ناول: ہم دل سے ہارے ہیں

قسط: 3


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

میں یہ سب کچھ جان بوجھ کر یا انتقاماً نہیں کر رہا ۔۔میرے اس روّیے کی وجہ مجھ سے بہتر تم جانتی ہو ۔۔انتقاماً ۔۔ ‘‘ دانت پیستے انہوںنے باور کروایا ،وہ کٹ سی گئی ، ان سے نظریں چرا گئی ،انہیں مزید غصہ آیا ۔عیشہ کا غیر معمولی سلوک وہ بہت عرصے سے محسوس ہونے لگا تھا کہ عیشہ کا نارمل روّیہ اب ان کے لیے نارمل نہیں رہا ۔۔ان کے سامنے آنے سے کتراتا،ایک دم سامنا ہوجانے پر گھبرانا ۔۔الٹی سید ھی حرکتیں کرنا ، بات کرنے پر شرمانا ۔۔ خاص طور پر اس کی نگاہوں میں اپنے لیے ایک عجیب سی دہکتی آگ محسوس کرنے لگے تھے، بہت غور کرنے پر انہیں احساس ہوا کہ وہ انہیں ’’چاچو ‘‘کہنا چھوڑ چکی ہے ۔۔آپ ۔ جناب ،سنئے ، یہ، وہ کے الفاظ استعمال کرنے لگی تھی ،انہیں خود سے مخاطب کرنا تو تقریباً چھوڑ چکی تھی ،اگر کبھی بات کرنے کا موقع مل ہی جاتا تو وہ کوئی حوالہ دیتے ہوئے آپ ، یہ کے الفاظ استعمال کرتی تھی،ان کی چھٹی حس انہیں ایک عرصے سے آگاہ کررہی تھی مگر وہ اپنا وہم کہہ کر ٹال جاتے تھے ، اور پھر ایک ماہ پہلے ہی کی بات تھی ، فوزان کو بخار تھا ،رات وہ لیٹ آئے تھے ،فوزان کو طبیعت کافی خراب تھی ،سارا دن امی نے بتایا تو وہ عیشہ کے کمرے میں چلے آئے تھے ۔فوزان سویا ہوا تھا، عیشہ شاید باتھ روم میں تھی ،وہ فوزان کی طبیعت جاننے کے لیے اس کے بستر پر بیٹھ کر انتظار کرنے لگے تھے ،وہ شاید باتھ لے رہی تھی ، پانی گرنے کی آواز سے وہ یہی اندازہ لگا سکے ۔ فوزان کا بخار چیک کرتے انہوں نے سرہانہ اُٹھا کر اس کے ساتھ کمر ٹکا لی تھی، وہاں کتاب تھی ،یونہی ورق گردانی کے خیال سے اُٹھا لی تھی، مگر وہ ششد رہ رہ گئے تھے۔کتاب کھولتے ہی ان کی جھولی میں کئی تصویریں آگریں تھے۔سب تصویریں ان کی تھیں ‘ صرف ایک تصویر میں ان کے ساتھ عیشہ اور فوزان تھے ۔ یہ تصویر فوزان کی تیسری سالگرہ کے دن کھینچی گئی تھی، وہ حیران ہو کر تصویر دیکھ ہے تھے ، یونہی تصویر کی پشت پر نظر پڑی تو دنگ رہ گئے۔
جب سے تیرے نام کر دی زندگی اچھی لگی
تیرا غم اچھا لگا تیری خوشی اچھی لگی
تیرا چہرہ،تیری خوشبو، تیرا لہجہ ،تیری بات
دل کو تیری گفتگو کی سادگی اچھی لگی
وہ اشعا ر کا انتخاب نہیں تھا ،بلکہ ان کے گرد خوبصورت انداز میں چاروـں جانب عیشہ شہباز حیدر کے نام کی تکرار تھی ،خوبصورت پھولوں کی بیل کی صورت میں لکھے گئے نام کی تکرار ان کو کئی لمحوں تک سُن کر گئی تھی ، وہ عیشہ کی لکھائی ہزاروں میںپہچان سکتے تھے ،وہ حیرت کے سمندر میں غرق تھے ، شک تو پہلے ہی تھا، اب یقین آنے پر وہ شاک میں تھے ، یونہی کتاب وہیں رکھ کر اُٹھ کر وہاں سے چلے آئے ،ان کا دل چاہا کہ اس سے سختی سے باز پرس کریں ،مگر پھر عیشہ کے اندازو طوار گزشتہ رویوں کا انداہ لگا کر رہ یہ سوچ کر چلے گئے کہ اگر بات کھلنے کے بعد وہ ان کے سامنے دل کی حالت بیان کر گئی تو وہ کیا کریں گے ،کیسے اپنا دامن بچاپائیں گے،تب نجانے ان کا ردعمل کیا ہو۔۔ پھر انہوں نے خاموشی سے فوزان کو ان دور کر نا شروع کر دیا تھا ،ان کا خیال تھا کہ اس طرح وہ اس لڑکی کو مزید کسی حماقت سے روک سکیں گے۔۔مگر یہ ان کی خام خیالی تھی، پہلے تو شاید اسے بات کھلنے کا ڈر تھا ،اور اب ۔۔ کل رات انہوں نے کسی نہ کسی طرح بہلا پھسلا کر فوزان کو اپنے پاس سونے پر آمادہ کر ہی لیا تھا لیکن آدھی رات کو وہ رونا شروع ہو گیا تھا ،وہ ہڑبڑا کر اُٹھے تھے، اس شورکے عادی نہ تھے ، کچھ پریشان بھی ہوگئے ۔
’’کیا ہو ا فوزی ۔۔؟‘‘
’’ماما کے پاس جانا ہے ۔۔‘‘ روتے ہوئے فرمائش کی گئی تھی،ایک تو نیند ڈسڑب ہو گئی تھی، دوسرا اس کی یہ الٹی فرمائش۔۔ انہیں غصہ آگیا۔
’’کوئی نہیں ہے تمہاری ماما ۔۔‘‘ ان کے ڈانٹنے کی دیر تھی ، فوزان صاحب توحلق پھاڑ کر رونا شروع ہو گئی تھے ، وہ جھنجلا اُٹھے ،ہر طرح سے اسے سنبھالا ، پچکاریاں ، لالچ دیا ،مگر اس کی تو ایک ہی ضد تھی۔
’’ماما کے پاس جانا ہے۔۔‘‘اب کہ انہیں عیشہ پر غصہ آنے لگا ،جو ان کی زندگی میں حد سے زیادہ دخل اندازی کر چکی تھی۔
’’سنو فوزی ۔۔وہ سو گئی ۔۔ہے ۔تم بھی سو جائو۔۔میرا پیار بیٹا ہے نہ ۔۔‘‘انہوں نے غصہ ضبط کرتے پچکارا تھا ، مگر وہ بھی ڈھیٹ تھا ۔
’’نہیں سوئوں گا ۔۔ آپ انہیں لے کر آئیں ۔۔ان کے ساتھ سوئوں گا۔۔‘‘ وہ بیچارگی سے اس چھوٹے سے بچے کو دیکھتے رہ گئے تھے، وہ اس کی ضدی طبیعت کی عادی نہ تھے ،پریشان ہو گئے ۔
’’وہ یہاں نہیں آسکتیں۔۔تمہیں میرے ساتھ ہی سونا ہے ۔۔سمجھے ۔۔‘‘اب کے انہوں نے سختی سے کہا تھا مگر مجال ہے اثر ہوا ہو ،اور وہ بوکھلا یاتھا ۔
’’کیوں نہیں آسکتیں ۔۔عدیل کی ماما چاچو کے ساتھ سوئی ہیں ۔۔عدیل مجھے بتاتا ہے ۔۔بس آپ ماما کو لے کر آئیں۔۔‘‘ وہ ان ننھے سے بچے کی باتوں سے حق دق رہ گئے ،اوپر سے اس کی فرمائش۔۔ انہیں غصہ آگیا۔
’’کوئی نہیں ہے تمہاری ماما ۔۔‘‘ ان کے ڈانٹنے کی دیر تھی ، فوزان صاحب توحلق پھاڑ کر رونا شروع ہو گئی تھے ، وہ جھنجلا اُٹھے ،ہر طرح سے اسے سنبھالا ، پچکاریاں ، لالچ دیا ،مگر اس کی تو ایک ہی ضد تھی۔
’’ماما کے پاس جانا ہے۔۔‘‘اب کہ انہیں عیشہ پر غصہ آنے لگا ،جو ان کی زندگی میں حد سے زیادہ دخل اندازی کر چکی تھی۔
’’سنو فوزی ۔۔وہ سو گئی ۔۔ہے ۔تم بھی سو جائو۔۔میرا پیار بیٹا ہے نہ ۔۔‘‘انہوں نے غصہ ضبط کرتے پچکارا تھا ، مگر وہ بھی ڈھیٹ تھا ۔
’’نہیں سوئوں گا ۔۔ آپ انہیں لے کر آئیں ۔۔ان کے ساتھ سوئوں گا۔۔‘‘ وہ بیچارگی سے اس چھوٹے سے بچے کو دیکھتے رہ گئے تھے، وہ اس کی ضدی طبیعت کی عادی نہ تھے ،پریشان ہو گئے ۔
’’وہ یہاں نہیں آسکتیں۔۔تمہیں میرے ساتھ ہی سونا ہے ۔۔سمجھے ۔۔‘‘اب کے انہوں نے سختی سے کہا تھا مگر مجال ہے اثر ہوا ہو ،اور وہ بوکھلا یاتھا ۔
’’کیوں نہیں آسکتیں ۔۔عدیل کی ماما چاچو کے ساتھ سوئی ہیں ۔۔عدیل مجھے بتاتا ہے ۔۔بس آپ ماما کو لے کر آئیں۔۔‘‘ وہ ان ننھے سے بچے کی باتوں سے حق دق رہ گئے ،اوپر سے اس کی فرمائش ۔۔انہیں ایک دم غصہ آیا تھا۔
’’شٹ اپ ۔۔اس نے لاڈاُٹھا اُٹھا کر تمہاردماغ خراب کر دیا ہے ۔۔آرام سے سو جاو ۔۔‘‘ غصہ تھا یا پھر فوزان کی بات کا اثر تھا ،سختی سے ڈپٹتے انہوںنے اسے کھینچ کر تھپڑ مارا تھا ،پھر کیا تھا ۔۔ فوزان میاں کا فل والیم تھا ، وہ زِچ ہو اُٹھے۔
’’مجھے ماما کے پاس جانا ہے ۔۔ابھی جانا ہے ماما کے پاس ۔۔آپ گندے ہیں۔۔ماما اچھی ہیں ۔۔میں ماما کو بتائوں گا۔۔ آپ مارتے ہیں‘‘ وہ سر تھام کر فل والیم سے روتے اس چھوٹے سے بچے کو دیکھتے رہے مگر وہ نہیں سنبھلا تھا۔غصے سے اُٹھا کر اس کے پاس چھوڑ آئے تھے، اس وقت غصہ اس قدر تھا کہ سوچنے سمجھنے کی ساری صلاحیتیں مفقود ہو کر رہ گئی تھیں ،اسی غصے کی وجہ تھی کہ وہ جو ’’ پردہ قائم ہے‘‘یہ حجاب برقرار رہنے کے لیے سرگرداں تھے ،عیشہ کو خود اپنے سامنے کھڑا ہونے کا موقع دے گئے تھے ۔ساری رات دہکتے انگاروں پر جھلستے سلگتے گزری تھی ،اور اب وہ ان کے سامنے تھے۔
’’دیکھو عیشہ ! تم بچی نہیں ہو کہ یہ حماقتیں سر انجام دو۔۔کل تو تمہاری شادی بھی ہونی ہے۔۔ فوزان سے تمہاری اس قدر اٹیچمنٹ تم دونوں کے لیے ہی نقصا ن دہ ہے ،بہتر ہے کہ تم اس سے دور رہو ۔۔وہ ابھی بچہ ہے ،محبت سے پیار سے بہل جائے گا ،مگر بعد میںشاید یہ نا ممکن ہو ۔۔‘‘شہباز حیدر نے اپنے آپ کو سنبھال کر حصے کو پس پشت ڈالتے قدر ے رسانیت سے کہا تھا ،وہ آنکھوں میںآنسو لیے شکایتی نظروں سے دیکھے گئی، وہ رخ موڑ گئے۔
’’مجھے نہیںکرنی کوئی شادی وادی ۔۔جب میں آپ سے کہہ رہی ہوںکہ میں آپ کے لیے کوئی مسئلہ نہیںبنوں گی تو پھر ایسی باتیںکیوں کر رہے ہیں ۔۔فوزان کو میں نے کبھی پھوپھو کا بیٹا نہیں سمجھا، بلکہ ہمیشہ اپنا بیٹا سمجھا ہے ۔۔اور کوئی بھی ماں اپنے بیٹے کو خود سے جدا نہیں کر سکتی ۔۔‘‘ وہ ان کے سامنے کھڑی واشگاف الفاظ میں آنسو بہائے دل کی بات کہہ گئی تھی۔ اسی لمحے سے تو وہ ڈرتے تھے، وہ تاسف سے اسے دیکھتے رہے۔
’’کاش مجھے اندازہ ہوتا کہ تم اس حد تک بے باک ہو چکی ہو ۔تمہارے دماغ میں اس قدر خناس بھر چکا ہے تو میں یہ نوبت ہی نہ آنے دیتا ۔۔بہت پہلے ہوش کے ناخن لیتا ۔۔‘‘ انہوں نے تلملا کر کہا تو عیشہ نے تڑپ کر دیکھا ، کتنی نفرت وحقارت سے وہ اسے دیکھ رہے تھے، اس کا دل کانپا۔
’’ہونہہ! تم میرے لیے مسئلہ بنو گی ۔۔عیشہ !تم میری بات کان کھول کر سن لو ۔۔تم جو اوٹ پٹانگ خوابوں کے محل تعمیر کر رہی ہو ،وہ کبھی ممکن نہیں۔۔اگر مجھے شادی ہی کرنا ہوتی تو کب کا کرچکا ہوتا ۔۔اور تمہیں شرم تو نہ آئی یہ سب سوچتے ہوئے ۔۔میرے سامنے یوں اپنا آپ آشکار کرتے ہوئے ۔۔‘‘
’’شرم آرہی ہے مجھے اس تصور سے ہی کہ جس لڑکی کو ابھی میں کم عمر بالا اُبالی بچہ سمجھ رہاتھا ، وہ میرے سامنے کھڑی میری آنکھوںمیں دیکھتے ’’اظہارعشق‘‘ فرمارہی ہے ۔۔‘‘
وہ رو دی ،پھُوٹ پھُوٹ کر ۔۔کتنا غلط سمجھ رہے تھے وہ اسے ۔۔وہ اپنی ساری انا ،خود داری، خوف کوپس پشت ڈالے صرف اور صرف فوزان کی خاطر ان کے سامنے آئی تھی اور وہ۔۔‘‘ اس کا دل تڑپ اُٹھا ۔
’’آپ جانتے ہیں کہ میںآپ سے محبت کرتی ہوں ۔۔بغیر کسی لالچ اور غرض کے ۔۔کب میںنے اظہار کیا ہے۔۔ میںفوزان کی بات کر رہی ہوں اور آپ ۔۔‘‘وہ ہاتھوں میں چہرہ چھپاکر رو گئی۔ شہباز حیدر نے کھا جانے والی نظروں سے گھورا۔
’’شٹ اپ۔۔‘‘انہوں نے اپنی مٹھی زور سے دبائی ورنہ ان کا دل چاہ رہا تھا کہ اس لڑکی کا چہرہ تھپڑوں سے سرخ کر دیں۔
’’بہت بڑی غلطی ہوئی مجھ ۔۔مجھے فوزان کے معاملے میں تم پر اتنا اعتبار نہیںکرنا چاہیے تھا، مجھے اپنی ذمہ داری خود نبھانی چاہیے تھی ۔۔‘‘ان کا بس نہیں چل رہا تھاکہ اس کا گلا دبادیں ،کیسے بے شرموں کی طرح اقرار کیا تھا ۔
’’پلیز شہباز ۔۔میرے ساتھ یوں پیش نہ آئیں ۔۔مجھے اتنی نفرت سے مت دھتکاریں ،میں کب آپ کو مجبور کر رہی ہوں کہ میری محبت قبول کریں۔۔کم از کم فوزان کے لیے تو اپنی زندگی میں اتنی جگہ دے دیں۔۔ قسم سے ساری زندگی کچھ نہیںمانگو ں گی۔ ۔ مگر آپ کی نفرت نہیں سہہ سکتی ۔۔ پلیز شہباز ۔۔‘‘وہ باکل ان کے سامنے کھڑی رندھے لہجے میں کہہ رہی تھی ،ان کا نام لیتے وہ ان کی برداشت آزماگئی تھی، وہ خود پر بمشکل کنٹرول کر رہے تھے،ان کا ہاتھ ایک دم اُٹھا تھا۔
’’شٹ اپ ۔۔جسٹ شٹ اپ ۔۔آئندہ میرے سامنے ایسی بکواس نہیںکرنا اور ہاں ۔۔ میراتم سے جو رشتہ ہے اسی حوالے سے پکارو گی ۔۔ نام لیا تو حلق سے زبان کھینچ لونگا۔۔‘‘وہ منہ پر ہاتھ رکھے سسک رہی تھی، وہ تلملا کر اسے وارن کرتے اپنا بریف کیس اُٹھا کر راستے میںپڑی ہر چیز کو ٹھوکر مارتے کمرے سے نکل گئے تھے۔ وہ منہ پر ہاتھ رکھے سسک سسک کر روتے قالین پربیٹھی چلی گئی تھی۔
تونے نفرت سے جو دیکھا تومجھے یاد آیا
کیسے رشتے تیری خاطر یونہی توڑ آیا ہوں
کیسے دھندلے ہیں یہ چہرے جنہیں اپنایا ہے
کتنی اجلی تھیں وہ آنکھیں جنہیں چھوڑ آیا ہوں
سارا دن و ہ اپنے کم مائیگی کا ماتم کرتی رہی تھی،رات تک اسے بہت تیز بخار ہو گیا تھا ، وہ اس کے قدموں میں اپنی انا، اپنی خودداری ،اپنی نسوانیت سمیت سب کچھ لٹا آئی تھی ، یہ ایسا دکھ تھا جو اسے اندر ہی اندر کاٹ رہاتھا ،جب تک بات دل میں تھی ، وہ مطمئن تھی ،خود کو بہلا لیاتھا مگر اب زبان سے ادا ہوچکی تھی تودل کا روگ بن گئی تھی، اسے یہ دکھ نہیں تھا کہ اس نے اسکی محبت کو قبو ل نہیںکیا ، اسے یہ دکھ تھا کہ اس نے انتہائی نفرت و حقارت سے اسے دھتکار دیا تھا۔ وہ تو مکمل لٹی تھی ،تن من دھن سے سب کچھ لٹا آئی تھی۔۔ دونوں ہاتھوں سے خالی تھی ۔۔دکھ تھا کہ کم ہی نہیںہو رہا تھا ، کم مائیگی سب کچھ کھودینے کا احساس کاٹ کھا رہا تھا ۔۔وہ مضمحل سی تھی،کھانے کے بعد وہ کمرے میںبند ہوئی تو ساری رات دہکتے انگاروں پر لوٹتی رہی۔۔آگ بکھیرتے انگارے اسے سلگاتے رہے اور وہ سلگتی رہی ، فوزان اس کے پاس بستر پر سویا ہو تھا، مگر اسے کوئی چین ،کوئی قرار نہ تھا ،جوں جوں رات بیتتی جارہی تھی، اسکے اعصاب جواب دیتے جارہے تھے ۔
صبح تک وہ بے چین سی ہو چکی تھی ،فوزان کو اسکول جانا تھا ،اس کی خاطر بستر سے اُٹھی تھی،بمشکل اسے تیار کرا کر کمرے سے باہر بھیج کر وہ دوبارہ بستر پر لیٹ چکی تھی ،بخار کی حدت ، غم کی شدت سے سر چکرارہا تھا ۔خاموشی سے کمبل سرتک تان لیا ۔ شہباز حیدر تیار ہوکر نیچے آئے توامی نے ٹرے تیار کر رکھی تھی، تا یا جان نماز تلاوت کے بعد سو جاتے تھے ،ان کا نا شتے دس بجے ہوتا تھا ،جبکہ حیدر صاحب اخبار دیکھ رہے تھے ،وہ لیٹ آفس جاتے تھے ، شہباز حیدر نے ان کے ساتھ والی کرسی سنبھالی ۔دوسری طرف تائی جان بیٹھی ہوئی تھیں۔
’’آج عیشہ نے یونیورسٹی نہیں جانا۔۔ ‘‘اچانک تائی جان کو خیال آیا تھا۔
’’ہاں مجھے بھی خیال نہیں رہا۔۔ صبح سے وہ کمرے سے نہیں نکلی ۔۔رات کو بھی شام کو ہی کمرے میںگھس گئی تھی ،صبح نماز پڑھتے نہیں دیکھا ۔۔اور تو اور صبح پودوں کو پانی تو ضرور دیتی ہے ۔۔آج وہ بھی نہیں دیا ۔۔‘‘ شہباز حیدر نے ایک نظر ماں کو دیکھا ،اور خاموشی سے ناشتہ کرتے ہے ۔
’’فوزان اسکول چلاگیا تھا ۔۔ ؟‘‘ اچانک خیال آنے پر پوچھا ۔

جاری ہے

 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney