ناول: ہم دل سے ہارے ہیں

قسط: 14.آخری قسط

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



’’وہ باہر آپ کو بلا رہے ہیں۔۔‘‘ وہ الجھی تھی ، یاسر کے اس پیغام پر باقی سب نے بھی سکون کا سانس لیا تھا ، اسے شہباز حیدر سے اس قدر غیر ذمہ داری کی امید نہ تھی ، کم از کم بتا کر تو جاتے۔ سب کے سامنے پیغام ملا تھا ، اکیلے میں تو شاید غصے سے انکار کر دیتی ، چپ کر کے وہ باہر چلی آئی۔ مہمانوں کے جانے کے بعد گیٹ ابھی تک کھلا ہوا تھا ۔ گاڑی سامنے ہی کھڑی تھی ، اسے آتے دیکھ کر شہباز نے فرنٹ ڈور کھول دیا تھا ، دوسری طرف واجد صاحب کھڑے تھے۔
’’بیٹھو۔‘‘
’’جی۔۔؟‘‘ وہ جو فوزان کی وجہ سے چلی آئی تھی ، رک گئی ، باپ کو دیکھا ، وہ مسکرائے۔
’’جلدی چھوڑ جانا یار۔۔ پہلے ہی فوزان کی وجہ سے تم نے سب کو پریشان کر دیا تھا۔۔‘‘ اس کے دیکھنے پر واجد صاحب شہباز حیدر کو کہہ کر اندر چلے گئے تھے ۔
’’سنا نہیں بیٹھو۔۔‘‘ دوبارہ کہا گیا تو وہ غائب دماغی سے بیٹھ گئی۔
’’آپ کے پاس تھا تو کم از کم کہیں لے جانے سے پہلے بتا دیا ہوتا۔۔ سب پریشان ہو کر رہ گئے تھے۔۔ فوزان کی گمشدگی اب یہ ۔۔‘‘ وہ الجھ گئی تھی۔ فوزان سو چکا تھا ، شہباز کے ساتھ ہی سیٹ پر تھا ، سر اس کی جھولی میں تھا ، شہباز نے مسکرا کر دیکھا۔
’’میں تمہارے سامنے ہی لے کر گیا تھا ۔۔ پتہ تو ہے تمہیں۔۔‘‘
’’مگر بتا کر نہیں گئے تھے ، میں سمجھی تھی کہ آپ شاید باہر مردوں میں لے کر گئے ہیں۔۔‘‘ فوزان کا سر اپنی جھولی میں رکھ کر اس کی ٹانگیں اس نے سیدھی کیں۔
’’آپ کہاں جا رہے ہیں۔۔ اور مجھے کیوں لے کر آئے ہیں۔۔؟‘‘ تھوڑی دیر بعد عیشہ کے حواس کام کرنا شروع ہو گئے تھے ، باہر ہر سُو پھیلے گہرے تاریک اندھیرے کو دیکھا اور اندر شہباز حیدر کو۔۔
’’رات تم نے فون کیوں بند کر دیا تھا ۔۔‘‘ اس کے سوال کو نظر انداز کر کے پوچھا تھا ، وہ چونکی۔
’’تو آپ مجھے رات فون بند کرنے کی سزا دینے یہاں لے کر آئے ہیں۔۔‘‘ وہ بے یقینی سے دیکھ رہی تھی ۔ شہباز حیدر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ مچل گئی۔
’’میں آپ کو اتنا برا نہیں سمجھتی تھی ۔۔ میرا خیال تھا کہ آپ کے نزدیک میری تھوڑی بہت تو عزت ہو گی مگر آپ تو۔۔‘‘ وہ شہباز حیدر کی مسکراہٹ سے کچھ اور ہی سمجھی تھی ۔ ایک دم روہانسی ہوئی۔ شہباز کا قہقہہ بے ساختہ تھا ، وہ مزید خائف ہو گئی۔
’’یہ ہنس کیوں رہے ہیں۔۔؟‘‘ وہ ہونق ہو گئی۔ شہباز نے بغور دیکھا ، شرارتی مچلتی مسکراہٹ ہونٹوں پر رقصاں تھی۔ سیاہ خوبصورت لباس میں مٹے مٹے میک اپ میں آنکھوں میں نمی تھی ، وہ ابھی بھی بے حد دل نشین لگ رہی تھی۔
’’رات فون بند کرنے کے بجائے میری بات سن لیتی تو اس وقت اتنی بد گمان نہ ہوتیں۔‘‘ گاڑی سائیڈ پر کھڑی کر کے اس کی طرف رخ کیا تھا ، عیشہ کا دماغ سنسنا اُٹھا۔ شہباز حیدر کا لہجہ کیا آنکھیں تک بدلی ہوئی تھیں۔
’’آپ ۔۔‘‘ وہ کچھ کہنے کی کوشش میں سختی سے لب سی گئی۔
’’نہیں! فوزان کی آئس کریم کھلانے کی ضد پر اسے لے کر گیا تھا ، مگر راستے میں کچھ جاننے والے مل گئے تو دیر ہو گئی۔۔ مجھے بالکل بھی اندازہ نہ تھا کہ تم لوگ پریشان ہوں گے۔۔ تم لوگوں کا بھی میری طرف دھیان نہیں گیا تھا ورنہ کال کر کے پوچھ لیتے تو پتہ چل جاتا۔۔ بہر حال واپسی پر واجد بھائی مل گئے تھے، وہ فوزان کو ہی ڈھونڈنے نکلے تھے ، میرے ساتھ ہی گھر آئے ہیں، اس لیے پوچھ کر ان کی اِجازت سے ہی تمہیں لے کر آیا ہوں۔۔‘‘
’’کیوں۔۔؟‘‘ ایک دم وہی لاتعلقی لہجے میں اُتر آئی۔
’’بھئی بیوی ہو میری اور آج اس لباس میں لگ بھی بہت خوبصورت رہی ہو۔۔‘‘ شہباز کا بظاہر انداز نارمل تھا مگر لہجے میں شرارت رچی ہوئی تھی ، عیشہ ایک دم کنفیوز ہو گئی ، وہ اس لہجے کی عادی کب تھی ۔ انہوں نے اس کے شرماتے روپ کو مسکرا کر دیکھتے اس کی چوڑیوں سے بھرا مہندی گجرے سے مہکتا ہاتھ تھاما، وہ لرز گئی۔۔ گھبرا کر چہرہ دیکھا۔
’’مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ تم آج زیادہ پیاری لگ رہی ہو یا نکاح کے دن زیادہ خوبصورت تھیں ، یا عام گھریلو سادہ حلیے میں دل کے زیادہ پاس لگتی ہو۔۔‘‘ عیشہ عام اعصاب کی مالک نہ بھی ہوتی تو بھی ان جھٹکوں سے بے جان ہو جاتی۔ خوف سے اسے دیکھا۔ یہ شخص تو مسکرا کر بات کر نا تو دور کی بات ، کبھی ایک نظر کے بھی روادار نہ تھے اور اب اس کا یہ روپ۔۔
’’ویسے بے یقینی سے کیا دیکھ رہی ہو۔۔ بھئی میں شہباز ہی ہوں۔۔‘‘ شرارت سے بھر پور انداز تھا ، وہ الجھ سی گئی، پھر اگلے ہی پل سارا حوصلہ جواب دے گیا۔
’’پلیز ختم کریں اپنا ڈرامہ۔۔ آپ کو کوئی حق نہیں کہ آپ میرے جذبوں سے اس طرح کھیلیں۔۔ میں نے آپ کی نفرت قبول کی ہے ، وہ روپ ہی میرے لیے کم تکلیف دہ تھا جو اب یہ نیا انداز۔۔ یہ نیا ڈرامہ رچا بیٹھے ہیں۔۔ محض مجھے اذیت دینے کو ۔۔‘‘ اگلے ہی لمحے وہ رو دی۔ شہباز نے حیرت سے دیکھا، پھر ایک دم بازو سے اپنی طرف کھینچا ، گود میں فوزان تھا ، وہ صرف ان کی طرف لڑھکی تھی ۔ انہوں نے اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کیا۔
’’شٹ اپ۔۔کوئی ڈرامہ نہیں کر رہا میں۔۔ میں تو تمہیں یہ سب رات کو ہی کہنا چاہتا تھا ۔۔تمہیں میں نے اتنا ستایا ۔۔ اتنی تکلیف دی، تمہاری ذرا سی لا تعلقی نے وہ کام کر دکھایا جو تمہاری اتنے عرصے کی محبت نہ کر دکھائی۔۔ میں تمہارے سامنے ہارنا نہیں چاہتا تھا ، میں تم سے عمر میں بڑا تھا ، میں نہیں چاہتا تھا کہ تمہارے ساتھ کوئی نا انصافی ہو۔۔ میرا خیال تھا کہ میاں بیوی ہم عمر ہوں تو انڈر اسٹینڈنگ اچھی رہتی ہے ، زندگی پر سکون اور خوشگوار گزرتی ہے ۔۔ ابھی تم نادانی کا مظاہرہ کر رہی ہو۔۔ ہو سکتا ہے بعد میں جذبات کا زور کم ہو اور تمہیں احساس ہو کہ تم غلطی پر تھیں ، تو بعد میں پچھتانے سے بہتر تھا کہ تم ابھی سے کچھ سوچتیں ۔۔ زندگی جذبات کے سہارے گزرنے والی نہیں ہے۔۔ تم ہمیں بہت عزیز ہو ، تمہارے ساتھ کوئی نا انصافی ہو ، کم از کم میرے نزدیک تو یہ ممکن نہیں تھا۔۔ اس لیے میں نے تمہارے لیے خود کو سخت کر لیا، میں جتنی سختی کا مظاہرہ کر رہا تھا ، تمہاری محبت اتنی ہی منہ زور طوفان کی طرح آگے بڑھتی جا رہی تھی ، میں ڈر گیا تھا ، تم سے نہیں خود سے خوفزدہ ہو گیا تھا ۔ مجھے اپنے اندر توڑ پھوڑ ہوتی محسوس ہو رہی تھی ، تمہارے معاملے میں کمزور پڑ رہا تھا ، میرے دل و دماغ میں اک جنگ سی چھڑ چکی تھی ، جس کے وجہ سے تمہیں بار ہا میں نے سخت رنج ، تکلیف اور اذیت سے دو چارکیا تھا، میرے اندر کا اشتعال دن بدن بڑھتا جا رہا تھا ، اور ہر بار میرا غصہ تم پر نکلتا تھا ، میں ہارنا نہیں چاہتا تھا مگر ہار رہا تھا اور تمہاری ذرا سی لا تعلقی میری رہی سہی انا کو بھی توڑ پھوڑ گئی۔ ایسے میں تم مجھے یہ کہو کہ میں ڈرامہ کر رہا ہوں تو بڑے شرم کی بات ہے میرے لیے۔۔‘‘ وہ ہکاّ بکاّ ، پتھر کی طرح ساکن ، بغیر پلکیں جھپکائے سن رہی تھی ، شہباز حیدر کا شہرہ جس پر جذبے اپنا عکس دکھا رہے تھے ، دیکھ رہی تھی ، مگر بے یقین تھی، کیا یہ شخص واقعی سچ کہہ رہا ہے، یہ میرا کوئی خواب ہے۔ میری یہ محبت ، میرا یہ بدلا انداز ، میری توجہ ، خیرات نہیں ہے۔۔یہ وہ حق ہے جو میرے نکاح میں ہونے کی حیثیت سے تم ڈیزرو کرتی ہو۔۔ کیا اب بھی نہیں مانو گی میں ہارا ہوں تمہاری دیوانگی ، محبت کے سامنے۔۔ میں نے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔۔ اب بولو میری حقیر سی محبت قبول کرو گی۔۔ مجھے میری تمام غلطیوں سمیت اپنی محبت کے وسیع دامن میں سمیٹ کر مجھے مالا مال کرو گی۔۔ بولو کرو گی۔۔ ‘‘اس نے دونوں ہاتھ تھامے شہباز حیدر یہ بھی بھول گئے تھے کہ وہ اس وقت کہاں ہیں، عیشہ کی آنکھوں سے آنسو بہتے چلے گئے تھے ، وہ سر جھکا گئی۔
’’بس اب نہیں رونا۔۔ بہت رُلایا ہے میں نے تمہیں۔۔ تمہاری محبت نے میرے مردہ احساسات کو اک نئی زندگی دی ہے ، وریشہ کی وفات کے بعد میںنے اپنے تمام جذبوں امنگوں خواہشوں کو بھی اس کے ساتھ دفن کر دیا تھا کہ اب یہ دل کوئی اور نگر آباد نہیں کرنا چاہتا ۔ طلب خواہش ہر چیز مٹ گئی تھی ، تمہارے وجود نے میرے اندر پھر وہ پرانی امنگ پیدا کی ہے تمہارے نام سے۔۔ تمہارے وجود سے۔۔ میں نے ابا جی اور واجد بھائی سے بات کر لی ہے۔۔ تمہارے ایگزام کے انتظار میں میں مزید صبر نہیں کر سکتا ۔۔ بعد میں بے شک ایگزیمز دیتی رہنا ، بس اگلے ماہ تک رخصتی ہو جانی چاہیے۔۔ بولو خوش ہو نا۔۔؟‘‘
عیشہ کا ابھی بھی برا حال تھا ، وہ تو سب کچھ سمجھ کر بھی نا سمجھ تھی ، اس کی بے یقینی دیکھ کر شہباز حیدر کے ہونٹوں کی مسکراہٹ گہری ہوئی ، اسکے آنسو اپنی پوروں سے صاف کرتے ہوئے انہوں نے اسے اپنے بازو کے گھیرے میں لیا تو وہ چونکی ، جیسے ایک دم خواب سے بیدار ہو گئی ہو۔۔ یہ خواب نہیں حقیقت تھی ۔۔ سچ مچ حقیقت ۔۔ زخم دینے والا مہربان ہو گیا تھا ۔۔ اس سے لا تعلقی کا مظاہرہ کرنے والا تعلق داری کا اظہار کر رہا تھا ۔ دھتکارنے والا نوازشوں پر آمادہ تھا ، وہ شہباز حیدر کی اس قربت پر جھینپ گئی، دل دھک دھک کرنے لگا ، اس نے بے اختیار شہباز کا بازو جھٹکا ، ساری صورتحال سمجھ میں آئی تو چہرہ گلنار ہوتا چلا گیا ۔ شہباز نے دل چسپی سے اس کا یہ روپ دیکھا ۔ یہ روپ بھی پاگل کر دینے والا تھا۔
’’افسوس ! تمہیں شاید خوشی نہیں ہوئی۔۔‘‘ انداز سرا سر چھیڑنے والا تھا ، وہ بلش ہو گئی ۔ پھر فوراً نفی میں سر ہلایا۔
’’وہ رخصتی۔۔ اتنی جلدی۔۔ ابھی تو میں نے پیپرز ۔۔‘‘ شہباز حیدر کی وارفتہ مچلتی نگاہوں کی زد میں الجھ کر وہ جملہ بھی نا مکمل چھوڑ گئی۔
’’خدا کو مانو بیوی۔۔ ایک منٹ نہیں صبر کرنے والا میں۔۔ میرا دل تو چاہ رہا تھا کہ تمہیں اس روپ میں سیدھا اپنے بیڈ روم میں لے جائوں مگر۔۔ تم ہو کہ۔۔‘‘ وہ شہباز حیدر کے اس قدر کھلے ڈلے انداز پر حواس باختہ ہو گئی ۔ خوف و شرم سے لرز اُٹھی ۔ سرخی سے چہرہ تپنے لگا۔ اس نے محبت کی بازیابی کی دعا مانگی تھی ، اللہ نے اس کی سن لی تھی ، اتنی شدت تھی شہباز کی محبت میں، وہ سر نہ اُٹھا پائی۔ جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا ۔
’’تم تو یوں خوفزدہ ہو رہی ہو جیسے میں۔۔‘‘ اس کی گھبراہٹ سے لطف لیتے ہوئے شہباز حیدر نے اس کا کندھا تھاما تو وہ کانپ اُٹھی۔
’’پلیزگھر چلیں۔۔ ابو انتظار کر رہے ہوں گے۔‘‘ کانپتی لرزتی آواز میں کہتے اس نے چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا تھا ۔ شہباز دل کھول کر ہنسا ۔
’’واجد بھائی جانتے ہیں اس وقت میرے جذبات کیا ہو رہے ہیں۔۔ کوئی نہیں انتظار کر رہے ہوں گے۔۔ تم اپنے شوہر کے ساتھ ہو، اعتبار کرویار۔۔ ہم دل ہارے ہیں۔۔ اور بے ایمانی تو اپنی عادت ہے ہی نہیں۔۔ اب یہ لرزنا کانپنا بند کرو۔۔ یقین نہیں آ رہا کہ میری محبت میں پاگل دیوانی ہر چیز کی پروا کیے بغیر میرے سامنے اظہار کرنے والی اس قدر شرم کی پوٹلی بھی ہو سکتی ہے۔۔‘‘ شہباز حیدر نے ہلکے پھلکے انداز میں اس کا اعتبار اسے لوٹانا چاہا تھا ۔ وہ سختی سے لب بھینچ گئی ، ہاتھ ہٹا کر دیکھا ، وہ مسکرا دیے۔اس شخص کی نفرت سو ہان روح تھی ، تو یہ قربت ۔۔ اور یہ محبت ۔۔ یہ مسکراہٹ ۔۔ ‘‘ اپنائیت و محبت سے چھیڑنا ، وہ مسکرا رہے تھے ، کھلکھلا رہے تھے ، اپنے ساتھ اسے بھی ہنسنے پر مجبور کر رہے تھے، اور عیشہ جو ان کی نگاہوں کی وارفتگی ، جملوں کی معنی خیزی ،آپس کی قربت سے پزل ہو رہی تھی نے ایک دم پر سکون ہو کر سیٹ کی شیٹ سے سر ٹکایا ۔ اس کے دل میں یقین بھرتا چلا گیا کہ
اب یہ شخص اس کا ہے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اسی کا ہے
وہ ا س کی محبت کی بلا شرکت غیرے تنہا مالک ہے
وہ اس کا دل جیتنے میں کامیاب ہو گئی تھی
کام مشکل تھا مگر وہ فاتح تھی
یہ دل بھی اس کا تھا اور شہباز حیدر بھی
زمانے کو چلنے دو چلو ایک ساتھ چلتے ہیں
نئی دنیا بسانے کو چلو ایک ساتھ چلتے ہیں
ہمیں جیون کا ہر لمحہ تمہارے نام کرنا ہے
یہی وعدہ نبھانے کو چلو ایک ساتھ چلتے ہیں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ناول کے بارے میں اپنی رائے ضرور دیں۔ دوست احباب کے ساتھ شئیر کیجئے۔

 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney