ناول ایک سمندر ڈوب گیا

قسط نمبر : 1

♤♧♤♧♤♧♤♧♤♧♤♧♤♧♤♧

♡♡♡《☆☆☆♢□♢☆☆☆》♡♡♡
وہ سمندر کی طرح گہرا تھا_
سمندر کی لہریں اسکی پیشانی پر ڈوبتی ابھرتیں۔۔
سمندر کا سکوت اس کے لبوں پر بولتا۔۔۔
سمندر کی ساکن سطح اس کی آنکھوں میں جھلملاتی۔۔
سمندر پر چلنے والی سبک رو ہوا ، اسکی سانسوں کے زیروبم میں الجھتی
خشک کنارہ اسکی ذات کا عکس لگتا
اور کنارے پر گھٹتا بڑھتا رش اس کے دل کے مکینوں کی طرح تھا۔۔۔

وہ ایک بند کتاب تھا۔۔
پینڈورا باکس تھا۔۔۔
ایک سیپ تھا
ایک پراسرار جزیرہ
ایک گمنام منزل،
لامکاں مسافر۔۔۔
طلسماتی دیومالائ کہانی کا کردار
یا ان چھوا،اچھوتا احساس۔۔۔
غرض وہ سب کچھ تھا اور کچھ بھی نہ تھا

وہ پہروں غائب ہوتا اور پراسرار طریقے سے خلاوں میں گھورتا رہتا
اسکی زندگی میں بہت سے لوگ تھے مگر اپنا کوئ بھی نہ تھا
سب دنیادار، اپنے آپ میں گم لوگ اس سے مختلف تھے
وہ سب میں ان فٹ تھا۔۔۔
اسکی اماں ھر وقت پاندان کھولے کتھے چونے کا کھیل کھیلتی رہتیں۔۔
ابا ھر وقت دوستوں کے ھمراہ شطرنج کی بازی جمائے رکھتے۔
اس کا بڑا بھائ بزنس اور بیوی بچوں میں مصروف رہتا۔۔
بہن کچن اور گھر کے بکھیڑوں میں خود بھی بکھری رہتی
چھوٹی بہن فون پر دوستوں سے گپ شپ میں مصروف رہتی یا پھر فیشن میگزین سامنے پھیلائے بغور نئے ڈیزائن نوٹ کرتی رہتی۔۔
اس کے کزنز جن کی محفلیں اکثر ھال کمرے میں جمتیں اور وہ خاموشی سے انہیں دیکھتا رہتا تھا
وہ خود میں گم رہتا
اپنی ذات میں مگن،
یا پھر پڑھائ میں مصروف

♢♢♢♢♢♢♢♢♢♢♢♢♢♢♢♢♢♢♢♢♢♢♢♢
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک بات سنو
اس کے قدم اس آواز پر تھم سے گئے
لمحے ٹھہر گئے
وقت نے سانسیں روک لیں
"ھوں"۔۔
اس کی آواز ہوا نے اپنے پروں پر اٹھائ
کیا تم سودائ ھو؟
اس کے ابدر سے آواز آئ
اس سے پوچھا گیا تھا
سامنے کی دیوار اس پر ہنسنے لگی
دروازے، کھڑکیاں حیرت سے دیوار کو دیکھنے لگے

"نہیں"
"شاید ہاں"
سمندر کی لہریں پھر اس کی پیشانی پر بننے بگڑنے لگی تھیں
۔
مطلب؟ 
تنہائ حیران ہوئ
اسکے کمرے کی ساری چیزیں ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں
بس تلاش ہوں، میں سکون ہوں،
میں راحت۔۔۔
تسکین۔۔۔
اصل منزل۔۔۔
سفر۔۔
تلاش ہوں
میں کھوج ہوں
جستجو ہوں
نجانے میں کیا ہوں 
شاید کچھ بھی نہیں
کچھ بھی تو نہیں۔۔
وہ الجھ سا گیا تھا۔ کھوج اپنے کھوجی پر ہنسنے لگی، جستجو متجسس ہو گئ
سفر حیران ہو کر منزل ڈھونڈنے لگا تھا
سکون، راحت و تسکین سے سرگوشیاں کرنے لگا

تم۔۔۔!
تم الجھاو ہو۔
صرف الجھاو
ریشمی دھاگوں کا
تنہائ اس پر ہنسی
اسکے لبوں پر سکوت بولنے لگا
وہ آگے بڑھا اور کمرے سے نکل گیا

اس کے کزنز ، بہن بھائ اسے مختلف ناموں سے یاد کرتے
سب اس کی شخصیت پر مناسب نام چسپاں کرنے میں ناکام رہے تھے
"خوابوں کا باسی"
نہیں "پراسرار جزیرہ"
نہیں "شیکسپئیر کا کردار ھے کوئ"
"وہ گمنام تحریر ھے"
"انشاء کی غزل کا سودائ ھے"
غلط "وہ جادوئ کتاب ھے"
"طلسماتی کھل جا سم سم"
قہقہے پڑتے
"وہ بس ایک سفر ھے جس کی کوئ منزل نہیں"
ھاں "لاحاصل سفر"
"میرے خیال میں وہ ایک جوگی ھے"
کھلکھلاہٹیں یہاں سے وہاں تک بکھریں۔۔

پھر اسکی چھوٹی بہن فلسفیانہ انداز میں بولی
"وہ بس ایک خواب ھے، ادھورا سا، حقیقت نہیں"
تالیاں بجنے لگیں

سب اس پر طرح طرح کے تبصرے کرتے
کیوں کہ وہ ان سب سے مختلف تھا
مگر کوئ بھی اسے صحیح طریقے سے بیان نہیں کر سکتا تھا
آخر میں سب اس بات پر متفق نظر آتے کہ
"وہ ایک سمندر ھے،
خاموش،
پرسکون اور گہرا سمندر
جو اپنے اندر کے طوفان اندر ہی چھپائے رکھتا ھے
یہ سب اس کے سامنے بھی کہا جاتا تھا
تبصرے اور بے لاگ تبصرے اس پر کئیے جاتے تھے
کیونکہ سب اپنی دانست میں یہ حق رکھتے تھے
سب اس کے انداز پر تشویش میں ڈوب جاتے تھے
وہ یہ سب دیکھتا تھا مگر کچھ نہ کہتا۔
اسے اس سے کوئ فرق نہیں پڑتا تھا

(جاری ہے)
《》《》《》《》《》《》《》
♢♢♢♢♢♢♢♢♢♢♢♢♢♢♢♢♢♢♢♢♢♢♢

 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney