تیرے عشق نچایا

 قسط 9 آخری

سمیہ لان کے اک کونے میں آ کر بیٹھ گئی
 یہاں روشنی بھی کم تھی اس لئے وہ آرام سے رو سکتی تھی یوسف کو کسی اور کے ساتھ دیکھنا بہت تکلیف دہ تھا اور اس وقت وہ اسی تکلیف سے گزر رہی تھی میں کیسے برداشت کروں گی ان دونوں کو ساتھ  آخر کیسے وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی
 یوسف ماہم سے  معذرت کر کے سیم کے پیچھے آیا پر وہ اسے لان میں کہیں دکھائی نہیں دی بہت ڈھونڈنے کے بعد آخر وہ اسے اک تاریخ گوشے میں بیٹھی مل گئی 
وہ بغیر آواز کیے اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا

اتنارؤ گی تو میکپ خراب ہو جائے گا
 سمیہ نے چونک کر سر اٹھایا اور پھر جلدی سے اپنے آنسو صاف کیے اور  مونھ دوسری طرف کر کے بیٹھ گئی
 ویسے کیا اس تبدیلی کی وجہ پوچ سکتا ہوں نہیں نہیں پوچ سکتے اس نے مونھ اس کی طرف نہیں کیا 
یوسف ہنس دیا ویسے تم یوں بلکل اچھی نہیں لگ رہی
 اب کی بار سمیہ نے چہرہ اس کی طرف کیا ہان نہ اب میں کیوں اچھی لگنے لگی
 اس سے مزید رہا نہ گیا شکایت کر ہی بیٹھی

تمھیں ماہم کیسی لگی"
 اس سے کیا فرق پڑتا ہے کے مجھے وہ کیسی لگی فرق تو اس سے پڑتا ہے کے تمھیں وہ کیسی لگی "
 یوسف مسکرا دیا 
یعنی تمھیں میری سوچ سے فرق پڑتا ہے"
 ہرگز نہیں مجھے بھلا کیوں  پڑے  گا ہان البتہ تایا تائی کو ضرور اعترض ہوگا

کس بات پر اس نے حیرانی سے پوچھا
 تمہاری اس سے شادی پر ویسے اگر میری راۓ مانگو تو اس سے شادی نہ کرو مجھے تو وہ تمہاری ساتھ کچھ خاص نہیں لگی اور تایا تائی بھی تمہاری کسی باہر کی لڑکی سے شادی نہیں کریں گے اس نے چھپے لفظوں میں دل کی بات کہ دی
 یوسف کا قہقہ گونجا
 لیکن پھر اسے ستانے کے لئے بولا تم فکر نہ کرو انہیں منانا میرا کام ہے بس ذرا لڑکی سے اقرار کروانا ہے

سمیہ کا دل چاہا یوسف کے مونھ پر اک تھپڑ مارے
 بڑا آیا لڑکی سے اقرار کروانے والا میں جو اتنے سالوں سے اسے چاہتی ہوں وہ نظر نہیں آیا
 لیکن کڑا ضبط کر کے بولی ٹھیک ہے منا لینا مجھے کیا وہ کہ کر اٹھنے لگی 
کیوں کے آنکوں میں اک دفع پھر آنسو بھر رہے تھے
 لیکن یوسف نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا سمیہ نے حیرانی سے اسے دیکھا بیٹھو مجھے بات کرنی ہے اس نے سنجیدگی سے کہا
 سمیہ  اسکی آنکھوں میں اپنا عکس دیکھ کر بیٹھ گئی

یوسف نے اک بھرپور نظر اس حسن کی شہزادی پر ڈالی 
 اس نے سکن کلر کا پیروں تک اتا فراک پہن رکھا تھا بالوں کو اپر سے سٹریٹ اور نیچے سے تھوڑا سا کرل کیا ہوا تھا لال رنگ کا گوٹے دار دوپٹہ کہندوں پر تھا
 تمہارے بال بہت خوبصورت ہو گیے ہیں اس نے میں ساختگی میں کہا
 تمھیں یہ بات کرنی تھی"
 وہ ہوش میں آ گیا اور پھر مسکرا دیا 
...نہیں مجھے تمھیں بتانا ہے کے مجھے
 یوسف تم یہاں ہو میں کب سے تمھیں ڈھونڈ رہی ہوں ماہم نے آ کر کہا سمیہ کا دل چاہا اسے وہاں سے کسی طرح غائب کر دے
یوسف کو بھی اسکی مداخلت پسند نہیں ای تھی پر پھر بھی تحمل سے پوچھا
 کیا ہوا ہے ماہم کوئی مسلہ ہے کیا ہان  نہ میں بور ہو رہی ہوں میں نے تمھیں وہاں کتنی کمپنی دی تھی لیکن تم مجھے یہاں بلکل بھی انجوے نہیں کروا رہے
اس نے سمیہ کو نظر انداز کر کے کہا
 سمیہ تم ماہم کو کمپنی دو میں ذرا باقی سب سے مل لوں
 سمیہ نہ چاہتے ہووے بھی  اٹھ گئی  آؤ ماہم وہ کہ کر اگے اگے چلنے لگی ماہم بھی ساتھ ہو لی
 تم یوسف کی کوئی ریلاٹو بھی ہو کیا 
"ہان میں اسکی کزن ہوں"
 اچھا ویسے تو  یوسف  سبھی کا ذکر کرتا تھا اک تمہاری ہی بات کبھی نہیں کی بس سرسری سا بتایا تھا کے اسکی کوئی کزن بھی ہے
 سمیہ کو سن کر برا لگا یعنی میں اس کے لئے اتنی غیر اہم ہوں
 تمھیں پتا ہے میں یوسف کی سب سے اچھی دوست ہوں
 وہاں وہ سارا وقت میرے ساتھ ہی رہتا تھا بلکہ  اس کے یونی فیلوؤس تو مجے اس کی گرل فرینڈ ہی سمجھتے تھے
 سمیہ سے مزید برداشت نہیں ہو رہا تھا
 ماہم تم یہاں بیٹھو میں ابھی ای  وہ جلدی سے  وہاں سے  ہٹ گئی
 کیوں کے  اگر تھوڑی دیر بھی وہاں اور رکتی تو ماہم کا منہ تھپڑوں سے لال کر دیتی  ماہم اس کے جانے کے بعد مسکرا دی

پورے مہندی کے فنکشن میں وہ ماہم کی باتیں  ہی سوچتی رہی
 یوسف سے بھی کینچی کھنچی رہی اسی طرح بارات اور ولیمہ بھی گزر گیا یوسف اس کی ناراضگی سمج رہا تھا پر فلحال چپ تھا
-----------------------------------------------
مما اب تو شادی بھی ختم ہو گئی یہ ماہم واپس کب جائے گی اس نے چاۓ پیتے ہووے پوچھا 
ابھی تین دن ہی تو ہووے ہیں انہیں آے تمھیں انکے جانے کی اتنی جلدی کیوں پڑ گئی"
 نہیں مجھے کیا جلدی ہوگی مما میں تو ویسے ہی پوچ رہی تھی"
 تمھیں پتا ہے بیٹا یہ جو ماہم ہے نہ اسے کینسر ہے"
 کیا سمیہ بہت حیران ہوئی اپ کو کس نے بتایا "
 ہاجرہ بھابی بتا رہی تھیں"
 کینسر ہے تو ادھر کیا کر رہی ہے جا کر علاج کرواۓ"
 وہ علاج کروانے سے ابھی ڈر رہی ہے یوسف بیچارہ رو بہت کوشش کر رہا ہے کے مان جائے پر وہ مانتی ہی نہیں
سمیہ کو بھی اس پر ترس آیا 
اچھا مما میں جا کر ذرا اس سے مل آؤں وہ چاۓ ختم کر کے انکی طرف چلی گئی
 اسلام و علکیم تائی
 وعلیکم اسلام کیسی ہو بیٹا
 میں ٹھیک ہوں اصل میں میں ماہم سے ملنے ای تھی کہاں ہے وہ"
 وہ تو گیسٹ روم میں ہے وہیں جا کر مل لو"
 جی اچھا وہ گیسٹ روم کی طرف چلی گئی
------------------------------------------
نہیں میں یوسف کے ساتھ ہی آؤں گی.... ارے نہیں یار اسے ابھی نہیں پتا چلا ہمارے جھوٹ کا پر میں سوچ رہی تھی کے اسے کبھی نہ کبھی تو پتا چلنا ہی ہے اس لئے علاج کا ناٹک بھی شرح کر دوں.... پھر کیا میں اس سے کہوں گی کے میری آخری خواھش پوری کر دو اور مجھ سے شادی کر لو سمپل... نہیں یار دیکھنا میں منا ہی لوں گی اسے
سمیہ پر حیرتوں کا پہاڑ ٹوٹا وہ جرمن میں بول رہی تھی پر اتنی جرمن تو سمیہ نے بھی سیکھی ہوئی تھی کے اس کی بات سمجھ پاتی
 وہ شدید غصے میں اندر گئی ماہم اسے دیکھ کر حیران ہوئی پھر فون کان سے ہٹا کر بند کیا
 کیسی ہو سیم? سمیہ نے کھنچ کر اسکے مونھ پر تھپڑ مارا
-----------------------------------------------------------------
مما میں ذرا سمیہ کی طرف جا رہا ہوں وہ انکو بتانے آیا
 وہ تو یہیں ہے ماہم کے کمرے میں گئی ہے ابھی"
 ماہم میں کمرے میں...  وہ حیران ہوا
 میں جا کر دیکھتا ہوں وہ کہ کر گیسٹ روم کی طرف چل دیا
ماہم تم جیسی لڑکی کو تو واقعی مر جانا چاہیے ہمت کیسے ہوئی تمہاری یہ سب کرنے کی... یوسف کو پھنسانے کی
 پر میں نے کسی کو نہیں پھاسیا سمیہ
 اسے معلوم نہیں تھا کے سمیہ کو سب پتا چل چکا ہے اس لئے معصومیت سے بولی
 میں پہلی اور آخری بار کہ رہی ہوں یوسف سے دور رہو ورنہ مونھ طور دوں گی تمہارا
  یوسف اندر داخل ہو چکا تھا اور ان دونوں کی باتیں بھی سن لی تھیں
 سمیہ یہ سب کیا ہو رہا ہے"
یوسف کیا تمہارے گھر یوں ہی ہوتا ہے گھر اے مہمانوں کو یوں بے عزت  کیا جاتا ہے"
  آخر ہوا کیا ہے"
 میں اپنی ڈاکٹر سے اپنی دوائی کی بات کر رہی تھی کے اچانک  سیم نے آ کر مجھے تھپڑ مرا اور پتا نہیں کیا کیا کہے جا رہی ہے اس نے روتے ہووے بتایا
 یوسف نے حیرانی سے سمیہ کو دیکھا
 ڈاکٹر سے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے  میں ہی تمھیں زہر دے دیتی ہوں مرنے میں آسانی ہوگی کب تک تکلیف برداشت کرو گی سمیہ کا غصہ کم ہی نہیں ہو رہا تھا
 سمیہ یہ کیا بکواس کر رہی ہو یوسف نے غصے سے کہا
 بکواس میں نہیں یہ تمہاری سہیلی کرتی ہے میں نے خود سنا ہے اسے کسی سے فون پر کہتے ہووے کہ اسے ...ابھی اس کی بات جاری تھی کے ماہم بیہوش ہو کر گر گئی
 یوسف جلدی سے اسے اٹھانے کے لئے اگے بڑھا 
واہ اب اک نیا ڈرامہ
 سمیہ چپ کر جاؤ تمھیں معلوم بھی ہے اسے کینسر ہے"
 بکواس کرتی ہے یہ سارا ناٹک ہے اسکا"
 تم  جاؤ یہاں سے سیم اس نے غصے سے کہا اور ماہم کو ہوش لانے کی کوشش کرنے لگا
 یوسف تم مجھ سے  ایسے بات کیسے کر سکتے ہو میں تمھیں بتا رہی ہوں نہ یہ جھوٹی ہے"
 سمیہ میں نے کہا نہ جاؤ "
وہ روتی ہوئی وہاں سے چلی گئی
--------------------------------------------
یوسف ماہم کے پاس ہی بیٹھا رہا کچھ ہی دیر میں اسے ہوش آ گیا
 ماہم میں ابھی آیا اسے سمیہ سے بات کرنی تھی
 یوسف میری طبیعت خراب ہو رہی ہے تم یہیں رہو"
 ٹھیک ہے پھر چلو ہسپتال چلتے ہیں میں مزید تمہاری ضد نہیں مانوں گا
 وہ کہ کر پچتائی
 نہیں اتنی بھی خراب نہیں ہے میں بس آرام کروں گی تم جاؤ"
 پر ماہم
 پلیز یوسف وہ خاموشی سے اٹھ کر باہر آ گیا 
---------------------------------------
سمیہ بگیچے میں بیٹھی رو رہی تھی
 سیم یہ تم نے کیا حرکت کی ہے اس نے استفار کیا 
بس اتنا بتاؤ تمھیں مجھ پر عتبار ہے کے نہیں سمیہ نے آنسو صاف کر کے پوچھا
 ہے"
 وہ اس کے پاس ہی بیٹھ گیا
 جو کہوں گی اس پر عتبار کرو گے اس نے یوسف کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا
 کروں گا"
 ٹھیک ہے تو سنو میں نے خود ماہم کو کسی سے بات کرتے سنا تھا کے اسے کینسر نہیں ہے اس نے صرف تمھیں پانے کے لئے جھوٹ بولا ہے وہ تمھیں اموشنل بلیک میل کر کے تم سے شادی کرنا چاہتی ہے یوسف کے لئے یہ انکشاف حیران کن تھا پر جلد ہی حیرانی ہی جگہ  غصے نے لے لی
 آؤ میرے ساتھ یوسف نے اس کا ہاتھ پکڑا اور ماہم کے کمرے میں لے آیا
 -----------------------------------------------
وہ اپنا پاسپورٹ پرس میں رکھ رہی تھی کیوں کے وہ جانتی تھی اسکا بھانڈا پھوٹ چکا ہے
 ماہم تم نے یہ کیوں کیا یوسف نے غصے سے پوچھا
 یوسف میں تم سے محبت کرتی ہوں اس لئے یہ سب کیا میں صرف تمہارے قریب رہنا چاہتی تھی وہ اس کے پاس ای
 سمیہ نے اگے بڑھ کر اک اور تھپڑ اسکے منہ پر مارا
 خبردار جو اور بکواس کی دفع ہو جاؤ ہمارے گھر سے سمیہ کا بس نہیں چل رہا تھا اس کا قتل کر دے
 سمیہ کنٹرول یور سلف یوسف نے اسے پیچھے ہٹایا 
اے لڑکی تمھیں کیا لگتا ہے تم مارتی رہو گی اور میں مار کھاتی رہوں گی اس نے اگے بڑھ کر سمیہ کو تھپڑ مارنا چاہا لیکن یوسف نے اگے بڑھ کر اسکا ہاتھ پکڑ لیا سیم کو نقصان پہچانے کا سوچنا بھی مت ورنہ آج سے پہلے جو تمہاری جان بچانا چاہتا تھا وہی اب تمہاری جان لے لے گا
 سیم حیرانی سے یوسف کو دیکھتی رہی
 اسے وہ بچپن کا یوسف یاد آ گیا تمہارے لئے بہتر یہی ہے کے چپ چاپ یہاں سے اور ہماری زندگی سے دفع ہو جاؤ 
.... پر یوسف سنا 
نہیں تم نے دفع ہو جاؤ وہ غرایا 
پر یوسف میں تم سے محبت کرتی ہوں اس نے روتے ہووے کہا 
 یہ میرا مسلہ نہیں ہے وہ کہ کر باہر چلا گیا
 سمیہ بھی اک نظر اس پر ڈال کر بھر نکل ای
---------------------------------------------
ڈاکٹر اسے ہوش آیا کیا وہ  ای سی یو کے باہر کھڑے تھے
 ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں پر کٹ بہت گہرا ہے اس لئے کچھ کہا نہیں جا سکتا اپ بس دعا کریں ڈاکٹر کہ کر اگے بڑھ گیا
وہ سب پریشانی سے وہیں کھڑے رہ گئے ماہم نے ان دونوں کے جانے کے بعد اپنی نبض کاٹ لی تھی یوسف جب دوبارہ اس کے کمرے میں آیا تو اسے بیہوش پایا اس لئےجلدی سے اسے ہسپتال لے آیا 
سیم اور کمال صاحب بھی ساتھ تھے پولیس کو کمال صاحب  نے ہی سنھبال لیا تھا
 یوسف نے ماہم کے باپ کو بھی کال کر دی تھی اور انہی سے پتا چلا تھا کے وہ  سائکیک پیشنٹ تھی
 وہ سب دل سے  اس کی زندگی کے لئے دعا گو تھے غصہ اپنی جگہ پر جان زیادہ قیمتی تھی 
 کچھ ہی دیر میں ڈاکٹر دبارہ باہر آیا 
سوری ہم نے اپنی پوری کوشش کی پر انہیں بچا نہیں پاۓ
 سمیہ کی آنکھوں سے آنسو بہ نکلے اسے اپنے کے پر افسوس ہونے لگا 
یوسف کو بھی بہت دکھ ہوا پر اب پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا کیوں کے جانے والا تو جا چکا تھا
کچھ ہی گھنٹوں بعد ماہم کے پاپا بھی آ گیے انہوں نے ڈیڈ باڈی کو واپس لے جانے کا فیصلہ کیا اس طرح وہ اس کے نمازے جنازہ سے بھی محروم رہ گئے
 -----------------------------------------------------
ماہم کو مرے پورا مہینہ گزر گیا تھا
 یوسف نے یونی چھوڑ کر یہیں کمال صاحب کا بزنس جوائن کرنے کا فیصلہ کیا تھا سب کچھ معمول کی طرف لوٹ آیا تھ
 سمیہ ابھی بھی یوسف سے  پہلے کی طرح  بات نہیں کرتی تھی اس کے دل میں یہ بات اب بھی کانٹے کی طرح چھبتی تھی کے یوسف اس سے محبت نہیں کرتا
 بس عام سا دوست سمجھتا ہے
-------------------------------------------------
 صبح سے ہی گھر میں اسے غیر معمولی چہل پہل نظر آ رہی تھی
  مما ہر چیز کی اچھے سے صفائی کروا رہی تھیں پاپا بھی گھر پر تھے اور بھی کسی خفیہ کام میں مصروف تھے
 مما آج کچھ خاص ہے کیا نہیں تو  تمھیں ایسا کیوں لگا" ویسے ہی خیر چھوڑیں میں یہ بتانے ای تھی کے میں ذرا پالر جا رہی ہوں"
 ہان ضرور جاؤ  بلکہ میں بھی یہی کہنے والی تھی ایسا کرنا فیشل کروا لینا اور بالوں کی ٹرمنگ بھی اچھا ٹھیک ہے وہ کہ کر چلی گئی
 اپائنٹمنٹ  نہ  لینے کی وجہ  سے پارلر میں اسے دیر لگ  گئی
 شام کو وہ تھکی سی گھر ای اور سیدھا اپنے کمرے میں چلی گئی
 ابھی اسے لیٹے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کے یوسف اس کے کمرے میں آ گیا
 سمیہ اٹھو جلدی سے پہلے  تو وہ اسے اپنے کمرے میں دیکھ کر حیران ہوئی
 یوسف تم ذرا تمیز سیکھ لو کسی کے کمرے میں یوں ہی نہیں گھس جاتے اس نے بستر سے اٹھ کر ڈانٹا 
میں کسی کے کمرے میں تو نہیں آیا میں تو تمہارے کمرے میں آیا ہوں اس نے مسکرا کر کہا
 بات کیا ہے کیوں آے ہو"
 تمھیں کچھ دکھانا ہے آؤ میرے ساتھ وہ کہ کر باہر چلا گیا
 ناچار سیم کو بھی اس کے پیچھے جانا پڑا
 اب  روکو اس نے بگیچے کے سامنے آ کر کہا 
آخر دکھانا کیا ہے"
 آنکھیں بند کرو"
 پاگل ہو کیا میں نے کہا نہ بند کرو آنکھیں"
 نہیں کروں گی"
 تمھیں سیدھی طرح کوئی بات سمجھ ہی نہیں اتی اس نے اپنا ہاتھ اسکی آنکوں پر رکھ دیا 
 اچھا کرتی ہوں ہاتھ تو ہٹاؤ
 یہ ہوئی نہ بات سمیہ نے آنکھیں بند کر لی
 یوسف اسکا ہاتھ پکڑ کر سیدھا چلاتا گیا
 اب کھولو سمیہ نے آہستہ سے آنکھیں کھولی
 پر سامنے کا منظر دیکھ کر آنکھیں حیرانی سے مزید کھل گیں وہ جھولا جس پر وہ بچپن سے جلھولتے آے تھے
 اس درخت پر بندھا تھا جس کے نیچے وہ گھنٹوں بیٹھا کرتے تھے اور یہ دونوں چیزیں روشنیوں میں نہا رہی تھیں
... یوسف یہ سب 
... تمہاری لئے سیم
 بیٹھو یہاں اس نے جھولے کی طرف اشارہ کیا 
سمیہ ابھی بھی حیران تھی
 بیٹھو نہ وہ یوسف کو دیکھتے ہووے بیٹھ گئی
 یوسف اس کے پیچھے آ کر کھڑا ہوگیا اور آہستہ آہستہ جھولا جھلانے  لگا 
تمھیں پتا ہے سیم مجھے بچپن سے ہی تمھیں یوں جھولا جھولنا بہت پسند رہا ہے
 کاش تمھیں بچپن سے میں بھی پسند رہی ہوتی سیم نے سوچا 
اک اور بات بتاؤں بچپن سے ہی تم بھی مجھے پسند رہی ہو سمیہ نے حیرانی سے گردن مور کر اسے دیکھا وہ مسکرا رہا تھا
جھوٹ اس نے چہرہ سامنے کر لیا
 تمھیں ماننا ہی پڑے گا سیم کے میں تمھیں بچپن سے ہی پسند کرتا ہوں بلکہ نہیں محبت کرتا ہوں بلکہ یہ بھی نہیں میں تو تم سے عشق کرتا ہوں
 پھر جھوٹ
 وہ پیچھے سے ہٹ کر اس کے سامنے آ  کر بیٹھ گیا 
مجھے سے شادی کرو گی 
نہیں سمیہ نے منہ دوسری طرف کر لیا آنکوں میں آنسو آ گئے
 پر میں تو شادی ضرور  کروں گا اور تم سے ہی کروں گا"
 اتنا ہی  شوق تھا مجھ سے شادی کرنے کا تو تائی کو کیوں منع کیا تھا تم نے"
 اب کی بار اس کی آنکوں میں دیکھ کر سوال کیا میں نے کب کیا وہ حیران ہوا پھر اچانک ہی اسے یاد آیا  وہ مسکرا دیا
 تم چپ کر باتیں سن رہی تھی"
 نہیں میں تو تمھیں منانے ای تھی"
 میں نے غصے میں کھا تھا وہ سب سیم مجھے بہت برا لگا تھا جب سرمد کا رشتہ تمہارے لئے آیا تھا مجھے لگا اس میں تمہاری مرضی بھی شامل ہے  پتا نہیں کیوں میں نے وہ سب سوچا جب کہ میں جانتا تھا کے تم صرف میری ہو ہو نہ اس نے بڑے پیار سے پوچھا 
 سمیہ کا دل چاہا چلا چلا کر ہان کہے پر اب جب کہ لڑکیوں جیسی بن ہی گئی تھی تو ذرا لڑکیوں جیسے نخرے بھی تو دکھانے تھے اس لئے نہیں بول دیا 
 یوسف اس کے سامنے سے اٹھ کر پھر اسکے پیچھے آ کر کھڑا ہو گیا  میں آخری بار پوچ رہا ہوں مجھ سے محبت ہے کے نہیں
 سمیہ نے اک دفع پھر مسکرا کر نفی میں سر ہلایا یوسف بھی مسکرا دیا
سیدھی بات کا تم پر اثر نہیں ہوتا لو بھگتو
 یوسف نے زور زور سے جھولا جھلانا شرح کر دیا 
روکو یوسف روکو میں گر جاؤں گی
 وہ ہمیشہ سے ڈرتی تھی پہلے بتاؤ ہان یا نہ 
"نہ اس نے رسی کو مضبوطی سے پکڑ کر کہا
 یوسف نے جھولے کو اور زور سے جھلایا 
روکو یوسف وہ چلا رہی تھی
 ہان یا نہ"
 ہان ہان ہان اس کی جان نکل رہی تھی
 یوسف نے اگے بڑھ کر جھولے کو تھام لیا جھولا رک گیا اس نے اک دفع پھر پوچھا ہان یا نہ"
 سمیہ نے نفی میں سر ہلایا چلو پھر تیار ہو جاؤ جھولا لینے کے لئے
 وہ دونوں ہنس دیے
وہ اک دفع پھر پیچھے آیا سمیہ تمہارے بال بہت پیارے ہیں کل انہیں کھلا چھوڑنا 
اس نے کہ کر اس کے کیچر میں جکڑے بال کھول دیے
  کیوں کل کیا خاص بات ہے کل ہمارا نکاح ہے
 کیا سمیہ چیخی پر مجھے تو کسی نے نہیں بتایا
 ارے  تمہارا دلہا تمھیں خود بتا تو رہا ہے میں اتنی جلدی نہیں کروں گی مجھے تھوڑا وقت تو دو مجھے اپنے جوتے کپڑے زیور یہ سب بھی تو لینا ہے
 وہ سب ہم نے خرید لیا ہے تم نے بس ہان کرنی ہے"
 میں تو نہیں کروں گی "
 میں نکاح کا انتظام یہیں جھولے پر کروا لوں گا پھر دیکھتا ہوں کیسے نہیں کرتی وہ ہنس دی
 اسے اپنے صبر کا پھل مل گیا تھا
 --------------------------------------------
انکی شادی کو دو مہینے گزر گئے تھے
 وہ دونوں آج داتا دربار پر سلام کرنے اے تھے 
سمیہ کو وہ بوڑھی عورت وہیں مل گئی 
 مل گیا تمجے تیرا عشق اس  نے  مسکراتے ہووے پوچھا
 ہان مائی تم میرا انجام دیکھنا چاہتی تھی نہ یہ ہے میرے عشق کا انجام اس نے یوسف کو پیار بھری نظروں سے دیکھا
 عشق یہی تو ہے کبھی رولاتا ہے کبھی   جھکاتا ہے تو کبھی ہساتا ہے  تو چل جا کر سوہنے رب دے حضور شکرانے کے نفل پڑھ آ رب راضی ہو گا تو جگ راضی ہوگا
 وہ کہ کر چلی گئی اور وہ دونوں نماز ادا کرنے چل دیے

ختم شد

ناول کے بارے میں اپنی رائے ضرور دیں۔ دوست احباب کے ساتھ شئیر کیجئے۔

 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney