ناول: ہم دل سے ہارے ہیں

قسط: 13

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شاپنگ کے دوران اس نے کچھ بھی نہیں لیا تھا ، فوزان انہیں امی کی بات پر ایک دم غصہ آیا تھا ، وہ اس طرح کیا ثابت کروانا چاہتی ہیں، یعنی کہ وہ اتنا کمزور ہے کہ جس بات کو وہ اب تک ’’انکاری‘‘ ہے ، عیشہ کے چند پل کے ساتھ سے وہ’’ہاں‘‘ ہو جانے کیاانہیں امی کی سوچ پر غصہ تھا ، اور یہ غصہ انہوں نے سارا عیشہ پر اُتارا تھا ، وہ ایک روز پھر اسے رونے پر مجبور کر گئے تھے ، وہ رو رہی تھی ، انہیں تکلیف پہنچ رہی تھی ، وہ نجانے اتنے کمزور ہوتے چلے گئے تھے کہ اب یہ لڑکی انہیں اپنے وجود کا احساس بری طرح دلا رہی تھی ، اور جس طرح گاڑی سے نکلنے کے بعد ان کے پاس گئی تھی وہ حیرت زدہ رہ گئے تھے ۔ وہ کتنے دنوں تک خود کو اپنے اس برے روّیے پر ملال کا شکار ہونے سے نہیں روک پا رہے تھے، پھر وہ شہلا کی منگنی کی وجہ سے ایک ڈیڑھ ہفتہ پہلے ہی واجد صاحب کے ہاں جا بیٹھی تھی ، فوزان بھی اس کے ساتھ ہی گیا تھا ۔ اس دوران انہیں بڑی شدت سے دونوں کی کمی محسوس ہوئی تھی ، اس نے انہیں پتھر کہا تھا ، اور پتھر پگھل رہا تھا ، وہ خود بھی حیرت زدہ تھے ، جس شکست سے وہ ڈرتے تھے وہ ان کا مقدر بننے کو بس چند قدم کے فاصلے پر تھی ۔ وہ ہار رہے تھے ، انہیں اندازہ ہو رہا تھا ۔ جس انا کے سامنے وہ گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہ تھے ، وہ انہیں مجبور کر رہی تھی ۔ وہ فوزان کو چھوڑنے واجد صاحب کے ہاں گئے تھے ۔ وہ اتفاق سے اس دن جلدی گھر آ گئے تھے، شہلا انہیں بازار لے جانے کا کہہ رہی تھی ، وہ فارغ ہی تھے ، سو مان گئے تھے ، راستے میں ہی شہلا اسے عیشہ کو بھی یونیورسٹی سے پِک کرنے کا کہا تھا ۔ وہ حیران تو ہوئے تھے مگر اظہار نہ کیا۔۔ انہیں وہاں کچھ دیر انتظار کرنا پڑا تھا ، اور پھر وہ آ گئی تھی ، شہباز حیدر کو دیکھ کر وہ حیرت زدہ تھی ، وہ اچھی طرح اس کی حیرت پڑھ رہے تھے ۔ انہوں نے سلام کیاتو وہ صرف حیرت سے سر ہلا کر رہ گئی تھی ۔ وہ ان کے پہلو میں تھی ، لا تعلقی کا اظہار کرتی ہوئی مگر لا تعلق نہیں تھی۔ سائیڈمرر سے اس کے چہرے کی تکان وہ صرف پڑھ سکتے تھے ، فوزان اس کے پاس آگے آ گیا تھا ۔ اس سے باتیں کر رہا تھا ، تبھی اس کی بات پر اس نے ڈانٹ دیا تو انہوں نے بغور دیکھا تو وہ فوزان کی بات پر خفت کا شکار تھی ۔ ان کے اندر ایک عجیب سی کیفیت نے سر اُبھارا تھا۔ بڑی خوبصورت لگ رہی تھی ، وہ خود بھی حیران تھے۔
کی شاپنگ میں اس نے ان کی مدد کی تھی، شہلا اور فوزان اسے کچھ نہ کچھ لینے کو کہہ رہے تھے مگر وہ انکار کر گئی تھی اور تبھی وہ ان کو جیولری والی دکان پر چھوڑ کر چلے گئے تھے ، کچھ اپنے لیے اور کچھ اس کے لیے شاپنگ کی تھی ۔ اور پہلی بار وہ مطمئن تھے، پہلی بار ان کا روّیہ مثبت تھا ، اور پہلی بار اپنی شکست کے خوف سے ان کے اندر غصے کے طوفان نے سر نہیں اُبھارا تھا ، اور پہلی بار ان کو اپنی یہ کیفیت اچھی نہیں لگ رہی تھی ، انہیں عیشہ اچھی لگ رہی تھی ، فوزان کا عیشہ کے لیے یہ لگائو اچھا لگ رہا تھا ۔وہ تھک گئی تھی ، وہ محسوس کر رہے تھے ، وہ خود بھی تھکن محسوس کر رہے تھے ، وہ بھوکی تھی ، انہیں احساس ہو رہا تھا ، اسی لیے وہ ان تینوں کو اس ریسٹورنٹ میں لے آئے تھے ۔ اس نے ان کے ساتھ آنے پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا ۔ وہ خوش ہو رہے تھے ، جس طرح اس عیشہ کا لاتعلقی کا روّیہ تھا ، وہ اس کی طرف سے کچھ خوفزدہ تھے مگر ان کی خوشی اس وقت ملیا میٹ ہوئی تھی جب ٹیبل پر کئی ڈشز کی موجودگی کے باوجود اس نے صرف پانی کا گلاس لیا تھا ، وہ کن انکھیوں سے اسے دیکھتے رہے تھے ، شہلا اور فوزان اسے بار بار کچھ نہ کچھ لینے چکھنے کا اصرار کر رہے تھے ، مگر وہ ہر بار سہولت سے انکار کر رہی تھی ۔
’’پلیز نہیں۔۔اس وقت بالکل بھی گنجائش نہیں ۔۔ صبح معمولی سا ناشتہ کیا تھا ، تو کینٹین سے جی بھر کر کھایا تھا ۔۔ ایک برگر دو سموسے اور چائے پی تھی۔۔‘‘ اس کے چہرے سے بھوکا ہونے کے آثار صاف پڑھے جا سکتے تھے، شہباز خاموش ہو گئے تھے ، ان کا دل بجھ گیا تھا ۔
یونیورسٹی ڈراپ کر دینے والے دن سے لے کر اب تک اس کا روّیہ ایسا ہی تھا ، وہ جو ان کو دیکھ کر صرف رو دیتی تھی ، ذرا سی سختی پر فوراً آنکھیں بھر آتی تھی ، ان کے خوف سے وہ ہر وقت خائف رہتی تھی ، یکسر بدل رہی تھی ، وہ ان سے لاتعلقی کا اظہار کر رہی تھی ۔ ان کی طرف دیکھ نہیں رہی تھی ، اور سب سے بڑھ کر ان کا منگوایا گیا کھانا نہیں کھا رہی تھی، انہیں اذیت ہو رہی تھی ، مگر چپ تھے، اسے کچھ نہیں کہہ سکتے تھے کہ یہ سب ان کا اپنا بویا سامنے آ رہا تھا ۔ واپسی پر جب فوزان کو اس کے کمرے میں لٹانے کے بعد انہوں نے فوزان کے سامان کے ساتھ اس کے لیے خریدی گئی چیزوں کا شاپر اس کے سامنے کیا تھا ، وہ کتنی حیران ہوئی تھی ، اور اگلے ہی لمحے وہ طنز پر اُتر آئی تھی ، انہوں نے پہلی دفعہ اس کے لیے بہت خلوص سے کوئی چیز خریدی تھی اور اس نے اسے خیرات کا نام دیا تھا ۔ وہ اس کے لفظ پر ایک دم طیش میں آئے تھے ، وہ اور بھی نجانے کیا کیا بکواس کر رہی تھی ، غصے سے وہ شاپر وہیں بستر پر پھینک کر آ گئے تھے ۔ اور وہ بھی پیچھے چلی آئی تھی ، وہ گاڑی اسٹارٹ کر رہے تھے جب وہ کھڑکی میں جھک کر کہنے لگی تھی۔
’’مجھے اس خیرات کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔۔ میرے پاس اللہ کا دیا ہوا بہت کچھ ہے۔۔ نہ ہی مجھے آپ کی اس نام نہاد نفرت کی ضرورت ہے، جس کا آپ راگ الاپتے رہتے ہیں۔۔ اگر میں آپ کو اتنی ہی بری ، نا قابل قبول لگتی ہوں تو مجھے میری ذات کو تسلیم کرتے ہوئے میری برائیوں کا ذکر کریں۔۔ میںاُف بھی کر گئی تو کہیے گا۔۔ مگر اس بے وجہ کا ٹھکرائے جانا برداشت نہیں گروں گی۔۔ اپنے جذبوں سے ہار کر آپ کا نام اپنے مقدر میں لکھوایا ہے تو اس خیرات سے بڑھ کر حق طلب کرنے کا حق رکھتی ہوں ، اگر کچھ دینا ہی ہے تو مجھے میری وہ عزت دے دیجئے جو بیوی ہونے کے ناطے آپ پر فرض ہے۔۔یہ خیرات نہیں۔۔‘‘ وہ حیرت سے گنگ رہ گئے تھے ، بالکل حواس باختہ ، گم صم ۔۔ اور یہ سکتہ ابھی تک برقرار تھا ۔ اس وقت گھر میں صرف ان کے علاوہ کوئی بھی نہ تھا ، سب واجد کے ہاں گئے ہوئے تھے ، اور انہیں رہ رہ کر وہ یاد آ رہی تھی ، جنہیں ہار جانے کے خوف سے انہوں نے کبھی انسان ہی نہ سمجھا جاتا ، جسے ذلیل کرنے کا کوئی لمحہ ہاتھ سے نہیں جانے دیا تھا۔ جسے ہر لمحہ ہر پل اپنی نفرت سے سلگاتے رہے تھے اور آج اگر وہ ان کے سامنے بجائے رونے دھونے کے پوری عزت و وقار کے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی تو وہ حیران رہ گئے تھے ، اس کا یہ روپ ان کو چاروں شانے سے چت کر دینے کو کافی تھا۔
اقرار گئے ، انکار گئے ، ہم ہار گئے
اک عمر رہے ہیں جیت سے بے پروا لیکن
جب جیتنا چاہا جیون وار گئے ہم ہار گئے
وہ لب بھینچ کر رہ گئے ، انہیں آج اپنی یہ مکمل ہار بری نہیں لگ رہی تھی ، نہ ہی اس ہار کے اعتراف نے ان کے اندر تلاطم برپا کیا تھا ، وہ اک میٹھی سی کسک محسوس کر رہے تھے ، ایک دھیمی سلگتی آگ جو انہیں حیات بخش ذائقے سے متعارف کروا رہی تھی ۔ انہوںنے اپنے بستر کی سائیڈ ٹیبل سے البم نکال لیا۔ یہ نکاح کے دن کی تصاویر تھیں جو مہوش بھابی نے ان کو تھمائی تھیں ، انہوں نے غصے سے بغیردیکھے اندر ڈال دی تھیں مگر اب ان تصویروں کو دیکھنے کو دل مچل رہا تھا ۔ ہر تصویر میں اس کا روپ نرالا تھا ، عروسی لباس و میک اپ میں بھاری جیولری سمیت وہ اچھی خاصی دلربا سی لگ رہی تھی ۔ ہر تصویر کو بغور دیکھنے کے بعد ان کے ہونٹوں کی مسکراہٹ گہری ہوتی جا رہی تھی ۔
’’اگر کچھ دینا ہی ہے تو مجھے میری وہ عزت دیجئے جو بیوی ہونے کے ناطے آپ پر فرض ہے ۔۔ یہ خیرات نہیں۔۔‘‘ اپنی تمام تر نا تعلقی کے باوجود وہ اپنے دل کی بات کہنے سے باز نہیں آئی تھی ۔ ان کے اندر اک نشہ سا اُترنے لگا۔
کم عمر لڑکی کی محبت کا واحد حقدار ہونا جو پوری جی جان سے ان پر مرتی ہو۔ اس کا نشہ بھی عجیب ہوتا ہے، انہیں احساس ہو رہا تھا ۔ تصویروں کو سائیڈ پر رکھتے وہ ہنس دیے تھے ، آج بہت عرصے بعد وہ دل سے کھلکھلا کر ہنسے تھے ،ورنہ خود کو تو بقول عیشہ کے نام نہاد نفرت کی زد میں رکھ کر بھول گئے تھے۔
’’میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں۔۔ میں آپ کے بغیر مر جائوں گی۔۔ پلیز مجھے یوں بری طرح نفرت سے مت دھتکاریں۔۔ ‘‘ کبھی کا کہا روتی بلکتی سسکتی آواز میں یہ جملہ ان کے اندر اک آگ لگا گیا تھا ۔ انہیں احساس ہوا کہ وہ اس کم عمر دیوانی لڑکی سے کتنی زیادتیاں کر چکے ہیں۔ کسی خیال سے چونک کر انہوں نے واجد صاحب کے گھر کے نمبر ملائے ، کال ریسیو کرنے والی واجد صاحب کی بیگم تھیں ، سلام دعا کے بعد انہوں نے فوزان سے بات کروانے کو کہا تھا ۔
’’السلام علیکم بابا۔۔‘‘ وہ فوراً بات کر رہا تھا ، وہ مسکرا دیے۔
’’وعلیکم السلام ۔۔ کیسے ہو۔۔ ماما کیسی ہیں۔۔؟‘‘
’’ٹھیک ہوں۔۔ ماما شہلا آپی کو مہندی لگا رہی ہیں۔۔‘‘
’’تم سوئے نہیں۔۔ اتنی رات ہو گئی ہے۔۔‘‘ انہوں نے ٹائم دیکھا ، گیارہ بج رہے تھے۔
’’میں سو گیا تھا ، یہاں اتنا شور ہے۔۔ آنکھ کھل گئی تھی۔۔ پاپا آپ کیوں نہیں آئے ۔ یہاں سب ہیں۔۔ بہت مزہ آ رہا ہے۔۔‘‘
’’میں کل آئوں گا۔۔آپ اپنی ماما سے بات کروائیں۔۔‘‘
’’اچھا پاپا۔۔‘‘
تھوڑی دیر بعد عیشہ کی آواز سنائی دی۔
’’ہیلو۔۔‘‘
’’عیشہ۔۔‘‘ وہ رک گئے، ذہن بالکل خالی ہو گیا ۔
’’جی فرمائیے۔۔ کیسے زحمت کی۔۔‘‘ اتنے عرصے میں وہ ان پر طنز کرنا ضرور سیکھ چکی تھی ، انہوں نے ایک گہرا سانس لیا۔
’’تمہارا ایم ایس سی مکمل ہونے میں کتنے ماہ باقی ہیں۔۔‘‘ سنجیدگی سے پوچھنے پر دوسری طرف موجود عیشہ حیران ہوئی ۔ یہاں بھلا ایم ایس سی کا کیا ذکر ۔۔ وہ بھی اس وقت ۔۔
’’جی۔۔؟‘‘
’’جی ہاں۔۔ کتنے ماہ باقی ہیں۔۔؟‘‘ انہوں نے دوبارہ دہرایا۔
’’تین ماہ بعد ایگزام ہو رہے ہیں۔۔ کیوں خیریت ۔۔؟‘‘ عیشہ حیران تھی کہ رات کے اس پہر اسے اس کے ایم ایس سی سے کیا دلچسپی ہونے لگی کہ یوں کال کر کے پوچھا جا رہا تھا۔
’’میں بھی حساب لگا رہا تھا کہ تین چار ماہ مجھے تمہیں بیوی کے ناطے عزت دینے میں کتنا تکلیف دہ انتظار کرنا ہو گا کہ تمہیں بھی دی گئی عزت خیرات نہ لگے۔‘‘
’’جی۔۔؟‘‘ اب تو عیشہ کے حقیقتاً طوطے اُڑے تھے، کچھ بھی سمجھ نہ پائی تھی ۔یہ شخص اس پر ایسا مہربان ہی کب تھا کہ وہ اعتبار کرتی۔
’’ویسے تمہیں مجھ تک پہنچنے کے لیے فوزان کو قابو کرنے میں مشکل تو بڑی ہوئی ہو گی۔۔‘‘ وہ مزید کہہ رہے تھے ، دوسری طرف عیشہ کو تو گویا پتنگے لگے تھے۔
’’دماغ ٹھیک ہے آپ کا۔۔ فوزان کے سلسلے میں آپ میرے جذبات کی توہین کر رہے ہیں۔۔ ‘‘ وہ کلس کر رہ گئی ، شہباز نے اپنی مسکراہٹ دبائی۔
’’تم نے بھی تو میری کی گئی شاپنگ کی چیزیں قبول نہ کر کے کی ہے۔۔ وہ کس زمرے میں آتی ہے‘‘ وہ اسے صرف ستانے کے موڈمیں تھے ، دوسری طرف عیشہ واقعی برہم ہو گئی۔
’’اور جو آپ میرے ساتھ ایک عرصہ سے کرتے آ رہے ہیں، وہ کس کھاتے میں ڈالیں گے۔۔‘‘ وہ چٹخ ہی تو گئی تھی ، وہ ہنس دیے۔
’’میں تو ایسا ہی ہوں۔۔ منع کیا تھا تمہیں۔۔ اب بھگتو بھی۔۔ اپنے سے بڑی عمر کے شخص سے دل لگائو گی تو یہی حال ہو گا۔۔‘‘
’’آپ کو میرے احساسات کا پتہ ہے ، اسی لیے آپ مجھے دل لگانے کی سزا دے رہے ہیں۔۔ میری قسمت ۔۔ سر پھوڑنے کو بھی مجھے آپ جیسا پتھر ملا تھا۔۔ مگر کب تک ۔۔ کسی نہ کسی دن آپ کو اپنی غلطی کا احساس تو ہو گا۔۔‘‘ اگلے ہی لمحے حساسیت کا شکار ہوتے اس کی آواز رندھ گئی ۔
’’میں آپ سے جتنا بھی برا سلوک کر لوں، آپ کے برابر نہیں ہو سکتی۔۔ آپ تو ۔۔‘‘ وہ واقعی رو دی۔ شہباز کا ایسا کوئی ارادہ نہ تھا ، کم از کم اب تو رلانے کے موڈ میں نہ تھے ، صرف ستانا مقصد تھا ۔
’’مجھے میری باتوں کے طعنے دے لیں ۔۔ اللہ کرے آپ بھی۔۔‘‘ وہ کچھ کہتے کہتے رک گئی ، ایک دم فون بند کر دیا تھا ۔ شہباز حیدر کو تاسف نے آ گھیرا ، مگر اگلے ہی لمحے پھر کچھ سوچ کر مطمئن ہو گئے۔
اگلے دن اس نے بلیک خوبصورت ایمبرائیڈری سے مرقع شیشوں کے کام والا سوٹ پہنا تھا ، یہ اس کے نکاح کے جوڑوں میں سے ایک تھا ، خوبصورت جیولری میک اپ سمیت وہ اپنے خوبصورت سراپے کے ساتھ بہت پیاری لگ رہی تھی ، کہنیوں تک مہندی کی بیل بوٹوں سے سجے الٹے سیدھے ہاتھ پائوں بہت بھلے لگ رہے تھے ، چوڑیوں گجروں کی دلکشی نے اس کے حسن کی جگمگاہٹ کو چار چاند لگا دیے تھے ، رات کی تقریب تھی ، گھر کے اندر ہی سارا انتظام کیا گیا تھا ، مہمانوں کی آمد کے بعد خوب گہما گہمی ہو گئی تھی ، محسن جاوید نہیں آیا تھا نہ ہی ان کے خاندان میں کسی لڑکے لڑکی کو ایک جگہ بٹھا کر تقریب کر نے کا رواج تھا ۔ وہ کافی متحرک تھی ، اِدھر سے اُدھر سے اِدھر آتے جاتے عیشہ کی رات شہباز حیدر آئے تھے ، مردوں میں ہی مصروف رہے تھے ، چونکہ مردوں کے لیے بیٹھنے کا انتظام صحن میں کیا گیا تھا تو کم ہی سامنا ہو رہا تھا ۔ عیشہ نے بھی شکر ادا کیا کہ نجانے کب کیا وہ شخص کہہ دے ۔ رات دس کے قریب مہمان واپسی کے لیے ہو لیے تھے ، ان کے جانے کے بعد اچانک عیشہ کو یاد آیا کہ کافی دیر سے اس نے فوزان کو نہیں دیکھا، شاید گھنٹہ ڈیڑھ سے ۔۔ لاسٹ ٹائم اس نے شہباز حیدر کو فوزان کو اُٹھائے مردوں والے حصے میں جاتے دیکھا تھا ، اس کے بعد فوزان اسے نظر نہیں آیا تھا ، اس نے جس سے بھی پوچھا اس نے لاعلمی کا اظہار کیا تو وہ حقیقتاً پریشان ہو گئی، دیگر لوگ بھی پریشان ہوئے۔
’’کہاں جا سکتا ہے بچہ۔۔‘‘
’’کہاں نکل گیا بچہ۔۔‘ چچی جان بھی پریشان تھیں۔
’’وہ مجھ سے آئس کریم کھانے کی ضد کر رہا تھا ، میں اسے ٹال رہی تھی ، پتہ نہیں کہیں خود سے ہی باہر نہ نکل گیا ہو۔۔ اسے تو یہاں کے راستوں کا بھی پتہ نہیں۔۔‘‘ عیشہ کا دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا ، بس رونے کی کسر باقی تھی ۔
’’فکر نہیں کرو۔۔ پتہ کرواتے ہیں۔۔‘‘ حیدر صاحب اسے تسلی دے کر باہر نکل گئے تھے ، عیشہ کی آنکھوں سے باقاعدہ آنسو بہنے لگے۔ تھوڑی دیر بعد یاسر بھاگتا آیا ۔ کچھ دیر پہلے وہ فوزان کو ڈھونڈنے نکلا تھا۔
’’وہ فوزان۔۔‘‘
’’کہاں ہے وہ۔۔؟‘‘ وہ فوراً بے تاب ہوئی۔
’’شہباز چاچو کی گاڑی میں۔۔ وہ اسے آئس کریم کھلانے لے کر گئے ہوئے تھے۔۔ ابھی آئے ہیں، باہر ہی گاڑی میں ہیں۔۔‘‘ وہ بتا رہا تھا ، عیشہ کو ایک گو نہ سکون ہوا تو دوسرے ہی لمحے شہباز کا خیال آتے ہی وہ بھنا اُٹھی۔
’’وہ باہر آپ کو بلا رہے ہیں۔۔‘‘ وہ الجھی تھی ، یاسر کے اس پیغام پر باقی سب نے بھی سکون کا سانس لیا تھا ، اسے شہباز حیدر سے اس قدر غیر ذمہ داری کی امید نہ تھی ، کم از کم بتا کر تو جاتے۔ سب کے سامنے پیغام ملا تھا ، اکیلے میں تو شاید غصے سے انکار کر دیتی ، چپ کر کے وہ باہر چلی آئی۔ مہمانوں کے جانے کے بعد گیٹ ابھی تک کھلا ہوا تھا ۔ گاڑی سامنے ہی کھڑی تھی ، اسے آتے دیکھ کر شہباز نے فرنٹ ڈور کھول دیا تھا ، دوسری طرف واجد صاحب کھڑے تھے۔
’’بیٹھو۔‘‘

جاری ہے

 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney