ناول: ہم دل سے ہارے ہیں


قسط: 9

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ اک شخص جو کم کم میسر ہے ہم کو
آرزو ہے کہ کسی روز وہ سارا مل جائے
اسے کہنا کہ ملاقات ادھوری تھی وہ
اسے کہنا کہ کبھی آ کے دوبارہ مل جائے
حیدر صاحب کو اپنی بیگم صاحبہ سے شہباز حیدر کے عیشہ کے لیے اعتراضات کا علم ہوا تو انہوں نے شہباز سے خود بات کی، شہباز حیدر جنہوں نے امی کے سامنے صاف انکار کر دیا تھا ، باپ کے سامنے کچھ بھی نہ کہہ سکے۔ حیدر صاحب شہباز کے سامنے دنیا کی اونچ نیچ سمجھاتے رہے، رشتوں کی نزاکت و اہمیت باور کراتے رہے۔ شہباز نے لب بھینچے باپ کی سب باتیں سنیں۔
’’تو پھر میں بھائی صاحب کو ہاں کہہ دوں۔۔‘‘ ایک طویل لیکچر کے بعد انہوں نے بیٹے کے چہرے کا جائزہ لیا۔ شہباز نے گہری سانس لی۔
’’اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کا یہ فیصلہ درست ہے تو جو جی چاہے کریں۔۔‘‘ ان کے اس انداز میں بھی ان کے دلی جذبات آشکار ہو گئے تھے۔ حیدر صاحب مسکرائے۔
’’تمہیں فی الحال یہ مناسب نہیں لگ رہا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تم خود ہمارے اس فیصلے کو سرا ہو گے۔۔‘‘ وہ اس کا کندھا تھپک کر چلے گئے تھے۔ شہباز حیدر نے لب بھینچ لیے۔
’’عیشہ واجد۔۔‘‘ کچھ تلخ سوچتے سوچتے انہوں نے سر جھٹکا۔ باپ کے سامنے وہ بہت کچھ کہہ سکتے تھے مگر عیشہ واجد کی پیش قدمیوں کو روکنے کیلئے انہیں صرف یہی حل سجھائی دیا تھا کہ فی الحال خاموشی اختیار کریں۔۔ جو ہو رہا ہے ہونے دیں، عیشہ واجد سے انہیں کوئی ذاتی پرخاش نہیں تھی مگر۔۔
اگلے دن دونوں کی باقاعدہ بات طے ہو جانے کی خبر پورے گھر میں پھیل چکی تھی ۔ اوپر نیچے سب کو پتہ چل چکا تھا ۔ عیشہ یونیورسٹی سے واپس لوٹی تو چچی نے پاس بٹھا کر خوب پیار کیا۔ عیشہ تو کتنی دیر تک ورطہ حیرت میں غرق رہی۔ کل صبح کا شہباز حیدر کا روّیہ اتنا آتش فشاں اور غضبناک تھا کہ وہ دہل گئی تھی، اور اب یہ ’’ہاں‘‘ وہ بے یقین تھی ۔ پتھر اس کے لیے واقعی موم ہوا تھا یا پھر۔۔ جو خواب اس نے کھلی آنکھوں سے دیکھا تھا کیا وہ واقعی سچ ہو رہا تھا ۔ مہوش کے کمرے میںپہنچی تو بھی بے یقین ہی رہی۔
’’مہوش چچی! یہ رشتے طے ہو گیا ہے۔۔ کیا واقعی ۔۔ میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہی۔۔‘‘
’’یہ بالکل خواب نہیں ہے۔۔ رات ابو نے خود شہباز بھائی سے بات کی تھی ، پھر نیچے آ کر تایا ابو وغیرہ سے یوں بات طے ہو گئی۔ ۔ اب تو باقاعدہ ہاں ہوئی ہے۔۔‘‘
’’مگر وہ شہباز۔۔ انہوں نے اعتراض تو کیا ہو گا۔۔‘‘
’’ہوں۔۔بہت سے امی بتا رہی تھیں، مگر ابو کون سا ان کے اعتراض ختم کرنے گئے تھے۔ انہیں بٹھا کر سمجھایا تھا۔۔ اور بس۔۔‘‘ مہوش چچی کے اس جواب پر اس کے دل کے اندر خوف پیدا ہونے لگا۔
’’اس کا مطلب ہے چھوٹے دادا جان نے انہیں مجبور کیا ہے۔‘‘
’’یہ تو مجھے نہیں پتا۔۔ البتہ صبح ناشتے پر منہ بڑا سنجیدہ بنایا ہوا تھا ۔۔ میں نے چھیڑنا چاہا تو جھڑک دیا۔۔ پھر چائے پی کر نکل گئے تھے۔۔ مگر تم کیوں فکر کرتی ہو۔۔ تھوڑا بہت غصہ تو وہ دکھائیں گے ہی ۔۔ ابو وغیرہ کہہ رہے تھے کہ شہباز کو کوئی بھروسہ نہیں ۔۔ شادی نہیں تو نکاح کی تقریب تو ضرور کریں گے۔۔ یوں سمجھو تم دونوں کو پکی بیڑیاں ڈالنے کا ارادہ ہے۔۔‘‘ مہوش نے آخر میں اسے چھیڑا تو وہ مسکرا بھی نہ سکی۔ شہباز راضی نہ تھے، صرف والدین کی وجہ سے چپ تھے، اسے یقین ہو گیا تھا۔
رشتہ طے کیا ہوا، باقی سب کچھ آناً فاناً طے ہوتا چلا گیا۔ عبداللہ صاحب اور حیدر صاحب کی مشترکہ رائے کے مطابق منگنی کے بجائے ڈائریکٹ نکاح کی تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا ۔ شہباز حیدر نے امی کو کافی روکا تھا ، کہ بات طے ہو گئی ہے، کافی ہے، اس جھنجھٹ کی بھلا کیا ضرورت ہے۔ مگر وہ بھی سب پکے کام کرنے پر بضد تھے۔۔ کیاپتہ کب شہباز مکر جائے، بات طے ہونے کے بعد شہباز کا ایسا ہی روّیہ تھا کہ سب کو ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ خوش نہیں ہیں۔ خاص طور پر عیشہ تو ہر وقت ہولتی رہتی تھی۔ اسے کھونا محال تھا اور پانا اس سے بھی زیادہ۔
نکاح کی تقریب خاصی پر رونق تھی ، قیوم کی شادی کے بعد اس گھر میں کوئی پہلی خوشی دیکھنے کو مل رہی تھی ، سو سبھی خوش تھے۔ شہباز حیدر کا انداز وہی تھا۔ خاموش ، سنجیدہ اور کچھ ناراض سا۔۔ وہ اس سارے شور شرابے پر خوش نہ تھے۔ مہوش عیشہ کو پارلر لے گئی ہوئی تھی ، جب دونوں لوٹیں تو سبھی مہمان آ چکے تھے ۔ تقریب کا اہتمام تھا ، سارا صحن جگمگا رہا تھا۔ عیشہ نکاح کے گولڈن مہرون شرارے میں بھاری جیولری کے ساتھ عام حلیے کے برعکس کوئی اور ہی چیز لگ رہی تھی ، امی اور مہوش نے اسے خصوصی بنائے گئے اسٹیج پر لا بٹھایا تھا۔ وہ ہمیشہ سادہ سے حلیے میں دکھائی دینے والی عیشہ واجد آج پور پور سجی ہر ایک کی نگاہ کو خیرہ کر رہی تھی ۔ وہ بہت کنفیوژ ہو رہی تھی ، دل کی دھڑکن کا تو کوئی جواب ہی نہ تھا ، اس نے اپنی بہن شہلا کو مسلسل اپنے پاس بٹھائے رکھا۔ شہلا واجد کی دوسری بیوی کی اولاد تھی ، اور بی اے کی اسٹوڈنٹ تھی۔ نکاح کی تقریب کے بعد کھانے پینے کا سلسلہ چل نکلا تھا ۔ نکاح سے پہلے تک وہ مسلسل خوفزدہ تھی ، نکاح کے بعد وہ ایک دم پر سکون و مطمئن ہو گئی۔ شہباز حیدر اب اس کا تھا ، مکمل طور پر اس کا ۔۔ یہ ایسی خوشی تھی کہ جس کی اس نے راتوں کو جاگ جاگ کر اپنے رب سے پوری ہونے کی دعا مانگی تھی،اور آج رب نے اس کی دعا سن لی تھی۔ شہباز حیدر کو کھو دینے کا احساس بہت پیچھے رہ گیا تھا ۔
’’السلام علیکم ! کیسی ہیں عیشہ۔۔‘‘ وہ اسٹیج پر بیٹھی اپنی سوچوں میںمگن تھی جب اس آواز پر ایک دم چونک کر دیکھا ، اس کے سامنے ’’محسن جاوید‘‘ کھڑا تھا۔
’’آپ ۔۔‘‘ وہ حیران ہوئی۔
’’جی۔۔‘‘ وہ مسکرایا ۔ بہت بہت مبارک ہو، یہ یقینا شہباز بھائی ہی تھے جن کے لیے آپ نے انکار کیا تھا۔‘‘ وہ مسکرا کر کہہ رہا تھا ، عیشہ نے گھبرا کر اپنے ساتھ بیٹھی شہلا کو دیکھا ، جو محسن جاوید کو دیکھ رہی تھی دلچسپی سے۔۔ محسن جاوید کی پوری فیملی اس تقریب میں انوائیٹڈ تھی ، دادا جان کے جاوید صاحب سے تعلقات جوں کے توں تھے ، اس تقریب میں محسن جاوید کو دیکھ کر حیران ضرور ہوئی تھی ، مگر چونکی نہیں تھی۔
’’بہت لکی ہیں شہباز بھائی۔۔‘‘ وہ مزید کہہ رہا تھا۔
’’ویسے آپ کی تعریف ۔۔؟‘‘ وہ اب شہلا کی طرف متوجہ ہوا تھا ۔
’’شہلا واجد۔۔‘‘ اس نے مسکرا کر اپنا نام بتایا تھا۔
’’اوہ۔۔یعنی کہ واجد بھائی کی بیٹی ۔۔‘‘ اس نے عیشہ کو دیکھا تو اس نے سر ہلایا۔
‘ ’’میں ذرا امی کے پاس چکر لگا لوں ، پھر آتی ہوں۔۔‘‘ اگلے ہی لمحے وہ اُٹھ کر چلی گئی تھی۔
’’آپ نے مجھ سے انکار کرتے ہوئے جھوٹ بولا تھا ، آپ کی کسی سے کمٹمنٹ نہیں تھی ۔۔‘‘ محسن جاوید کی نظریں شہلا کے تعاقب میں تھیں جب عیشہ کی اس دھیمی آواز پر متوجہ ہوا۔
’’آپ کو کس نے کہا۔۔؟‘‘ دھیان سے پوچھا۔
’’فوزان کے پاپا نے۔۔‘‘
’’مائی گاڈ ۔۔ کتنا نیچرل انداز ہے۔۔‘‘
’’سچ سچ بتائیں عیشہ ! آپ تو کہہ رہی تھیں کہ یکطرفہ محبت ہے مگر شہباز بھائی نے میرے انکار سے متعلق درست خبر آپ کو کیسے دے دی۔۔‘‘ وہ جھینپ گئی تھی۔
’’یہ اب بھی یکطرفہ محبت ہے۔۔ بس گھر والوں کا تعاون تھا کہ آج یہ تقریب رونما ہو گئی ہے ورنہ ’’اُن ‘‘ سے تو کوئی بعید نہیں ۔‘‘
شہباز ، مہوش اور قیوم کے بعد یہ چوتھا شخص تھا جو اس کے دل کا راز پا گیا تھا ۔ اس کا بے تکلف انداز عیشہ کو اچھا لگا تھا ، سو دوستانہ انداز میں اس نے بھی بتا دیا۔
’’ویسے شہباز بھائی جانتے ہیں۔۔‘‘ وہ پوچھ رہا تھا ، اس نے گردن ہلا دی۔
’’مگر مانتے نہیں ہیں۔۔‘‘ اس کی آواز بھرا گئی ، وہ ہنس دیا۔
’’تو فکر کیوں کرتی ہیں۔۔ اتنا مضبوط تعلق بن گیا ہے دونوں میں۔۔ وقت کے ساتھ ساتھ مان جائیں گے۔۔‘‘ اس نے اسے دلاسا دیا تو وہ سر ہلا گئی۔
’’ویسے عیشہ ! آپ کی بہن بھی آپ کی طرح بہت ہی پیاری ہیں۔۔ کیاخیال ہے۔۔؟‘‘ اس کی اس بات پر اس نے حیران ہو کر اسے دیکھا۔
’’کیا مطلب۔۔؟‘‘
’’آپ کیلئے انکار پر امی ابو اب تک مجھ سے ناراض ہیں۔۔ شہلا کو دیکھنے کے بعد سوچ رہا ہوں کہ کیوں نہ امی ابو کو راضی کر لوں۔۔ آخر کو رشتہ لے کر والدین ہی آتے ہیں۔۔‘‘ عیشہ نے بے حد انبساط و حیرت سے دیکھا۔
’’واقعی۔‘‘ اس نے پوچھا تو اس نے فوراً سر ہلایا تھا ۔ وہ پھر دو تین باتیں کر کے نیچے اُتر گیا تھا ، کھانے کے بعد فوٹو گرافی کا سلسلہ چل نکلا تھا ، شہباز حیدر کو قیوم حیدر نے زبردستی عیشہ کے ساتھ لا بٹھایا تھا۔ واجد صاحب کا بیٹا دونوں کے مختلف پوز لینے لگ گیا تھا۔
’’چاچو پلیز! چہرے پر اسمائل لائیں۔۔ یوں لگ رہا ہے جیسے آپ کو زبردستی بٹھایا گیا ہے مار کر ۔۔ ‘‘ وہ چھیڑ رہا تھا، شہباز حیدر کے چہرے کے سنجیدہ زاویوں میں مطلق فرق نہیں آیا تھا۔
’’جیٹھ صاحب! اب ایسی بھی کیا سنجیدگی ، اتنی چاند سی پیاری دلہن آپ کو دے رہے ہیں مگر مجال ہے چہرے کے تاثرات بدل جائیں ۔۔ ‘‘ مہوش بھی سنجیدہ شکل پر تبصرہ کرنے سے باز نہیں آئی تھی ، عیشہ کا دل تو شہباز کی قربت پر تمام دیواریں توڑ کر باہر آنے کو تھا۔ فوٹو گرافی کے بعد سلامی اور تحائف کا سلسلہ چلا تھا ، رات کے بارہ بجے کے نزدیک تقریب اختتام کو پہنچی تھی، عیشہ کا ایک ہی زاویے سے بیٹھ کر برا حال ہو رہا تھا ، کمر تختہ بن چکی تھی، مہوش اسے سہارا دے کر کمرے میں لے آئی۔
’’سنو! اب کچھ نہیں اتارنا ، میں آتی ہوں ، شہباز بھائی بلا رہے تھے، ان کی بات سن لوں۔۔‘‘ وہ اسے بٹھا کر چلی گئی تھیں ، شہباز کے نام پر دل کی دھڑکن بڑی نرالی تھی، وہ خود ہی معجوب سی ہنس دی۔
’’اور کتنی نفرت کریں گے مجھ سے آپ ۔۔ میرے بن چکے ہیں۔۔ ایک دفعہ آپ کی زندگی میں آ جائوں پھر ساری نفرت دور کر دوں گی۔۔ صرف ایک دفعہ۔۔ ‘‘ اپنے خیال پر وہ خود ہی شرما گئی۔۔ بیڈ کی پشت سے سر ٹکا کر اس نے کمر بھی تکیوں سے ٹکا کر پائوں سیدھے کیے۔ مہوش اسے بٹھا کر خود پتہ نہیں کہاں گم ہو گئی تھی ، اس نے خاموشی سے آنکھیں موند لیں ۔ تھوڑی دیر بعد دروازے پر کھٹکے کی آواز پر وہ متوجہ ہوئی۔
’’مہوش چچی کہاں رہ گئی تھیں آپ ۔۔ مجھے کپڑے بدلنے تھے۔۔ تھکن سے برا حال ہو رہا ہے میرا۔۔‘‘ آنکھیں کھولے بغیر وہ کہہ رہی تھی ، مگر دوسری طرف سے کوئی جواب نہ ملنے پر اس نے پٹ سے آنکھیں کھول دی تھیں۔
’’آپ۔۔؟‘‘ شہباز حیدر کو اپنے سامنے کھڑے خاموشی سے دیکھتے پا کر وہ فوراً سیدھی ہوئی تھی ۔
’’مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے۔۔‘‘ اپنے پیچھے دروازہ بند کر کے وہ اندر چلے آئے تھے ۔ عیشہ کے تو وہم و گمان میں بھی نہ تھا ، حیرت سے شہباز حیدر کے انتہائی سنجیدہ چہرے کو دیکھے گئی۔ وہ بستر پر بیٹھے تو اس نے تیزی سے ٹانگیں سمیٹیں، پھر چہرہ بھی جھکایا ، شرم ایک دم درمیاں میں آ ٹھہری ۔
’’میں اب تک سمجھ رہا تھا کہ تمہاری دیوانگی ایک وقتی جذباتیت ہے ، اسی لیے میرا خیال تھا کہ میرے تلخ روّیے ، ڈانٹ پھٹکار سے تمہیں عقل آ جائے گی مگر۔۔‘‘ ان کی بات عیشہ کو کچھ پلے نہ پڑی تھی ، اوپر سے ان کا ٹھنڈا سنجیدہ لہجہ۔
’’یہ رشتہ بظاہر جتنا مضبوط ہے اتنا ہی کمزور ہے۔۔ میں کبھی سنجیدہ نہ ہوتا اگر امی ابو اس قدر سنجیدگی سے اس معاملے میں انوالو نہ ہوتے۔ ہمارا نکاح میرے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتا اور یہی بات میں تمہیں باوار کروانا چاہتا ہوں، مجھ سے تم کسی بھی قسم کی توقعات وابستہ مت کرنا ۔۔ فوزان کے لیے تم میری زندگی میں داخل ہونا چاہتی تھی ، میرے گھر والوں کا بھی یہی موقف ہے، اسی لیے تم آج سے فوزان کے لیے ہی مخصوص ہو۔۔ رہ گئی بات رخصتی کو تو مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔۔ تم نے جس طرح قیوم اور مہوش کو اپنے ساتھ ملا کر یہ سارا ڈرامہ اسٹیج کیا ہے، میرے دل میں تمہارے لیے جو تھوڑی بہت عزت افزائی تھی وہ بھی ختم ہو گئی ہے۔۔ تمہارے نزدیک رخصتی کی بات کوئی اہمیت رکھتی ہو مگر میرے لیے تم کل بھی کچھ نہیں تھی ، آج بھی کچھ نہیں ہو ، نہ ہی کل کچھ ہو گی۔۔‘‘ تلخی سے کہہ کر وہ اُٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ عیشہ جیسے پتھر ا گئی تھی ، کیا محبت کرنا واقعی جرم ہے۔۔ کیا اس نے شہباز حیدر سے محبت کر کے واقعی کوئی جرم کیا تھا ۔ وہ بالکل ساکت تھی۔

جاری ہے

 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney