ناول: ہم دل سے ہارے ہیں


قسط: 10

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
’’میں اب تک سمجھ رہا تھا کہ تم بچی ہو۔۔ اس عمر میں دل کے تقاضے انسان کو بری طرح خوار کرتے ہیں۔۔ میں شاید تمہاری کم عمری کا ایڈوانٹیج دے کر تمہاری طرف مائل ہو ہی جاتا اگر مجھے یہ سب علم نہ ہوتا کہ یہ سب کیا دھرا مہوش اور قیوم کا ہے، جو تمہارے لیے کر رہے ہیں۔۔‘‘ اپنے کمرے میں بیٹھے وہ دونوں خود سے باتیں کر رہے تھے لیکن جس طرح وہ میرا ذکر کر رہے تھے تمہارے معاملے میں مجھے انوالو کر رہے تھے تو میرا دل چاہ رہا تھا کہ اسی وقت تمہیں شوٹ کرا دوں۔۔‘‘ اپنے کردار کے معاملے میں وہ انتہائی جذباتی تھے ، اب بھی ایک دم غصے سے کہا تو عیشہ جیسے ہوش میں آئی ۔ لرز کر رہ گئی۔ ان کی آنکھیں۔۔ وہ تو دیکھ بھی نہ پائی ۔
’’وریشہ کے بعد تو میں نے کبھی کسی اور جانب نگاہ ہی نہ کی تھی ،پھر بھلا تم جیسی کم عمر امیچور لا اُبالی سی لڑکی کو کیسے اپنی طرف انوالو کر لیتا۔۔ میں نے تو ہر ممکن کوشش کی تھی کہ تم جو حماقت سر انجام دینا چاہتی ہو باز آ جائو مگر۔۔ ‘‘ وہ سخت اضطراب کا شکار تھے، کمرے میں ٹہلنے لگے۔
’’مہوش اور قیوم کے سامنے تم نے میرے متعلق کیا کہا تھا جو دونوں کہہ رہے تھے کہ شہباز بھائی آخر کب تک انکار کر سکتے ہیں۔۔۔ عیشہ جیسی لڑکی تو بڑے بڑوں کی سدھ بدھ کھو دیتی ہے، اگر وہ انوالو نہ ہوتے تو اتنی جلدی ہتھیار کیسے ڈال دیتے۔۔ مجھے تو لگتا ہے کہ شہباز بھائی کا ہی کوئی طرزِ عمل عیشہ کو اس حد تک لے جانے کا سبب بنا ہے۔۔ بولو ۔۔ کیوں انہوں نے یہ بات کہی۔۔بولو ۔۔ جواب دو۔۔‘‘ وہ تو خود گنگ تھی، وہ کیا جواب دیتی ، شہباز کا یہ سب الفاظ دہراتے غصے سے برا حال ہو رہا تھا ، انہوں نے ہمیشہ ایسی زندگی گزاری تھی جو ہر طرح کے الزام سے پاک تھی ، مگر عیشہ کے معاملے میں مہوش کی زبانی گفتگو سن کر اس کو سخت دھچکا لگاتھا۔
’’مجھے نہیں پتا انہوں نے ایسا کیوں کہا۔۔ یقین کریں۔۔ میں نہیں جانتی۔۔ ‘‘ شہباز سے تو وہ پہلے ہی خائف رہتی تھی ، اب اس کا غصہ دیکھ کر مزید ڈر گئی، شہباز نے شعلہ بار نگاہوں سے اسے دیکھا۔ گولڈن مہرون شرارے میںوہ جیولری پہنے دلہن میک اپ میں ایک ایسی جیتی جاگتی قیامت لگ رہی تھی ، شہباز حیدر نے سختی سے اپنے خیال کو جھٹک دیا ۔ ایک نفرت کی نگاہ اس پر ڈالی ۔ ’’انہیں تمہارے متعلق یہ سب کیسے علم ہوا۔۔؟‘‘ سختی سے باز پرس کی گئی تھی ، وہ ہونٹ کاٹ کر رہ گئی۔
’’اس رات جب ۔۔‘‘ وہ آہستگی سے سب بتاتی گئی ، وہ خشمگیں نظروں سے سب سنتے رہے۔
’’میں نے جان بوجھ کر کچھ نہیں بتایا تھا ، اس کے بعد جو بھی ہوا مہوش چچی نے ہی کیا تھا ۔۔ دادی جان اور چچی جان سے بھی شاید انہوں نے ہی بات کی تھی۔۔‘‘ سر جھکائے وہ اعتراف جرم کر رہی تھی۔
’’دیکھ لیا اپنی کم عقلی کا نتیجہ۔۔ تمہاری ذرا سی لرزش لوگوں کو نجانے کس انداز میں سوچنے کا موقع دے رہی ہے۔ تمہیں شاید کوئی فرق نہ پڑے گا مگر مجھے اپنے کردار کی بڑی پروا ہے۔۔ جو ہو گیا وہ تو ایک طرف ۔۔آئندہ تمہاری طرف سے مجھے کچھ بھی الٹا سیدھا سننے کو ملا تو مجھ سے برا کوئی نہ ہو گا۔۔‘‘ وہ غصے سے کہہ کر دروازہ کھٹاک سے بند کر کے چلے گئے تھے۔ ان کے جانے کے بعد عیشہ کا کب کار کا ہوا سانس بحال ہوا۔ ’’مہوش چچی نے ایسی بات کیوں کی۔۔ کیا وہ نہیں جانتیں کہ یہ میرے یکطرفہ جذبات تھے ، شہباز کا تو ان سے تو دور کا بھی واسطہ نہیں۔۔‘‘ اس دن کے لیے اس نے کئی راتیں جاگ کر دعائیں مانگی تھیں اور آج یہ رات نصیب میں آئی بھی تھی ، تو دامن میں لاکھوں وسوسے و تفکرات ڈال گئی تھیں، ابھی سے اتنا غصے والا انداز ہے۔۔ بعد میں پتہ نہیں کیا ہو گا۔۔‘‘ اب وہ مستقبل کے خوف سے ہلکان ہونا شروع ہو گئی تھی۔
اگلے دن صبح ہوتے ہی وہ مہوش کے پاس جا پہنچی تھی، ان سے شہباز کا روّیہ بتا کر اس طرح گفتگو کا سبب پوچھا تو وہ ہنستی چلی گئیں۔
’’احمق ہو تم بھی اور تمہارے وہ صاحب بھی۔۔ کل صبح اچانک وہ ہمارے کمرے کے پاس سے گزرے تو مجھے شرارت سوجھی تھی ، میںنے فوراً بات پلٹ کر ایسا کہنا شروع کر دیا تھا ۔ مجھے پتہ تھا کہ وہ بن رہے ہیں جان بوجھ کر ایسی باتیں کہی تھیں ، صرف ان کو یہ باور کروانے کے لیے کہ اگر وہ اس طرح چپ رہ کر اپنی ناپسندیدگی اور ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں تو ہم بھی بے خبر نہیں اور انہوں نے اس مذاق کو اپنے انداز میں لے لیا۔۔ اوہ مائی گاڈ ۔۔ ‘‘ وہ ہنس دی تھیں ، عیشہ خاموشی سے دیکھے گئی۔
’’مجھے پتہ نہیںتھا وہ اتنے احمق بلکہ بیوقوف ثابت ہوں گے، بجائے ہمارے اس تعاون پر ہمارا شکریہ ادا کرنے کے ، وہ نئی جنگ چھیڑ کر بیٹھ چکے ہیں۔۔ کردار پر جب بات آتی ہے تو سب کو ہی غصہ لگتا ہے۔۔ یہی بات میں تمہارے حوالے سے انہیں بتانا چاہتی تھی مگر الٹی پڑ گئی ہے۔‘‘
’’پھر بھی آپ کو یہ نہیں کہنا چاہیے تھا ۔۔ وہ اتنے غصے ہو رہے تھے مجھ پر کہ حد نہیں۔۔ نجانے کیا کچھ سخت سست کہتے رہے۔۔‘‘ رات کی باتیں یاد آتے پھر سے آنکھیں بھر گئیں۔
’’اوہو۔۔رونا نہیں۔۔ میں خود بھائی صاحب سے بات کر کے معاملہ جکڑ لوں گی۔۔ تھوڑی بہت ان کی بھی برین واشنگ ہونے کی ضرورت ہے۔۔ دیکھو کیا کرتی ہوں ، تم اب آرام سے رہو۔۔نکاح ہو چکا ہے دونوں کا ، کچھ نہیں کہیں گے وہ۔۔ ‘‘ انہوں نے اسے پھر سے بہلا لیا تھا ۔ مہوش نے شہباز سے بھی بات کی تھی ، اس کا کیا ردعمل تھا، عیشہ کو کچھ پتہ نہیں تھا ۔ دو دن بعد وہ یونیورسٹی جانے کو تیار ہو کر کمرے سے نکلی تو شہباز ٹیبل پر بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے ، نکاح کے بعد پہلا تصادم تھا، اس رات کے بعد تو وہ ان کے سامنے آنے سے بھی ڈرنے لگی تھی ، انہوں نے سر سری نظر ڈالی تھی ۔ چچی امی نے اس کی بلائیں لیں، پھر ناشتہ اس کے سامنے رکھ دیا۔ شہباز کے سامنے والی کرسی پر بیٹھے وہ خاموشی سے ناشتہ کر رہی تھی ، جب شہباز نیپکن سے ہاتھ صاف کرتے اُٹھ کھڑے ہوئے۔
’’شہباز بیٹا! آج سے عیشہ کو تم یونیورسٹی چھوڑ کر آیا کرو گے۔۔ خیر سے یہ تمہاری ذمہ داری ہے، یہ اکیلی کیوں آیا جایا کرے۔۔‘‘ عیشہ نے حیران ہو کر چچی امی کو دیکھا ، شہباز نے اس حکم پر ناگواری سے اسے دیکھا تھا، وہ فوراً سر جھکا گئی ۔ وہ ہمیشہ اکیلی ہی یونیورسٹی کی بس میں ہی آتی جاتی تھی مگر آج۔۔
’’مجھے دیر ہو رہی ہے۔۔ ‘‘ اس وقت کچن میں ان تینوں کے علاوہ کوئی اور نہیں تھا ، اسی لیے شہباز حیدر نے اپنی ناگواری نہیں چھپائی تھی۔
’’شہباز۔۔‘‘ انہوں نے سختی سے ٹوکا تو عیشہ نے گھبرا کر دیکھا۔
’’رہنے دیں چچی ۔۔ میں چلی جائوں گی۔۔ اور خود ہی تو جاتی ہوں۔۔ یونیورسٹی روٹ کی بس ہمارے روٹ سے ہی گزرتی ہے۔۔‘‘ شہباز حیدر کے تیوروں سے خائف ہو کر اس نے فوراً مداخلت کی تھی۔
’’پہلے کی بات اور تھی ۔۔ جب گھر میں شوہر کی گاڑی کی سہولت موجود ہے تو پھر تم کیوں بسوں ، ویگنوں میں خوار ہو۔۔ ویسے بھی اب تم شہباز کی ذمہ داری ہو۔۔‘‘ اس نے کن انکھیوں سے شہباز کے چہرے کے تاثرات کی ناگواری جانچی۔
’’میں گاڑی نکال رہا ہوں۔۔‘‘ ماں کی بات کے جواب میں غصے سے کہہ کر وہ باہر نکل گئے تھے، عیشہ نے بے چارگی سے چچی کو دیکھا۔
’’انہیں کوئی کام ہو گا ۔۔ رہنے دیں۔۔‘‘ وہ خود بھی شہباز کے ساتھ نہیں جانا چاہتی تھی ، مگر کہتی کسے۔۔‘‘
’’کچھ نہیں ہوگا۔۔ اپنے کام پر جاتے تمہیں بھی چھوڑ دے گا۔۔ تو قیامت نہیں آ جائے گی۔۔‘‘ شہباز حیدر کے تیور وہ بھی اچھی طرح سمجھ رہی تھیں ، اسی لیے تو انہوں نے یہ نیا حکم نامہ نافذ کیا تھا۔ مرے مرے قدموں سے باہر آئی تو وہ منتظر تھے، گاڑی میں بیٹھتے ہی انہوں نے تیزی سے گاڑی اسٹارٹ کی تھی ، عیشہ ان کے بگڑے زاویے دیکھ کر ہولتی رہی۔
’’آج کے امی کے اس نئے حکم نامے کا میں کیا مطلب سمجھوں۔۔؟‘‘ سرخ سگنل پر گاڑی رکی تھی ، جب نہایت تلخ آواز میں پوچھا گیا تھا ۔
’’جی۔۔‘‘ وہ کچھ نہیں سمجھی تھی ۔
’’دیکھو عیشہ ۔۔ میں تمہاری اپنی زندگی میں اس حد تک بے جا مداخلت قطعی برداشت نہیں کروں گا۔۔ انسان کی برداشت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔۔ میں تمہیں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ میرے ساتھ یہ سب نہیں چلے گا ۔۔ گھر والوں کی وجہ سے تمہیں فوزان کے لیے برداشت کرنے پر مجبور ہوں ، تو میری اس مجبوری کو میری زندگی کا امتحان مت بنائو۔۔ ورنہ پچھتائو گی۔۔‘‘ انتہائی سخت لہجے میں دنیا بھر کی بیزاری لیے انہوں نے اندر کی ساری تلخی اس پر انڈیلی تھی۔
’’میں نے چچی جان کو منع کیا تھا ۔۔‘‘ اپنی اس قدر عزت افزائی پر پہلے تو وہ ہکاّ بکاّ رہ گئی ، پھر بھنا کر کہا بھی تو آنسو پہلے امڈ آئے ۔ ہر بار یہ شخص اسے رلا دیتا تھا ۔ سگنل کھلنے پر شہباز نے گاڑی آگے بڑھا لی تھی ، عیشہ کو تسلسل سے آنسو بہاتے دیکھ کر وہ الجھا۔
’’کیا لو گی چپ ہونے کا۔۔‘‘ سرد آواز پر اس کے آنسو بھی ٹھٹھر گئے ۔
’’کیا مصیبت ہے۔۔ زندگی عذاب ہو کر رہ گئی ۔۔‘‘ وہ اب خود سے بڑ بڑا رہا تھا ، عیشہ کا دل پھر بھر آیا ، پھر ہاتھوں میںچہرہ چھپا کر رو دی۔ یہ بھی زندگی کا کیسا ساتھی تھا ، پتھر ۔۔سنگدل ۔۔ کٹھور۔۔
’’عیشہ ۔۔‘‘ بے چارگی سے ایک طرف گاڑی روک کر اس کی طرف رخ کیا، انداز ایسا تھا کہ جیسے ایک پل میں اسے کہیں غائب کر دیں گے۔۔ یا پھر۔۔‘‘ وہ اس وقت ضبط کی انتہا پر تھے۔
’’مجھے نہیں جانا آپ کے ساتھ کہیں ۔۔ بس اتار دیں یہیں۔۔ چلی جائوں گی میں خود ہی۔۔‘‘ اگلے ہی پل دوپٹے سے چہرہ صاف کرتے اس نے ہاتھ بڑھا کر دروازہ کھولا تھا ، اس سے پہلے کہ وہ نیچے اترتی ، شہباز حیدر نے بھنا کر غصے سے اس کا ہاتھ جھٹک کر زور سے دروازہ بند کر کے لاک کیا تھا۔
’’بکواس نہیں کرو۔۔ آرام سے بیٹھی رہو۔۔‘‘ غصے سے گھورتے وارن کیا گیا تھا۔
’’کیوں۔۔ جب آپ کو میرا وجود اتنا ہی ناگوار گزر رہا ہے تو جانے دیں ۔۔ آپ کون ہوتے ہیں مجھے روکنے والے۔۔ نہیں جائوں گی میں آپ کے ساتھ کہیں ۔۔ دروازکھولیں۔۔‘‘ اپنی اس درجہ ہتک آمیزی اور عزت افزائی پر وہ بھی چٹخ اُٹھی تھی ، غصے سے روتے ہوئے شہباز حیدر کو دیکھا ، جو لب بھینچے اس کے اوپر نظریں جمائے ہوئے تھے۔
’’اس رات اتنی بری طرح بے عزت کر دیا حتیٰ کہ میرا کوئی قصور بھی نہ تھا ۔ مہوش چچی کا مذاق میرے گلے پڑا اور اب آپ کی امی نے آپ کو کہا تھا میں نے منتیں نہیں کیں۔۔ آپ کے پائوںنہیں پڑی تھی کہ مجھے بھی ساتھ لے کر جائیں۔۔ آپ نے فوزان کی وجہ سے یا کسی کے کہنے پر مجھے برداشت کیا ہے تو ہر بار جتانے کی ضرورت نہیں۔۔ میں یہ اچھی طرح جانتی ہوں ، پتھر ہیں آپ ۔۔ میں سمجھتی تھی کہ پتھر کے سینے میں بھی دل ہوتا ہے مگر آپ تو ۔۔‘‘ وہ برح طرح شدت سے رو دی۔
’’دروازہ کھولیں۔۔ میں چلی جائوں گی، روپے پیسے کے علاوہ تو میری ہر ذمہ داری میرے باپ نے نہیں سنبھالی آپ کیا سنبھالیں گے۔۔ پلیز دروازہ کھولیں ۔۔ یہ احسان نہیں کریں مجھ پر۔‘‘ غصے ، بے بسی جذباتیت کا بہائو اُتر ا تو بالکل چپ ہو گئی ، مگر آنسو نہ رکے۔ اس کی عزت نفس پر یہ گہری چوٹ لگی تھی، جو تکلیف بھی شدید تھی۔ شہباز حیدر نے خاموشی سے دوبارہ گاڑی اسٹارٹ کی ، وہ دوپٹے سے چہرہ صاف کرے ابھی بھی رو رہی تھی ، اور پھر مسلسل روتی رہی۔ حتیٰ کہ شہباز نے اس کی یونیورسٹی کیمپس کے سامنے گاڑی روک دی تھی ۔ وہ اُترنے لگی ، مگر دروازہ لاک تھا ، رخ موڑ کر شہباز کو دیکھا۔
’’چہرہ صاف کرو اپنا۔۔‘‘ اسی سخت ، بے لچک انداز میں کہا گیا تھا ، اور ساتھ ہی آگے بڑھ کر دروازہ لاک کیا تھا۔
’’بے فکر رہیں ، میرے رونے سے آپ کے کردار پر کوئی بات نہیں آئے گی۔۔‘‘ اسی تلخی سے اس نے جواب دیا۔
’’عیشہ۔۔‘‘ شہباز نے بری طرح ٹوک دیا ۔ عیشہ جواباً پرواہ کیے بغیر سر جھٹک کر گاڑی سے اُتر گئی تھی ۔

جاری ہے

 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney