ناول: ہم دل سے ہارے ہیں

قسط: 11

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شہباز حیدر کے لیے عیشہ کی موجودگی ناقابل برداشت تھی تو عیشہ نے بھی خود کو اتنا مضبوط کر لیا کہ شہباز حیدر کا ہونا یا نہ ہونا اس کے لیے ایک برابر رہ گیا ۔ وہ اس سے محبت ضرور کرتی تھی، دونوں کے درمیان ایک مضبوط تعلق تھا ، سو وہ مطمئن تھی ، اور یہی اطمینان اس دن کے بعد جب شہباز کی گاڑی میں تھی کے بعد اس کے ہر انداز سے چھلکنے لگا تھا ، اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ اب شہباز حیدر کو اپنی اس درجہ تذلیل کرنے کا موقع نہیں دے گی۔ اس نے بھی خود کو جان بوجھ کر بے حسی کی چادر اوڑھا دی تھی ، فوزان کی ذمہ داری وہ اب بھی پوری خوش اسلوبی سے نبھاتی تھی ، مگر شہباز حیدر کے سلسلے میں اس نے مکمل لا تعلقی اختیار کر لی تھی ، ایک گھر میں رہتے ہوئے سب کی موجودگی میں یہ ممکن تو نہ تھا مگر شہباز حیدر کے سلسلے میں اس نے یہ ممکن کر لیا تھا ۔
محسن جاوید کا رشتہ شہلا واجد کے لیے آیا تھا ، ویسے تو یہ سب کے لیے حیرت کی بات تھی مگر عیشہ کو شاید اس رشتے کی امید تھی ، اور پھر بڑوں میں یہ رشتہ فائنل ہو گیا تھا ۔ دونوں طرف سے باقاعدہ منگنی کا اِرادہ تھا، منگنی کے دنوں میں وہ فوزان سمیت واجد صاحب کے ہاں چلی آئی تھی ، یونیورسٹی سے ادھر چلی جاتی تھی ، فوزان بھی پابندی سے اسکول جا رہا تھا ، منگنی کی تقریب تین دن بعد تھی ، ہفتہ ہو گیا تھا اسے یہاں آئے ہوئے ۔ آج کل اس کے بہت ضروری پریکٹیکل ہو رہے تھے ، اس لیے روز یونیورسٹی آنا پڑ رہا تھا ۔ آج بھی اسی سلسلے میں وہ آئی تھی ، سارا دن مصروف گزرا تھا ، تین بجے کے قریب وہ فارغ ہوئی تھی ۔ شہلا کو آج شاپنگ کے لیے جانا تھا ، اس نے جلدی آنے کو کہا تھا ، وہ تیز تیز قدم اُٹھاتے گیٹ سے باہر نکلی تھی، مگر اپنے سامنے کھڑی سیاہ گاڑی کو دیکھ کر وہ ٹھٹک گئی ۔ بڑے ریلیکس موڈ میںگاڑی سے ٹیک لگائے، سن گلاسز لگائے شہباز حیدر منتظر تھے ، جبکہ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر نظر آتے شہلا اور فوزان کے چہرے۔۔
’’آپ۔۔‘‘ پورے ایک ہفتے بعد دیکھ رہی تھی ، سو وہ بھی یہاں۔۔ حیرت یقینی تھی۔
’’السلام علیکم۔۔‘‘ اسے ایک اور جھٹکا لگا ، بغور دیکھا ، یہ شخص اس پر سلامی بھیجنا تو دور کی بات نفرت کی نظر ڈالتے ہوئے بھی ہزار بار سوچتا تھا ، وہ خاموشی سے سر ہلا گئی ۔ شہلا نے بھی اسے دیکھ کر گاڑی کا شیشہ نیچے کیا۔
’’آپ کے انتظار سے گھبرا کر میں آپ کو لینے آ گئی ہوں۔۔ شہباز بھائی یونہی آئے تھے، میں نے چلنے کو کہا تو چلے آئے۔۔ اب فٹا فٹ بیٹھیں، پہلے ہی بڑی دیر ہو چکی ہے۔۔‘‘ شہلا کی بات پر اس نے ایک گہری سانس لی ، ورنہ شہباز حیدر کی غیر متوقع آمد پر نجانے دل خوش فہمیوں کے کن سمندروں میں ڈبکی لگا آیا تھا ، تلخی سے مسکرا کر وہ آگے بڑھی ، فرنٹ ڈور کھلا ہوا تھا ، وہ خاموشی سے بیٹھ گئی۔
’’فوزان ۔۔ آپ اسکول سے کب آئے۔۔ اور یہ یونیفارم بھی نہیں بدلا۔۔ ‘‘ پچھلی طرف رخ کر کے اس نے فوزان سے پوچھا تھا ۔
’’یہ ایک بجے ہی آ گیا تھا ، دادا جان عدیل وغیرہ کو لینے گئے تو ان کے ساتھ چلا گیا تھا ، دو بجے کے قریب شہباز بھائی اسے ہی چھوڑنے آئے تھے ، کہہ رہے تھے کہ آپ کے پاس آنے کی ضد کر رہا تھا ۔‘‘ شہلا نے جواب دیا تھا۔
’’کھانا کھایا تھا ۔۔؟‘‘
’’دادا نے کھلا دیا تھا ۔۔ پھر پاپا نے آئس کریم کھلائی تھی ۔۔ ماما میں آگے آ جائوں۔۔؟‘‘ اس کے مسکرا کر سر ہلانے پر وہ سیٹ کی بیک سے جگہ بنا کر اچھل کر آگے آ گیا تھا ، اس کی جھولی میں بیٹھ کر بتانے لگا۔
’’ماما ۔۔ بابا نے پرامس کیا ہے کہ وہ آج مجھے شاپز سے اچھے اچھے کپڑے لے کر دیں گے ۔۔ کھلونے بھی اور بڑا سا جہاز بھی ۔۔‘‘ فوزان کے چہرے کی خوشی دیکھنے کے قابل تھی ، وہ مسکرا دی۔
’’پاپا ماما کے بھی اچھے اچھے کپڑے لیں گے اور آپ کے بھی ۔۔‘‘ اس کے مسکرانے پر وہ فوراً گاڑی ڈرائیو کرتے شہباز کی طرف متوجہ ہوا تھا ۔ عیشہ نے فوراً رخ بدل لیا ، باہر دیکھنے لگی ، اس دن کے بعد اس نے اس شخص سے بات کرنا چھوڑ دیا تھا۔
’’ہوں۔۔‘‘ شہباز نے بیٹے کے جواب میں کہا تھا۔
’’ماما ۔۔آپ کیسے کپڑے لیں گی۔۔؟ بالکل ویسے لیجئے گا جیسے آپ نے اس دن پہنے تھے جب آپ دلہن بنی تھی نا۔۔ پاپا ہم ماما کے دلہنوں والے کپڑے لیں گے۔۔ ہیں نا۔۔؟‘‘ وہ شہباز کے ساتھ ساتھ اس کا بھی سر کھا رہا تھا ۔ عیشہ ایک دم خفت سے دو چار ہوئی۔
’’فوزی چپ کر کے بیٹھو۔۔‘‘ اس نے ٹوک دیا۔ بڑی باتیں کرنی آ گئی ہیں تمہیں۔۔‘‘ شہباز حیدر نے رخ موڑ کر اسے دیکھا ، سرخ خفت سے دوچار چہرے پر برہمی کے آثار تھے ۔ پچھلی سیٹ پر بیٹھی شہلا ، عیشہ کے فوزان کو ڈانٹنے پر ہنس دی۔
’’بھلا بچے بیچارے کو کیوں ڈانٹ رہی ہو۔۔ اس میں اس کا کیا قصور ۔۔؟‘‘
’’بڑا تیز ہوتا جا رہا ہے یہ۔۔‘‘ منہ بسورتے فوزان کو دیکھ کر اس نے اپنی خفت مٹائی تھی ، ہلکی سی چپت لگائی تھی، اس کا منہ پھول گیا۔
’’مجھے نہیں بیٹھنا آپ کے پاس ۔۔ گندی ہیں ۔۔ ڈانٹتی ہیں ، پاپا! ماما گندی ہیں۔۔‘‘ فوزان کو ڈانٹ کا بڑا پتا تھا ، فوراً واک آئوٹ کر جاتا تھا ، اب بھی عیشہ کے ڈانٹنے پر برے برے منہ بناتا اس کی گود سے نکل کر شہباز کی گود میں جا بیٹھا تھا ۔ شہباز نے گاڑی ڈرائیو کرتے اس کے گرد بازو لپیٹ کر سیدھا کیا تھا، پھر مسکرا کر دیکھا۔ عیشہ چپ کر کے باہر دیکھنے لگی۔ شہلا نے اپنی ضروری شاپنگ کرنی تھی ، اس نے وہ کی تھی۔ شہباز حیدر نے فوزان کے لیے کچھ کپڑے کھلونے اور ضروری چیزیں لی تھیں ، پھر سردیوں کا موسم تھا ، اسی مناسبت سے کپڑے خریدے تھے ، شہلا کے بار بار کہنے پر بھی عیشہ نے کچھ نہیں لیا تھا ۔ یہ نہیں تھا کہ اس کے پاس پیسے نہیں تھے ، دادا جان واجد صاحب ، دادی امی ، سب ہی اسے اکثر پیسے دیتے رہتے تھے ، اس وقت بھی اچھے خاصے پیسے تھے مگر دل جب نہ مانتا ہو تو کچھ چیزبھی اچھی نہیں لگتی ، شہباز حیدر ہوتے تو شاید کچھ لے لیتی مگر اب دل میں کوئی جزبز نہ تھا ، پھر اس کے پاس اچھے خاصے کپڑے موجود تھے ۔ نکاح کے لیے پانچ چھ اچھے خاصے قیمتی فینسی ڈریس چچی جان نے بنوائے تھے ، وہ بغیر چھوئے پڑے ہوئے تھے ، وہ مطمئن تھی ، کہ ان میں سے کوئی ایک پہن لے گی ۔ وہ دونوں جیولری کی دکان میں تھیں ، جب شہباز فوزان کو ان کے پاس چھوڑ کر خود چلا گیا تھا ، ایک گھنٹے کے بعد ان کی آمد ہوئی تھی ، ان کے ہاتھ میں کئی شاپرز تھے ، شاید انہوں نے اپنے لیے شاپنگ کی تھی ، شہلا کی شاپنگ مکمل تھی ، صرف شہباز کا انتظار تھا ، شام ہو رہی تھی ، عیشہ کا بھوک سے برا حال ہو رہا تھا ، صبح سے پیٹ میں سلائس اور ایک چائے کے کپ کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا ، اوپر سے یہ بازار کی خریداری ۔۔ سارا دن باہر گزار کر اب اس کا جسم درد سے چُور ہو رہا تھا ۔
واپسی میں شہباز ان کو ایک ریسٹورنٹ میں لے آئے تھے ، عیشہ سیدھا گھر جانا چاہتی تھی ، اسے ہوٹلوں کی یہ عیاشی کبھی اچھی نہ لگی تھی مگر اب کیا کہہ سکتی تھی ، اس نے شہباز حیدر سے کبھی نہ بولنے کی قسم کھائی تھی ، بھوک سے برا حال ہونے کے باوجود عیشہ واجد نے ایک لقمہ بھی نہیں لیا تھا ۔ فوزان شہلا نے اس سے کتنی مرتبہ کچھ نہ کچھ کھا لینے کا اصرار کیا تھا ،مگر پانی کے ایک گلاس کے علاوہ اس نے حلق سے کچھ بھی نہ اتارا تھا ۔ شہباز حیدر اسے فوزان کی وجہ سے اپنی زندگی میں شامل کرنے پر مجبور ہوا تھا ، وہ جان گئی تھی سو اس نے خود کو فوزان کی حد تک محدود کر لیا تھا ، وہ اس شخص کا کوئی احسان نہیں لینا چاہتی تھی ، واپسی کا سفر وہ شام کے ملگجے اندھیرے میں کچھ نہ کچھ کھوجتی رہی تھی ۔ فوزان اس کی گود میں تھا ، وہ سارے دن کی تھکن کی وجہ سے سو چکا تھا ، شہلا اور شہباز کوئی نہ کوئی بات کرتے رہے تھے ، جبکہ وہ بالکل گم صم تھی ۔ آج شہباز حیدر جب تک ان کے ساتھ تھا قدم قدم پر اس کی موجودگی عیشہ کو ڈسٹرب کرتی رہی تھی مگر اس موجودگی میں بھی لاتعلق تھی اور اسی لاتعلقی نے عیشہ واجد کے اندر کی رہی سہی طاقت بھی سلب کر لی تھی گھر آ کر اس نے سوئے ہوئے فوزان کو اُٹھا کر سنبھال کر گاڑی سے قدم باہر رکھے تھے ۔ جب شہباز نے دوسری طرف آ کر اس کے بازوئوں سے فوزان کو لے لیا تھا ، وہ لب بھینچ کر اپنا بیگ کتابیں اور فائل لے کر سیدھی اپنے کمرے کی طرف آئی تھی ، جو اس گھر میں اس کے لیے مخصوص تھا ۔ شہباز حیدر فوزان کو اُٹھائے دوسرے ہاتھ میں مختلف شاپنگ بیگز بھی بستر پر ڈھیر کیے ۔ ان سب میں فوزان کی شاپنگ تھی مگر سبز رنگ کا وہ شاپنگ بیگ اُٹھا کر شہباز نے اس کی طرف بڑھایا تھا ، وہ حیران ہو کر دیکھنے لگی ۔ ’’یہ میں نے تمہارے لیے خریدا تھا۔۔‘‘ عیشہ کے ہونٹوں پر تلخی آ ٹھہری۔
’’کیوں۔۔‘‘
شہباز نے بغور دیکھا ، اس دن کی رونی بسورتی عیشہ کے برعکس کچھ مختلف سی لگی۔
’’فوزان کے لیے کی تھی تو ظاہر ہے تمہارے لیے بھی کی ہے۔۔ کیوں کا کیا سوال۔۔؟‘‘ انہوں نے رعب سے کہا تھا مگر وہ ان کے رعب میں اب نہیں آنے والی تھی۔
’’پلیز مجھ پر یہ احسان کرنے کی ضرورت نہیں ۔۔ اپنا یہ شاپنگ بیگ اُٹھا ئیں اور لے جائیں۔۔ مجھے آپ کی یہ خیرات نہیں چاہیے ۔۔‘‘ اگلے ہی لمحے وہ غصے سے پھنکاری تو شہباز نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔
’’تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے۔۔‘‘ اگلے ہی لمحے ان کا ازلی غصہ عود کر آیا۔ خاص طور پر خیرات کے لفظ پر ۔
’’جی الحمدللہ۔۔ مکمل ہوش و حواس میں ہوں اور مجھے اپنی اوقات بھی اچھی طرح یاد ہے۔۔ میں نے اپنی سی پوری کوشش کی تھی کہ بھولے سے بھی آپ کے منہ لگنے کی کوشش نہ کروں مگر آپ مجبور کرتے ہیں۔۔ میرے لیے میرے باپ کا پیسہ کافی ہے۔ آپ اپنی یہ ’’خیرات ‘‘ کسی اور کی جھولی میں جا کر ڈالیں۔۔‘‘ وہ تو دو دھاری تلوار بنی ہوئی تھی ۔ شہباز حیدر غم و غصے سے دیکھے گئے۔
’’عیشہ ۔۔‘‘ خیرات کے لفظ پر وہ بری طرح دھاڑے تھے ، وہ سر جھٹک گئی۔
’’مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ آپ نے ہی تو کہا تھا کہ آپ مجھے اپنے گھر والوں کی وجہ سے فوزان کی وجہ سے اپنانے پر مجبور ہوئے ہیں، اور میں صرف فوزان کے لیے مخصوص ہوں۔۔ آپ کے نزدیک میری ذات کی کوئی اہمیت نہیں ۔۔ تو اب یہ عنایت کیوں۔۔ اس لیے کہ آپ اپنے بیٹے کے حصے کی بچی کھچی خیرات میری جھولی میں ڈال کر احسان کرنا چاہتے ہیں۔۔میں نے تو اس دن کے بعد آپ کی راہ میں آنا ، آپ کی طرف دیکھنا تو دور کی بات ، اس راہ پر آنا تک چھوڑ دیا ہے۔۔ جہاں مجھے گماں گزرتا ہے کہ آپ کی موجودگی ممکن ہے۔۔ تو پھر یہ عنایت کیوں۔۔؟‘‘
شہباز حیدر غصے سے اسے دیکھے گئے۔
’’بس تمہارا دماغ خراب ہے ، خناّس بھرا ہوا ہے اس میں اور کچھ نہیں۔۔‘‘ غصے سے شاپنگ بیگ بستر پر پٹختے وہ باہر نکل گئے تھے کہ عیشہ نے تیزی سے آگے بڑھ کر وہ شاپر اُٹھا یا تھا ، ان کے پیچھے لپکی تھی ، وہ بغیر رکے اپنی گاڑی کی طرف چل رہے تھے۔
’’کیا ہوا۔۔؟‘‘ وہ بھی تیزی سے ان کے پیچھے بھاگی تو پیچھے سے شہلا نے آواز دی مگر وہ پلٹے بغیر ان تک پہنچی تھی ، وہ گاڑی اسٹارٹ کر چکے تھے۔
’’مجھے اس خیرات کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔۔ میرے پاس اللہ کا دیا ہوا بہت کچھ ہے۔۔ نہ ہی مجھے آپ کی اس نام نہاد نفرت کی ضرورت ہے ، جس کا راگ آپ الاپتے رہتے ہیں ، اتنی ہی بری لگتی ہوں تو مجھے میری ذات کو تسلیم کرتے ہوئے میری برائیوں کا ذکر کریں۔۔ میں اُف کر گئی تو کہیے گا۔۔ مگر اس بے وجہ کا ٹھکرائے جانا برداشت نہیں کروں گی۔۔ اپنے جذبوں سے ہار کر آپ کا نام مقدر میں لکھوایا ہے تو اس خیرات سے بڑھ کر حق طلب کرنے کا حق رکھتی ہوں۔۔ اگر دینی ہی ہے تو مجھے میری وہ عزت دیجئے ، جو بیوی ہونے کے ناطے آپ پر فرض ہے، یہ خیرات نہیں۔۔‘‘ ان کی طرف آ کر کھڑکی میںجھک کر سب کہہ کر شاپنگ بیگ اندر پھینک کر وہ رکی نہیں تھی ، تیز رفتاری سے پلٹ بھی گئی تھی ۔ وہ گم صم ، حواس باختہ حیرت زدہ دیکھتے رہ گئے تھے۔

جاری ہے

 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney