【فیس بک انگریزی زبان کے دو لفظوں سےبنا ہے】

پہلا لفظ فیس یعنی چہرہ ہے۔ یہاں آپ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو ضرور یاد رکھیئے۔
ترجمہ:" اس دن جس دن کچھ چہرے روشن ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے۔"[سورۃ آل عمران۔ ۱۰۶]
جن کے چہرے روشن ہوں گے در حقیقت قیامت کے دن وہی لوگ کامیاب ہوں گے اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو دنیا میں ایمان لائے اور نیک عمل کئے ۔ اس کے بر عکس کفر و شرک اور گناہ و معاصی کرنے والوں کے چہرے سیاہ اور کالے ہوں گے۔اب آپ کو اختیار ہے کہ فیس بک کا اچھا یا غلط استعمال کر کے آپ کون سے گروہ میں شامل ہونا پسند کریں گے۔
دوسرا لفظ بک یعنی کتاب ہے۔ یہاں بھی آپ اللہ پاک کے اس فرمان کو یاد رکھئیے۔
ترجمہ:"ہم نے ہر انسان کی برائی بھلائی کو اس کے گلے لگا دیا ہے اور بروز قیامت ہم اس کے سامنےاس کا نامہ اعمال نکالیں گے جسے وہ اپنے اوپر کھلا ہوا پائے گا۔[اس سے کہا جائے گا] لے خود ہی اپنی کتاب آپ پڑھ لے ۔ آج توتو آپ ہی اپنا حساب لینے کو کافی ہے۔"[سورۃ الاسراء۔۱۴،۱۳]
یعنی یہاں فیس بک یا میسنجر پر جو کچھ بھی آپ کر رہے ہیں وہ آپ کے نامہ اعمال میں لکھا جا رہا ہے اور وہ محفوظ ہو رہا ہے، کل قیامت کے دن وہ نامہ اعمال آپ کو دیا جائیگا کہ لیجئیے خود پڑھئیے آپ نے فیس بک پر کیا کچھ کیا ہے۔
انٹر نیٹ پر سماجی روابط کے حوالے سے مشہور ویب سائٹ فیس بک کا آغاز ۴ فروری ۲۰۰۴ء میں امریکی طالبعلم مارک زکربرگ اور اس کے ساتھیوں نے کیا تھا اور آج دنیا بھر میں اس کے کروڑوں صارفین ہیں۔ فیس بک کا مرکزی دفتر کیلی فورنیا کے شہر مینلو پارک میں ہے۔
مارک زکربرگ اس وقت جامعہ ہارورڈ کا طالبعلم تھا اور اس نے یہ سہولت اپنے ہاسٹل کے کمرے سے اپنے چند دوستوں کی مدد سے شروع کی تھی اوراس کا مقصد ایک دوسرے کو بہتر طریقے سے جاننے کے سلسلے میں طلباء کی مدد کرنا تھا۔ اس کےآغاز کے چوبیس گھنٹے کے اندر ہارورڈ کے بارہ سو طلباء اس پر اندراج ہو گئے تھے اور جلد ہی یہ جال دیگر کالجوں اور یونیورسٹیوں تک پھیل گیا۔ فیس بک کا ابتداء میں نام "دی فیس بک" رکھا گیا ۔ ۲۰۰۵ء کے آخر میں فیس بک رکھ دیا گیا۔۲۰۰۵ء کے آخر میں فیس بک کو برطانیہ میں متعارف کروادیا گیا اور آج فیس بک کی سہولت دنیا کی ۷۰ سے زائد زبانوں میں موجود ہے۔ اس کی کمپنی کا نام ہے۔
جولائی ۲۰۱۱ء میں فیس بک میسنجر لانچ کیا گیا تھا۔ فیس بک کی مصنوعات کے ڈائریکٹر پیٹر مارٹینازی نے ایک بلاگ میں کہا کہ "لوگ ایک دوسرے سے کس طرح منسلک رہتے ہیں اس مقصد کی خاطر میسجنگ بہت اہم ہے۔" لوگوں کو آپس میں رابطہ رکھنے کا تیز تر اور بھرپور طریقہ فراہم کیا گیا۔ اس میں بہتری کے لئے ہر دوسرے ہفتے اپ ڈیٹس کی جاتی ہیں۔
فیس بک کے بانی مارک زکر برگ نے اپنے سوشل میڈیا ویب سائٹ سے پر تشدد مواد ہٹانے کے لئے اور انھیں مانیٹر کرنے کے لئے تین ہزار ملازمتیں دینے کا اعلان کیا۔دنیا بھر میں اس فیس بک کے لائیو اسٹریمینگ فیچر کا غلط استعمال بڑھ گیا۔ جس کے بعد پر تشدد مواد ہٹانے کے لئے ٹاسک فورس کی تیاری شروع کردی۔ مارک زکر برگ نے فیس بک پر جاری پیغام میں کہا کہ " کچھ لوگ فیس بک لائیو پر خود کو اور دوسروں کو نقصان پہنچانے کی ویڈیوز چلا رہے ہیں جو کہ انتہائی ناقابل قبول امر ہے۔"فیس بک کا کہنا ہے کہ "اگر ہم ایک بہتر معاشرے کی تشکیل چاہتے ہیں تو ہمیں ایسی چیزوں پر فوری ردعمل دینا ہوگا اور ہم نے اس پر مکمل قابو پانے کے لئے کام شروع کر دیا ہے"۔ مارک زکربرگ نے کہا " فیس بک ایک سوفٹ وئیر بھی انسٹال کرے گا جو کہ ایسی ویڈیوز کو ڈیلیٹ کر دے گا تاہم صرف سوفٹ وئیر سے یہ کام نہیں کیا جاسکتا ۔ اس کے لئے ماہر افراد کی ضرورت ہے، آئندہ سال ہم پوری دنیا میں اپنی ٹیم میں تین ہزار افراد کو ملازمتیں دیں گے جو کہ ان ویڈیوز کو مانیٹر کرنے کے ساتھ ساتھ انھیں ہٹانے کے لئے کام کریں گے۔" ان کا مزید کہنا تھا کہ " یہ مبصرین ہمیں اس طرح کی چیزیں ہٹانے میں مدد فراہم کریں گے۔
امریکی ماہرین نے اپنی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ دنیا بھر میں سماجی رابطے کی مقبول ترین ویب سائٹ فیس بک پر بلا مصرف اور غیر ضروری وقت گزارنے سے ذہنی دباو بڑھ جاتا ہے۔ امریکہ کی یونیورسٹی آف مشیگن کے شعبہ نفسیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ا یتھن کروس کی سربراہی میں کی گئی تحقیق کے دوران ماہرین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک استعمال کرنے والے ان افراد کو ویب سائٹ پر ان کی سر گرمیوں کی مناسبت سے دو گروہوں میں تقسیم کرکے ان افراد کے رویوں کا مشاہدہ کیا۔ تجربے کے دوران انکشاف ہوا کہ فیس بک محض خبریں اور دوسرے صارفین کا پروفائل دیکھ کر وقت صرف کرنے والے افراد میں جلن کا عنصر دوسرے افراد سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ایسے افراد جو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر فعال ہوتے ہیں اپنے خیالات، تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کرتے اور دوسرے کی پوسٹ پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہیں ان میں حسد، جلن اور چڑچڑاپن کم ہوتا ہے۔
فیس بک کا بڑھتا ہوا غلط استعمال زور پکڑ رہا ہے بچوں کو فیس بک کے غلط استعمال سے روکنے کے لئے والدین کا کردار بہت اہمیت رکھتا ہے۔ والدین کو چاہئے کہ اپنے بچوں کے فیس بک کے استعمال کے وقت نظر رکھیں کہ وہ کوئی غلط سرگرمیوں کو فروغ نہ دے رہے ہوں۔ چھوٹی چھوٹی عمر کے بچے فیس بک پر اپنی پروفائل بنا لیتے ہیں اور اپنے پتے بھی غیر ممالک کے درج کرتے ہیں۔ فیس بک کے غلط استعمال سے بچوں میں اخلاقی کمی واقع ہوجاتی ہے اور اس کمی کے ہونے سے وہ دوسروں کو بھی برُی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ والدین کو چاہئے کہ بچوں کو غلط استعمال کے نقصانات کے بارے میں آگاہ کریں۔
خلاصہ کلام اگر آپ چاہتے ہیں کہ قیامت کے دن آپ کا چہرہ روشن ہو اور آپ اپنی کتاب یعنی نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں پاکر خوش ہوں تو آپ فیس بک کا اچھا استعمال کیجئیے۔ اچھی چیزیں پوسٹ اور اپلوڈ کیجئیے۔ کفریہ و فسقیہ، گناہ و معصیت اور بے حیائی و برائی کی چیزیں پوسٹ کرنے یا لائک، کمنٹ اور شیئر کرنے سے پرہیز کیجئیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیکی کرنے اور برائی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney