ناول: ہم دل سے ہارے ہیں

قسط: 5

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
’’فوزان کی طبیعت بہت خراب ہے۔۔ دو دن سے بخار رہنے لگا ہے۔۔ سکول بھی نہیں جا رہا ۔۔ ڈاکٹر کو روز دکھا رہا ہوں مگر وہ تمہیں بہت مس کر رہا ہے۔۔ تم اسی وقت چلو ۔۔ پھر کبھی رہنے آ جانا۔‘‘ انہوں نے تفصیلی بتایا تو وہ ہونٹ دانتوں تلے دبا گئی۔ فوزان سے دور رہنے کی خود ہی انہوں نے سزا تجویز کی تھی اور خود ہی اب۔۔ اندر ہی اندر فوزان کی طبیعت کا سن کر پریشان بھی ہوئی ، وہ کبھی بھی خود سے اس سے اتنے دن دور نہیں رہی تھی ، نجانے کیسے اپنے دل کو مار رہی تھی، صرف اور صرف اس شخص کی وجہ سے مگر اب دل فوزان کے پاس اُڑ کر پہنچ جانے کو مچل اُٹھا تھا۔
’’بہت زیادہ طبیعت خراب ہے اس کی۔۔‘‘ فکر مندی اس کے چہرے پر چھائی ہوئی تھی۔
’’ہوں۔۔اسی لیے تو آیا ہوں۔۔‘‘ انہوں نے نپے تلے انداز میں جتایا تو وہ خاموشی سے اُٹھ گئی۔
’’میں فوزان کی وجہ سے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوا ہوں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمہیںمیں تمہاری حماقتوں سمیت نظر انداز کر رہا ہوں۔۔ تم فوزان کو سمجھائو۔۔ آہستہ آہستہ وہ بہل جائے گا۔‘‘ راستے میں وہ کہہ رہے تھے، وہ جو خوش فہم ہو رہی تھی ، کہ شاید دل میں کہیں نرم گوشہ بیدار ہو گیا ہو ، چھن سے اندر کچھ ٹوٹ گیا، آنکھیں بے وقعتی پر بھر آئیں۔
’’روکیں گاڑی یہاں۔۔ مجھے نہیں جانا آپ کے ساتھ۔۔‘‘ اپنی اس نا قدری و تذلیل پر وہ مزید چپ نہ رہ سکی، بھرّائی آواز میں کہا تو شہباز حیدر نے اسے گھورا ۔
’’وہ آپ کا بیٹا ہے۔۔ سمجھا لیں آپ خود اسے ۔۔ میرے کندھے پر رکھ کر کیوں بندوق چلا رہے ہیں۔۔ آپ کو تو ذرا بھی خدا کا خوف نہیں ، کوئی یوں بھی کسی کے جذبات سے کھیلتا ہے۔۔‘‘ وہ ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر رو پڑی۔ شہباز حیدر خود کو خاصا بے بس محسوس کرنے لگے ، سمجھ نہ آئی کہ وہ اس نالائق جذباتی دیوانی لڑکی کو کیسے سمجھائیں۔ اپنی سختی کا نتیجہ دیکھ چکے تھے جبکہ نرمی۔۔‘‘ انہوں نے سر جھٹکا۔
’’میں اسی لیے قیوم چاچا کے ساتھ نہیں آئی تھی اور اب آپ۔۔‘‘ اپنے آنسو صاف کرتے بے حس بنے شہباز حیدر کو دیکھا۔
’’مجھے ایک فعہ ہی جان سے مار دیں۔۔ یہ قسطوں سے مارنے کا مزہ کیوں لے رہے ہیں۔‘‘ وہ رو پڑی ، شہباز حیدر نے سختی سے لب دانتوں تلے دبا لیے، ان کا کوئی بھی غیر متوقع جذباتی جملہ اس کم عقل لڑکی کو مزید بکھیر سکتا تھا۔
’’میں نے جان بوجھ کر محبت نہیں کی تھی ، یہ جذبے تو خود دل میں جگہ بناتے ہیں۔۔ مجھے اندازہ ہوتا کہ ان جذبوں کی سزا فوزان سے دوری ہے تو خود کو روک لیتی مگر۔۔ بہت روکا تھا۔۔یہ دل کب مانا تھا۔۔‘‘ شہباز حیدر کو لگ رہا تھا کہ ان کا ضبط جواب دے رہا ہے۔
’’میں آپ سے کبھی کچھ نہیں مانگوں گی۔۔ پلیز فوزان کو مجھ سے دور نہیں کریں۔۔‘‘ آنسو بھری آنکھوں سے وہ اس کے سامنے التجائیہ بیٹھی تھی، شہباز حیدر نے خاموشی سے ایک گہری سانس کھینچی، پھر اس کے بعد گھر آنے تک ایک طویل خاموشی تھی ۔ وہ گھر آئی تو فوزان کی حالت دیکھ کر مجرم سی بن گئی۔۔ اسے خود پر ندامت ہوئی۔۔ شکایتی نظروں سے شہباز حیدر کو دیکھا، جو خود نظریں چرا گئے تھے۔ وہ مزید تلخ ہوئی۔
’’کیا ہوا تھا میرے فوزی کو۔۔‘‘ اسے ساتھ لگائے اس نے محبت سے پوچھا تو وہ رونے لگا۔
’’ماما کہاں تھیں آپ ۔۔ پاپا کہہ رہے تھے آپ چلی گئی ہیں۔۔ واجد انکل کے ہاں ، اب نہیں آئیں گی۔۔ کیوں گئی تھیں آپ۔۔آپ کو پتا ہے میں آپ کے بغیر نہیں رہتا۔۔‘‘ لائونج میں اس وقت سبھی موجود تھے، اس نے غصے سے شہباز حیدر کو دیکھا۔ وہ چہرہ پھیر گئے تو عیشہ واجد کا دل بھڑ بھڑ چلنے لگا۔
’’اب آ گئی ہوں۔۔ اب نہیں جائوں گی ۔۔ آپ تو میری جان ہو، اپنی فوزی کو چھوڑ کر میںکہیں جا سکتی ہوں۔۔ بس آپ جلدی سے ٹھیک ہو جائو۔‘‘ اس نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے بہلایا ، تو وہ مسکرایا۔
’’میرے پاس ہمیشہ رہیں گی نا ۔۔ کہیں نہیں جائیں گی نا۔۔‘‘ معصومیت ہی معصومیت تھی۔ عیشہ نے والہانہ پن سے اس کی پیشانی چومتے اسے گلے لگا لیا تھا۔
’’میری جان ۔۔ میرا فوزی ۔۔‘‘ لائونج میں موجود سبھی افراد اسے فوزان کے ساتھ لاڈ کرتے دیکھ کر مسکرا دیے تھے۔
کس طرف جائوں، یہ سوچتی نہیں رہی
ان گنت راستے اور اکیلی تھی میں
بار ہا آئے ایسے مراحل کہ جب
تم میرے ساتھ تھے اور اکیلی تھی میں
فوزان کی بیماری نے اسے ایک نکتہ سمجھا دیا تھا کہ شہباز حیدر چاہے اسے جتنا مرضی دھتکار لیں ، جتنی مرضی نفرت کا اظہار کر لیں، اپنے بیٹے کی وجہ سے اسے برداشت کرنے پر مجبور ہیں، اسی مجبوری نے اس کے اندر نئی توانائیاں بھر دی تھیں، شہباز حیدر کو یکسر نظر انداز کیے وہ ہر وقت فوزان کی ذات میں الجھی رہتی تھی۔ شہباز حیدر تک پہنچنے کیلئے فوزان وہ سیڑھی تھی، جس کے ذریعے وہ با آسانی اپنی منزل پا سکتی تھی ۔ انہی دنوں اس کے لیے ایک پروپوزل آیا تھا ، ، دادا جان کے دوست کا بیٹا تھا۔ امریکہ سے ہائیلی کوالیفائیڈ تھا، پاکستان میں ہی اپنی کنسٹرکشن کمپنی میں اچھی خاصی پوسٹ پر کام کر رہا تھا، سب کو یہ پرپوزل بہت مناسب لگا تھا ، وہ خاموشی سے سب دیکھتی رہی۔ ابھی تو وہ خود کو نئے سرے سے جوڑ رہی تھی، اور اب یہ نئی مشقت ۔۔ دل کو بہت کچھ ہوا مگر وہ لب سے رہی۔ وہ لوگ آئے اور اسے دیکھ کر اوکے کر گئے، انہیں عیشہ بہت پسند آئی تھی۔۔ وہ صورتحال اور اس قدر تیزی سے بدلتے دیکھ کر سن سی ہو گئی۔ وہ اس طوفان کو روکنا چاہتی تھی ، مگر کچھ نہ کر پا رہی تھی ، اس رات فوزان کے سونے کے بعد وہ ساری رات پریشانی سے ٹہلتی رہی مگر کچھ فیصلہ نہ ہوا۔ اگلے دن ان لوگوں کی طرف سے بلا وہ بھی آ گیا کہ جب چاہیں رسماً آ جائیں، وہ مزید پریشان ہو گئی۔ دو تین دن اسی پریشانی میں گزرے تھے، ادھر سے بھی چند لوگ جا کر دیکھ آئے تھے۔۔ لڑکا انہیں بھی بہت پسند آیا تھا، تقریباً دونوں کی جانب سے ہی معاملہ سیٹ ہی تھا۔۔ بس رسم ہونا باقی تھی، شادی عیشہ کے ایم ایس سی کے بعد فائنل تھی، وہ حالات کو اس قدر تیزی سے بدلتے دیکھ کر الجھ گئی۔ بہت سوچ سمجھ کر اس نے محسن جاوید(لڑکے) سے ملنے کا ارادہ کیا تھا، یونیورسٹی سے واپسی پر وہ سیدھی اس کے آفس پہنچی تھی ، آفس کا ایڈریس اس نے باتوں ہی باتوں میں مہوش بھابی سے لیا تھا۔ اچھی خاصی بڑی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کی پوسٹ پر موصوف فائز تھے ، وہ کنفیوز سی تھی ، اس کی سیکرٹری سے اندر اطلاع بھجوا کر انتظار کرنے لگی۔ دو تین منٹ بعد اسے اندر بلا لیا گیا تھا۔ وہ دھڑکتے دل کے ساتھ اس کے آفس میں داخل ہوئی۔ 
’’السلام علیکم۔۔‘‘ اتنا بڑا قدم زندگی میں پہلی مرتبہ اٹھا رہی تھی، سو گھبراہٹ لازمی تھی۔
’’وعلیکم السلام۔۔پلیز آئیے۔۔ تشریف رکھئے‘‘ محسن جاوید نے اُٹھ کر اسے ویلکم کیا تھا ، وہ خاموشی سے ٹیبل کے سامنے پڑی کرسیوں میں سے ایک پر ٹک گئی۔
’’میں عیشہ واجد ہوں۔۔‘‘ اس نے اپنے آپ کو سنبھال کر بتایا۔
’’جی میں جانتا ہوں۔۔‘‘ عیشہ نے حیران ہو کر اسے دیکھا ، تو وہ فوراً بولا۔
’’دراصل امی کے پاس آپ کی تصویر دیکھی تھی ، آپ یہاں ۔۔خیریت۔۔‘‘ وہ سر جھکا گئی۔
’’مجھے آپ سے ضروری بات کرنا تھی۔۔‘‘ اس نے ہمت کی ۔
’’جی کیوں نہیں ۔۔پہلے ٹھہریں۔۔ یہ بتائیں کیا لینا پسند کریں گی۔۔‘‘ انٹر کام کا ریسیور اٹھا کر اس سے پوچھا تو اس نے نفی میں سر ہلایا۔
’’پلیز اس تکلیف کو رہنے دیں۔۔میں یونیورسٹی سے سیدھی آئی ہوں ، مجھے گھر بھی جانا ہے۔۔‘‘
’’مگر کچھ تو ہونا چاہیے نا۔۔‘‘ وہ بضد ہوا۔
’’مجھے حاجت نہیں۔۔ورنہ میں آپ کو منع نہ کرتی۔۔‘‘
’’اوکے ۔۔ ایزیووِش۔۔‘‘ اس نے ریسیور واپس رکھ دیا۔
’’جی کہیے میں کیا خدمت کر سکتا ہوں آپ کی۔‘‘ عیشہ کا نارمل انداز دیکھ کر وہ بھی فوراً موضوع کی طرف آیا تھا۔ ’’آپ کو علم تو ہو گا آپ کو اور ہماری فیملی کس سلسلے میں سوچ رہی ہے۔۔ دیکھیں محسن صاحب! میں آپ کو کسی بھی قسم کے اندھیرے میں نہیں رکھنا چاہتی۔۔میںآپ سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔‘‘
’’جی۔۔؟‘‘ عیشہ کے نارمل روّیے پر وہ الجھا ضرور تھا ، انداز ہ تھا کہ یہ بات ہو گی۔
’’اس کی وجہ پوچھ سکتا ہوں۔۔؟‘‘ اس نے سنجیدگی سے عیشہ کے چہرے کو دیکھا ، وہ گردن ہلا گئی۔
’’میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں۔۔ مجھے نہیں پتا وہ شخص میرے مقدر میں ہے یا نہیں مگر میں کسی اور شخص کی بھی زندگی تباہ نہیں کرنا چاہتی۔۔ چاہے وہ آپ ہی کیوں نہ ہوں۔۔ میری محبت یکطرفہ ہے۔۔ اس کے باوجود میں آپ سے شادی نہیں کر سکتی۔۔ ‘‘ وہ آہستگی سے سب کہہ گئی تھی، وہ خاموشی سے عیشہ واجد کو دیکھے گیا۔ وہ اُٹھ کھڑی ہوئی۔
’’میرے جذبات سے میری فیملی لا علم ہے۔۔ میں اگر آپ کے پر پوزل سے انکار کرتی تو انہوں نے وجہ پوچھنی تھی ، میرے پاس اپنی یکطرفہ محبت کا کوئی جوازنہ تھا، کہ جس کو بنیاد بنا کر میں انکار کرتی۔ اسی لیے آپ کو حقیقت کا بتانا ضروری سمجھا ہے۔۔ آپ میرے جذبوںسے باخبر ہونے کے باوجود اپنے والدین کی بات مانیں گے تو آپ کو مجھ سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔۔ پلیز ٹھنڈے دل سے ضرور سوچئے گا، میں آپ کے جواب کی ضرور منتظر رہوں گی۔۔‘‘ نم آلود آنکھوں، بھرائی ہوئی آواز میں کہہ کر وہ وہاں رکی نہیں تھی، چلی آئی تھی۔ آنکھوں میں نمی دوپٹے میں جذب کرتے وہ بلڈنگ سے باہر نکل کر سڑک کر اس کرنے کا سوچ رہی تھی جب سیاہ گاڑی تیزی سے اس کے قریب رکی تھی۔ ’’عیشہ۔۔‘‘ شہباز حیدر کو دیکھ کر وہ ایک لمحے کو ساکت رہ گئی تھی ، وہ بھی شاید حیران تھا اسے یہاں دیکھ کر ۔۔ وہ یونیورسٹی کے علاوہ کہیں اور بغیر بتائے اور اکیلی جاتی بھی نہ تھی۔
’’تم یہاں۔۔خیریت۔۔‘‘ وہ پوچھ رہے تھے۔ انداز سخت تھا۔۔ وہ بوکھلا گئی، کبھی جھوٹ بولنے کی نوبت ہی نہ آئی تھی مگر اب۔۔
’’وہ میری ایک دوست کی بہن اس بلڈنگ میں جاب کرتی ہے۔ اسی کے ساتھ آئی تھی۔۔‘‘ اس نے نے فوراً خود کو سنبھال لیا۔ شہباز حیدر نے چند ثانیے اسے بغور دیکھا ، تو وہ مزید کنفیوز ہو گئی۔
’’بیٹھو۔۔‘‘ انہوں نے فرنٹ ڈور کھول دیا تھا ، وہ خاموشی سے بیٹھ گئی۔
’’آپ ۔۔ یہاں کیا کر رہے تھے۔‘‘ گاڑی میں خاموشی تھی، اس نے گھبرا کر پوچھا۔
’’کام تھا ایک ۔۔ ملنا تھا کسی سے مگر ۔۔‘‘ اس کا ’مگر ‘ اتنا معنی خیز تھا کہ پھر وہ چپ رہی اور یہ چپ باقی سارا رستہ برقرار رہی تھی ۔ گھر آ کر وہ کاموں میں مصروف ہو گئی۔ اگلے دو دن تک اس کی جان سولی پر لٹکی رہی ، وہ محسن جاوید کے جواب کی منتظر تھی، پھر اسے زیادہ انتظار بھی نہ کرنا پڑا۔۔ رات کا وقت تھا ، فوزان کو سلا کر وہ دودھ کا خالی گلاس کچن میں رکھتے کمرے سے نکلی تھی ، جب راہداری سے گزرتے فون کی بیل بجی ، اس نے آگے بڑھ کر اسے اُٹھا لیا۔
’’ہیلو۔‘‘
’’عیشہ ہیں۔۔؟‘‘ دوسری طرف سے کوئی پوچھ رہا تھا۔ ’’جی بول رہی ہوں مگر آپ کون۔۔؟‘‘ اس نے حیران ہو کر پوچھا۔
’’تھینک گاڈ آپ نے کال ریسیو کی ۔۔ میںکل سے کئی بار آپ کا نمبر ملا چکا ہوں مگر ہر بار کسی اور کی آواز سننا پڑتی تھی۔۔ میں محسن جاوید بات کر رہا ہوں۔۔ کہیے کیسی ہیں؟‘‘ انتہائی بے تکلفی سے کہا جا رہا تھا۔ عیشہ نے ایک گہری سانس کھینچی۔
’’ٹھیک ہوں۔۔ آپ سنائیں۔۔‘‘
’’الحمدللہ۔۔ عیشہ آپ نے مجھے فیصلہ کرنے میں مدد دی ہے۔۔ آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا۔۔‘‘ وہ کہہ رہا تھا ، وہ چونکی ، حیرت بھی ہوئی۔
’’مگر کیوں۔۔؟‘‘
’’میں بھی آپ سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔ دراصل میری کسی اور سے کمٹمنٹ ہے، گھریلو چپقلش کی وجہ سے امی ابو نہیں مان رہے تھے، پھر آپ کی طرف سلسلہ چل نکلا، میں نے ہر ممکن کوشش کی۔۔ بعد میں ہتھیار ڈال دیے تھے، اس دن آپ کی باتوں نے مجھے حوصلہ دیا، غیرت دلائی ، کہ آپ لڑکی ہو کر اپنے لیے کوشش کر رہی ہیں اور میں مرد ہو کر والدین کو نہیں منا سکتا۔۔ بس گھر جا کر میں نے ہر وہ حربہ استعمال کیا جس سے امی ابو مان سکتے تھے۔۔ کل وہ لوگ آپ کے ہاں انکار کرنے آئیں گے۔۔‘‘
’’تھینک یو سو مچ محسن صاحب۔۔‘‘ اس کی آواز بھرّا گئی۔
’’کوئی بات نہیں۔۔ کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ وہ خوش نصیب جس کیلئے آپ اسٹینڈ لے رہی ہیں کون ہے؟‘‘
’’کیا کریں گے آپ جان کر۔۔ ‘‘ وہ خود اذیتی سے مسکرائی ۔ یکطرفہ جذبات میں جن کا فریق ثانی پر کوئی اثر نہیں۔۔ اور شاید ساری زندگی بھی نہ ہو ۔۔ بس میں اپنے ساتھ سنسیئر رہنا چاہتی ہوں تا کہ مجھے کوئی ملال نہ رہے کہ ڈوبنے سے پہلے میں نے ہاتھ پائوں نہیں مارے تھے۔‘‘ اس کا لہجہ خود بخود آزردہ ہو گیا۔
’’اوہ! ویری سیڈ۔۔ میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔۔ کسی بھی قسم کی مدد کی صورت میں آپ مجھے کہہ سکتی ہیں۔۔ ‘‘ وہ پورے خلوص سے کہہ رہا تھا ، وہ ہنس دی۔
’’شکریہ ۔۔‘‘ وہ مسکرائی پھر دو تین باتیں مزید کیں ، پھر فون بند کر کے وہ کچن میں گلاس رکھ کر واپس لوٹی تو کاریڈور سے گزرتے اس کی لائونج میں بیٹھے شہباز حیدر پر نگاہ پڑی۔ وہ ٹی وی دیکھ رہے تھے، انہوں نے بھی پلٹ کر دیکھا ، تو
وہ تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بھاگی۔۔ نجانے کس خیال سے دل تیزی سے دھڑکنے لگا تھا۔

جاری ہے


 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney