ناول: ہم دل سے ہارے ہیں

قسط: 12

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اقرار گئے، انکار گئے، ہم ہار گئے
جینے کے سب آثار گئے، ہم ہار گئے
کچھ یادیں اس کی سیج سمندر ڈوب گئیں
کچھ سپنے اپنے رہ اس پار گئے ہم ہار گئے
اک عمر رہے ہیں جیت سے بے پروا لیکن
جب جیتنا چاہا جیون وار گئے ہم ہار گئے
وہ ابھی تک حیرت زدہ پریشان اور گم صم تھے۔ وہ جس لڑکی کو کبھی کسی خاطر میں نہیں لائے تھے، جسے ہمیشہ ڈانٹ کر کم عقل ، نادان لڑکی سمجھتے رہے تھے ، وہ ہی ان کی شکست کا باعث بنتی جا رہی تھی ، اور وہ بھی بری طرح حیرت زدہ تھے ۔ ابھی تک گم صم تھے ، سمجھ نہیں پا رہے تھے ، جو حفاظتی بل باندھتے آ رہے تھے، وہ ایک دم کیوں ٹوٹتے جا رہے ہیں۔۔ ان دیکھی خواہشیں ، جذبوں کا منہ زور ریلا ان حفاظتی بندھوں اور تختوں کی پروا کیے بغیر اب سب کچھ بہا لے جانا چاہ رہا تھا ۔ کیوں۔۔وہ ایک دم اچانک کمزور پڑتے جا رہے ہیں۔۔ جذبے اس قدر منہ زور تھے ، یا حفاظتی اقدامات بے حیثیت تھے ، وہ ابھی تک حیرت زدہ تھے۔ وہ سچ مچ ہار رہے تھے ، یا ابھی کوئی موقع باقی تھا۔ گزرے لمحوں کا حساب کرتے وہ خود سے بھی بے پروا ہو رہے تھے۔
کل شہلا کی رسم منگنی تھی ، اس وقت سب اِدھر گئے تھے مگر وہ بہت چاہنے کے باوجود اِدھر نہیں جا سکے تھے ، اِدھر وہ تھی ان کی شکست کا سامان۔۔ جسے انہوں نے بار ہا رُلایا تھا ، اور خوب رُلایا تھا ، جسے اپنے لفظوں جملوں ، طنز کے نشتروں سے بار ہا گھائل کیا تھا ، جو ہر بار ان کے ہاتھوں بری طرح تختہ مشق بنتی تھی ، ہتک کے ساتھ ذلت کا احساس اُٹھاتی تھی۔ اپنے اندر کے کسی ہار جانے والے خدشے کے سر اُبھارنے سے پہلے ہی وہ اسے بے عزت کر کے رکھ دیتے تھے ، اور پھر بھی دل مطمئن نہ ہو پاتا تھا ، ہار تو جیسے نصیب میں لکھی جا چکی تھی ، وہ اس کے مقدر میں لکھی جا چکی تھی ، وہ ان کی بن چکی تھی ، وہ ان کی زندگی میں اپنا نام منوا چکی تھی ، پھر بھی وہ اسے ٹھکرا دیتے تھے ۔ ہر بار دھتکار دیتے تھے ، اور ہر بار دھتکار دینے کے بعد خود بھی تکلیف سے دو چار ہو جاتے تھے کہ ان کی طبیعت کا رنگ نہ تھا۔
وریشہ عبداللہ ان کی زندگی میں آنے والی پہلی لڑکی تھی ، جو صرف ان کی تایازاد ہی نہیں ، محبت بھی تھی ، اور پھر وہ ان کی زندگی میں ایک خاص رشتے سے داخل بھی ہو گئی ۔ لیکن اس کی زندگی نے وفا نہ کی ، تین سال کے مختصر وقفے میں ان کی زندگی میں گل و گلزار کے باغات آباد کرنے کے بعد بے آباد بھی کر گئی۔ وریشہ کے بعد وہ ٹوٹ کر بکھرے تھے ، وقت سب سے بڑا مرہم ہے، فوزان کو عیشہ نے سنبھال لیا اور وہ اپنی ذات میں گم ہوتے چلے گئے ، گھر والوں سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شادی کا اِصرار بڑھا تو انہوں نے چپ اوڑھ لی۔ وریشہ کے بعد ان کا دل مردہ سا ہو گیا تھا ، پھر اصرار بڑھا تو انہوں نے فوزان کا بہانہ کر کے ٹالنا شروع کر دیا ۔ وقت رکنے کا نام تو نہیں۔۔ ہر زخم کا علاج ممکن ہے اور قدرت نے ان کے سامنے عیشہ واجد کو لا کھڑا کیا، جو ہو بہو وریشہ کی کاپی تھی ۔ شکل و صورت سے لے کر عادات و اطوار میں بھی اس جیسی، وہ سارے خاندان کی ہر دلعزیز اور محبوب لڑکی تھی۔ مگر باپ کی طرف سے بے اعتنائی کا شکار۔۔واجد صاحب اس کا ہر لحاظ سے خیال رکھتے تھے مگر اولاد کو جو خصوصی توجہ والدین سے ملتی ہے ، وہ دینے سے رہ گئے تھے۔ اس بات کا احساس سب کو تھا ، اور سبھی اس کا خاص خیال رکھتے تھے ، وہ پڑھنے کی شوقین تھی ، سو ہر کسی نے اس کی پڑھائی کا خاص خیال رکھا تھا ، وہ فوزان کے معاملے میں حد سے زیادہ حساس اور ٹچی تھی تو سب نے اسے فوزان کی ذات میںگم ہونے سے نہیں روکا تھا۔ اور شاید یہیں سے غلطی کی ابتداء ہوئی تھی ، اور جب شہباز حیدر کو غلطی کی سنگینی کا احساس ہوا ، وقت بہت گزر چکا تھا ، عیشہ واجد کے دل و دماغ میں ایک واضح تشبیہ اُتر آئی تھی ، اور جب انہیںاپنے شک کے یقین ہونے پر مہر ثبت ہوئی تو انہوں نے حفاظتی اقدامات کرنے شروع کر دیے تھے ۔ وہ اس ننھی سی لڑکی سے ڈر گئے تھے ، جس کی گہری آنکھوں کے سمندر میں ان کی شکست کا سامان کرنے کے لیے کافی ہو سکتے تھے ۔ انہیں لگتا تھا کہ جسے وہ ان کی ذات کے گرد کھڑی بلند و بالا فصیلوں کو ڈھانے کے چکر میں ہے اور ہر بار اس سے سامنے کے بعد وہ اپنے گرد موجود فصیلوں کو مزید بلند کر لیتے تھے ، وہ پتھر نہیں تھے مگر خود کو پتھر بنانے پر مجبور تھے۔ وہ بے حس نہیں تھے ، مگر اپنی بے حسی کا مظاہرہ کرنے میں ہی انہیں عیشہ واجد کی بھلائی دکھائی دے رہی تھی ، ایسے میں فوزان کا اس سے حد سے زیادہ لگائو ، وہ جتنی بھی کوشش کرتے کہ فوزان کی توجہ اس کی ذات سے ہٹ کر اپنی طرف مبذول کروالیں ، انہیں اس قدر ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا تھا ۔ اور وہ ایک ماہ جو انہوں نے انکشاف کے بعد فوزان کو اپنی طرف ملتفت کرنے میں گزارا تھا ، وہ ایک ماہ بھی بیکار گیا ، انہیں اس رات اپنی حماقت کا شدید احساس ہوا جب انہوں نے بہلا پھسلا کر فوزان کو اپنے پاس سلانے پر راضی کر لیا تھا ، مگر آدھی رات کو اُٹھنے کے بعد فوزان کا رونا دھونا ، وہ سخت اذیت سے دو چار ہو گئے تھے۔ وہ ایک ماہ کا عرصہ جو انہوں نے فوزان کے لیے ہر کام کو پس پشت ڈال کر گزارا تھا ، عیشہ کے ساتھ گزارے چھ سالوں کی تربیت و عادت کو بدلنے کے لیے کچھ بھی نہ تھا ۔ وہ لڑکی فوزان کی صورت میں ان کی سب سے بڑی شکست بن کر سامنے آئی تھی ، وہ تلملا کر رہ گئے تھے ، اس تصور سے ہی ان کا بیٹا ہی ان کے قابو میں نہیں آ رہا ۔۔ اور اسی رات اس کے کمرے تک جاتے ہوئے فوزان کو اس کے بازو ئوں میں دیتے ہوئے ، اسے تلخی سے دیکھتے ہوئے غصے سے اس پر اپنے با خبر ہونے کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ہر لمحے اپنے ہار جانے کا دھڑکا لگا تھا ، اور اس دھڑکے نے انہیں مزید تلخ کر دیا تھا ، اور اگلی صبح جب وہ ان کے سامنے کھانے کی ٹرے لے کر آئی تھی ، وہ پھر اس خوف سے جکڑتے چلے گئے تھے کہ یہ لڑکی باقاعدہ ان کی شکست کا اہتمام کرنے سامنے آ چکی ہے ، تب انہوں نے اندر کی تلملاہٹ ، خوف ، ہار جانے کے ڈر کو اپنے غصے ، اپنی تند مزاجی میں لپیٹ کر اس لڑکی کو بری طرح نفرت کا اظہار کرتے دھتکار دیا تھا ، کچھ عیشہ واجد کے بھر پور صاف اظہار نے اس کے اندر آتش فشاں کو گویا بارود دکھا دیا تھا ، وہ خود بھی نہیں جانتے تھے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں مگر خود کو کچھ بھی تلخ نفرت انگیز کہنے سے باز بھی نہیں رکھ سکتے تھے۔ اور تب تو حد ہی ہو گئی تھی جب انہوں نے عیشہ کے منہ پر اپنا ہاتھ اُٹھتا دیکھا تھا ۔
’’پلیز شہباز۔۔میرے ساتھ یوں پیش نہیں آئیں۔۔ مجھے اتنی نفرت سے مت دھتکاریں ، میں آپ کو کب مجبور کر رہی ہوں کہ میری محبت قبول کریں، کم از کم فوزان کے لیے تو اپنی زندگی میں اتنی جگہ دے دیں۔۔ قسم سے سارے زندگی کچھ نہیں مانگوں گی۔۔مگر آپ کی نفرت نہیں سہہ سکتی ۔۔ پلیز شہباز۔۔‘‘ وہ اس کا نام لے کر انہیں پکار رہی تھی ، جس لڑکی کو انہوں نے ہمیشہ اپنی بھتیجی کے روپ میں دیکھا تھا ، اس کے منہ سے یہ اظہار ، یہ التجا کیسے برداشت کر لیتے ۔ وہ بری طرح رو رہی تھی ، سسک رہی تھی ، وہ کمرے سے نکل گئے تھے اور پھر وہ سارا دن انہوں نے بہت اذیت میں گزارا تھا ، اس لڑکی کے آنسو ان کے پائوں کی زنجیر بننے کو بے تاب تھے، اس کی سسکیاں ان کے دل سے گرد بلند و بالا فصیلوں کو ڈھانے کے درپے تھیں اور اس کا ہر انداز ان کو گھائل کرنے کو کافی تھا ۔ وہ سارا دن بہت مضطرب رہے تھے ، رات کو لیٹ آئے تھے ، اگلے دن جب اس کو ہوش و حواس سے بیگانہ بخار میں پھنکتا دیکھا تو وہ سب کچھ بھول بھال گئے تھے ۔ ہاسپٹل میں اپنے باپ کے ساتھ خوار ہوئے ، ڈاکٹروں کے پیچھے بھاگتے انہیں ایک دم احساس ہوا تھا کہ یہ لڑکی اتنی کمزور نہیں جتنی وہ سمجھ رہے ہیں ، وہ لڑکی تو ان کی شکست کا پورا اہتمام کیے ہوئے تھی ، بخار سے وہ نچڑ کر رہ گئی تھی ، ہوش میں آنے کے بعد وہ ان کی طرف دیکھنے سے اجتناب کر رہی تھی ، تو وہ خود بھی اس کا سامنا کرنے سے بچ رہے تھے ، وہ رات انہوں نے اپنے گھر اپنے کمرے میں فوزان کے ساتھ گزاری تھی ۔ اور پھر اس لڑکی کا ہر روّیہ ، ہر انداز یاد کرتے انہیں ندامت کا احساس ہوتا جا رہا تھا ، کم از کم انہیں اس کے ساتھ اس قدر سختی سے پیش نہیں آنا چاہیے تھا ، گویا ان کے اندر کا انسان موم ہو رہا تھا ۔
عیشہ ہاسپٹل سے آنے کے بعد اپنے باپ کے پاس چلی گئی تھی ، وہ کبھی واجد صاحب کے ہاں ایک دن سے زیادہ نہیں رہی تھی ، اسے چار دن ہو گئے تھے وہاں گئے ہوئے ، فوزان اس کے بغیر بڑا تنگ کر رہا تھا ، انہوں نے قیوم کو اسے لینے کو بھیجا تھا ، مگر وہ نہیں آئی تھی ، انہیں خوش ہونا چاہیے تھا کہ وہ ان کے کہنے کے مطابق ان کے بیٹے کی زندگی میں معاملات سے دور ہو رہی ہے، مگر متفکر ہو گئے تھے ۔ دو دن تک فوزان کی طبیعت خراب ہو گئی تھی مجبوراً انہیں خود جانا پڑ ا تھا ، وہ آ گئی تھی ، انہوں نے اسے سختی کے ساتھ باور کروا دیا تھا کہ وہ اسے صرف اور صرف فوزان کی وجہ سے اہمیت دینے پر مجبور ہے۔ وہ رو دی تھی ، اور گھر آ کر اس نے فوزان کو سمیٹ لیا تھا ، اگلے ہی دن وہ بھلا چنگا ہو گیا تھا ، ان کے اندر آندھیاں سی چلنا شروع ہو گئی تھیں۔ اور انہی دنوں اس کے اندر عیشہ واجد کو پس منظر سے غائب کر دینے کی تحریک ایسی اُبھری کہ وہ جاوید صاحب کے ہاں چلے گئے ، وہ ان کے والد اور تایا ابا کے دیرینہ دوست تھے ، انہوں نے انہیں اپنے بیٹے محسن جاوید کے لیے کوئی اچھا سا رشتہ دکھانے کی بات کی تھی ، وہاں جا کر عیشہ سے بار ہا مل چکے تھے ، بہت خوش ہوئے اور پھر یہ سلسلہ چل نکلا ۔۔ ان کا مقصد عیشہ کو جلد از جلد اپنی اور فوزان کی زندگی سے دور کرنا تھا ، وہ اس میں بہت حد تک کامیاب بھی تھے، اگر عیشہ واجد خود جا کر محسن جاوید کو انکار نہ کر دیتی ، انہوں نے محسن جاوید کے آفس کے باہر کھڑے ہو کر عیشہ جاوید کے انکار کو سنا تھا ، جی چاہ رہا تھا کہ ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اس لڑکی کا چہرہ سرخ کر دیں ، وہ کون ہوتی تھی ان کے ہر عمل کو ناکام بنا نے والی ۔۔ وہ بہت مشکل سے خود پر قابو کر پائے تھے ، اس نے صرف محسن جاوید کے رشتے سے ہی انکار نہیں کیا تھا بلکہ اگلا آنے والا رشتے بھی اس کے لیے پریشانی کا باعث بن چکا تھا ۔ اور اس رات وہ پھر ان کے سامنے کھڑی تھی ، جس طرح وہ انکار کر رہی تھی ، جس طرح وہ اپنی محبت کو پیش کر رہی تھی ، وہ ہکاّ بکاّ رہ گئے تھے، ان کا خیال تھا کہ ان کے رویّے سے دلبرداشتہ ہو کر وہ کچھ نہ کچھ عقل کا دامن ضرور تھامے گی مگر الٹا ہو رہا تھا ، ان کے ہر عمل کا رد عمل انتہائی شدید تھا، وہ ایک دفعہ پھر خود پر قابو نہ کر پائے تھے ۔ غصے سے اس کی کچھ کھا لینے کی دھمکی پر اشتعال میں آ کر کمرے سے نکال دیا تھا ۔ وہ روتے ہوئے دروازہ پیٹ رہی تھی ، انہیں پکار رہی تھی ، میں مر جائوں گی ۔۔ اس کی آواز سے بھی لگ رہا تھا مگر انہوں نے خود کو پتھر بنا لیا ، ان کی ذرا سی نرمی بھی ان کے اپنے لیے نقصان دہ تھی۔
اگلے دن ان کا خیال تھا کہ وہ تایا جان سے اس رشتے کو فائنل کر لینے کی بات کریںگے ، جانچ پڑتال وہ کر چکے تھے ، رشتہ ہر لحاظ سے مناسب تھا ، مگر وہ وقت نہ ملنے پر بات نہ کر سکے ، رات لیٹ آئے تھے ، سب سو چکے تھے ، امی نے ہی کھانا لا کر دیا تھا ، ابھی کھانا کھا کر فارغ ہی ہوئے تھے کہ امی نے وہ بات شروع کر دی تھی جس نے ان کو بد حواس کر دیا تھا ۔ ایک لمحے کو یوں محسوس ہوا کہ قدموں تلے سے زمین سرک چکی ہے ، وہ امی کی تجویز پر برہم ہوئے تھے ، ہزار ہا اعتراضات کیے تھے، ہر ممکن بچنے کی کوشش کی تھی مگر اس بار امی بھی لگتا تھا کہ پوری تیاری کے ساتھ آئی تھیں ، وہ اپنا فیصلہ سنا کر جا چکی تھیں اور ان کا غصے سے برا حال ہو رہا تھا ، اگلی صبح انہوں نے عیشہ کے کمرے میں جا کر اپنا سارا غصے نکالا تھا ، وہ پھر رو دی تھی ، وہ ہر بار اسے بری طرح رلا دیتے تھے ۔ ۔ اور پھر اس کے پھُوٹ پھُوٹ کر رونے پر مزید غصہ آنے لگتا تھا ۔
وہ وضو کر کے فارغ ہوئی تھی ، صبح کے وقت اپنے گیلے چہرے سمیت وہ اوس سے ڈھکا کوئی گیلا گلاب ہی محسوس ہوئی تھی ، ایک دفعہ پھر ان کا دل ان کے سامنے ڈٹ گیا تھا مگر انہوں نے دل کو ڈانٹ کر عقل کا دامن نہیں چھوڑا تھا، اسے سخت سست سنا کر آ گئے تھے۔ اور پھر ان کے بے پناہ اختلاف کے باوجود یہ رشتہ طے پا گیا تھا ، ابو نے ان سے اتنے سلجھے ہوئے انداز میں بات کی تھی کہ وہ بہت خواہش کے باوجود انکار نہ کر پائے تھے ، اور پھر تلملا کر رہ گئے تھے۔
ان کے والدین تو جیسے منتظر ہی تھے، فوراً نکاح کی تقریب منعقد کر کے یہ رشتہ ہمیشہ کے لیے مضبوط کر لیا تھا ، اسٹیج پر بیٹھی عیشہ واجد جو کہ اب عیشہ شہباز حیدر بن چکی تھی ، عروسی لباس میں بے پناہ حسین لگ رہی تھی ، ادھر اُدھر بھٹکتے ان کی نگاہ بار ہا اس کے چہرے پر چپک گئی تھی ، وہ اپنے آپ کو ہر بار ڈانٹ دیتے تھے ، مگر اسے دیکھنے سے باز نہیں آتے تھے ۔ وہ اتنی حسین لگ رہی تھی کہ انہیں اپنے اوپر سے اختیار اُٹھتا محسوس ہوا تھا ۔ اس وقت عیشہ انہیں بالکل وریشہ کی طرح ہی لگی ، وہی رخسار ، وہی نین نقش ، وہی قد و قامت ۔۔ وہ جو صبح مہوش قیوم کے کمرے سے گزرتے ہوئے ان کی باتیں سن کر خفا تھے، بس موقع کی تلاش میں تھے کہ وہ عیشہ کو اس سلسلے میں باز پرس کریں۔۔ انہوں نے مہوش سے عیشہ سے کوئی بات کرنے کو کہا تھا ، مہوش نے انہیں تنگ کرنا چاہا تھا مگر انہوں نے سختی سے ٹوک دیا تو وہ بھی سنجیدہ ہو گئی اور عیشہ سے ملنے کا اہتمام کر دیا تھا ، وہ اس کے کمرے میں آئے تو وہ آنکھیں بند کیے نیم دراز سی تھی ، اس کو دیکھ کر ان کے اندر وہی کیفیت اُبھری تھی، جو کچھ دیر پہلے ان کے اندر تلاطم برپا کر چکی تھی ۔ وہ ان لمحوں میں بڑی مشکل سے خود پر قابو کر پائے تھے ، انہوں نے فوراً مہوش کی بات والا کھاتا کھول لیا تھا ، اور تبھی انہیں علم ہوا کہ یہ ساری سازش مہوش کی ہے ، وہ کچھ نہیں کہہ سکے تھے، ایک دفعہ پھر اسے غصے سے بری طرح سنا کر وہ چلے گئے تھے ۔ اور پھر ان کی زندگی کا اک نیا باب کھلا تھ
ہر بات ، ہر معاملے میں عیشہ واجد ان کے سامنے ہوتی تھی ، اس دن اس کو یونیورسٹی میں ڈراپ کرتے ہوئے انہیں بظاہر امی پر غصہ تھا ، ناراضگی تھی ، انہوں نے جس طرح اس کے اعتراضات کو خاطر میں لائے بغیر یکطرفہ فیصلہ کرتے نکاح کروایا تھا وہ ان سے ناراض ہی تھے ، وہ ان کی ناراضگی سے اچھی طرح باخبر تھیں ، اسی لیے انہوں نے عیشہ کو ان کے ساتھ لے جانے پر کیا تھا۔

جاری ہے

 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney