ناول: ہم دل سے ہارے ہیں

قسط: 6

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اک پاکیزہ محبت کے طلبگار تھے ہم
آزما کے دیکھتے بہت وفادار تھے ہم
ہم نے بھی دامن میں خوشیوں کو سمیٹنا چاہا
شاید اسی خواہش کے گنہگار تھے ہم
محسن جاوید کے والدین نے فون کر کے اس رشتے سے معذرت کر لی تھی،بات ہی ایسی تھی کہ کتنے دن تک گھر والے افسردہ رہے تھے ، چند دن زور و شور سے اس موضوع پر تبصرے بھی ہوئے مگر پھر رفتہ رفتہ سب بھول گئے ، کچھ دن مزید سر کے تو تائی جان کو اب اُٹھتے بیٹھتے عیشہ کے رشتے کی فکر ستانے لگی ۔۔ وہ کوئی کم عقل ، کم صورت جاہل لڑکی نہ تھی کہ رشتے میں پریشانی ہوتی ، مگر محسن جاوید کی فیملی کے انکار کے بعد وہ خوا مخواہ ہی الٹا سیدھا سوچنے لگی تھیں۔ انہوں نے کئی لوگوں سے عیشہ کے رشتے کا کہہ رکھا تھا۔ عیشہ سب دیکھ رہی تھی مگر خاموش تھی ، اس نے سوچ لیا تھا کہ کچھ بھی ہو وہ شہباز حیدر کے علاوہ کسی اور کی زندگی میں داخل نہیں ہو گی، اس کے پاس انکار کا بہت اچھا جواز فوزان کی صورت میں موجود تھا ، سو وہ مطمئن تھی۔ اس دن بھی وہ یونیورسٹی سے واپس لوٹی تو مہوش نے اسے اچھی طرح ڈریس اپ ہو کر ڈائنگ روم میں چلنے کا کہا تھا ، وہ تھکی ہاری لوٹی تھی ، کئی دن سے اس نئے رشتے کے متعلق سن رہی تھی ، اب سامنے یہ مصیبت دیکھ کر اس کے اعصاب پر منوں بوجھ آ پڑا ۔
’’مہوش چچی۔۔ ضروری ہے کیا۔۔؟؟‘‘ اس کے منہ بنانے پر وہ ہنسیں۔
’’ہاں بہت زیادہ۔۔ دو گھنٹے سے وہ لوگ آئے بیٹھے ہیں، چائے ، وغیرہ سے فارغ ہو چکے ہیں۔۔ بس تم چینج کر کے فوراً اندر آئو۔۔‘‘ اس کے رخسار پر چٹکی بھر کر مسکرا کر وہ چلی گئیں، تو وہ بھی لب بھینچے کھڑی رہی۔ پھر بجائے کپڑے بدلنے کے وہ اندر چلی آئی۔ موڈ آف تھا ، سو اسی انداز میں سلام کیا۔ دو عورتیں ایک لڑکی اور دو مرد تھے۔ لڑکی اس سے مختلف سوال کرتی رہی، جنہیں وہ آف موڈ کے ساتھ جواب دیتی رہی۔ پھر جیسے ہی اس کی جان چھوٹی وہ اپنے کمرے میں بھاگی ۔ واجد صاحب نے اپنی ساری ذمہ داری اپنے والدین پر چھوڑ رکھی تھی ، عیشہ کے اندر دادی ، دادا کے سامنے انکار کرنے کی ہمت نہیں تھی، اوپر سے شہباز حیدر کے روّیے۔۔ جب وہ اسے بری طرح نظر انداز کرتے تو اس کا دل لہولہاں ہونے لگتا تھا ، کوئی راز داں نہ تھا ، جس سے وہ کہہ سن کر دل کا بوجھ ہلکا کر لیتی۔۔ اور جو باخبر تھا وہ ایک نظر ڈالنا بھی گوارہ نہ کرتا تھا ۔ ادھر سے یہ لوگ بھی جا کر لڑکا دیکھ آئے تھے، لڑکا بینک مینجر تھا ۔۔ خاندان بھی بہت پسند آیا ۔۔ چونکہ بالکل انجان اور غیر لوگ تھے، سو عبداللہ صاحب کوئی بھی حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے خوب چھان پھٹک کروا لینے کے حق میں تھے، انہوں نے جانچ پڑتال کی ذمہ داری شہباز حیدر کے سپرد کی تھی ، عیشہ کو علم ہوا تو کلس کر رہ گئی۔
محسن جاوید کو اس نے کسی طرح انکار پر آمادہ کر لیا تھا مگر اب کیا کرے۔۔ اسے کوئی راہ سجھائی نہ دے رہی تھی۔ رات فوزان شہباز حیدر کے پاس تھا، کھانے کے بعد وہ اسے اوپر لے گئے تھے ، عیشہ کا خیال تھا کہ وہ خود ہی چھوڑ جائیں گے، اب وہ اسے رات کو اپنے پاس سلانے کی غلطی نہیں کرتے تھے مگر آج رات گیارہ بجے تک وہ اسے چھوڑنے نہ آئے تو وہ الجھ گئی۔ نیچے بھی ایک ایک کر کے سب سو گئے تھے، اوپر والے پورشن میں بھی بالکل اندھیرا اور خاموشی تھی ، عیشہ نے فوزان کے انتظار سے اکتا کر سو جانا چاہا تو نیند کوسوں دور تھی ، اسے رہ رہ کر شہباز حیدر پر غصہ آنے لگا ، نجانے وہ کیا چاہتے تھے ۔ ایک دم کسی خیال سے چونک کر کچھ دیر سوچنے کے بعد وہ کمرے سے نکل گئی۔
سیڑھیاں چڑھ کر اوپر چلی آئی۔ شہباز حیدر کے کمرے کے دروازے پر دستک دیتے ہوئے وہ کچھ خوفزدہ تھی دروازہ کھلا تھا ، اس کے ہاتھ لگانے سے کھلتا چلا گیا۔
’’کون۔۔؟‘‘ وہ سائیڈ پر تھی ، ورنہ شہباز حیدر کی نگاہ ضرور پڑتی۔ عیشہ کی طرف سے بالکل خاموشی تھی شہباز حیدر اُٹھ کر دروازے کے قریب چلے آئے اسے دیکھ کر چونکے ، پھر حیران ہوئے۔
’’تم ۔۔ اس وقت ۔۔؟‘‘ نہ چاہتے ہوئے بھی ان کا لہجہ تلخ ہو گیا۔
’’وہ فوزی۔۔‘‘ ملگجے اندھیرے میں اپنے سامنے شہباز حیدر کے توانا وجود کو دیکھ کر وہ پھر ہمت ہار گئی۔ ’’وہ سو گیا۔۔‘‘ سخت لہجے پر عیشہ نے نظریں اُٹھ کر انہیں دیکھا۔ کھا جانے والی نظروں سے گھورا جا رہا تھا وہ فوراً سر جھکا گئی۔
’’وہ ۔ وہ مجھے آپ سے ۔۔‘‘ انگلیاں چٹخائے آ تو گئی تھی مگر اب ساری ہمت پانی کا بلبلہ ثابت ہو رہی تھی ۔
’’آپ دادا جان کو منع کر دیں ، مجھے شادی نہیں کرنی ۔۔ مجھے یہ رشتہ پسند نہیں۔۔‘‘ ہمت کر کے کہہ دیا ، شہباز حیدر کا دماغ بھنا اُٹھا۔
’’تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے۔۔ رات کے اس پہر تم مجھے یہ بتانے آئی ہو۔۔‘‘ انہوں نے اپنے غصے کو بمشکل کنٹرول کرتے چبا چبا کر کہا تھا ، وہ سر جھکا گئی۔
’’آپ۔‘‘
’’بکواس بند کرو۔۔ جاو آرام سے جا کر سو جاسو جائو۔ فوزان سو یا ہوا ہے۔۔ اگر رات کو تنگ کیا تو تمہارے پاس چھوڑ آئوں گا۔۔‘‘ اپنے غصے پر بمشکل کنٹرول کرتے انہوں نے کہا ۔ اور جہاں تک اس رشتے کی بات ہے میں انکار نہیںکروں گا ، تم اگر خود کرنا چاہتی ہو تو تایا ابو سے بات کرو، میں اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتا ۔۔‘‘ تلخی سے باور کروا کر انہوں نے دروازہ بند کرنا چاہا تو عیشہ نے تیزی سے اپنا ہاتھ دروازے کے ہینڈل پر رکھ کر ان کی کوشش ناکام بنا دی تھی۔
’’آپ پلیز میری بات تو سن لیں۔۔‘‘ عیشہ کا جی چاہا کہ پھُوٹ پھُوٹ کر رو دے ، یوں دھتکارے جانے پر دل مچل اُٹھا۔ انجام کی پروا کیے بغیرتیزی سے کہا۔
’’عیشہ ۔۔‘‘ شہباز حیدر دھیمی آواز میں پھنکارے ۔ ساتھ والا کمرہ قیوم اور مہوش کا تھا ، اگر رات کے اس پہران میں سے کوئی باہر نکل آتا تو انہیں کتنی سبکی کا سامنا کرنا پڑتا ، مگر یہ لڑکی ان نزاکتوں کو نہیں سمجھ پا رہی تھی ، کسی چیز کی پروا ہی نہ تھی۔
’’آپ یوں چیخ کر میری زبان روک نہیں سکتے ، یوں دھتکار کر میرے اندر موجزن جذبوں کو نوچ نہیں سکتے۔۔ کیا مانگ رہی ہوں میں آپ سے ۔۔ آپ کا عمر بھر کا ساتھ تو نہیں مانگ رہی اور نہ آپ کو شادی کی آفر کر رہی ہوں۔۔ جو اس طرح طیش سے مجھے دروازے سے ہی دھتکار رہے ہیں۔۔‘‘ شہباز حیدر جتنی دھیمی آواز میں پھنکارا تھا ، وہ اتنی ہی تیزی سے چیختی تھی۔ شہباز کا دماغ گھوما تھا ، ایک دم اس کا بازو دبوچ کر اندر گھسیٹ لیا۔
’’تم میں شرم نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تم اتنی گھٹیا حرکت پر اُتر آئو گی۔۔‘‘ اسے دیوار کے ساتھ دھکا دے کر وہ کمرے میں سخت اضطراب سے ٹہلنے لگے تھے ، عیشہ نے دیوار کا سہارا لے کر خود کو گرنے سے بچایا۔
’’یہ میری زندگی کا معاملہ ہے ۔۔ آپ کون ہوتے ہیں مجھے مجبور کرنے والے۔۔ نہیں کرنی مجھے کسی بھی ایکس وائی زیڈ سے شادی۔۔ ‘‘ وہ ہاتھوں میں چہرہ چھپائے بری طرح رو رہی تھی۔ ان کا دماغ الٹنے لگا۔
’’تو ٹھیک ہے ۔۔ تم یہ انکار اپنے باپ اور دادا کو کرو۔۔ یہاں کیوں آئی ہو ۔۔‘‘ وہ پھر پھنکارے تھے ، وہ قطعی لوز ٹمپرامنٹ کے مالک نہ تھے ،مگر یہ لڑکی ہر بار انہیں اسی طرح جھنجوڑ رہی تھی کہ وہ بلبلا اٹھتے تھے ۔ اب بھی پھنکارے تھے۔ زیرو پاور کے بلب کی روشنی میں سبز ہلکی روشنی میں کمرہ عجیب منظر پیش کر رہا تھا ۔
’’آپ اس رشتے کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔۔‘‘ روتے ہوئے اس نے وجہ بتائی ، تو شہباز حیدر کا جی چاہا کہ اس سر پھری کم عقل لڑکی کا سر پھاڑ دے۔ ’’تو کیا فرق پڑتا ہے۔۔‘‘ پہلے بھی تو انتہائی دیدہ دلیری کے ساتھ جا کر محسن جاوید کو انکار کر آئی تھی ، اب بھی کوئی نیا ڈرامہ رچا لینا ۔ عیشہ رونا بھول کر بری طرح حیران نظروں سے انہیں دیکھے گئی۔ جو صرف گھور رہے تھے۔ ’’آپ۔۔ آپ جانتے ہیں۔۔‘‘ اس جی حیرت کا سکتہ ٹوٹا۔
’’محسن جاوید سے میری اچھی خاصی علیک سلیک ہے۔۔ اس دن میں اس سے ملنے گیا تھا ، مگر اس کے آفس سے آتی تمہاری آواز سن کر پلٹ آیا تھا ، اور اسی رات جب اس نے کال کی تھی ، تم سے پہلے لائونج میں رکھا فون میں اُٹھا چکا تھا ۔ محسن کو میں اچھی طرح جانتا ہوں ، اس کی کسی سے کمٹمنٹ نہیں تھی ، وہ صرف تمہاری وجہ سے نکار کر رہا تھا ، اس کے والدین اس سے جس قدر ناراض ہیں، کاش تم اپنی حماقت کا اندازہ لگا سکو۔۔ اوراب۔۔‘‘مٹھیاں بھینچ کر غصے سے اسے دیکھتے وہ چپ ہو گئے تو وہ پھر ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر رو دی۔
’’میں مر جائوں گی۔۔ آپ کیوں نہیں سمجھتے آپ کے بغیر میں مر جائوں گی۔۔ وہ جذباتیت کی انتہا پر تھی، شہباز حیدر کا جی چاہا کہ لمحوں میں اس لڑکی کو غائب کر دیں۔
’’دماغ خراب تمہارا ۔۔ اور کچھ نہیں۔۔ خناس بھر چکا ہے اس میں ۔۔ ‘‘ اس کی جذباتیت پر وہ پھر آئوٹ ہوئے۔
’’یہ صرف میری ڈھیل ہے ، تم میری نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہو۔۔ شرم تو نہ آئی تمہیں یہ سب بکواس کرتے ہوئے۔۔ میری اور اپنی عمروں کا ہی خیال کر لیا ہوتا۔۔ کم از کم اتنا ہی جان لیا ہوتا کہ ہمارا آپس میں کیا رشتہ ہے۔۔ اور تم اس رشتے کے حوالے سے میرے لیے کتنی محترم ہو۔۔‘‘ وہ تاسف سے کہہ رہے تھے۔
’’بات کرتا ہوں میں تایا جان سے۔۔ اب پانی سر سے گزر چکا ہے۔۔ تمہارے ماسٹر کا انتظار کرنے کے بجائے تمہیں کل ہی رخصت کریں۔۔ یہ رشتہ ہر لحاظ سے معقول ہے۔۔‘‘ انتہائی سفاکی سے کہتے شہباز حیدر نے گویا اسے آگ میں دھکیل دیا تھا ، وہ بے یقینی سے دیکھے گئی ، پھر نفی میںسر ہلا یا۔
’’آپ ایسا کچھ نہیں کریں گے۔۔ مجھے یہ شادی نہیں کرنی۔۔‘‘ سختی سے کہا۔
’’میں ایسا ہی کروں گا۔۔‘‘ اس نے زیادہ سختی سے جواب ملا تھا۔
’’میں کچھ کھا لوں گی۔۔‘‘ بلا سوچے سمجھے اس نے دھمکی دی تھی ، وہ کتنے پل حیران نظروں سے اسے دیکھے گئے ، پھر ایک دم غصے سے برا حال ہوا تھا ۔ ’’تو پھر جو کچھ بھی کھانا ہے ابھی جا کر کھا لو ۔۔ کیونکہ میں موقع ملتے ہیہی تایا ابو سے بات کروں گا۔۔‘‘ اس کا بازو پکڑ کر باہر دھکیل کر سختی سے کہہ کر انہوں نے دروازہ بھی بند کر لیا تھا ۔
’’نہیں ۔۔ شہباز پلیز میری بات سنیں ۔۔ آپ ایسا نہیں کریں گے۔۔ مر جائوں گی میں۔۔‘‘ ہتھیلیوں سے دروازہ پیٹتے اسے کسی بات کا بھی ہوش نہ رہا تھا ۔
’’مر جائوں گی میں ۔۔ خدا کے لیے شہباز ۔۔‘‘ اس کی حالت اس وقت دیکھنے کے لائق تھی ۔
’’عیشہ ۔۔‘‘ کسی نے عقب سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا ، وہ ایک دم ساکن ہو گئی ۔ فوراً ہوش میں آئی تو لمحوں میں احساس ہوا کہ وہ اس وقت کہاںہے۔
’’عیشہ ۔۔‘‘ دوبارہ پکارا گیا تھا ، آواز پہچان کر وہ فوراً پلٹی تھی ۔ اپنے سامنے کھڑے وجود کو دیکھ کر وہ ٹھٹک گئی تھی ۔

جاری ہے

 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney