تیرے عشق نچایا

قسط نمبر 8

مہک  سمیہ  کو بھی  اب تیار کر دو " نادیہ نے اپنی دوست سے کہا 
 ساری  لڑکیاں  انہی کے کمرے میں جمع تھیں
 آپی  میں یہ مہندی کی تھال  سجا لوں پھر ہو جاؤں گی تیار آرام سے" اس نے موم بتیاں لگاتے ہووے کہا
 سات تو بج گئے ہیں اب بھی تیار نہیں ہوئی تو لیٹ ہو جاؤ گی
  چلو شاباش اٹھو یہ بعد میں کر لینا 
وہ چپ چاپ اٹھ کے اپنے کپڑے تبدیل کرنے واشروم چلی گئی
 تب تک مہک نے بھی اک دو لڑکیوں کو فارغ کر لیا
 آجاؤ سمیہ اب تمہاری باری  وہ کپڑے تبدیل کر کے نکلی تو مہک نے سامنے  پڑی  کرسی  پر بیٹھنے کا اشارہ کیا 
 لگ تو تم یوں بھی حسین ہی رہی ہوں لیکن دیکھنا میکپ میں تو تم غضب ڈھاؤ  گی سمیہ مسکراتے ہووے کرسی پر بیٹھ گئی
 بیس منٹ میں ہی مہک نے اسے کسی دیس کی ملکہ کی طرح تیار کر دیا 
یہ لو اب  دیکھو  ذرا خود کو اس نے شیشہ اس کے سامنے کیا
 اک منٹ کے لئے تو سمیہ بھی حیران رہ گئی یہ میں ہوں کیا میں اتنی اچھی بھی  لگ سکتی  ہوں 
 مہک ہنس دی
ہان سمیہ تم اتنی ہی حسین لگ رہی ہو کے دیکھنے والا تمہارے حسن پر فدا ہو جائے گا
  وہ اٹھ کر ڈریسنگ کے سامنے آ کے  کھڑی  ہو گئی وہ مجھے یوں دیکھ  کر کیا کہے گا کیا میں اسے یوں اچھی لگوں گی وہ حیران تو ضرور ہوگا سمیہ  سوچ کر مسکرا دی
پھر اس نے اک نظر گھڑی  کو دیکھا جہاں اب آٹھ بج رہے تھے یوسف چونکنے کے لئے تیار ہو جاؤ اس  نے دل ہی دل میں اسے مخاطب کیا  
 -----------------------------------------------------
کمال صاحب  اور ہاجرہ  بیگم اسے ائیرپورٹ سے کسی لڑکی کے ساتھ نکلتا دیکھ کر چونک گئے 
 وہ خوشی  سے انہی کی طرف بڑھ رہا تھا ہاجرہ  بیگم نے آگے  بڑھ کر اسکا ماتھا  چوم لیا
 ماہم  نے انہیں سلام کیا پر انہوں نے سوالیہ نظروں سے یوسف کو دیکھا وہ کچھ شرمندہ سا ہو گیا
 مما یہ ماہم  ہے میری دوست اسے یہاں کی شادیاں دیکھنے کا شوق تھا اس لئے  ساتھ لایا  ہوں انہوں نے مسکرا کے ماہم  کو گلے لگای
ا یوسف کمال صاحب کے گلے لگ گیا چلو اب جلدی سے گھر چلو پھر مہندی کے لئے بھی جانا ہے کمال صاحب  که  کر گاڑی  کی طرف بڑھ گئے ہاجرہ  بیگم بھی انہی کے ساتھ ہو لیں
 یوسف سیم نہیں ای تمہیں لینے مجھے تو لگا تھا وہ سب سے پہلے یہاں موجود ہو گی
 نادیہ آپی کی شادی ہے نہ وہ وہیں ہوگی 
 یوسف کو بھی غصہ تو آ رہا تھا کے نہ وہ جاتے وقت ائی  تھی اور نہ ہی  اب ائی  پر ماہم  کو تو نہیں بتا سکتا تھا نہ اس لئے یہی کہنا پڑا
جب وہ سب گھر پہنچے تو  سعدیہ بیگم بھی ماہم کو دیکھ کر حیران ہوئیں
 پہلا خیال ہی ان کے دماغ میں سمیہ کا آیا  شائد اسی لئے سمیہ یوسف سے شادی کرنے پر راضی نہیں ہو رہی تھی
 وہ ہاجرہ بیگم کے پاس کچن میں آ گیں جو  انکے پینے کے لئے کولڈ ڈرنکس گلاسسس میں ڈال رہی تھیں
  یہ لڑکی کون ہے بھابی"
 یوسف کی کوئی دوست ہے شادی میں شرکت کے لئے ای ہے"
 مجھے تو معاملہ کچھ اور لگ رہا ہے ورنہ ہمارا یوسف اور کسی لڑکی کو ساتھ لے کر اے ناممکن"
 ہان سعدیہ در تو مجھے بھی لگ رہا ہے کہیں بات دوسری نہ نکلے
 دونوں خواتین پریشان ہو گیں 
 اچھا چھوڑیں چلیں جلدی سے انکو جا کر یہ دے اتے ہیں تاکہ پھر مہندی کے لئے بھی نکلیں سعدیہ بیگم نے انکے ہاتھ سے ٹرے پکڑ لیا اور باہر آ گیں 
یوسف تم لوگ بھی آؤ گے مہندی پر یا ابھی آرام کرو گے
 نہیں چچی فلائٹ میں بہت سو لیا اب آپ کے ساتھ ہی چلیں گے سیم بھی وہیں ہے نہ اس نے نہ چاہتے ہووے بھی پوچھ لیا
 ہان وہ تو دو دن سے وہیں ہے اچھا چلو اب جلدی سے جا کر تیار ہو جاؤ ہم بس نکلنے ہی والے ہیں"
 یوسف اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا 
ماہم بیٹا اپ بھی جا کر تیار ہو جاؤ وہ سامنے والا کمرہ گیسٹ روم ہے 
جی اچھا وہ بھی اپنا پرس اٹھا کر چلی گئی
-------------------------------------------------------
مما میں کسی لگ رہی ہوں 
سعدیہ اور ہاجرہ بیگم کمال صاحب کے ساتھ پہلی گاڑی میں ہی آ گیں تھی یوسف اور ماہم پچھلی گاڑی میں تھے
 ماشاللہ میری بیٹی بہت سے بھی زیادہ پیاری لگ رہی ہے آج"
 وہ انکے گلے لگ گئی
 سمیہ ادھر آؤ ہم گانے شروح کر رہے ہیں پیچھے سے اک لڑکی نے آواز دی 
اچھا مما میں چلتی ہوں وہ که کر باقی لڑکیوں کی طرف بڑھ گئی
 ماشاللہ سعدیہ بیگم نے اک دفع پھر اسے دیکھ کر دل میں کہا
 کچھ ہی دیر میں یوسف بھی ماہم کے ساتھ پہنچ گیا 
اسکی متلاشی نگاہیں وہاں اتے ہی سیم کو ڈھونڈنے لگ گیں
 مہندی کا سارا انتظام لان میں ہی کیا گیا تھا لان کے بیچ میں اسٹیج سجایا گیا تھا اور اسٹیج کے سامنے لڑکیاں نیچے بیٹھ کر ڈھولک بجا رہی تھیں اور گانے گا رہی تھیں یوسف کو وہ لان میں کہیں نظر نہیں ای شائد اندر ہو وہ سوچ کر اک کرسی پر بیٹھ گیا
 ماہم ہاجرہ بیگم کے ساتھ تھی
 اک دفع پھر اس نے سارے لان پر نگاہ دوڑائی پر ناکام ہی لوٹی شائد اس لئے کے وہ ووہی اپنے چھوٹے چھوٹے بالوں والی لڑکوں کے حلیے میں پھرنے والی سیم کو ڈھونڈ رہا تھا پر وہاں تو سمیہ تھی اپنی تمام تر خوبصورتی کے ساتھ
--------------------------------------------------------------
سمعیہ اب تم کوئی گانا  سناؤ مہک نے کہا
" میں پر مجھے تو کوئی گانا پورا اتا ہی نہیں"
 کوئی بات نہیں جتنا اتا ہے اتنا سنا دو
 تم ہی بتا دو کون سا سناؤں "
 نادیہ کے  لئے کوئی سا بھی گا دو
 اچھا ٹھیک ہے اس نے گانا  شروح کیا پردیسی پردیسی جانا نہیں ہمیں چھوڑ کر ہمیں چھوڑ کر پردیسی میرا یار وعدہ نبھانا ہمیں یاد رکھنا کہیں بھول نہ جانا پردیسی پردیسی جانا نہیں آواز تھی کے کوئی جادو تھا یوسف کے کانوں میں جیسے رس سا گھل گیا ہو لڑکی کی اس کی طرف پشت تھی اس لئے وہ اسکا چہرہ نہیں دیکھ پایا پر آواز سیم جیسی ہی لگی لیکن پھر خود ہی اپنے آپ کی نفی کی سیم اس حلیے   میں اور  گانا  ناممکن
 واہ جی جتنی آپ خود خوبصورت ہیں اتنی ہی پیاری آپکی آواز ہے اک لڑکی نے کہا  
ویسے یہ گانا نادیہ کے لئے تو نہیں تھا کس پردیسی کے لیا گایا تم نے  مہک نے سرگوشی کی وہ بس مسکرا دی 
 چلو لڑکیو اٹھو اب نادیہ کو لے آؤ باہر" وہ سب اٹھ کھڑی ہوئیں
------------------------------------------------------------------
سمیہ تم اور مہک دوپٹے کو اگے سے پکڑنا اور اگر میں گھبراہٹ کے مارے گرنے لگی  تو سنھبال لینا
 نہیں یار یہ  سنھبالنے والا کام تو قاسم بھائی ہی کریں گے مہک نے شرارت سے اسکے دولہے کا نام لیا باقی سب ہنس دی
 لڑکیوں اب آؤ بھی باہر سے کسی کی آواز ای
 سب نے اک دفع پھر اپنا اپنا میکپ ٹھیک کیا سمیہ اور مہک نے دوپٹے کا  اک اک کونہ تھاما بیچ میں  کچھ شرماتی اور کچھ گھبراتی سی نادیہ کھڑی ہو گئی کمرے سے نکلتے ہی مووی میکر سامنے آ گیا اور مووی بنانے لگا فلیش انکے چہروں کو اور بھی زیادہ روشن کر رہی تھی 
ماشاللہ دلہن کتنی پیاری لگ رہی ہے یوسف نے اک عورت کی بات سن کر موبائل  سے سر اٹھایا 
نادیہ آپی واقعی پیاری لگ رہی تھیں
  یہ دلہن کے دائیں طرف کون ہے اسی عورت نے پوچھا
 یوسف نے اب کہ دائیں طرف کا کونہ تھامے لڑکی کو دیکھا ارے یہ اپنی سعدیہ کی چھوٹی بیٹی ہے بھلا سا کوئی نام تھا اب یاد نہیں آ رہا
 یوسف نے اتنا ہی سنا پھر ساری دنیا میں اس کے لئے جیسے خاموشی چھا گئی پلکوں نے جھپکنے سے انکار کر دیا ہونٹوں نے  آہستہ سے اسکا نام لیا "سی
کیا یہ واقعی سیم ہے میری سیم لیکن یہ تو
 اس نے سر جھٹکا
 پھر نظر اٹھا کر اسے دیکھا یہ کیسے ہو سکتا ہے اس کی نظریں سیم پر جم سی  گیں تھیں وہ سیم کو پاگلوں کی طرح دیکھ رہا تھا بلکل ایسے جیسے کوئی مردہ اٹھ کر آپکے سامنے کھڑا ہو جائے اور اپ اسے جس طرح دیکھو یقین ہی نہ اے کے ایسا بھی ہو سکتا ہے
 سمیہ اور باقی  لڑکیاں نادیہ کو اسٹیج پر بیٹھا چکی تھیں وہ نیچے اتر کر سعدیہ بیگم کے پاس آ گئی
 مما تائی وغیرہ سب آ گئے ہیں کیا اس نے ڈھکے چپے لفظوں میں یوسف کا پوچھا اور سعدیہ  سمجھ  بھی گیں
 ہان بیٹا سب یہیں ہیں یوسف کی اک دوست بھی ای ہے
 یوسف کی دوست  اک لمحہ بس اک لمحہ لگا تھا اسکی ساری خوشی غائب ہوتے ہووے
 آنکھوں کے سامنے فوراً ہی یوسف کی اس لڑکی کے ساتھ کھنچی گئی تصویر آ گئی کانوں میں اس دن کی فون کال کی باتیں گونجی
 اسے خود پر ہنسی ای وہ کیسے خود کو اتنا پاگل بنا سکتی ہے سب کچھ کیسے بھول سکتی ہے نہیں میں بلکل نہیں ہاروں  گی اس دل کے سامنے یوسف کے سامنے اس نے آنکھوں میں ہے آنسوں کو بہت مشکل سے اندر اتارا 
شکر  تھا مما کسی عورت سے باتوں میں لگ گئی تھیں ورنہ سوال ضرور کرتیں
 یوسف ابھی بھی اسے  ہی تکے جا رہا تھا  یقین تھا کے انے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا وہ اندر چلی گئی اور آنکھوں سے غائب ہوئی تو وہ ہوش کی دنیا میں لوٹا یہ سمیہ ہی تھی اس نے خود سے کہا اور اندر کی طرف بھگا
 ابھی اندر قدم رکھا ہی تھا کے ماہم سے ٹکرا گیا 
آہ ! ماہم کی آواز نکلی
 ام ریلی سوری  تم ٹھیک تو ہو ماہم ہان ٹھیک ہوں اس نے مسکرا کر کہا 
سمیہ نے یوسف کو ماہم سے ٹکراتے اور اب باتیں کرتے دیکھ لیا تھا ماہم کو بھی وہ پہچان گئی تھی
 اسے لگا تھا وہ یوسف کو اتنے عرصے بعد دیکھ کر بہت خوش ہوگی اور سری ناراضگی خود ہی مٹ جائے گی پر نہیں ایسا نہیں ہوا تھا
 اسے یوسف کو دیکھ کر خوشی کم اور غصہ زیادہ آ رہا تھا یوسف میں بھی کوئی عام سی لڑکی نہیں ہوں جو اپنے عشق کو تم پر ظاہر کر دوں ٹھیک ہے اس کے ساتھ خوش ہو تو ایسا ہی سہی میں بھی اپنی اداسی اب تم پر ظاہر نہیں کروں گی
 وہ سوچ کرباہر کی طرف چل دی
 پر وہ انکے ساتھ سے گزر ہی رہی تھی کے یوسف کی اس پر نظر پر گئی
 سیم اس نے پکارا وہ ناچاہتے ہووے بھی روک گئی
  پلٹ کر اسے دیکھا 
یوسف کا تو دل دھڑکنا بھول گیا بہت پیاری لگ رہی ہو وہ خود کو کہنے سے روک نہ پایا 
مجھے پتا ہے لیکن پھر بھی بتانے کا شکریہ لہجے میں اجنبیت تھی 
 ماہم بھی اسے دیکھ کر حیران ہوئی تھی کیا یوسف کی سیم اتنی پیاری ہے
 سیم  یہ ماہم ہے یوسف نے تعارف کروایا 
ارے یوسف تم رہنے دو میں خود ہی اپنا تعارف کروا دیتی ہوں
 میرا نام ماہم ہے میں یوسف کی دوست ہوں اور اپ.. اس نے انجان بن کر پوچھا جب کہ وہ اسے پہچان چکی تھی
 یہ سیم ہے میری دوست یوسف جھٹ بولا
 پر سمیہ کو ناگوار گزرا یوسف تم رہنے دو میں بھی اپنا تعارف خود کروا سکتی ہوں اس نے اک نظر یوسف کو دیکھ کر کہا 
ماہم میں سمیہ ہوں اور میں بھی یوسف کی دوست تھی اس نے سمیہ اور تھی پر زور دیا
 اچھا  اپ لوگ انجوے کریں میں چلتی ہوں وہ جلدی سے باہر نکل گئی
 یوسف مجھے تو لگتا ہے تم تنہا ہی محبت کا شکار ہو اس طرف تو ایسی کوئی بات ہے ہی نہیں ماہم نے اس کے جانے کے بعد کہا
 یوسف مسکرا دیا اسکی سمجھ میں اصل بات آ گئی تھی

جاری ھے


 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney