ناول ایک سمندر ڈوب گیا

قسط نمبر : 3 آخری

وہ تلاش میں گم تھا
صرف طلب باقی تھی باقی سارے جزبے ماند پڑ چکے تھے
وہ صبح سے گھر سے غائب ہوتا اور رات گئے تک آتا
تھکا ہوا
سست سست سا
کھویا ہوا
سب اس کے اس روئیے سے پریشان ہو جاتے
سب اسے برا بھلا کہتے اور چڑ کر چلے جاتے
اس کے کزنز آپس میں سرگوشیاں کرتے
"مجھے تو اس سے وحشت ہوتی ہے
او گاڈ...!
عجیب لڑکا ھے
خوابوں جیسا"
اس کی ایک کزن کہتی
غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔۔
●○●○●○●○●○●○●○●○●○●○●
اس دن وہ ساحل کے کنارے کھڑا تھا
ڈوبتے سورج کو دیکھ رہا تھا

تلاش ختم ہوئ؟
سمندر سے اٹھتی ہوئ ایک موج نے سوال کیا
ھاں
ختم ہوئ
اس کی آنکھوں کی ساکن سطح میں سمندر کی طرح موجیں ابھرنے لگی تھیں
اور ایسے میں اس کی گہری آنکھوں سے ایک جگمگاتا سا موتی نکلا اور ساحل کی ریت میں جا دفن ہوا
اسے اپنی آنکھیں نم محسوس ہوئیں

ھمیں بتاو گے۔۔؟
یہ تلاش کیسے ختم ہوئ؟
ہوا نے پوچھا

بس ہوگئ...!
اس نے جواب دیا
مبارک ہو
ڈھلتے سورج نے کہا
پھر ہوا اسے گدگدانے لگی

اب زندگی کا مقصد؟
سرگوشی پھر ہوئ
بس اب زندگی بھی ختم ہونے والی ھے
وہ بولا
ہوا خوفزدہ ہو گئ

موت سے ڈر نہیں لگتا؟
جستجو نے حیرانی سے پوچھا
نہیں
اب موت سے قطعی ڈر نہیں لگتا
کیونکہ موت کے بعد ہی اصل زندگی ھے
آرام دہ، پر سکون
ہر قسم کی پریشانی سے آزاد
وہ مطمئن اور پرسکون تھا
پھر اس کی آنکھوں میں تاریکی سی چھانے لگی تھی
دماغ میں اندھیرا چھا گیا
وہ لڑکھڑایا اور اس بے جان جسم سمندر میں جا گرا اور بڑی بڑی موجیں اسے اپنے ساتھ لے جانے لگیں
آخرکار ایک سمندر دوسرے سمندر میں دریا بن کر گر گیا تھا
بہہ گیا تھا
ڈوب گیا تھا
سورج نے حیرت و افسوس سے اسے الوداع کہا
ہوا ساکن رہ گئ
دمبخود لہریں سر پٹخنے لگیں
جستجو معدوم ہو گئ
سفر تمام ہوا
تسکین اپنے پروں کو سمیٹنے کے بعد کہیں اور محوپرواز ہو گئ
ایک جوگی...!
ایک سودائ اپنی منزل پا گیا
شام ڈھل گئ
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج بیس سال گزر گئے تھے
اس جوگی کو سب نے ہر جگہ ڈھونڈا
وہ جو ایک سودائ تھا
جس کے ہونے نہ ہونے سے کسی کو کوئ فرق نہیں پڑتا تھا
مگر اب فرق پڑ رہا تھا
سب اسے تلاش کر رہے تھے
اماں بی اب چپ رہنے لگی تھیں
ابا نے شطرنج کھیلنا چھوڑ دیا تھا
بھائ بہن اور کزنز اسے یاد کرتے اور آنسو بہاتے
سب اداس رہنے لگے تھے
وہ خوابوں کا شہزادہ۔۔۔
شاید پراسرار جزیرے کی طرف سفر کر گیا تھا
سب افسردہ ہو گئے تھے
سب کے کانوں میں اس کے الفاظ گونجتے
جب ایک کزن نے کہا تھا کہ چلو اب ایک پراسرار جزیرہ دریافت ہوگا
تو اس نے کہا تھا کہ نہیں۔۔۔
کھو جائے گا
ہمیشہ کیلیئے
اس کے جواب پر سب ڈر گئے تھے
خاموش ہو گئے تھے
آج وہ واقعی کھو گیا تھا
سفر میں
جستجو میں
اصل میں
منزل میں
سکون میں
اور سب کچھ پا گیا تھا
بیس برس گزرنے کہ باوجود اس کی یادیں ابھی تازہ تھیں
اس سودائ کا کمرہ آج بھی تنہا ہے
کمرے کے درودیوار سے اس کی آوازیں آتی ہیں
یہ کمرہ آج بھی ایسا ہی پراسرار اور غمگین ھے
اپنے مکین کی طرح اسے کوئ نہ آباد کر سکا
سب کو معلوم نہ ہو سکا کہ وہ کہاں ہے
کہاں گیا
کیا اسے سب کچھ مل گیا؟
یا وہ خالی ہاتھ رہا
کوئ نہیں جانتا
وہ سط کچھ پا گیا تھا
سب کچھ
اور پھر گم ہو گیا
کسی انجان دیس میں
کسی گمنام خاموش جزیرے کی طرف
سفر کر گیا
امر ہوگیا
وہ سمندر تھا۔ وہ اپنے ہی جیسے سمندر میں ڈوب گیا تھا
بہہ گیا تھا

》》》 ختم شد《《《

 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney