ناول: ہم دل سے ہارے ہیں

قسط: 7

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مہوش اور قیوم دونوں نے کن انکھیوںسے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر عیشہ کو۔۔وہ اب بھی قالین پر بیٹھی گھٹنوں میں سر دیے بڑی طرح رو رہی تھی ۔
’’عیشہ ۔۔‘‘مہوش نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تو وہ مزید بلکی۔
’’اب بس بھی کرو بہت رو لیا تم نے۔۔ ‘‘ قیوم بھی پچکار ا مگر اس نے آنسو تھے کے تھمنے میں ہی نہیں آرہے تھے، بلکہ مزید شدت آگئی تھی ۔ بے بسی کا احساس تھا کہ بڑھتا ہی جا رہا تھا ، اب کی بار تو کچھ بھی نہیں بچا تھا، رہی سہی انا عزت نفس سب کچھ لٹا چکی تھی ،کچھ بھی تو باقی نہیں بچا تھا ،روتی نہ تو پھر کیا کرتی ۔۔
’’دیکھنا ہم شہباز بھائی کا کیا حشر کرتے ہیں ۔۔بڑا رولیا تم نے ۔۔ساری کسر نکالیں گے ہم ان کی ۔۔ فکر کیوں کرتی ہو۔۔جب دل کا سارا بوجھ ہلکا کیا ہے تو اعتماد بھی کرو۔۔ شہباز بھائی اب ہمارا مسئلہ ہیں۔۔ تم بے فکر ہو جائو ۔۔ ‘‘مہوش چچی نے اسے بہلایا تھا، اس نے سر اُٹھا کر دیکھا ۔
’’وہ نہیں مانیں گے۔۔وہ مجھ سے سخت نفرت کرتے ہیں۔۔‘‘
’’کیوں نہیں مانیں گے۔۔ان کے تو بڑے بھی مانیں گے۔۔دیکھنا میں کیا کرتی ہوں۔۔‘‘ مہوش نے چٹکی بجائی تھی، ان کے اعتماد پر عیشہ کو کچھ حوصلہ ہوا۔
’’چلو اب جائو ۔۔جا کر آرام سے سو جائو۔۔ کل میں دیکھوں گی کیا کرنا ہے ۔۔ تم فکر نہیں کرو ۔۔ سب نارمل ہوجائے گا۔۔‘‘ ان کے اس تعاون پر اس کا دل پر سکون ہوا ۔ ان کے کمرے سے نکل کر وہ نیچے چلی آئی ، اپنے کمرے میںآکر بیڈ پر لیٹی تو گزشتہ لمحے ایک ایک کر کے یاد آنے لگے۔ شہباز حیدر کے کمرے سے نکالنے کے بعد وہ جب بھی دروازہ پیٹتے رو رہی تھی، تو عقب سے قیوم چچا نے آواز دی تھی، وہ تو انہیں سامنے دیکھ کر ڈر گئی تھی۔
’’چاچو ۔۔‘‘کہہ کر کے وہ ان کندھے سے لپٹ کر دھواں دھار روئی تھی ،وہ تو اس نئی افتاد پر بوکھلا گئے تھے ،خاموشی سے سہارا دے کر اپنے کمرے میں لے گئے تھے ،مہوش کو جگا کر صورتحال بتائی ،وہ فوراً اس کی طرف متوجہ ہوئی تھیں ، وہ تو پہلے ہی سدھ بدھ کھو رہی تھی ،تھوڑا سا محبت سے پچکار نے کی دیر تھی ، وہ ایک ایک کر کے سب بتاتی گئی ۔دونوں کئی لمحے بے یقین رہے ،پھر مہوش نے ہی خود کو سنبھالا تھا۔
’’ارے یہ تو بڑی اچھی بات ہے ۔۔عیشہ سے بڑھ کر فوزان کے لیے بھلا کوئی اور ماں ہو سکتی ہے ۔۔ہم بھی ادھر اُدھر رشتے دیکھ رہے تھے ۔۔ کتنے پاگل ہیں۔۔ عیشہ کے لیے شہباز بھائی کا خیال ہی نہیںآیا۔۔ بھائی صاحب نے بھی کہیں نہ کہیں شادی کرنی ہی ہے نا۔۔ ابھی انکار کررہے ہیں،بعد میں خود ضرورت محسوس کریںگے تو پھر ابھی کیوں نہیں۔۔ تم فکر نہیںکرو عیشہ ! میںتمہارے ساتھ ہوں۔۔‘‘ وہ فوراً پر جوش ہوگئی تھیں، اورپھر مسلسل تسلیاں دلاسے دیتی رہی تھیں ۔اب وہ کچھ پر سکون تھی۔ اسے یقین تھا کہ مہوش چچی نے وعدہ کیا ہے تو وہ سب حالات کو سنبھال لیں گی ، اطمینان سے آنکھیں بند کیں تو دیر بعد نیند سے اس کی پلکیں بوجھل ہونا شروع ہوگئی تھیں۔اگلے دن مہوش بھابی نے کالج سے چھٹی کی تھی، عیشہ کے یونیورسٹی جانے کے بعد شہباز حیدر نیچے اُترے تھے،مہوش نے بغور دیکھا ،نارمل انداز میںناشتے سے انصاف کرتے گزری رات کے کسی بھی واقعے کاعکس ان کے چہرے سے ڈھونڈ نے سے بھی نہیںمل رہاتھا ، عیشہ نے جو بتایا تھا ان کاخیال تھا کہ شہباز تائی امی سے ضرور رشتے کے متعلق ذکر چھیڑیں گے مگر خیریت رہی ۔۔شہباز کے چلے جانے کے بعد تائی امی، چچی دونوں ناشتہ کر رہی تھیں، مہوش بھی اپنا ناشتہ لے کر ان کے پاس ٹیبل پر آبیٹھیں ۔یونہی اِدھر اُدھر کی باتوںکے دوران انہوں نے وہ بات شروع کردی ۔
’’امی میں سوچ رہی ہوں کہ اب شہباز بھائی کی بھی شادی کردینی چاہیے ۔۔ جوک لینے کو اتنا عرصہ بہت ہوتا ہے۔۔ فوزان کو تو عیشہ نے سنبھال رکھا ہے ،وہ اب بڑا ہورہا ہے ،شہباز بھائی کو بھی کچھ عرصہ بعد بیوی کی ضرورت محسوس ہو گی۔ اسی لیے بہتر ہے کہ ہم ابھی سے سوچیں۔‘‘ مہوش نے بڑے سلیقے سے بات کی تھی ،دونوں خواتین نے ایک دوسرے کو دیکھا ۔
’’بات تو ٹھیک ہے مگر شہباز نہیں مانتا ۔۔‘‘امی نے نفی میںسر ہلایا ۔
’’کیوں نہیں مانتے ۔۔ابھی تواک عمر پڑی ہے انکی۔۔ یوں بغیر گھر والی کے زندگی گزرنے سے تورہی۔۔‘‘ مہوش نے کچھ تیزی سے کہا۔’’آپ توماں ہیں ،پیار سے سختی سے راضی کریں۔۔ وریشہ کی زندگی اتنی ہی تھی ،فوزان کوہم سب سنبھالنے والے ہیں ، خاص طور پر عیشہ ۔۔کل کواس کی شادی کر دیں گے، پھر بھی تو فوزان تنہا ہو گا ہی نا۔۔ شہباز بھائی کو بھی اب عقلمندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔۔‘‘
’’ ہاں! بہو صحیح کہتی ہے۔۔ تم ہی کچھ زور دو،میں کئی بار کہہ چکی ہوں۔۔‘‘تائی امی نے بھی مہوش کی ہاں میں ہاں ملائی ۔
’’کئی بار اس موضوع پر بار کر چکی ہوں ۔۔مگر ہر با ر کہہ دیتا ہے کہ مجھے بیوی اور آپ کو بہو تو مل جائے گی ، اگر آنے والی نے فوزان کو قبول نہ کیا تو ۔۔عفیفہ بھابی کو بھی ہم لوگ لائے تھے ،انہوں نے عیشہ کو کب اپنایا ۔۔ میںاپنے بیٹے کو ساری عمر کسی محرومی میںنہیں رکھنا چاہتا ۔۔‘‘ امی نے دکھی لہجے میں بتایا تومہوش نے ایک گہری سانس لی۔
’’ہاں ! یہ بھی سچ ہے ۔۔فوزان کو عیشہ نے جس طرح شاید وریشہ بھی نہ پالتی ۔۔‘‘انہوں نے جان بوجھ کر عیشہ کا ذکر کر دیا تھا۔
’’ہاں اللہ اجر دے بچی کو ۔۔جب اس کی شادی کر دیں گے تو بڑا مسئلہ ہوگا ۔۔ فوزان تواس کے بغیر رہ ہی نہیں سکتا ،اس نے بھی اس کے لاڈاُٹھا کر ضدی بنا ڈالا ہے اسے ۔۔ صرف وہی اسے سنبھال سکتی ہے ۔ میں سوچتی ہوں جب وہ چلی گئی تو ہم کیسے سنبھالیں گے۔۔‘‘ امی کو اب نئی فکر ستائی تھی ۔
’’امی میرے ذہن میں جب سے عیشہ کے رشتے کا چکر چلا ہے ،ایک خیال آرہا ہے ۔۔اگر برانہ لگے تو ۔۔‘‘وہ رک گئیں ،دونوں خواتین نے دیکھا ۔
’’کیوں نہ ہم شہباز بھائی اور عیشہ کی ۔۔ ‘‘وہ جان بوجھ کر بات ادھوڑی چھوڑ چکی تھیں، دونوں خواتین نے بے حد حیران ہو کر ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر مہوش کو جو کہہ رہی تھی ۔
’’چھوٹا منہ مگر بڑی بات والی بات ہے لیکن یہ بھی سچ ہے ۔۔جس طرح فوزان عیشہ کے ساتھ اٹیچ ہے،اگر عیشہ ہمیشہ کے لیے شہباز بھائی کی زندگی میں آجائے تو سوتیلی کے ڈر سے شہباز بھائی شادی کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے ،وہ بھی کر لیں گے۔۔پھر ہم نے باہر بھی تو اس کی کہیں نہ کہیں شادی کرنی ہی ہے نا۔۔ اور شہباز بھائی کی بھی تو دونوں کی ایک دوسرے کے ساتھ کیوں نہیں ہو سکتی۔۔‘‘ مہوش نے جو کہنا تھا وہ کہہ دیا تھا ۔
’’ہے تو ٹھیک بات مگر۔۔ ‘‘تائی امی رک گئیں ۔
’’لوگ کیا کہیں گے کے دونوں میں تیرہ چودہ سال کا فرق ہے ۔۔پھر وہ رشتہ بھی نازک سا ہے ۔۔لوگ باتیں نہ بنا لیں۔۔‘‘امی کو بھی مہوش کی بات بھائی تھی مگر خدشے بول اُٹھے ۔
’’رشتے میں دونوں چچا بھتیجی لگتے ہیں ۔۔سگے تو نہیں ہیں نا۔۔ پھر حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کا بھی یہی رشتہ تھا ۔۔رہ گئی بات عمر کی تو اتنا زیادہ فرق بھی نہیںہے ۔۔ آپ باہر سے بھی کوئی لڑکی لائیں گے تو اس کی بھی عمر اتنی ہی ہوگی یا ایک دو سال زیا دہ ہوگی ۔۔لوگوں کی تو بات ہی نہیں کریں ، عیشہ کی ماں کے بعد یا وریشہ کے بعد دونوں کو لوگوں نے تو نہیں سنبھالا تھا۔ گھر کی بات ہے۔۔ جب گھر والے راضی تو کیا کریں گے لوگ۔۔‘‘ اس نے آرام سے کہا تھا ۔ دونوں خواتین کے دل کو بات لگی تھی ۔
’’مہوش ٹھیک کہہ رہی ہے آپا۔۔آپ بتائیں آپ کیا کہتی ہیں۔۔؟‘‘ امی نے تائی امی کو دیکھا، وہ ہنس دیں۔
’’میرے لیے تو یہ بڑی خوشی کی بات ہے۔۔ شہباز اور عیشہ اپنے بچے ہیں۔۔ اپنے گھر میں آنکھوں کے سامنے رہیں گے۔۔ وریشہ کے بعد اب عیشہ۔۔ حیرت ہے۔۔ مجھے پہلے یہ خیال کیوں نہیں آیا۔۔‘‘ وہ خوش ہو کر کہہ رہی تھیں۔
’’پھر آپ بھائی صاحب اور واجد سے بات کریں، میں شہباز اور اس کے ابا سے بات کرتی ہوں۔۔ گھر کی بات ہے کوئی مسئلہ نہیں ہو گا ۔۔‘‘ مہوش نے جو ذمہ داری لی تھی ، وہ با احسن نبھائی تھی، اب جو کرنا تھا ان خواتین نے کرنا تھا ، وہ مسکراتے ہوئے خالی برتن اُٹھا کر اٹھ کھڑی ہوئیں
یہ بات جب عبداللہ صاحب کے کانوں تک پہنچی تو ان کا یہ مشورہ بہت پسند آیا ۔ اسی شام انہوںنے واجد کو بلا کر بات کی تو وہ کتنی دیر تک چپ رہے پھر کہنے لگے۔
’’اماں جی! ویسے تو سب ٹھیک ہے مگر ۔۔ عیشہ اور شہباز کی عمر میں بڑا فرق ہے۔۔ شہباز ایک بچے کا باپ ہے ، نجانے عیشہ راضی بھی ہو کہ نہیں۔‘‘ وہ متذبذب ہوئے۔
’’عمر کی کوئی بات نہیں۔۔ باہر بھی کریں گے تو پتہ نہیں کوئی کتنی عمر والا شخص ہو۔۔ رہ گئی عیشہ کی بات تو اس سے میں خود ہی پوچھ لو گی۔۔ تم اپنی مرضی بتائو۔‘‘ ماں کی بات پر وہ مسکرا دیے۔
’’حرج تو کوئی نہیں ہے۔۔ عیشہ کی رضا مندی لے لیں ، جو جی چاہے کریں۔۔ شہباز سے بڑھ کر ہمیں اور کیا چاہیے۔‘‘
’’ٹھیک ہے! میں عیشہ سے پوچھ کر رضا مندی دے دیتی ہوں، آگے بچوں کی قسمت ۔‘‘ انہوں نے خوش ہو کر کہا۔ تائی اماں نے عیشہ سے پوچھنے کی ذمہ داری مہوش کے ذمہ لگائی تھی ، مہوش ہنس دی۔
شام کے کھانے کی تیاری کے دوران مہوش نے عیشہ کو اپنی سارے دن کی کارگردگی بتائی تو کتنی دیر تک ہکاّ بکاّ رہ گئی۔
’’کیا واقعی۔۔ یہ سچ ہے۔۔؟‘‘ وہ بے یقین تھی ۔
’’ہوں ۔۔‘‘ مہوش نے اس کے رخسار پر چٹکی بھری تو وہ جھینپ گئی۔
’’اتنی جلدی کیسے ہو گیا یہ سب ۔۔‘‘ خوشی ہی ایسی تھی کہ وہ سرخ گلنار ہو گئی۔
’’بس دعا دو ہمیں۔۔ کہا تھا نا کہ ہم پر چھوڑ دو۔۔ بس میں نے تائی امی اور امی کو رام ہی ایسے کیا ہے کہ خود بخود انہوں نے سارا معاملہ طے کر لیا ۔ ۔ اب بات بڑوں میں ہے۔۔‘‘ وہ مزے سے بتا رہی تھی ، وہ ابھی بھی بے یقین تھی۔
’’اور شہباز ۔۔‘‘ اس نے کہا ۔
’’آج رات امی کا ان سے بات کرنے کا ارادہ ہے، دیکھتے ہیں کیا جواب ملتا ہے۔۔‘‘
’’اگر انہوں نے انکار کر دیا تو۔۔‘‘ ایک دم وہ خدشوں میں گھر گئی تھی ، مہوش ہنسی۔
’’فکر کیوں کرتی ہو۔۔ ہم ہیں نا۔۔‘‘
’’خوش تو میں بھی بہت ہوں۔۔ ہو تو تم مجھ سے چھوٹی مگر رشتے میں جیٹھانی بنو گی۔۔‘‘ وہ چھیڑ رہی تھیں ، وہ سرخ پڑ گئی۔
’’تائی امی نے تم سے پوچھنے کی ذمہ داری مجھ پر لگائی ہے۔۔ مگر انہیں کیا پتا ان کی چہیتی ہی تو شہباز صاحب کے عشق میں پور پور ڈوب چکی ہے۔۔‘‘ ان کی اس چھیڑ چھاڑ پر وہ بلش ہو گئی۔
’’چچی پلیز ۔۔‘‘ اس نے ٹوکا ، وہ کھلکھلا کر ہنسیں۔
’’رشے میں تمہاری دیورانی بنوں گی۔۔ ابھی سے سوچ لو۔۔ چچی کہو گی یا ۔۔‘‘ عیشہ کی بھی ہنسی نکل گئی۔
’’آپ میری چچی ہیں بس۔۔‘‘
’’اور شہباز صاحب چچا۔۔ ویسے بائی دا وے ۔۔ چچا سے وہ کیسے بن گئے۔۔‘‘ وہ کتنی بے باک ہو رہی تھیں۔
’’مہوش چچی پلیز ۔۔‘‘ اس کا شرم سے برا حال تھا۔

جاری ہے


 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney