داستانِ گوگل

دنیا میں آج اگر گوگل نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟ گوگل کے بغیر اس دنیا کا تصور ہمیں چند لمحوں میں ہی کہاں سے کہاں پہنچا دیتا ہے، لیکن یقین مانیں یہ دنیا 1998 سے پہلے گوگل کے بغیر ہی تھی۔آج الٹے، سیدھے، غلط اسپیلنگ اور ادھورے جملے لکھنے کے باوجود دنیا کے راز اور معلومات ہمیں دستیاب کر دینے والے گوگل سرچ انجن کو سب سے پہلے 1998 میں بنایا گیا تھا۔ آئیے اپنے دلچسپ معلومات پیج کے دوستوں کو گوگل کی کامیابی کی کہانی کے بارے میں کچھ بتاتے ہیں۔

گوگل کی بنیاد امریکی ”لیری پیج“ اور روسی نژاد امریکی ”سرگے برن“ نے رکھی۔ دونوں سٹین فورڈ یونیورسٹی کیلیفورنیا میں پی ایچ ڈی کے طالب علم تھے۔ جنوری 1996ء میں انہوں نے اپنے پی ایچ ڈی کے تحقیقی منصوبے کے تحت ایک ”ویب سرچ انجن“ بنایا۔ اس منصوبے کو بیک رب (BackRub) کا نام دیا۔ ایک سال سے زائد عرصہ تک بیک رب سٹین فورڈ یونیورسٹی کے سرور پر ہی چلتا رہا۔ 15 ستمبر 1997ء کو اسے گوگل ڈاٹ کام پر منتقل کر دیا گیا۔ گوگل کو سب سے پہلا فنڈ اگست 1998ء میں ایک لاکھ ڈالر کا ملا، جو کہ ”سن مائیکروسسٹمز“ کے شریک بانی اینڈی نے دیا۔ اس کے بعد 4 ستمبر 1998ء کوباقاعدہ گوگل کمپنی کیلیفورنیا میں رجسٹر ہوئی۔

1999ء کے شروعات میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب گوگل کے بانیوں (لیری اور سرگے) کو محسوس ہوا کہ گوگل ان کا بہت زیادہ وقت لے رہا ہے اور اس سے ان کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ لہٰذا انہوں نے گوگل بیچنے کا سوچا اور ”ایکسائیٹ“ کے چیئرمین جارج بل کو دس لاکھ ڈالر کے عوض گوگل فروخت کرنے کی پیشکش کی، مگر جارج نے یہ سودا ٹھکرا دیا۔ اس کے کچھ ہی عرصہ بعد 7 جون 1999ء کو چند بڑے سرمایہ کاروں اور دو ”ونچر کیپیٹل فرمز“ کی طرف سے گوگل کے لئے 25 ملین ڈالر کی مرحلہ وار سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا۔ یہ سرمایہ کاری گوگل کے لئے اہم سنگِ میل ثابت ہوئی۔اس کے بعد گوگل نے ایسے ترقی کی کہ پہلے جو کمپنی خود فروخت ہو رہی تھی اب وہ دوسری کمپنیوں کو خریدنے لگی۔

گوگل (Google) کا نام لفظ Googol کی بنیاد پر رکھا گیا تھا۔ Googol ایک بہت بڑے عدد کو کہتے ہیں۔ ایسا عدد جس میں ایک کے ساتھ سو صفر لگتے ہیں یعنی دس کی طاقت سو۔ لفظ گوگل بنا تو Googol سے ہی ہے مگر اس بننے کے متعلق کئی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ گوگل میں سب سے پہلے سرمایہ کاری کرنے والے نے لیری اور سرگے کو جو پہلا چیک دیا اس پر اس نے غلطی سے Googol کی بجائے Google لکھ دیا تھا۔ چیک درست کرانے کی بجائے لیری اور سرگے نے Google کو ہی بہتر جانا اور اسی نام سے کمپنی رجسٹر کرا لی۔ ایک کہانی یہ بھی سننے کو ملتی ہے کہ جب ویب سائیٹ کا نام (ڈومین نیم) رجسٹر کرانے لگے تو نام ٹائیپ کرنے والے نے غلط سپیلنگ لکھ دیئے۔ جس پر لیری نے کہا کہ ”پاگل! تم نے سپیلنگ غلط لکھ دیئے ہیں مگر کوئی بات نہیں کیونکہ Googol.com پہلے سے ہی رجسٹر ہے اور ہمیں نہیں مل سکتا ۔ اس لئے Google.com ہی بہتر ہے۔“

خیر نام رکھنے کے متعلق اول الذکر بات میں صداقت نظر نہیں آتی کیونکہ googol.com ویب سائیٹ 1995ء سے ہی رجسٹر تھی۔ اب ایک کمپنی جس کی بنیاد ہی انٹرنیٹ ہو تو اس کمپنی کے نام کی ویب سائیٹ ملنا سب سے پہلی بات ہوتی ہے۔ یقیناً گوگل کے بانیوں نے بھی ویب سائیٹ ملنے نہ ملنے کی بنیاد پر نام رکھنا تھا۔ ویسے مؤخر الذکر کہانی میں کچھ کچھ صداقت معلوم ہوتی ہے۔ بہرحال ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ لیری اور سرگے نام تو Googol ہی رکھنا چاہتے تھے مگر جب انہیں معلوم ہوا ہے کہ اس نام کی ویب سائیٹ پہلے سے رجسٹر ہو چکی ہے تو انہوں نے اس کے سپیلنگ میں تبدیلی کر کے Google کر لیا۔ ویسے نام کے متعلق گوگل نے اپنی ویب سائیٹ پر لکھا ہوا ہے کہ یہ نام لفظ Googol کی بنیاد پر اس لفظ میں ترمیم کر کے Google رکھا گیا۔

بہرحال اگست 1998 میں پہلی بار ٹیکنالوجی ادارے سن مائیکرو سسٹمز کے شریک بانی اینڈی بیچلوشیم نے انہیں جب ایک لاکھ ڈالر کا سرمایہ فراہم کیا تو گوگل انکارپوریٹ ادارہ بنا۔نئے کارپوریٹ ادارے نے اب کیلی فورنیا کے میں لو پارک ایریا میں موجود ایک گیراج سے کام کا آغاز کیا، اس گیراج کو کرائے پر حاصل کیا گیا، آگے چل کر یہ گیراج اس ادارے کا مرکزی دفتر بنا، اور اس گیراج کی مالکن سوزن وجوکی پہلے گوگل کی ملازم نمبر 16 اور پھراسی ادارے کی کمپنی’یوٹیوب‘ کی چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) بنی۔اسی گیراج کی حدود کو بڑھا کر مائونٹین ویو تک پھیلایا گیا، جہاں آج گوگل پلیکس کے نام سے دنیائے انٹرنیٹ کے اس سب سے بڑے ادارے کا ہیڈ کوارٹر موجود ہے۔گوگل کا پہلا ڈوڈل 1998 میں ہی بنایا گیا، پھر ایک کے بعد ایک اور ہر ملک کے لیے الگ الگ اور خصوصی مواقع پر بھی اسپیشل ڈوڈل بنانے کا کام شروع کیا گیا۔

سرچ انجن
گوگل کی سب سے پہلی اور اہم سہولت سرچ انجن ہی ہے۔ جس کے ذریعے انٹرنیٹ کے سمندر میں معلومات تلاش کی جاتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کو بہتر کیا جاتا رہا اور اب دنیا کی کئی زبانوں میں تلاش ممکن ہے۔ عام تلاش کے لئے گوگل سرے فہرست تو ہے ہی لیکن اگر کوئی بات صرف خبروں، کتابوں، تحقیقی مواد، بلاگز یا خاص کسی ایک ویب سائیٹ سے تلاش کرنی ہو تو ایسی سہولت بھی موجود ہے۔ تحریری معلومات کے ساتھ ساتھ ویڈیو اور تصویر بھی تلاش کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی طریقوں سے مواد کی تلاش کی جا سکتی ہے۔

اس کے علاوہ گوگل کی درج ذیل سروسز بہت مشہور ہیں

گوگل کروم
انٹرنیٹ ایکسپلورر اور فائر فاکس وغیرہ کی طرح گوگل کروم بھی ایک ویب براؤزر ہے جو کہ ستمبر 2008ء میں صارفین کو مہیا کیا گیا۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا میں باقی براؤزرز کی نسبت گوگل کروم سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔

جی میل
یہ ای میل بھیجنے اور موصول کرنے کی سہولت ہے جو کہ اپریل 2004ء میں متعارف کرائی گئی۔ منفرد سہولیات اور میل باکس میں زیادہ جگہ دینے کی وجہ سے جی میل بہت جلد مشہور ہو گیا۔ آج بھی جی میل ایسی کئی سہولیات مفت دیتا ہے جوکہ اس کے حریف مفت نہیں دے پا رہے۔

گوگل پلس
جنوری 2004ء میں گوگل نے سوشل نیٹورکنگ کی ویب سائیٹ آرکٹ متعارف کرائی۔ یہ مشہور تو ہوئی مگر اسے زیادہ شہرت نہ ملی۔

گوگل ٹاک/ہینگ آؤٹ
گوگل ٹاک اگست 2005ء میں شروع ہوا۔ یہ ایک میسینجر تھا جس کے ذریعے چیٹ وغیرہ ہوتی تھی۔ مئی 2012ء میں جب گوگل پلس کی سہولت ہینگ آؤٹ متعارف کرائی گئی تو گوگل ٹاک کو اس میں ضم کر دیا۔

گوگل ٹرانسلیٹ
یہ تحریر کا مختلف زبانوں میں بذریعہ مشین ترجمہ کرنے کی سہولت ہے۔ جس کا آغاز اپریل 2006ء میں کیا گیا۔ شروع میں اس میں دو چار زبانیں ہی تھیں مگر اب اردو سمیت تقریباً 81 زبانوں کا ایک سے دوسری میں ترجمہ ہو سکتا ہے۔ گو کہ کئی زبانوں کا بڑا اچھا ترجمہ ہو جاتا ہے مگر اردو ترجمہ ابھی تک معیاری نہیں ہو سکا۔ 

یوٹیوب
یہ مشہورِ زمانہ ویڈیو شیئرنگ کی ویب سائیٹ ہے۔ جو کہ فروری 2005ء میں بنی اور اکتوبر 2006ء میں گوگل نے اسے خرید لیا۔

پکاسا ویب البم
2002ء میں بننے والی پکاسا ویب سائیٹ تصاویر شیئر، ترتیب اور منفرد انداز میں دیکھانے کی وجہ سے مشہور ہوئی۔ گوگل نے اسے جولائی 2004ء میں خریدا۔ گوگل پلس بننے کے بعد پکاسا کو بھی اس کا ایک حصہ بنا دیا گیا۔

گوگل ارتھ/ میپ
سی آئی اے کے فنڈ سے چلنے والی ”کی ہول“ نامی کمپنی نے زمینی نقشہ جات کے متعلق ایک سافٹ ویئر ”ارتھ ویور“ کے نام سے بنا رکھا تھا۔ اکتوبر 2004ء میں گوگل نے کی ہول اور جغرافیہ سے متعلقہ ایک دوسری کمپنی بھی خرید لی۔ فروری 2005ء میں گوگل میپ شروع ہوا اور جون 2005ء میں ارتھ ویور میں ترامیم کر کے اسے”گوگل ارتھ“ کے نام سے متعارف کرایا گیا۔ زمینی نقشہ جات اور جغرافیہ سے متعلقہ معلومات کے لئے گوگل ارتھ/میپ اس وقت بہت مشہور ہے۔ 

گوگل ڈاکس/ڈرائیو
اگست 2005ء میں شروع ہونے والی ”رائیٹلی“ کو گوگل نے خرید کر اکتوبر 2006ء میں گوگل ڈاکس متعارف کرایا۔ یہ ویب بیسڈ (ویب سائیٹ پر چلنے والا) ایسا نظام ہے جس کے ذریعے مختلف ڈاکومنٹس تیار کیے جا سکتے ہیں۔

بلاگر/بلاگسپاٹ
”بلاگر ڈاٹ کام“ بلاگ بنانے کی ایک مفت سروس ہے جس کو اگست 1999ء میں پیرا لیب نے شروع کیا تھا۔ فروری 2003ء میں گوگل اسے نے خرید لیا۔ اب بلاگر اور بلاگسپاٹ ایک ہی سروس کے دو نام ہیں۔

ایڈ ورڈز اور ایڈسنس
ایڈورڈز کے ذریعے گوگل اشتہارات لیتا ہے اور پھر ایڈسنس کے ذریعے وہ اشتہارات مختلف ویب سائیٹس کو دیتا ہے۔ ایڈسنس اس وقت بہت مشہور ہے اور بہت سارے ویب سائیٹ مالکان اس سے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کما رہے ہیں۔ ایڈسنس ”اپلائیڈ سمنٹکس“ نے شروع کیا مگر مارچ 2003ء میں گوگل نے اسے خرید لیا تھا۔

ویب ماسٹر ٹولز
یہ ویب سائیٹ مالکان کے لئے مفت سہولت ہے۔ جس کے ذریعے ویب سائیٹ کی حالت کی جانچ ہوتی ہے۔ یعنی ویب سائیٹ کے کون کون سے صفحے گوگل سرچ انجن کو نہیں مل رہے، کس صفحے کے ٹائیٹل یا ڈسکرپشن میں مسئلہ ہے اور کل کتنے صفحے گوگل سرچ انجن میں موجود ہیں وغیرہ وغیرہ۔ 

گوگل انیلیٹکس
یہ بھی ویب سائیٹ مالکان کے لئے ایک سہولت ہے۔ جس کے ذریعے ویب سائیٹ ٹریفک کی نگرانی ہوتی ہے کہ ایک دن یا کسی خاص عرصہ میں کل کتنے لوگوں نے ویب سائیٹ دیکھی، کون سا صفحہ کتنی دفعہ دیکھا گیا، صارفین کی کتنی تعداد کدھر سے آئی اور سرچ انجن میں کن الفاظ سے تلاش کرتے ہوئے ویب سائیٹ تک پہنچے وغیرہ وغیرہ۔

گوگل نے حال ہی میں گوگل ایلو نامی ایپ متعارف کروائی ہے جس کے ذریعے آپ ایک دوسرے سے وٹس ایپ کی طرح چیٹ بھی کرسکتے ہیں۔ اس میں ایک فیچر گوگل اسسٹنٹ بہت زبردست ہے جس سے آپ کچھ بھی پوچھ سکتے ہیں اور وہ آپ کو فوری اس کا جواب دیتا ہے۔

آج گوگل کے دفاتر دنیا کے 50 ممالک میں موجود ہیں، اور اسکے 60 ہزار ملازم ہیں۔آج دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جہاں گوگل پر چیزیں سرچ نہ کی جاتی ہوں، یوٹیوب پر ویڈیوز نہ دیکھے جاتے ہوں، جی میل سے ای میل نہ کیا جاتا ہے، اور اینڈرائڈ سسٹم کے ذریعے فون نہ چلائے جاتے ہوں۔
 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney