ناول: ہم دل سے ہارے ہیں

قسط: 8

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
رات شہباز گھر لیٹ آئے تھے ، تقریباً سبھی سو چکے تھے، امی ان سے بات کرنے کی نیت سے جاگ رہی تھیں ، کھانا انہوں نے کمرے میں ہی کھایا تھا۔ کھانے کے بعد امی نے وہ بات چھیڑ دی ، جس کیلئے وہ اب تک جاگ رہی تھیں۔۔ اور پھر جب انہوں نے عیشہ کا نام لیا تو شہباز حیدر گنگ رہ گئے۔
’’کیا ۔۔عیشہ۔۔؟‘‘ وہ حیرت زدہ تھے۔
’’ہوں ۔۔ وریشہ کے بعد جس طرح اس نے فوزان کو پالا ہے ، مانو تو اس نے دل جیت لیا ہے۔۔ آپا لوگ باہر اس کا رشتہ دیکھ رہے ہیں۔۔ فوزان جس طرح اس کے ساتھ بہل گیا ہے ، دل ڈرتا ہے کہ پتہ نہیں اس کے بعد وہ سنبھل پائے کہ نہیں ۔۔ پھر تمہاری طرف سے بھی دل دکھتا ہے ، تم فوزان کو سوتیلی ماں کے حوالے نہیں کرنا چاہتے مگر عیشہ کیلئے تمہیں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے ، اتنی سلجھی ہوئی بچی ہے وہ۔۔ یوں کہوں کہ میری تو دل کی مراد بر آئی ہے۔۔‘‘ وہ خوش تھیں ، بہت خوش ۔۔ وہ برہم ہوئے۔
’’آپ ہوش میں تو ہیں۔۔عیشہ ۔۔ مائی گاڈ ۔۔ جسے میں آج تک چھوٹی بچی سمجھتا آ رہا تھا ، آپ اس کی بات کر رہے ہیں۔۔ سچ سچ بتائیں کہ یہ کس کی سازش ہے۔۔‘‘ غصے سے جو جی میں آیا کہہ دیا۔
’’ہیں۔۔ ہیں۔۔یہ سازش کی خوب کہی تم نے ۔۔ دل میں خیال تھا آپا اور بھائی صاحب سے بات کی، انہوں نے واجد اور عیشہ کی رضامندی لے کر ہاں کہہ دی۔۔ اب تم سے پوچھ رہی ہوں اور تم مجھے ہوش کا سنا رہے ہو۔۔ ‘‘ شہباز حیدر کے انداز پر وہ بھی برہم ہو گئیں۔
’’یعنی کہ مجھ سے پوچھے بغیری بڑوں تک بات پہنچ چکی ہے۔۔ یااللہ ‘‘ وہ بے چارگی سے ماں کو دیکھتے رہ گئے۔
’’منع کر دیں۔۔ مجھے نہیں کرنی عیشہ سے شادی ، شہباز حیدر نے فوراً منع کر دیا ۔
’’ارے کیوں منع کر دوں ۔۔ عیشہ جیسی لڑکی چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملنے والی۔۔گھر کی بات ہے تقریباً سب طے ہے ۔۔ بھائی صاحب نے ہاں کہہ دی ہے۔۔ اب میں شادی کی ڈیٹ طے کرنے میں دیر نہیں لگائوں گی۔۔‘‘ شہباز کے ایک دم انکارنے انہیں کر دیا تو انہوں نے بھی دو ٹوک بات کی۔
’’امی پلیز ۔۔ آپ سمجھ کیوں نہیں رہیں ۔۔ وہ بچی سی ہے۔۔ پھر میری اور اس کی عمر میں بہت فرق ہے ۔۔‘‘ ماں کے دو ٹوک انداز پر وہ کچھ دھیمے ہوئے، تاہم بے چارگی نمایاں تھی۔
’’کوئی بچی وچی نہیں ہے ۔۔ پورے تیئس سال کی ہو چکی ہے ۔۔ رہی عمر کی بات تو میاں بیوی میں عمر کا یہ فرق عام ہے۔۔ سب چلتا ہے۔۔‘‘ انہوں نے یہ اعتراض فوراً رد کیا۔
’’وہ غیر شادی شدہ ہے۔۔ مجھ شادی شدہ کے ساتھ کیسے ایڈجسٹ کرے گی، پھر مجھے بھی وہ بطور لائف پارٹنر پسند نہیں۔۔‘ ‘ بے چارگی سے دوسرا اعتراض کیا۔ ’’اس کی رائے لے چکے ہیں۔۔ اسے کوئی اعتراض نہیں ۔۔فوزان کو وہ پہلے ہی سنبھال رہی ہے۔۔ رہ گئی پسند کی بات تو شادی کے بعد خود بخود پسند کرنے لگے گی۔۔‘‘ ادھر سے جواب تیار تھا۔
’’وہ بہت امیچور ہے۔۔ اس کے لئے اسی جیسا لڑکا چاہیے تھا۔۔‘‘ کلس کر پھر کہا تھا ۔
’’خیر سے شادی کے بعد تمہارے عادات و اطوار دیکھ کر خود ہی سنجیدہ ہو جائے گی۔۔‘‘ وہ تو جیسے پوری تیاری کر کے آئی تھیں، کسی اعتراض کو چند اں اہمیت نہ دی تھی، انہوں نے لب بھینچ لیے۔
کوئی اور بھی اعتراض ہے تو وہ بھی کر لو۔۔ میں انکار نہیں سننے والی۔۔ ‘‘ شہباز حیدر نے انتہائی غصے سے انہیں دیکھا ، آج وہ انہیں ذرا بھی محبت جتانے والی ماں نہ لگیں۔
’’آپ بھلا کون سا میرے کسی اعتراض کو خاطر میں لا رہی ہیں جو میں مزید بحث کروں ۔‘‘ شکایتی انداز میں ماں کو دیکھا ، وہ ہنس دیں۔
’’جب تم اعتراض ہی اوٹ پٹانگ کرو گے تو میں بھلا کیا خاطر میں لاوں۔ خیر سے اپنے گھر کی بچی ہے ۔۔ پھر عیب سے پاک اور تم لگے کیڑے نکالنے۔۔‘‘ انہوں نے گہرا سانس لیا۔
’’پھر میں تمہارے تایا جان کو ہاں کہہ دوں ۔۔‘‘ برتنوں کی ٹرے اُٹھا کر وہ اُٹھ کھڑی ہوئیں۔ ماں کے ڈپلومیسی انداز پر وہ کوفت کا شکار ہوئے۔مجھے نہیں پتا ۔۔ مگر ایک بات طے ہے، مجھے اس سے شادی نہیں کرنی۔۔ ‘‘ اندر کا اُبال ایک دم امڈ آیا ، امی نے غصے سے بیٹے کو دیکھا۔
’’شہباز ! والدین کے دل سے اس طرح نہیں کھیلتے۔۔ وریشہ کا غم اب اتنا تازہ بھی نہیں کہ تم ہمیں نا مراد لوٹائو۔ اتنے سال بہت تھے اب تو میرا خیال ہے کہ اعتراض کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ عیشہ اور وریشہ میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے ۔ خالہ مر جائے تو بھانجی ، پھوپھی کی جگہ بھتیجی ۔ دنیا میں ہوتا آیا ہے۔۔ کئی مثالیں ہیں۔۔ تم دنیا کے اکیلے نرالے تو نہیں ہو۔۔ میں انکار نہیں سننے والی ، جا کر بھائی صاحب کو ہاں کہہ دیتی ہوں۔‘‘ وہ غصے سے بھنا کر کمرے سے چلی گئیں۔ شہباز حیدر نے غصے سے سرہانہ اُٹھا کر دیوار پر دے مارا۔ جی چاہا ابھی جا کر عیشہ واجد کو جھنجوڑ کر رکھ دیں، مگر وہ ضبط کر گئے، رات کے اس پہر وہ تو سو چکی ہوگی مگر شہباز حیدر انگاروں پر لوٹنے لگے۔
شہباز حیدر کی ساری رات آنکھوں میں کٹی تھی ، ایک چھوٹی سی لڑکی نے انہیں اذیت سے دوچار کر رکھا تھا، صبح نیچے ہلچل ہوئی تو وہ بھی کمرے سے نکل آئے ، نیچے آئے تو ابھی سبھی اپنے کمروں میں تھے۔ وہ عیشہ کے کمرے کی طرف چلے آئے ۔ دروازہ لاک نہیں تھا ۔ ہینڈل گھمانے سے کھلتا چلا گیا تھا ، وہ اندر داخل ہوئے تو فوزان بستر پر کمبل پر لیٹا سو رہا تھا ، اور وہ واش روم سے وضو کر کے نکل رہی تھی ۔ اتنی صبح صبح شہباز حیدر کو اپنے کمرے میں دیکھ کر چونکی۔
’’آپ ۔۔؟‘‘ دوپٹہ وضو کے اسٹائل میں لپٹا ہوا تھا ۔
’’تم ۔۔‘‘ عیشہ کو دیکھ کر گزری رات کی اذیت نئے سرے سے تازہ ہو گئی ۔ ایک دم طیش میں قدم بڑھائے۔ عیشہ شہباز حیدر کے تیور دیکھ کر پیچھے ہٹی تھی۔
’’تم خود کو سمجھتی کیا ہو۔ کہاں عذاب کی طرح مسلسل میرے پیچھے پڑ گئی ہو۔۔‘‘ عیشہ کا گدازآستین چڑھا بازو ان کی فولادی گرفت میں جکڑ لیا گیا تھا ، عیشہ ان کے تیور دیکھ کر خوفزدہ ہو گئی۔
’’آپ کیا کر رہے ۔۔ چھوڑیں مجھے۔۔ پلیز ۔۔‘‘ گرفت اتنی سخت تھی کہ تکلیف سے بس چیخ نکلنے کی کسر تھی۔ اپنا بازو چھڑانا چاہا تو شہباز نے مزید طیش میں آ کر جھٹکا دیا تھا ، وہ بری طرح دیوار کے ساتھ جا لگی۔ ’’جان سے مار دوں گا تمہیں ۔۔ پاگل لڑکی! تم نے امی اور تائی امی تک بات پہنچا دی۔۔ جس کا میں تصور بھی نہیں کر سکتا ۔۔ یہ ساری تمہاری سازش ہے۔۔ تمہارا کیا خیال ہے اس طرح کرنے سے تم مجھ سے شادی کرنے میں کامیاب ہو جائو گی۔۔ لعنت بھیجتا ہوں میں تم پر۔۔ ‘‘ اس قدر غصیلے طیش بھرے لہجے میں دنیا جہاں کی نفرت تھی۔ حیران پھٹی پھٹی نگاہوں سے بازو کی ساری تکلیف بھولے پتھر بن گئی۔ اتنی نفرت۔۔؟ اس قدر نا پسندیدگی کا اظہار۔۔؟ وہ بے یقینی سے دیکھے گئی۔
’’میرا خیال تھا کہ تم عقلمندی کا مظاہرہ کرو گی۔۔ کل رات جو بھی ہوا ، میں تمہاری نادانی سمجھ کر نظر انداز کر گیا مگر اب ۔۔ تم نے اپنی راہ میں خود کانٹے بوئے ہیں۔۔ بہت برا کروں گا میں تمہارے ساتھ ۔۔‘‘ شہباز کے اندر کا لاوہ کسی بھی طرح کم نہیں ہو پا رہا تھا ، عیشہ کا خوف سے برا حال ہوا۔ شہباز حیدر کا یہ روپ پہلی دفعہ دیکھنے میں آ رہا تھا ۔
’’میں نے کیا کہاہے۔۔؟‘‘ وہ رو دی۔ کچھ بازو کی تکلیف اور کچھ شہباز کا خوف ، آنسو ایک ایک کر کے چہرے پر گرنے لگے ۔ کچھ لمحے پہلے اس نے وضو کیا تھا ، چہرہ گیلا تھا ، ٹھوڑی سے گردن تک سارے چہرے پر پانی کے قطرے چمک رہے تھے، سرخ و سپید چہرہ ۔۔ جا بجا چمٹی کالے بالوں کی لٹیں ۔۔ ایک لمحے کو اس کے رو دینے پر اس کی اس گہری آنکھوں میں موجود پانی دیکھ کر ساکت ہوا تھا ، مگر اگلے ہی لمحے یہ نمی ان کے اندر کی آگ کو بھڑکا گئی تھی۔
’’ابھی بے حیائی میں کوئی کسر باقی ہے۔۔ مائی گاڈ ۔۔ جو بات میں سوچتے ہوئے بھی لرز جاتا تھا وہ بات تم نے کتنی آسانی سے بڑوں تک پہنچائی ۔ نہ صرف پہنچائی بلکہ میری کسی مرضی کو خاطر میں لائے بغیر سب کچھ طے بھی پا گیا۔۔ صرف ایک دن میں ۔۔‘‘ ایک لمحے کی کیفیت تھی، اگلے ہی لمحے اندرونی خلفشار نے پھر غضبنا کی کی ردا اوڑھا دی۔
’’پلیز چپ کریں ۔۔ میں نے کسی سے بات نہیں کی ۔۔ قسم لے لیں۔۔آپ مجھے بے حیائی کے طعنے مت دیں۔۔ میں نے ایسی کوئی حرکت نہیں کی۔۔ میرا جرم صرف اتنا ہے کہ آپ سے محبت کرنے کی گنہگار ہوں۔۔ میرے جرم کو میری سزا تو مت بنائیں۔۔‘‘ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
’’کتنا رلا رہا تھا یہ شخص اسے۔۔ اور اس شخص کو اپنے برے روّیے کا احساس نہ تھا۔۔‘‘ شہباز حیدر نے بھینچے ہوئے چہرے سے اس کے بازو سے اپنا ہاتھ ہٹا لیا۔
’’تو پھر بات اتنی آگے کیسے بڑھ گئی کہ امی میری رائے کو اہمیت دیے بغیر تم سے شادی کا فیصلہ سنا گئیں۔۔‘‘ غصہ کسی طرح بھی کم نہیں ہو پا رہا تھا۔
’’مجھے کیا پتہ۔۔ اپنی امی سے جا کر پوچھیں۔۔ میں نے اگر ان سے ہی بات کرنا ہوتی تو اتنا عرصہ آپ کا یہ روّیہ برداشت نہ کرتی۔۔‘‘ وہ ہاتھوں میں چہرہ چھپا شدت سے رو دی۔ اس کی ہر ہچکی پر شہباز حیدر اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورے گیا۔
’’تم کوئی بھی ڈرامے بازی کر لو۔۔ جو مرضی کر لو۔۔ میں متاثر ہونے والا نہیں ہوں۔۔ نبٹ لوں گا تم سے اچھی طرح۔۔ ‘‘ شہباز حیدر نے اسے اچھی طرح دھمکیوں سے ڈرا دھمکا کر باہر کی راہ لی تو عیشہ نے ہاتھوں سے چہرہ اُٹھا کر ہلتے دروازے کو دیکھا۔آنسو ایک دفعہ پھر اس کے رخساروں پر بہہ نکلے تھے۔

جاری ہے


 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney