ناول: ہم دل سے ہارے ہیں

قسط: 4

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

’’آج عیشہ نے یونیورسٹی نہیں جانا۔۔ ‘‘اچانک تائی جان کو خیال آیا تھا۔
’’ہاں مجھے بھی خیال نہیں رہا۔۔ صبح سے وہ کمرے سے نہیں نکلی ۔۔رات کو بھی شام کو ہی کمرے میںگھس گئی تھی ،صبح نماز پڑھتے نہیں دیکھا ۔۔اور تو اور صبح پودوں کو پانی تو ضرور دیتی ہے ۔۔آج وہ بھی نہیں دیا ۔۔‘‘ شہباز حیدر نے ایک نظر ماں کو دیکھا ،اور خاموشی سے ناشتہ کرتے ہے ۔
’’فوزان اسکول چلاگیا تھا ۔۔ ؟‘‘ اچانک خیال آنے پر پوچھا ۔
’’ہاں ! وہ تو چلا گیا تھا ۔۔تیار شیار ہو کر باہر آیا تھا ۔۔کہہ رہا تھا کہ ماما کو بخار ہے۔۔رات بھی کی طبیعت خراب تھی۔۔ خدا خیر کرے۔۔‘‘
’’جائو زلیخا دیکھو ۔۔عیشہ کیا کر رہی ہے ۔۔تائی جان نے فکر مندی سے کام والی کو کہا تو وہ چلی گئی ،ابھی دو منٹ ہی گزرے تھے جب وہ بھاگی آئی ۔
’’بیگم صاحبہ ۔۔بیگم صاحبہ ۔۔عیشہ بی بی تو بے ہوش پڑی ہوئی ہیں۔۔ بخار سے تپ رہی ہیں ۔۔ میںنے دو تین دفعہ ہلایا بھی مگر ہو ش نہیںآیا۔۔
’’یا اللہ ۔۔خدا خیر کرے۔۔کیا کہہ رہی ہے تو زلیخا ۔۔اب اتنی خراب طبیعت بھی نہیں تھی بچی ۔۔‘‘ تائی امی تو فوراً عیشہ کی کمرے کی طرف بھاگی تھیں، ان کے پیچھے امی اور حیدر صاحب بھی۔۔شہباز حیدر جو نارمل ہی تھے ۔۔ان کے چہرے پر بھی پریشانی چھلکی۔۔ کل کے واقعے کے بعد انہوں نے اسے نہیںدیکھا تھا ۔۔وہ بھی ٹرے ایک طرف دھکیل کر اس کے کمرے کی طرف چلے آئے۔ وہ بے سدھ بستر پر پڑی ہوئی تھی تائی امی اس کے ہاتھ پیر سہلا رہی تھیں تو امی نے پانی لے کر اس کے منہ پر چھینٹے مار رہی تھیں۔
’’بڑا تیز بخار ہے اسے ۔۔یا اللہ رحم کر ۔۔‘‘ تائی جان تو بس رودینے کو تھیں ۔وہ دروازے پرہی رکے ہوئے تھے۔
’’جائو زلیخا ۔۔ساتھ والے حامد صاحب کو بلا لائو ،وہ اس وقت گھر پر ہونگے ۔۔جلدی کرو۔۔‘‘انہوںنے آگے بڑھ کر اس کی نبض چیک کی تھی،ڈوبتی ابھرتی حالت تھی ، وہ ایک دم گھبرا گئے تھے، زلیخا فوراً باہر بھاگی ۔
’’حامد صاحب ڈاکٹر تھے ۔۔اپنا بیگ لے کر فوراً آگئے ۔۔عیشہ کا بی پی چیک کرنے لگے ۔۔
’’بچی کا بی پی بڑی طرح لو ہے ۔۔بچی کی کنڈیشن بہت خراب ہے ۔۔اتنا لو بی پی ۔۔کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔۔آپ اسے فوراً ہاسپیٹل لے جائیں ۔۔ورنہ نروس سسٹم بھی متاثر ہو سکتا ہے ۔۔‘‘
ایک اور انجکشن لگا کر اس کا بی پی نارمل کرنے کی کوشش کی تھی ،مگر دیر بعد ناکام ہو کر انہوں نے کہا تو تائی امی پھُوٹ پھُوٹ کر رونے لگیں ۔
’’ہائے میری بچی ۔۔‘‘
’’بھابی آپ پریشان نہ ہوں ۔۔ہم اسے ہاسپیٹل لے جائیں گے ۔۔شہباز! گاڑی نکالو ‘‘ ابو تائی جان کو تسلی دی تھی، شہباز نے گاڑی نکالی تو ابو نے امی کی مدد سے اسے گاڑی میں ڈالا ۔ عیشہ کو انتہائی نگہداشت والے روم میں لے جایا گیا تھا ،وہ بالکل ہاتھ پیر چھوڑ چکی تھی ، پانچ چھ گھنٹے بعد ڈاکٹر نے اسے خطرے سے باہر قرار دیا تھا ۔ ۔ پھر رفتہ رفتہ اس کی طبیعت سنبھلنے لگی تھی ،رات گئے وہ ہوش میںآئی تھی، حواس میںآتے ہی رونے لگ گئی تھی ۔۔بے اختیار پھُوٹ پھُوٹ کر ، تائی جان، امی، مہوش بھابی اس کی دوسری والدہ ماجدہ سبھی اسے سنبھالنے میں لگے ہوئے تھے۔
ڈاکٹر نے اس کے پاس زیادہ رش کرنے سے منع کیا تھا ۔۔اگلے دن وہ کافی بہتر تھی، اسے روم میں منتقل کر دیا گیا تھا ،رونے کے بعد وہ خاموش ہو گئی تھی۔ سب نے اس کی خاموشی کو محسوس کیا تھا ۔ واجد صاحب اس کا بھر پور خیال رکھ رہے تھے، بخار بھی قدرے بہتر تھا۔فوزان جس نے پچھلا سارا دن عیشہ کے بغیر گزارا تھا ،خاص طور پر رات کو اس نے شہباز حیدر کو بہت تنگ کیا تھا ، وہ حقیقتاً پریشا ن ہوگئے تھے ، ایک تو عیشہ کی اس قدر سیریس کنڈیشن ہو جانا۔۔ اوپر سے رات کو فوزان کا رویہ وہ انتہائی ڈسٹر ب ہو گئے تھے، عیشہ سے انہیں کوئی ذاتی دشمنی نہ تھی، مگر وہ جس حماقت کا مظاہرہ کر رہی تھی ، اس کے جواب میںایسی ہی حماقت سر انجام دینا انہیں قابل قبول نہ تھا ۔
اگلے دن فوزان بار بار عیشہ کے پاس جانے کی ضد کر رہا تھا ،اس نے سکول سے چھٹی کی تھی، دس بجے کے قریب شہباز حیدر فوزان کو ہاسپیٹل لے آئے تھے، اس وقت عیشہ کے پاس واجد صاحب کے علاوہ تائی امی تھیں ،جس وقت وہ کمرے میں داخل ہوئے تھے ، عیشہ آنکھوں پر بازو لپیٹے لیٹی ہوئی تھی ،تائی جان کرسی پر بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھیں، اسے دیکھ کر مسکرائیں ۔۔شہباز حیدر نے سلام کیا تو بھی عیشہ نے بازو نہ ہٹائے ۔
’’ماما۔۔ماما۔۔‘‘ فوزان نے آگے بڑھ کر عیشہ کا بازو جھنجھوڑا تو اس نے تڑپ کر بازو ہٹایا ۔
’’فوزی ۔۔تم۔۔ اوہ میری جان ۔۔ ‘‘وہ اگلے ہی لمحے اُٹھ کر بستر پر بیٹھ گئی تھی،شہباز حیدر نے اس پر نگاہ ڈالی ،ذراکملایا ہو ا چہرہ تھامگر بہت محبت سے وہ فوزان کو بازو کے گھیرے میں لے کر اس کے منہ پر پیار کر رہی تھی ،ان کے دل میں کوئی چیز کلک ہوئی ۔تھی۔
’’میں نے آپ کے پاس آنا تھا ۔۔‘‘
’’بری بات اچھے بچے سکول سے چھٹی نہیں کرتے ۔۔آب شہباز حیدر کا سارا دھیان اسی کی طرف تھا ۔
’’رات کو کس کے پاس سوئے تھے ۔۔‘‘عیشہ کی آوا ز پر شہباز نے دیکھا ،فوزان اس کے پہلو میں لیٹا ہو ا تھا ،وہ بہت محبت سے اس کے بال سنوار رہی تھی۔ اسکا سارا دھیان فوزان کے چہرے کی طرف تھا ۔
’’پاپا کے پاس ۔۔ مجھے آپ کے بغیر نیند نہیں آئی تھی ۔۔پھر بابا دادو کے پاس لے کر گئے تھے، پھر انہوں نے کہانی سنائی تھی اور میں سو گیا ۔۔‘‘
’’ہوں ۔۔عیشہ نے سر اُٹھا کر دیکھا ،شہباز حیدر کی نظروں کا زاویہ بدلا ۔
’’اچھا تائی امی میں چلتا ہوں ۔۔کسی سے ملنا ہے، واپسی میں فوزان کو لے جاوں گا ۔۔‘‘عیشہ نے خاموشی سے شہباز حیدر کو دادی اماں سے بات کرنے کے بعد باہر نکلتے دیکھا تھا ۔پھر اس نے سرہانے پر سر رکھ کر آنکھیں موند لیں۔
’’آپ مجھ سے اتنی نفرت کیوں کر رہیں ہیں شہباز ۔۔میں مر جائوں گی ۔۔‘‘ وہ سسک پڑی۔ سارا دن فوزان ا س کے پاس رہا تھا شام کا کھانا قیوم چچا لے کر آئے تھے ،کھانا کھانے کے بعد فوزان کے پاس ہی بستر پر لیٹ گیا تھا ۔قیوم نے فوزان کو لے جانا چاہا تھا مگر وہ نہیں گیا تھا۔ وہ اکیلے ہی واپس چلے گئے تھے ، اس وقت وہ آنکھیں بند کیے لیٹی ہوئی تھی جبکہ دادی جان نماز پڑھ رہی تھیں، فوزان سو گیا تھا ، شہباز حیدر کمرے میں داخل ہوئے تو رک گئے۔۔ سارا دن وہ اپنے کام کے سلسلے میں مصروف رہے تھے ، ان کا خیال تھا فوزان گھر چلا گیا ہو گا قیوم نے انہیں فون کر کے انہیں فوزان کو لے آنے کا کہا تھا ،اسی لیے وہ یہاں آئے تھے ،مگر اس وقت وہ عیشہ کے ساتھ بستر پر لیٹا سو رہا تھا۔
’’فوزان ۔۔‘‘انہوں نے بستر کے قریب آکر آواز دی تو عیشہ نے پٹ سے آنکھیں کھول دیں۔ نظریں سیدھی ان کی آنکھوں سے ٹکرائی تھیں ،کتنی شکایتی نگاہیں تھیں،شہبازنے لب بھینچ لیے ،تلخی سے عیشہ نے بھی آنکھیں پھیر لیں۔
’’یہ تو سو گیا ہے ۔۔‘‘ فوزان کو دیکھ کر انہوں نے کہا تو وہ چپ رہی ۔
’’کیسی طبیعت ہے اب تمہاری ۔۔؟‘‘ انہیں بھی شاید خیال آہی گیا تھا ، وہ تلخی سے دیکھ کر سر جھکا گئی ۔
’’بخار اترا ۔۔‘‘ بے بسی سے اس نے گہرا سانس لیتے اس نے گردن ہلا دی ۔وہ بہت چاہنے کے باوجود ان کے روّیے پر بھی ان سے بے اعتنائی نہیں برت سکتی تھی۔
’’تائی امی تو نماز پڑھ رہی ہیں ۔۔ مجھے اب چلنا چاہیے ۔۔کافی دیر ہوگئی ہے۔۔‘‘
’’فوزی اُٹھو ۔۔گھر چلیں۔۔‘‘ انہوںنے فوزی کو اُٹھا نا چاہا تو اس نے روک دیا ۔
’’پلیز اس کو سونے دیں ۔۔اس کی نیند خراب ہو گی ۔۔‘‘
’’مگر میں اسے یہاں بھی نہیں چھوڑ سکتا ۔۔تم تو شاید کل ڈسچارج ہوگی ۔۔‘‘
’’تو آپ اسے ایسے ہی اُٹھا کر لے جائیں ۔۔یہ اُٹھنے کے بعد یہاں آنے کی ضد کرے گا ۔۔‘‘ اس نے الجھے لہجے میں کہا تو وہ خاموشی سے اسے اُٹھا نے لگے،تبھی ان کا ہاتھ عیشہ کے دہکتے بازو سے چھوا تھا، یوں لگا جیسے دہکتے انگاروں کو چھو لیا ہو ،انہوں نے ایک دم رک کر اسے دیکھا ۔
’’تمہیں تو ابھی بھی بہت تیز بخار ہے ۔۔‘‘فوزان کو اُٹھانے کے بجائے فکر مندی سے پوچھا،وہ ہنس دی ۔
’’کیا فرق پڑتا ہے ۔۔مرنے والی تو پھر بھی نہیں ۔۔‘‘
وہ خود اذیتی کی حد پر تھی ،انہوں نے لب بھینچ لیے ، ایک دم احساس ندامت نے آگھیرا ۔وہ ان کی وجہ سے اس حال کو پہنچی تھی، انہیں احساس تھا مگر۔۔
’’عیشہ پلیز۔۔‘‘ انہوں نے اسکی دہکتی کلائی پر ہاتھ رکھا تو اس نے سرعت سے ہاتھ کھینچ لیا ۔
’’پلیز اپنے بیٹے کو لے کر جائیں یہاں سے۔۔ مجھ پر یہ مہربانیاں نہ کیا کریں ۔۔میرا دل خوش فہمیوں میں مبتلا ہونے لگ جاتا ہے۔۔بہت نفرت کرتے ہیں آپ مجھ سے ۔۔میں اسی قابل ہوں ۔۔جائیے یہاں سے ۔۔نہیں مرنے والی میں ۔۔‘‘دھیمی جلتی سلگتی آواز تھی، وہ بغیر آواز پیدا کیے ہاتھوں میں چہرہ چھپائے پھُوٹ پھُوٹ کر رونے لگ گئی تھی، وہ اسے کچھ کہنا چاہتے تھے، کوئی جملہ انکے لبوں پر آتے آتے رہ گیا۔ تائی جان کی موجودگی کا خیال کرتے انہوں نے ایک تیز قابل رحم نظر اس پر ڈال کر فوزان کو اُٹھایا تھا ۔ وہ کمرے سے باہر نکل گئے تھے مگر وہ مسلسل رو رہی تھی ،تکیے میں منہ چھپائے شدت سے آنسو بہا رہی تھی ۔
وہ ہاسپیٹل سے آنے کے بعد دو دن دادی جان کے ہا ں رہی ،پھر اپنا سامان لے کر واجد صاحب کے ہاں چلی آئی ،امی کے بر عکس اس کے تینوں بہن بھائی اس سے بے پنا ہ محبت کرتے تھے ،وہ اکثر ان کے بے پنا ہ اصرار پر ان کے ہاں آکر رہتی تھی، اب بھی خود کو پر سکون کرنے کو چلی آئی کہ وہاں بہت کوشش کے باوجود شہباز حید ر سے سامنا ہو ہی جاتا تھا اورہر بار وہ نئے سرے سے ادھر جتی تھی، اس کے دل کو جو ٹھیس پہنچی تھی، وہ خود کو نارمل کرنا چاہ رہی تھی ،اس لیے ادھر آگئی ۔ یونیورسٹی بھی یہاں سے چلی جاتی تھی ،شہباز حیدر نے اسے بری طرح نفرت سے دھتکارا تھا ، اندر کی یہ تکلیف کم ہی نہیں ہو پا رہی تھی، ادھر آکر بہن بھائیوں میںالجھ کر وہ خود کو سنبھالنے کی کوشش میں تھی ۔
فوزان اس کے بغیر کیسے رہ رہا ہے ، رات کو کس کے پا س سوتا ہے ، وہ فی الحال یہ نہیں سوچنا چاہتی تھی ، پس اپنے آپ کو سمیٹ رہی تھی کہ پھر سے پہلے جیسی ہو جائے ،ابھی اسے یہاں آئے چوتھا دن ہی تھا کہ قیوم چاچو اسے لینے چلے آئے۔
’’گھر چلو سب تمہیں بہت مس کر رہے ہیں ۔۔خاص طور پر فوزان تمہارے بغیر کسی اور کے قابو میں نہیں آرہا۔۔ بہت مشکل ہے اسے سنبھالنا ۔‘‘انہوں نے آنے کی وجہ بتائی ۔
’’کیوں ۔۔ ؟ اس کے پا پا تو اس کے پاس ہی ہیں۔۔‘‘
نہ چاہتے ہوئے بھی اس کا لہجہ تلخ ہو گیا ،وہ ہنس دیے ۔ ’’وہ اپنے پا پا سے زیادہ تم سے اٹیچ ہے۔۔سارا دن تو اسے بہلا لیتے ہیں مگر رات کو اسے سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے ۔۔نجانے تم اسے کیسے سلا لیتی ہو ۔۔ رورو کر سارا گھر سر پہ اٹھا لیتا ہے ۔‘‘ انہوںنے بتا یا تو جان بوجھ کر بے حس بن گئی ۔
’’اب ساری عمر تو میں اس کے ساتھ رہنے سے رہی ۔۔‘‘ اس کے لبوں سے تلخی سے یہ نکلا ، وہ مسکرا دیے ۔
’’وہ بعد کی بات ہے ۔۔جب تمہاری شادی ہوگی تو دیکھا جائے گا۔۔‘‘ وہ ان کا چہرہ دیکھے گئی ، دماغ میں شہباز حیدر کے جملے سنسناتے رہے ۔
’’میں ابھی تو نہیں جائو ں گی۔۔پہلی دفعہ کچھ عرصہ یہاںرہنے آئی ہوں، بلکہ پورا ہفتہ رکنے کا ارادہ ہے۔ ۔ فوز ان کے پاپا کس مرض کی دواہیں۔۔ وہ اپنے بیٹے کو سنبھالیں۔۔‘‘ پھر اس کی دادی ، چاچی سبھی ہیں۔۔‘‘ اس نے مسکرا کر کہا تھا۔
’’وہاں سب ہیں مگر تم تو نہیں۔۔‘‘
’’کیا فرق پڑتا ہے۔۔‘‘ ایک لمحے کو وہ آزردگی کا شکار ہوئی ، پھر سنبھلی۔
’’میں کچھ دن رہوں گی پھر گھر آ جائوں گی ۔۔ پلیز ۔۔‘‘ فوزان کی حمایت میں وہ اس قدر گری تھی ، اور اب اسے خود پر بند باندھنے تھے۔ وہ نہیں گئی تھی، مزید دو دن گزرے تھے، اس رات کھانے کے بعد وہ سب چائے پی رہے تھے، جب شہباز حیدر چلے آئے، چھ سات دنوں بعد سامنا ہو رہا تھا، یوں لگ رہا تھا کہ جیسے صدیوں بعد دیکھ رہی ہو۔۔ وہ اپنی اسی کیفیت پر کنفیوز ہو گئی ، سلام دعا کے بعد وہ بالکل بت کی طرح بیٹھی رہی۔
’’عیشہ۔۔تم اپنا سامان تیار کر لو۔۔ میں تمہیں لینے آیا ہوں۔۔‘‘ چائے کے بعد انہوں نے اس کی طرف رخ کر کے کہا تو وہ چونکی، حیران ہو کر ان کا سنجیدہ چہرہ دیکھا ، وہ تو سمجھی تھی کہ وہ یونہی ابو سے ملنے آ گئے ہیں مگر۔۔
’’جی۔۔؟‘‘
’’فوزان کی طبیعت بہت خراب ہے۔۔ دو دن سے بخار رہنے لگا ہے۔۔ سکول بھی نہیں جا رہا ۔۔ ڈاکٹر کو روز دکھا رہا ہوں مگر وہ تمہیں بہت مس کر رہا ہے۔۔ تم اسی وقت چلو ۔۔ پھر کبھی رہنے آ جانا۔‘‘ انہوں نے تفصیلی بتایا تو وہ ہونٹ دانتوں تلے دبا گئی۔ فوزان سے دور رہنے کی خود ہی انہوں نے سزا تجویز کی تھی اور خود ہی اب۔۔ اندر ہی اندر فوزان کی طبیعت کا سن کر پریشان بھی ہوئی ، وہ کبھی بھی خود سے اس سے اتنے دن دور نہیں رہی تھی ، نجانے کیسے اپنے دل کو مار رہی تھی، صرف اور صرف اس شخص کی وجہ سے مگر اب دل فوزان کے پاس اُڑ کر پہنچ جانے کو مچل اُٹھا تھا۔

جاری ہے

 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney