرنے کی بجائے محض اپنے دفاع پر اکتفا کررہا تھا۔پھر دیکھتے ہی دیکھتے سدو نے اُسے اُٹھایااور پختہ فرش پرپٹخ دیا۔ اسفندغوری کے منہ سے ایک کرب ناک چیخ نکلی اورپھروہ ذبح کیے ہوئے مُرغ کی طرح تڑپنے لگامگر سدوکا جنون تھا کہ تھمنے میں ہی نہیں آرہاتھا۔اب وہ ہاتھوں کی بجائے لاتوں سے کام لے رہا تھا۔اُس کی دونوں ٹانگیں میکانکی اندازمیں چل رہی تھیں۔منہ ناک دیکھے بغیروہ نہایت ہی بے رحمانہ اندازمیں اُسے ٹھوکرپہ ٹھوکررسید کررہاتھا۔ یہاں تک کہ اسفند غوری چیختے چیختے بے ہوش ہوگیا۔مگر سدو کے سینے میں اُبلتاہوا لاوا سرد نہ ہوا وہ بدستور اُسے ٹھوکریں ماررہاتھا۔
” بس سدو بس۔“ رضوان نے اُٹھ کراُسے بازوﺅں میں جکڑ لیا۔”یہ مرگیا تو ہمارا ساراپلان دھرے کادھرا رہ جائے گا۔“
” چھوڑدو مجھے چھوڑ دو۔“ وہ ہذیانی اندازمیں چلایا۔” میں آج اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔“
” ہوش میں آﺅ سدو!“ رضوان نے چیخ کرکہا۔” یہ کیا پاگل پن ہے؟ کیا سارا منصوبہ خاک میں ملادوگے؟“
” سدو!رضوان بھائی ٹھیک کہتے ہیں۔“ ارم نے مداخلت کی۔” تمہارا یہ جنون ساراپلان چوپٹ کردے گا۔پلیز کنٹرول یورسیلف۔“
دونوں نے مل کر بڑی مشکل سے سدو کا غصہ ٹھنڈا کیااور پھر بے ہوش پڑے ہوئے اسفندغوری کی طرف متوجہ ہو گئے۔
٭٭٭
ارجمندغوری اپنی مخصوص نشست گاہ میں بے چینی سے ٹہل رہا تھا۔ابھی کچھ ہی دیر قبل اُس نے لالہ فیروز خان کو اُن دوگارڈزکی معیت میں اسفند غوری کو تلاش کرنے کے لیے بھیجا تھا،جنہیں اسفنددھوکادے کرنکل گیاتھا۔اُس کے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بھنچی ہوئی تھین جب کہ چہرے پرغیظ وغضب کے تاثرات چھائے ہوئے تھے۔رہ رہ کر اُسے بیٹے پرغصہ آرہاتھا۔آج تک کسی نے بھی اُس کی حکم عدولی کرنے کی جرا ¿ت نہیں کی تھی۔لیکن آج اُس کے اپنے ہی بیٹے نے اُس کا سارا غرورخاک میں ملا دیاتھا۔غصے کی شدت سے اُسے اپناخون رگوں میں کھولتاہوا محسوس ہورہاتھا۔
” اسفند یہ تم نے اچھانہیں کیا۔“ ٹہلتے ٹہلتے اُس نے خودکلامی کی۔”ہم تمہارا وہ حشر کریں گے کہ تم عمر بھریاد رکھو گے۔“
ایسے ہی وقت اُس کاسیل فوں بجنے لگا۔اُس نے فون نکال کرسکرین پر نظر ڈالی تو اسفندکانام جھلملارہاتھا۔
” کہاں مرگئے ہوتم؟“ اُس نے کال ریسیوکرتے ہوئے گرج کرپوچھا۔
” زندہ ہے ابھی، کہو تو ماردوں؟“ اُس کی سماعتوں سے ایک اجنبی آواز ٹکرائی۔
” کون ہوتم اور یہ بات کس لہجے میں کررہے ہو؟ شایدتم ہمیں نہیں جانتے، ہم“
” سن بے !گمنام ریاست کے خودساختہ سلطان۔“ اجنبی نے طنزیہ انداز میں بات کاٹی۔”میں تجھے اچھی طرح جانتا ہوں لیکن تم مجھے نہیں جانتے۔میں موت ہوں موت، جودبے پاﺅں آتی ہے اور بڑے بڑے شاہوں کو اچک کرلے جاتی ہے۔بالکل اُس چیل کی طرح جو پلک جھپکنے کی دیرمیں مرغی کے چوزے کو دبوچ کرلے جاتی ہے۔“
” تمہمیں ماروگے؟ دو ٹکے کے انسان!“ وہ ایک دم بھڑک کربولا۔” ہم تمہارے سارے خاندان کانام ونشان مٹادیں گے۔ہم سلطان ارجمندغوری ہیں لوگ جس کانام سن کرکانپنے لگتے ہیں۔اُسے تم ماروگے؟“
” ہاں ماروں گا۔اگر تم نے اپنی بکواس بند نہ کی تو ابھی ایک دھماکا ہوگا اورتمہارے لاڈلے اور اکلوتے بیٹے کی کھوپڑی پاش پاش ہو جائے گی۔“ اجنبی نے سرد لہجے میں جواب دیا۔
” نہیں تم ایسا نہیں کرسکتے۔“ وہ چلایا۔” اپنی ڈیمانڈ بتاﺅ، ایک کروڑ دوکروڑ تین کروڑ یاپھر اس سے بھی زیادہ؟“
” گڈ یہ ہوئی نا بات۔“ اجنبی نے قہقہہ لگایا۔” تم نے اگرتعاون کیا تویقینا بچ جاﺅگے۔“
” پلیزاپنی ڈیمانڈ بتاﺅ؟“ اُس کی ساری اکڑایک پل میں ہوا ہوگئی اور وہ ” ہم “ سے ” میں“ پر آگیا۔” میں ابھی پوری کردوں گا۔“
اجنبی بولا۔” میں تم سے فیس ٹوفیس بات کرنا چاہتا ہوں۔میری ڈیمانڈ کیا ہے؟ ابھی نہیں بتا سکتا۔ملاقات ہونے پربتادوں گا۔“
” اوکے مجھے منظورہے بولو کہاں ملنا چاہتے ہو؟“ اُس نے فوراً رضامند ہوتے ہوئے سوال کیا۔
” ملاقات کا مقام میں تجھے طے کر کے بتادوں گا۔بس تم اتنا خیال رکھنا کہ اس بات کی بھنک بھی کسی کے کانوں میں نہ پڑے۔تم نے پولیس یا فیروزخان کو اس معاملے میں ملوث کیا تو بیٹے سے ہاتھ دھو بیٹھو گے۔میرے آدمی تم پرنگاہ رکھے ہوئے ہیں۔لہٰذا بھول کربھی ایسی غلطی مت کرنا ورنہ پچھتاوے کے علاوہ کچھ بھی ہاتھ نہیں آئے گا۔“
اجنبی کالہجہ بتارہاتھا کہ وہ جو کچھ کہہ رہاہے اُس پرعمل بھی کر گزرے گا۔ارجمند غوری کے کانوں میں پہلی بارخطرے کی گھنٹی بجنے لگی۔وہ جان گیا کہ اُس کا بیٹا اسی ٹارگٹ کلرکے ہاتھ چڑھ گیا ہے جس نے اُسے مارنے کی دھمکی دی تھی۔یہ صورت حال اُس کے لیے نہایت ہی خطرناک تھی۔تاہم وہ بولا۔” تم بے فکررہو میں کچھ بھی ایسا نہیں کروں گا جس سے میرے بیٹے کی جان خطرے میں پڑجائے۔بس ایک ریکوئسٹ ہے کہ ملاقات کا وقت اور مقام جلد سے جلدطے کرکے مجھے بتادو؟“
” بتادوں گا۔میری اگلی کال کا انتظارکرنا۔“ اجنبی نے جواب دے کررابطہ منقطع کردیا۔
” باسٹرڈ۔“ غوری نے خودکلامی کے اندازمیں اُسے ایک گالی دی اورپھرفیروزخان کانمبرملانے لگا کہ اب وہی اس معاملے میں اُس کی مدد کرسکتا تھا۔بڑے صاحب سے اُن دنوں ویسے بھی اُس کی اَن بن چل رہی تھی۔چنانچہ اُس سے مددکی اپیل کرناایسا ہی تھا جیسے اپناتھوکا ہوا چاٹنا۔
٭٭٭
رضوان نے غوری سے بات کرنے کے بعدسیل فون سے سم نکالی اورفون کو آف کردیا۔سدو غورسے اُس کی حرکات نوٹ کررہاتھا۔لہٰذا اُسے فون سے سم نکالتے دیکھ کر بولا۔” آپ نے سیل فون سے سم کیوں نکالی ہے؟“
”تاکہ وہ نقلی سلطان ہمیں ٹریس نہ کرسکے۔“ رضوان نے مسکراکر جواب دیا۔
” وہ موبائل فون کے IMEI نمبرسے بھی تو ٹریس کرسکتاہے؟“ سدو نے سوال کیا۔
” سدو میاں! زیادہ دانش ور مت بنوIMEI نمبرسے تو وہ تب ٹریس کرے گا نا!جب میں اس فون میں رجسٹرڈ سم ڈالوں گا؟“
” سوری رضوان بھائی! میں سمجھا شاید یہ بات“
” آپ کومعلوم نہیں ہوگی۔یہی کہنا چاہتے تھے نا! تم؟“ رضوان نے اُس کی بات کاٹتے ہوئے سوال کیا۔
سدو نے جواب دینے کی بجائے اثبات میں سر ہلادیا۔
رضوان بولا۔”سدو!یہ تو ایک عام سی بات ہے۔جوآج سیل فون استعمال کرنے والا ہر پڑھا لکھا شخص جانتا ہے۔“
” بس ایسے ہی منہ سے نکل گیا بھائی! اسی لیے تو سوری بولا ہے۔“ سدو نے نادم ہوکر جواب دیا۔
” چلو کوئی بات نہیں ہے میں ذرا باہرتک جارہا ہوں، تم قیدی کا خیال رکھنا۔“
وہ بولا۔” بے فکر رہو رضوان بھائی!اُس کاتوباپ بھی یہاں سے نہیں نکل سکتا۔“
” اوکے میں کچھ دیر تک واپس آجاﺅں گا۔“ جواب دیتے ہوئے وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔
تھوڑی دیر کے بعد وہ بڑے صاحب کے سامنے موجودتھا۔ساری بات سننے کے بعد بڑے صاحب نے کہا۔”ارے بابا! اُڑادے دونوں باپ بیٹے کو،کریم بھائی سے ہم خود ہی نمٹ لیں گے۔پارٹی کے لیے اصل خطرہ یہی غوری ہے۔“
” تھینک یو سو مچ بڑے صاحب!آپ نے میرے سر سے بہت بڑا بوجھ اُتار دیا۔“ اب میں کھل کرکام کروں گا۔“ اُس نے ممنون اندازمیں جواب دیا۔
” کوئی بات نہیں۔“ بڑے صاحب نے اثبات میں سرہلایا۔” بس تم اتنا خیال رکھناکہ دوبارہ ہمیں چھوڑ کرجانے کی مت سوچناورنہ اب کی بار ہمیں بہت تکلیف ہوگی۔“
” نہیں بڑے صاحب! اب ایسا نہیں ہوگا۔شرافت کی زندگی توآج کل شریفوں کوبھی راس نہیں آتی تو پھرمیں ایسا کیوں کروں گا؟“
” گڈتمہارے فیصلے سے ہمیں خوشی ہوئی ہے بابا۔جاﺅ اب جاکراپنا ادھورا کام مکمل کرو۔اس بار ہم تجھے خاص انعام دیں گے۔“
” وہ کیا بھلا بڑے صاحب؟“ اُس نے اشتیاق سے پوچھا۔
بڑے صاحب نے قہقہہ لگایا۔” سرپرائز کو سرپرائزرہنے دو راجوبابا۔“
” ٹھیک ہے بڑے صاحب! میں تو آپ کا غلام ہوں۔جیسے آپ کی خوشی۔“
” غلام نہیں راجو! ہم تجھے بیٹاسمجھتے ہیں۔آئندہ ایسا کبھی مت کہنا ورنہ ہم ناراض ہوجائیں گے۔“ بڑے صاحب نے جواب دیا۔
” سوری بڑے صاحب !غلطی ہوگئی۔“ وہ قدرے شرمندہ ہوکربولا۔”آئندہ خیال رکھوں گا۔“
” چلو کوئی بات نہیں۔“ بڑے صاحب نے اثبات میں سرہلایا۔” کچھ چاہیے تو بولو؟“
” نہیں بڑے صاحب! ابھی تک تو کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔جب ہوگی تو بلاجھجک مانگ لوں گا۔“ اُس نے جواب دیااور پھربڑے صاحب کو سلام کرتے ہوئے رخصت ہوگیا۔
٭٭٭
ارجمندغوری نے رضوان کی ہدایت کے مطابق ساحلِ سمندر سے ایک کلومیٹرکے فاصلے پر گاڑی روک دی اور پیدل ساحلِ سمندرکی طرف چل دیا۔سدو اور ارم بھی اُس کے پیچھے پیچھے چلے آرہے تھے۔مگروہ دونوں غوری کی نظروں سے اوجھل تھے۔ویسے بھی وہ دونوں ایک بے فکرے جوڑے کی طرح گھوم رہے تھے۔غوری تو کیا کوئی بھی اُن پرشک نہیں کرسکتا تھا کہ وہ کسی کا پیچھا کر رہے ہیں۔سڑک پرگاڑیوں کے علاوہ پیدل لوگ بھی آ، جا رہے تھے۔لگ بھگ نصف گھنٹے کے بعدغوری درختوں کے ایک گھنے جھنڈمیں داخل ہو گیا۔اُس نے چور نگاہوں سے اِدھراُدھردیکھا اور پھر جیب سے سیل فون نکال لیا۔وہ کسی کا نمبرملانا ہی چاہتا تھا کہ اچانک ایک اجنبی نمبرسے اُسے کال آنے لگی۔اُس نے بُرا سا منہ بناکرکال ریسیوکی تو دوسری طرف سے اُسی اجنبی کی تنبیہی آوازسنائی دی۔” غوری! میں نے کیا کہا تھا تجھے کہ چالاکی نہیں چلے گی۔تم اب بھی میری نگاہوں میں ہواگرتم نے فوراً سیل فون جیب میں نہ ڈالاتو جواب میں گولی آئے گی۔“
” ابھی ڈالتاہوں پلیزگولی مت چلانا۔“ اُس نے بوکھلاکرکہا اورکال منقطع کیے بغیرسیل فون جیب میں رکھ لیا۔
موسم اگرچے کافی حدتک خوش گوار تھامگر غوری کے ماتھے پرپسینے کے ننھے ننھے قطرے چمک رہے تھے۔وہ زندگی میں پہلی بارخودکو اس قدر بے بس اور خوف زدہ محسوس کررہاتھا۔ہر ظالم کی طرح وہ بھی فطرتاً بزدل ہی تھا۔مناسب موقع تاڑ کروہ فیروز خان کو اپنی لوکیشن بتانا چاہ رہاتھا۔لیکن اجنبی دشمن اُس کی توقع سے کہیں زیادہ ہو شیار تھا۔وہ نجانے کس طرح اُس پرنظر رکھے ہوئے تھا؟ غوری کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آرہاتھا۔تاہم دل ہی دل میں وہ اُس نادیدہ دشمن کوبے تحاشا گالیاں دے رہاتھا۔جس نے چند روز کے اندرہی اُس کا سارا غرورخاک میں ملادیا تھا۔اور پھر یہ تو ابھی ابتدا تھی ۔اس کے بعد نہ جانے کیا کیا ہونے والاتھا؟ غوری قطعی بے خبرتھا۔
وہ انہی سوچوں میں غرق تھا کہ معاً اُس کے عقب میں کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ وہ تیزی سے پلٹاتو اُس کے سامنے ایک نوجوان کھڑا ہوا تھا۔یہ سدو تھا۔ارم کو اُس نے دوسرے رستے سے فلیٹ میں بھیج دیا تھا۔
” ہیلو انکل! مجھے آپ کی رہنمائی کے لیے بھیجا گیاہے۔“ سدونے خود پرجبر کرتے ہوئے مسکراکر کہا۔” آیئے میں آپ کو آپ کی منزل تک پہنچا دیتا ہوں۔“
” مممجھے اپنے بیٹے سے ملنا ہے۔“ وہ مضطرب ہو کر بولا۔” وہوہ کہاں ہے؟ میںمیں اُس کے لیےاپنی ساری دولت دینے کے“
” انکل! میں صرف ایک کارندہ ہوں۔“ سدونے قطع کلامی کی۔” آپ کا بیٹا اُس کے پاس ہوگا جس نے آپ کو بلایا ہے۔“
” مجھے فوراً لے چلو اُس کے پاس۔“
”آیئے۔“ سدو اُس کاہاتھ تھامتے ہوئے بولا۔” کوئی ہتھیاروغیرہ ہے تو ابھی سے میرے حوالے کردو۔“
” کچھ بھی نہیں ہے میرے پاس۔“ وہ انکارمیں سرہلاتے ہوئے سدو کے ساتھ چل دیا۔
چندلمحوں کے بعدوہ ایک فلیٹ میں داخل ہو رہے تھے۔یہ فلیٹ ایک الگ تھلگ مقام پر واقع تھا اوراس کے قرب و جوارمیں کوئی دوسرامکان نہیں تھا۔ویسے بھی فلیٹ کو چاروں جانب سے گھنے درختوں نے گھیر رکھا تھا ۔دُور سے وہ نظربھی نہیں آتا تھا۔غوری نے جونہی کمرے کے اندر پاﺅں رکھا،اُسے حیرت کا ایک جھٹکا لگا۔سامنے ہی سوفے پر محمود غزنوی پورے کروفرکے ساتھ تشریف فرما تھا۔غوری کو اس بے چارگی کے عالم میں دیکھ کربے اختیاراُس کے لبوں پر مسکراہٹ رینگ گئی۔مگر افسوس کہ وہ بولنے سے قاصر تھا۔ غزنوی کے ساتھ ایک نوجوان لڑکی بھی بیٹھی ہوئی تھی۔جب کہ دوسرے سوفے پر ایک اجنبی نوجوان بیٹھا ہوا تھا۔
” خوش آمدیدخوش آمدید سلطانِ معظم۔“ نوجوان طنزیہ اندازمیں کہتے ہوئے کھڑا ہوگیا۔”آیئے تشریف رکھیے۔“
” مممیرا بیٹا کہاں ہے؟“ اُس نے حیرت اور خوف کی ملی جلی کیفیت میں سوال کیا۔
” سلطانِ معظم! آپ تشریف تو رکھیں بیٹا بھی مل جائے گاابھی تو بہت سا حساب کتاب باقی ہے۔پہلے وہ تو چکتا کرلیں؟“ نوجوان نے طنزیہ لہجے میں جواب دیا۔
” جسجس قدر دولت چاہیے وہ میں دینے کے لیے“ معاً سدو کی لات غوری کی پشت پرپڑی اور اُس کی بات نامکمل رہ گئی۔
” دولت کا لالچ کسی اور کو دینا۔“ سدو چلایا۔” تمہاری دولت کیا رضوان بھائی کا بیٹا واپس لاسکتی ہے؟ میرے باپ کو زبان دے سکتی ہے، اُس کے کٹے ہوئے ہاتھ دوبارہ جوڑ سکتی ہے؟ بولو جواب دو وہ جو تمہارے ظلم کا شکارہوکر رزقِ خاک ہوچکے ہیں ۔تمہاری دولت کیا اُنہیں واپس لا سکتی ہے؟“
ایک دم سدو پر جنون سوارہوگیااور وہ کسی بھوکے درندے کی طرح ارجمندغوری پرجھپٹ پڑا۔لاتیں، گھونسے یوں چلنے لگے جیسے سدو ذہنی توازن کھو بیٹھا ہو۔اُس کے منہ سے کف اُڑ رہا تھا اور وہ کسی درندے کی طرح غرارہا تھا۔غوری کا تھری پیس سوٹ کئی جگہوں سے پھٹ چکا تھا اور ٹائی ڈھیلی ہوکراُس کے گلے میں جھول رہی تھی۔
کمرا غوری کی کرب ناک چیخوں سے گونج اُٹھا۔ وہ گڑگڑا کر اُن سے رحم کی بھیک مانگ رہاتھا۔رو رہاتھا،چلارہاتھا۔گرگرکر اُٹھ رہاتھا اوراُٹھ اُٹھ کرگر رہاتھا۔لیکن رضوان بہرہ بن کر تماشا دیکھتا رہا۔جب کہ غزنوی تو ویسے بھی بولنے سے قاصر تھا۔البتہ ارم قدرے پریشان نظر آرہی تھی کیوں کہ سدو کا ایسا بھیانک روپ وہ پہلی باردیکھ رہی تھی۔ چنانچہ رضوان نے اُسے اور محمود غزنوی کو باہر بھیج دیا۔ تاکہ وہ جلدلمحوں بعد پیش آنے والے دل خراش مناظر نہ دیکھ سکیں۔غوری فرش پر گھسٹتے ہوئے رضوان کے قدموں تک پہنچ گیا۔مگر سدوپر بدستور جنون سوار تھا۔معاً اُس نے جیب سے ایک تیزدھار اُسترا نکالا اور غوری کے سینے پرسوارہوکر کسی بھیڑیے کے مانندغرایا۔” زبان باہرنکال کتے!ورنہ شہ رگ کاٹ دوں گا۔“
غوری نے گھسٹ کراپنے ہاتھ رضوان کے پیروں پر رکھ دیے۔رضوان نے ایک پل کے لیے سوچا اورپھر سدو سے بولا۔” ایک منٹ سدو! میں اسے ایک موقع دینا چاہتا ہوں۔پلیز اسے چھوڑدو۔“
” نہیں رضوان بھائی نہیں۔“ سدو پوری قوت سے چلایا۔” یہ معافی کے قابل نہیں ہے۔ آپ ہٹ جائیں درمیان سے۔میں اپنابدلہ لے کررہوں گا۔“
رضوان نے کہا۔” میں نے کب کہا ہے کہ یہ معافی کے قابل ہے؟ میں تو اسے اس کی اوقات دکھانا چاہتا ہوں کہ یہ جو خود کوناقابلِ تسخیر سمجھتا ہے آج بلالے اپنے حمایتیوں کو۔ دیکھتے ہیں کون آتا ہے اس کی مدد کو؟“
بات سمجھ میں آرہی تھی ۔لہٰذا سدو نے اُسے وقتی طورپرچھوڑدیا۔غوری کا چہرہ خون آلود تھا اور وہ ریس میں دوڑنے والے کتے کی طرح ہانپ رہاتھا۔رضوان نے ایک پُر تحقیر نظر اُس پر ڈالی اور بولا۔”غوری! بول کسے بلاناچاہتا ہے اپنی مدد کے لیےچل تجھے فون کرنے کی بھی اجازت ہے۔“
غوری نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے جیب سے سیل فون نکالا اورپھرایک نمبرملادیا۔جونہی رابطہ قائم ہوا وہ روتی ہوئی آوازمیں گڑگڑایا۔” بڑے صاحب!مممم میںغوریہوںپلیزمممجھے بچالوپپپلیز بچالویہیہ لوگمجھے مارڈالیں گے مار ڈالیں گےپلیزپلیز“
” سوری رانگ نمبربابا۔“ دوسری طرف سے رابطہ فوراً منقطع ہو گیا۔
” کیا ہوا غوریچھوڑ گیا نا! تیرا ان داتا تجھے، جس کی سپورٹ پر تجھے بڑا مان تھا؟“ رضوان نے طنزیہ اندازمیں پوچھا۔
” مممجھ سے سوداکرلومممیں اپنا سب کچھ تجھے دے دوں گا۔بس مجھے اورمیرے بیٹے کو جانے دو۔“ غوری نے امیدبھری نظروں سے اُس کی طرف دیکھا۔
” غوری! میں ایک ٹارگٹ کلر ہوں ۔بد عہدی کرنا میرے پیشے کے خلاف ہے۔ میں بڑے صاحب سے پہلے ہی تیری جان سودا کرچکا ہوں۔وعدے سے سیاست دان پھرتے ہیں۔ٹارگٹ کلر نہیں۔“
” پلیز“ غوری نے اُس کے سامنے ہاتھ جوڑدیے۔” مجھ پر رحم کرو۔“
” تم نے کبھی کسی لاچار اورکم زور پر رحم کیا تھا؟نہیں نا؟ تو پھر اب مجھ سے رحم کی توقع کیوں رکھتے ہو؟البتہ تم کسی اورسے مدد مانگنا چاہو تو کال کرسکتے ہو۔“
غوری نے جلدی سے فیروزخان کو کال کی۔” فیروز خان! میں سلطان غوری بول رہا ہوں۔پلیز مجھے بچا لوپلیز جلدی سے آجاﺅ،میں یہاں ساحلِ سمندر کے قریب ایک فلیٹ میں ہوں۔“
” میں کسی سلطان غوری کو نہیں جانتا۔یہ تمہارا اور راجو کا معاملہ ہے۔“ فیروز خان نے بے رخی سے جواب دیا۔
” تمتم نمک حرام ہو۔“ غوری چلایا۔” میں نے تم پربے شماراحسان کیے ہیں اور“
” وہ احسان تم نے اپنے فائدے کے لیے کیے تھے۔ “ فیروز خان نے قطع کلامی کی۔”اور راجو میرا محسن ہے۔اُس نے جان پرکھیل کرایک بارمیری جان بچائی تھی۔ میں اُس کے خلاف تمہاری مدد نہیں کرسکتا۔“
” لعنت ہوتم پر۔“ وہ ہذیانی اندازمیں چلایامگر فیروزخان نے ایک قہقہہ لگاکر رابطہ منقطع کر دیا۔
غوری نے جھنجھلاکر سیل فون پختہ دیوارپر دے ماراجو ٹکڑے ٹکڑے ہوکر فرش پربکھر گیا۔
رضوان بولا۔” دیکھ لیا غوری! بُراوقت جب آتا ہے تو اپنے پرائے سبھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔آج کوئی بھی تمہارا ساتھ دینے کے لیے تیارنہیں ہے۔“
” پلیزتم ہی مجھ پررحم کرلو۔“ غوری پھرگڑگڑانے لگا۔
” اوں ہوں۔“ اُس نے انکارمیں سرہلایا۔”سلطان ہوکررحم کی بھیک مانگنا تجھے زیب نہیں دیتا۔“
” پلیزپلیز“ غوری رونے لگامگر رضوان نے سدو کو اشارہ کردیا۔
دوسرے ہی پل سدو دوبارہ اُس کے سینے پرسوار ہوگیااورپھرجب اُس نے غوری کا گلا پوری قوت سے دبایا تو چاروناچارغوری کو اپنی زبان باہرنکالنا ہی پڑی۔پلک جھپکنے کی دیرمیں سدونے اُسترے والے ہاتھ کوحرکت دی توغوری کی زبان کٹ کردُور جاگری۔وہ ذبح کیے ہوئے مرغ کی پھڑکنے لگا مگر سدوکے چہرے پررحم کا شائبہ تک نہیں تھا۔پھر دیکھتے ہی دیکھتے سدونے قسائیوں والا ٹوکہ اُٹھایااور نہایت ہی بے رحمانہ اندازمیں غوری کے دونوں ہاتھ کاٹ دیے۔غوری کی چیخیں دل دہلارہی تھیں ۔مگر رضوان اورسدوبالکل بے پروانظرآرہے تھے۔
چندلمحوں کے بعد رضوان نے جیب سے سائیلنسر لگا ریوالورنکالااور یکے بعد دیگرے تین گولیاں اُس کے سینے میں اُتاردیں۔غوری تڑپ تڑپ کر ٹھنڈا ہو گیاتو اُن دونوں نے اُسے اُٹھاکردوسرے کمرے میں ڈال دیاجہاں اسفندغوری کی لاش پڑی ہوئی تھی۔اس کے بعدکے واقعات نہایت ہی تیزی کے ساتھ وقوع پذیر ہو ئے تھے۔ رضوان نے ارم اورمحمود کوسدو کے ساتھ گھر بھجوا دیا۔واپسی پہ سدو دوعدد بوریاں لانانہیں بھولا تھا۔دونوںنے مل کرلاشوں کو بوریوں میں بند کیااور انہیں اُٹھاکرٹیکسی کی عقبی سیٹ میں ٹھونس دیا۔اس کے بعد اُنہوں نے فرش سے خون کے داغ صاف کیے اور پھر شام ہونے کا انتظارکرنے لگے۔جونہی شام کا اندھیرا پھیلاوہ دونوں ٹیکسی میں بیٹھ کر فلیٹ سے باہرنکل گئے۔ راستے میں ایک ویران سڑک کے کنارے اُنہوں نے ٹیکسی روکی اور دونوں بوریاں گھسیٹ کرباہر پھینک دیں۔ 
”خس کم جہاں پاک۔“ رضوان ٹیکسی میں بیٹھتے ہوئے گویاہوا۔
سدو بولا۔” رضوان بھائی! میں آپ کایہ احسان زندگی بھرنہیں اُتارسکوں گا۔اگر آپ تعاون نہ کرتے تو شایدمیں کبھی بھی غوری جیسے طاقت ور لوگوں سے انتقام نہ لے سکتا میں عمربھر آپ کاممنون رہوں گا۔“
وہ بولا۔” سدو! غوری میرے یا تیرے انتقام کا شکار نہیں ہوا بلکہ وہ مکافاتِ عمل کا نشانہ بنا ہے۔کب کسی کے گناہوں کاگڑھابھرجائے یہ صرف اُوپروالا جانتا ہے۔ اور جب اُوپروالاکسی ظالم کی درازرسی کھینچتا ہے توپھر اُسے دنیاکی کوئی طاقت نہیں بچا سکتی۔“
” رضوان بھائی! آپ چھوڑ کیوں نہیں دیتے یہ خطرناک کام، جہاں پل پل موت کاخطرہ سرپہ منڈلاتا رہتا ہے؟“ سدونے اچانک ہی ایک غیرمتوقع سوال کردیا۔
” سدو! جُرم کا رستا بند گلی کے مانند ہوتا ہے۔جہاں سے نہ تو کوئی واپس پلٹ سکتا ہے اورنہ ہی اپنی منزل تک پہنچ پاتا ہے۔میں نے ایک باریہ رستا بڑے صاحب کی مہربانی سے چھوڑاتھا۔مگر غوری جیسے لوگوں نے مجھے دوبارہ وہی رستا منتخب کرنے پرمجبورکردیا۔اب دوسری باربڑے صاحب مجھے کبھی بھی واپس اپنی دنیامیں جانے نہیں دیں گے۔ میں نے اُن سے وعدہ کیا تھا کہ دوبارہ شریفوں کی دنیامیں نہیں جاﺅں گا۔میں اپنے عہد سے نہیں پھرسکتا۔“
سدو کے پاس اُس کی بات کا کوئی جواب نہیں تھا۔چنانچہ اُس نے موضوع ہی بدل دیا۔
٭٭٭
دوسرے دن رضوان تھری پیس سوٹ میں ملبوس بڑے صاحب کے سامنے موجودتھا۔بڑے صاحب کے چہرے پرمسکراہٹ طاری تھی اور وہ قابلِ ستائش نظروں سے رضوان کی طرف دیکھ رہے تھے۔
” کمال کردیا تم نے راجوبابا!کریم بھائی غوری کی موت کی خبرسن کراب توہمارے تلوے چاٹنے پربھی راضی ہے۔“
” یہ سب آپ کی مہربانی ہے بڑے صاحب!ورنہ یہ راجو تو ایک عام سا انسان ہے۔“ اُس نے سرجھکاکرمو ¿دب اندازمیں جواب دیا۔
بڑے صاحب مسکرائے۔” بابا !ہمارے لیے تو تم خاص سے بھی کچھ بڑھ کر ہو۔ہمیں جب بھی کوئی مسئلہ درپیش ہوا تو تم نے چٹکیوں میں حل کردیا۔“
” بڑے صاحب! یہ تو آپ کی محبت ہے ۔ورنہ دنیا کے لیے تو ہم جیسے ہمیشہ گندی نالی کے کیڑے ہی رہیں گے۔جس متعفن سسٹم کی ہم لوگ پیداوار ہے اُس کے خلاف آج تک کوئی آوازاُٹھی ہے اورنہ اُٹھے گی۔البتہ ہمیں ہمیشہ موردِ الزام ٹھہرایا جاتا رہے گا۔“
” یہ کیا راجوبابا!“ بڑے صاحب نے چونک کرپوچھا۔” لگتا ہے تم پرپھر شرافت کا بھوت سوار ہورہا ہے؟“
” ایسی بات نہیں ہے بڑے صاحب!“ اُس نے نفی میں سرہلایا۔” شریفوں کی دنیامیں ہم جیسوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔میں خوش ہوں اسی دنیامیں ۔آپ کوئی فکر نہ کریں ۔راجو اب کہیں جانے والا نہیں ہے۔“ 
” گڈیہ ہوئی نا!بات۔“ بڑے صاحب نے قہقہہ لگایاپھر سنجیدہ ہوکرپوچھا۔” بیوی سے ملے ہوبابا؟“
” نہیں سیدھا آپ کے پاس ہی آیا ہوں۔“
” ٹھیک ہے تم بیوی سے جاکر ملو،اس کے بعد ہم تجھے وہ سرپرائز دیں گے ۔جس کا ہم نے تجھ سے وعدہ کیا تھا۔“ بڑے صاحب نے جواب دیاتو وہ سلام کرتے ہو ئے کمرے سے باہر نکل گیا۔
اُس کا رخ سرونٹ کوارٹرز کی طرف تھا۔جہاں اُس کی بیوی نازنین ٹھہری ہوئی تھی۔جب وہ کوارٹر کے اندر داخل ہواتو نازنین اُسے دیکھ کرکھل اُٹھی۔ بہت دنوں کے بعد وہ نازنین کے چہرے پرمسکراہٹ دیکھ رہاتھا۔اس لیے والہانہ اندازمیں اُسے باہوں میں بھرلیا۔
” کیسی ہو میری جان؟“ اُس نے نازنین کی پیشانی پر بوسہ ثبت کیا۔
” مجھے یہاں نہیں رہنا رضوان۔“ وہ شکایتی اندازمیں بولی۔” پلیزمجھے اپنے گھر لے چلویہاں میرا دم گھٹتا ہے۔“
” اوکے بابا اوکےمیں تجھے ابھی وہاں لے چلوں گامگر اس سے پہلے مجھے ایک اچھی سی چائے پلادو۔بہت دن ہوگئے ہیں تیرے ہاتھ کی چائے نہیں پی۔“ رضوان نے مسکرا کر جواب دیا۔
” تم بیٹھو، میں ابھی چائے بناکر لاتی ہوں۔“ وہ کچن کی طرف بڑھتے ہوئے بولی اور رضوان مسکرادیا۔
لگ بھگ بیس منٹ کے بعد وہ دونوں بڑے صاحب کے سامنے موجود تھے۔بڑے صاحب نے دونوں کی طرف باری باری دیکھا اور پھر رضوان سے کہا۔” بابا! وعدے کے مطابق وہ سرپرائز حاضر ہے۔“ یہ کہہ کر بڑے صاحب نے ٹیبل سے ایک خاکی رنگ کا لفافہ اور دوعدد کی رنگز اُٹھاکررضوان کی طرف بڑھادیے۔
” یہ کیا ہے بڑے صاحب؟“ اُس نے ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے حیرت سے پوچھا۔
” بابا! ہم نے تمہارے لیے ایک چھوٹا سا بنگلا اور ایک گاڑی خریدی ہے۔شان دار پراڈو بالکل زیرومیٹر ، جب کہ اس لفافے میں اُس بنگلے کے مالکانہ کاغذات ہیں۔ بنگلا اور گاڑی دونوں تمہارے نام پہ رجسٹرڈ ہیں۔جاﺅ عیش کرو۔“ بڑے صاحب نے ہنس کر جواب دیا۔
وہ بولا۔” بڑے صاحب! اس کی کیا ضرورت تھی؟ میرے پاس گھربھی ہے اورموٹر بائیک بھی۔“
بڑے صاحب نے نازنین کی طرف دیکھااور شفقت سے بولے۔” راجوبابا! یہ ہم نے اپنی بہو کو تحفہ دیا ہے۔لہٰذا تجھے اس پر کوئی اعتراض کرنے کی اجازت نہیں ہے۔“
” بڑے صاحب! آپ بھی نا! بس کمال کرتے ہیں۔“
” بھئی!کبھی کبھی انسان کوکمال کرنا چاہیے۔“ بڑے صاحب نے قہقہہ لگایا۔” کیوں نازنین! ہم نے کچھ غلط تو نہیں کہاہے ؟“
” جی نہیں بڑے صاحب! آپ نے بالکل درست فرمایا ہے۔“ نازنین نے قدرے شرماکر جواب دیا۔
” لوبھئی راجو! اب فیصلہ ہو گیابابا۔جاﺅ دونوں عیش کرو۔“
وہ دونوں بڑے صاحب کو سلام کرتے ہو ئے خوشی خوشی باہر نکل گئے۔ جب کہ بڑے صاحب اُٹھ کر ٹی وی لاﺅنج میں پہنچ گئے۔وہیں وہ اخبارات بھی پڑھا کرتے تھے اور ٹی وی پر نیوز وغیرہ بھی سنتے رہتے تھے۔
لاﺅنج میں جاتے ہی بڑے صاحب نے ایک اخبار اُٹھالیا، جس کے فرنٹ پیج پرغوری اور اُس کے بیٹے کی ہلاکت کے بارے میں تفصیلی خبرلگی ہوئی تھی۔اُنہوں نے خوشی کے عالم میں پوری خبرپڑھ ڈالی۔حالانکہ اس سے قبل وہ صرف خبر کی ہیڈنگ پڑھا کرتے تھے۔اُنہوں نے چند دیگر سُرخیوں پر سرسری سی نظر ڈالی اور پھر دوسرا اخبار اُٹھالیا۔ وہاں بھی غوری والی خبر فرنٹ پیج پہ چھپی تھی۔چنانچہ یہ خبربھی اُنہوں نے تفصیل سے پڑھنی شروع کردی۔دونوں اخبارات میں خبرکی تفصیل تقریباً ایک جیسی ہی تھی۔اسی اثناءمیں ایک ملازم کافی لیے لاﺅنج میں پہنچ گیا۔ ملازم نے کافی کا کپ اُن کے سامنے ٹیبل پر رکھا اورخاموشی سے واپس لوٹ گیا۔ملازم کے جاتے ہی بڑے صاحب نے کپ اُٹھاکرکافی کی ایک چسکی ہی لی تھی کہ معاً اُن کا سیل فون بجنے لگا۔اُنہوں نے سکرین پر نظرڈالی تو فوراً محتاط ہو گئے۔کال ایک اہم نمبر سے آرہی تھی۔
” ہیلو سر! جے کے اسپیکنگ۔“ اُنہوں نے مو ¿دب اندازمیں کال ریسیو کی۔
” مسٹرجے کے!ٹی وی آن کرو اور نیوزچینل دیکھو۔“ دوسری جانب سے بولنے والے نے ایک معروف چینل کانام لیا۔
بڑے صاحب نے فوراًٹی وی آن کیا اور مطلوبہ چینل لگا دیا۔روڈ کے بیچ ایک پراڈو گاڑی کھڑی ہوئی تھی ۔جس کی ونڈ سکرین گولیوں سے چھلنی ہو چکی تھی اوراندر ایک مرد اورایک عورت خون میں لت پت پڑے ہوئے تھے۔بڑے صاحب کو اُنہیں پہچاننے میں ایک سیکنڈکی دیربھی نہیں لگی۔وہ راجو اور نازنین تھے۔نیوزچینل کا نمائندہ پورے جوش و خروش کے ساتھ واقعے کی تفصیل بیان کر رہاتھا۔مگربڑے صاحب کوتو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا۔سیل فون بدستور اُن کے کان سے لگا ہوا تھا۔چنانچہ بدقت تمام اُنہوں نے پوچھا۔”یہیہ سب کیسے ہوااور کس نے کیایہ تو ہمارا خاص آدمی تھا؟“
” جے کے!کیاتم نہیں جانتے کہ ہماری دنیا میں خاص اور عام کوئی نہیں ہوتا؟“ بولنے والے کے اندازمیں سرزنش تھی۔” تمہیں پتا ہے آج کل ڈیفنس فورسزنے شہر میں آپریشن شروع کر رکھا ہے۔جلد یابدیر اس نے پکڑے ہی جانا تھا۔ہم نے وہی کیا جو اُوپرسے آرڈرملے تھے۔“
” پھربھی یہ اچھا نہیں ہوا۔وہ ہمیں بہت زیادہ عزیز تھا۔“ بڑے صاحب نے رنجیدہ لہجے میں جواب دیا۔
” جے کے! ہوش میں آﺅ ہماری دنیا میں جذبات کی کوئی قدر نہیں ہوتی۔ہم صرف شطرنج کے مہرے ہیں۔جنہیں بساط پہ بچھانے والے ہاتھ ہمیشہ پوشیدہ رہتے ہیں۔ کل ہماری یا تمہاری باری بھی لگ سکتی ہے۔ اوکے گڈ بائے۔“ دوسری طرف سے رابطہ منقطع ہو گیا۔
بڑے صاحب چند لمحے تو گم صم بیٹھے رہے اورپھر نہ چاہتے ہوئے بھی اُن کی آنکھیں بھیگتی چلی گئیں۔

ختم شد

 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney