ناول ایک سمندر ڈوب گیا

قسط نمبر : 2

جب اس نے ایک وجود سے محبت کی تھی
اسے ٹوٹ کر چاہا تھا
اس کے کہنے پر اعتماد کیا
تو وہ جلد ہی اپنی محبت کا دامن اس سے چھڑا کر بھاگ گیا
وہ اس کے پیچھے لپکا تھا
آوازیں دیں مگر ہاتھ میں صرف مان کی ٹوٹی ہوئ کرچیاں
اپنے سینت سینت کر رکھے جزبوں کی بےقدری پر وہ ششدر رہ گیا تھا
تب اس کے اندر سے ایک سرگوشی ابھری
"وجود کی چاہ چھوڑو، ذات سے عشق کرو
اسے کھوجو"
سرگوشی چیخوں میں ڈھل گئ
سمندر میں کئ طوفان اٹھے
وہ ان آوازوں اور چیخوں کو دباتے دباتے نڈھاک ہو گیا
"تمہارا کام صرف عشق کرنا ھے
چاہے جانا، دیئے جانا ہے
اس بات سے غرض نہ رکھو کہ بدلے میں تمہیں کیا ملے گا
عشق کرو مانگو مت
دیئے جاو نفع نقصان کی پرواہ کیئے بغیر
مٹ جاو
اپنی لالچ ختم کر دو
حرص چھوڑ دو
ڈوب جاو اس سمندر میں اور امر ہو جاو
پیاس مت بنو، امرت بنو
سراپا سماعت بن جاو
عارضی،جھوٹے سہاروں کو چھوڑ دو
بس ایک آس لگاو
ایک جوت جگاو"
وہ سنتا رہا
کیسے کروں؟
اس کا دل ایک سوالیہ نشان بن گیا
"مجھ میں اتنی سکت نہیں ہے"
سمندر کا سکوت ٹوٹا اور بکھر گیا
"تم ارادہ تو کرو، سکت وہ ڈال دے گا"
سرگوشی نے اکسایا اور اس نے ارادہ کر لیا
مگر یہ کیا؟
دنیا اس کی طرف لپکی
آو...!
میں سکون ہوں
میں روشنی ہوں
تمہارا سفر،تمہاری منزل۔۔۔
وہ دامن بچا کر بھاگا
منزل یہ نہ تھی، سفر تو ابھی جاری تھا
پھر دولت نے اسے اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش کی
"میں ضرورت ہوں
خواہش ہوں
خوبصورتی ہوں
آو میرا مزا چکھ لو
میرا مزا پالو گے تو پھر سب مزے بھول جاو گے
یہ سب لذتیں میرے ہی دم سے ہیں
میں عزت ہوں، شہرت ہوں
آو...!
آو...!
وہ اس سے بھی بھاگا
تیز،بہت تیز
نہیں۔۔۔
یہ عزت نہیں
یہ لذت نہیں
یہ خواہش نہیں
صرف مایا ھے،صرف دھوکا
خوبصورت سراب
زہر،ایک مصیبت
سمندر میں جیسے لہریں سی اٹھنے لگی تھیں
ہوا حیرانی سے اسے دیکھنے لگی
"کیا تمہیں اس کی ضرورت نہیں؟"

"مجھے ذات مل گئ تو سب کچھ مل گیا
آخر کار سمندر کا طوفان تھم سا گیا
سکوت ٹوٹا اور ہوا سبک روی سے چلنے لگی
۔۔
"تو نجات کب ملے گی؟"
ڈھلتے ہوئے سورج نے سوال کیا۔
۔۔
"جب میں تسکین کا مزا چکھ لوں گا"
سورج اس پاگل پر ہنسنے لگا
سمندر خاموش ہو چکا تھا
ہوا سانس روکے کھڑی رہی
ریت بکھرنے کو بے تاب ہوگئ تھی

اس کا کالج میں بھی دل نہیں لگتا تھا
وہ اپنی ذات میں کچھ اور سمٹ گیا تھا

اچانک اس کے بڑے بھائ نے اسے بلایا
"ادھر آو"
بڑے بھائ کے پکارنے پر وہ چونکا تھا
پھر دھیمے چلتا ان کی طرف آ گیا
اس وقت اس کے سارے کزنز اور بہن بھائ ادھر ہی بیٹھے تھے
جی بھائ

کبھی یہاں بھی بیٹھ جایا کرو
ھمارے پاس
انھوں نے شکوہ کیا تو وہ روبوٹ کی طرح بیٹھ گیا
"کیا کر رہے ہو آج کل؟"
انھوں نے پوچھا

تلاش...!
وہ کھوئے کھوئے سے لہجے میں بولا

کس کی؟
کسی حسینہ کی؟

نہیں..!
منزل کی

"تمہیں کیسے بتاوں تم میری منزل ہو"
سب گانے لگے

کس چیز کی؟
کون سی منزل؟
اس کی بہن نے باقی لوگوں سے قطع نظر اس سے پوچھا
سکون کی منزل
تسکین کی منزل
اپنے اصل کی منزل
اپنی ابدی منزل
وہ سمندر بن گیا تھا
لہر در لہر سوچیں اس کی پیشانی پر ابھرنے لگی تھیں

کیا خبطی ہو گئے ہو؟
بہن نے حیرت سے پوچھا
وہ ہنس پڑا
کھل کر ہنس پڑا
وہ پہلی مرتبہ اتنا کھل کر ہنسا تھا
سب حیران رہ گئے
نہیں...!
میں بے نیاز بن جانا چاہتا ہوں
وہ کھو سا گیا
چلو اب تو پراسرار جزیرہ دریافت ہوگا
اس کے ایک کزن نے کہا

نہیں...!
کھو جائے گا ہمیشہ کیلیئے
اس نے کہا اور اٹھ کر وہاں سے چلا گیا
سب اس کے اس انداز سے ڈر گئے 
سب ہی سوچ میں پڑ گئے تھے

(جاری ہے)

 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney