👫ہم تمہارے ہیں 👫

افسانہ

زروا کب سے تمہارا فون بج ریا ہے اُٹھا کیوں نہیں رہی ۔ اماں حنا ہے جلدی کا شور مچائے گی اور مجھ سے ایسے تیار نہیں ہوا جاتا۔۔ اچھا مجھے دو میں بات کرتی ہو بچی کب سے فون پہ فون کیے جا رہی ہے۔ زروا نے فون اماں کو تھمایا اور آئینے کی طرف ہو لی اور مسکارا لگانے لگ۔۔ 
اسلام علیکم!! بیٹا کیسی ہو ؟ امں نے کال اٹینڈ کرتے کہا۔ انٹی زروا سے کہے تیار رہے ہم نکل چکے ہیں گھر سے میں اُسے پک کرنے آرہی ہو۔۔ ہاں وہ تیار ہی ہوں رہی ہے۔۔ حنا چلائی ابھی تیار ہو رہی ہے وہاں مہندی کا فنکشن سٹاٹ ہو گیا ہے۔ امں اسے کہو آجائے میں تیار ہو زادا تقریر نہ کرے۔۔ زروا کب سے اماں کو کان سے فون لگائے دیکھ کر سمجھ گئی تھی کہ حنا کی زبان چل رہی ہو گی۔۔ آرہی ہو آکے پوچھتی ہو ایسے اور فون بند کر دیا۔ بری بات ہے زروا کب عقل آئیے گی تم کو۔۔ اماں اسے برا نہیں لگتا بہت اچھی دوست ہے میری ۔۔ اتنے میں دروزے پر گھنٹی بجی اور زروا نے بھاگ کے دروازہ کھولا تو اچانک سے وقار علی کو دیکھ کے دو قدم پیچھے کو ہوئی۔۔ وقار علی اک دم ستے میں گھڑ گیا بنی سنوی زروا جس نے مہندی رنگ کا سوٹ زِبتن کر رکھا تھا اور ہلکا سے میک اپ میں بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔ آپ۔۔ زروا نے دیکھتے ہی کہا۔ وقار علی نے ہوش میں آتے ڈگھمگاتے لفظوں میں کہا۔ وہ میں ۔۔ میں وہ۔۔ پچھے سے حنا کی آواز آئی ۔۔ میرے بھائی صاحب ہیں اور احمد بھائی کے بیسٹ فرینڈ ہماری طرح اور یہ احمد بھائی کو پک کرنے والے تھے میں نے کہا اہک وقت میں دو کام ہو جائے گے میں الگ سے ڈراو کروں ساتھ ہی ہو لیتی ہو۔۔ اچھا اندر چلو زروا نے بولتی حنا کو چپ کروانا ں چاہا۔ نہیں ٹائم نہیں ہے جلدی نکلوں ثانیہ انتظار کررہی ہو گی۔ ۔۔۔۔۔۔
ثانیہ ،زروا اور حنا کولج میں اہک ساتھ بی بی اے کی تعلیم حاصل کر رہی تھی کی ایک دن ثانیہ کے تایا ذات کا رشتہ آیا جس سے اس کی جھٹ منگنی پٹ شادی تہہ ہو گئی۔۔ ۔۔
احمد بھائی تو ابھی گھر میں نہیں ہے وہ کسی کام سے باہر کو گئے ہیں۔۔ زروا نے نظرے جھکائے کہا۔ اور کب سے وقار علی کی نظرے خود پہ محسوس کر رہی تھی۔۔ جو بنا کچھ کہے زروا کو دیکھے جا رہا تھا۔ یہ زروا اور وقار علی کا پہلی دفعہ کا آمنا سامنا تھا ورنہ زروا نے حنا کے زبانی ہی سنا تھی وقار علی کی باتیں۔۔ اور وقار علی نے بھی حنا کی زبانی ہی سنا تھا۔۔۔
چلو جلدی کروں پھر احمد بھائی خود سے آجائے گے۔۔ ہم چلتے ہیں ۔ حنا اور زروا نے بیک سیٹ سنبھالی اور وقار علی نے ڈراونگ سیٹ اور اپنی رہ کو ہو لیے ۔ گاہئے بگائیے وقار بیک میرر سے پچھے بیٹھی زروا کو دیکھتا جا رہا تھا۔۔ اپنی منزل پر پہنچ کر زروا نے حنا کو آرے ہاتھوں لیا بتا نہیں سکتی تھی خود نہیں اپنے بھائی کو ساتھ لا رہی ہو میں اپنے بھائی کے ساتھ آجاتی۔ لو بھلا بھلائی کا زمانہ ہی نہیں رہا ایک میں وقت بچا رہی تھی سب کا آگے سے تمہاری الگ سے سنوں۔۔ حنا کمر پہ ہاتھ راکھ کے بولی۔۔ اتنے میں ثانیہ دونوں تک آئی۔۔ یہ تم دونوں کے آنے کا وقت ہے؟ اور جھگر کیوں رہی ہو ؟ ۔۔۔ اوہ میری پیاری دولہن صاحبہ ہم آگئیں ہیں بے فکر رہو چار چاند لگا دے گے تمہاری شادی کو زروا نے چہک کر کہا۔ اور حنا نے ثانیہ کے گالوں پہ پیار کرتے کہا بہت پیاری لگ رہی ہو آج کہنی دولہے میاں روحصتی ہی نہ کروا لے پہلے ہی فدا ہیں سمیسٹر تک مکمل نہیں ہونے دیا۔۔ اور ہمارا جھگڑا تو بات بے بات ہوتا رہتا ہے آج بس شادی انجوئے کرنی ہے آجاؤں میری شہزادیوں اور دونوں کے بازو ں کو پکر کے لون کی طرف لے گئی جہاں مہندی کے فنکشن کا انتظام کیا تھا۔۔۔۔۔
وقار علی نے اپنے حالہ اور خالوں اور باقی کے رشتے داروں سے ملتا ملاتاں اوپر کمرے کی طرف ہو لیا۔۔ اور زروا کو اپنی نگاہوں کا مرکز بنائے اس کو دیکھ رہا تھا کے اچانک پچھے سے کسی نے کندوں پہ ہاتھ رکھا۔
**********************************

تمہیں ہر حا ل میں سارا سے شادی کرنا ہو گی۔۔ اخلاق قازمی صاحب نے اپنی اکلوتی بیٹی کا رشتہ دیا ہے برے مان سے میں کیسے انکار کر سکتا ہو۔۔
وقار علی جو علی مصطفیٰ خان کی باتیں سُن رہا تھا ۔۔ اک دم اپنےوالد کی بات کاٹ کے بولا اللہ اللہ نام سے ہی اخلاق جھلکتا ہے ورنا اخلاق نام کی کوئی چیز پائی نہیں جاتی اُن میں۔۔
پاس بیٹھی حنا کی کی ہنسی چھوٹ گئی اور والدہ بھی مسکرا دی۔۔۔
بکواس بند کروں اپنی جو حکم دیا گیا اُس پہ عمل کرو۔۔ ورنا چھوڑوں یہ اپنی پڑھائی اور نوکری ڈھونڈوں۔۔
وقار نے تلملا کے باپ کو دیکھا بابا دو سمیسٹر رہ گئے ہیں آپ ایسی دھمکی مت لگائیے میں نہیں آنے والا آپ کی باتوں میں۔۔۔ علی مصطفیٰ کی طرف برے ہی تھے کہ اُسی وقت ذکیہ بیگم درمیاں میں آگئی۔۔ جو کب سے دونوں باپ بیٹے کی بحث سُن رہی تھی۔۔
ارے جوان بیٹا ہے اچھا لگتا ہے سختی کرنا آپ اپنا بلیڈ پریشر مت برائے۔۔۔ میں سمجھاں دوں گی۔۔
اچھے سے سمجھا دینا ورنہ مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہو گا۔۔
آپ سے بُرا کوئی ہے بھی نہیں ۔۔ وقار علی غصے کو زبت کرتے ہوئے بُر برایا۔۔ جس کی آواز پاس بیٹھی حنا نے سُنی بھی اور بابا کے جانے کے بعد کھلکھلا کے ہنسی بھی۔۔ اک تو تم اپنی کھی کھی بند کرو سخت غصہ ہے کہی تم پہ ہی نہ نکل جائے ۔۔۔
ارے میں تو آپ کی سائیڈ پہ ہو مجھے بابا کا یہ فیصلہ ذارا نہیں بھایا ۔ بتاؤ اک بیٹا ہے کیا دوستی پہ وار دے گے کیا۔۔
چلو لڑکی اُٹھوں یہاں سے بڑروں میں بیٹھنے کی اجازت کیا مل گئی خود کو ماں ہی سمجھ لیا ہے۔۔
امی جی ۔۔۔ حقیقت میں ہمارے ہاں سچ بولنے پہ پابندی آئید کر دینی چائیے۔۔ جو سچ بولنے کی ہمت کرتا ہے اُسے اِیسی طرح دوتھکار دیا جاتا ہے۔۔ میں کہتی ہو بھائی چھوڑوں پڑھائی اور الگ سے رنٹ پہ رہ لیتے ہیں۔۔ کم سے کم ہم اک دوجے کی بات تو سُننے کی سکت رکھے گے۔۔۔
تم جاتی ہو کے اُتاروں جوتا؟
نہیں امی جی آپ کا جوتا میرے پاؤں سے بہت بڑا ہیں کہاں آپ کا ۹ نمبر کا جوتا او کہاں میرا ۶ نمبر کا معصوم سا پاؤں۔۔۔ اور ذکیہ بیگم نے اُتار جوتا اُس پہ اُچھالا۔۔ وہ بچتی ہوئی اندر کو بھاگ گئی۔۔ اورآواز لگائی میں کہتی ہو ابھی بھی سوچ لو میری اک دوست زروا بھی ہے دیکھو گے تو نظر ہٹانا ں بھول جاؤں گے۔۔۔
ذکیہ بیگم کب سے یہ اپنی بیٹی کے خیالات سُن رہی تھی زروا کے نام سے مسکرا دی۔۔ اور بیٹے کے پاس بیٹھتے ہوئیں بولی بات تو پتے کی کر رہی ہے۔۔ پر تمہارے باپ کو کون سمجھائے ۔۔۔ تم ہاں کر دو بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی۔۔
وقار علی کب سے سوچُوں میں گم آج زروا کو دیکھنے کے بعد اپنی امی اور بہن کو داد دیئے بنا نہ رہ سکے۔.
❤❤Hum Tumhary Hain❤❤

مہندی لگے گی تیرے ہاتھ
ڈھولک بجے گی ساری رات

ڈھولک کی تھاپ پہ گانا گایا جا رہا تھا۔۔ اور جو اپنی مدھور آواز میں یہ کسی پہ جادو کر رہی تھی اِس سے انجان اپنی مستیوں میں لگی ہوئی تھی۔۔۔
دیکھنے والا سب کچھ بھُلائے اُسی کو دیکھے جا رہا تھا جب ہی پیچھے سے احمد نے کندے پہ ہاتھ رکھا۔۔ کیا یار سارا گھر چھان مارا اور جناب بالکنی پہ چھپ کر کسی کو اپنی نگاہوں کا مرکز بنائیے ہوئیے ہیں؟؟
احمد نے بالکنی سے نیچے کا منظر دیکھا۔۔۔
کس کو دیکھ رہے تھے مجھے بھی بتاؤں ہم بھی دیکھے کس حسینہ نے تم کو اپنا گرویدا بنا لیا ہے!!
وقار علی نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔ بتا دوں تا کہ تم مجھے یہی سے نیچے دھکا دے دوں ہے نہ۔۔ احمد نے نہ سمجھنے والے انداز میں اُس کی طرف دیکھا۔۔ کیا مطلب ؟
یار چھوڑوں میری کزن کی شادی ہے انجوئے کرتے ہیں۔۔
نہیں ابھی بتاؤ کون ہے میرا تجسس مت بڑھاؤ ۔۔۔ بتا دوں...
تمہا ری بہن !!!
وقار علی نے زبان دانت تلے دبا کے کہا۔۔
شرم سے دُوب مر۔۔۔
احمد نے دانت پیستے ہوئے کہا۔۔
یار میں سنجیدا ہو۔۔
اور وہ جو اک سال سے پہلے منگنی کے لڈو کھائے تھے اُ س وقت سنجیدا نہیں تھا۔۔
وقار علی نے احمد کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے بولا۔۔
مطلب تم کو اطراز نہیں ہے؟
احمد نے کندے اُچکائے۔۔۔
اطراز تب کیا تھا جب اُس نک چڑی سے منگنی ہوئی تھی تمہاری۔۔
وقارعلی نے مسکرا تے ہوئے احمد کو گلے سے لگا لیا ۔۔ یار دوست ہو تو تم جیسا مجھے ڈار تھا کے تم دوستی ہی ختم نہ کر دو۔۔۔
یہ بات میں تب بھی امی جان سے کہنا چاہی تھی پر دوستی آرے آگئی تھی۔۔ ہلا کہ مہں نے تب زروا کو دیکھا نہیں تھا۔
احمد جو ابھی بھی اُس کے گلے لگا اک دم سے دُود دکھیلتے ہوئے بولا۔۔ مطلب تجھے اب دوستی کی کوئی پروا نہیں ؟؟
نہ یار بالکل بھی نہیں۔۔۔ وہ کل حنا اور زروا کی فون پے بات سُن لی تھی میں نے کہ تمہاری خالہ کے بیٹے کا رشتہ آیا ہے اور اُس کو وہ لڑکا بالکل پسند نہیں۔۔۔
احمد جو آرام سے وقار کی بات سُن رہا تھا اک دم اچھل پرا ۔۔۔ وٹ !!! ایسی بات تھی تو بتانا تو زروا کو مجھے تو بتانا چائیے تھا۔۔۔
وقار احمد نے ٹوکا ۔۔ یار وہ اپنی بیسٹ فڑینڈ سے بات کر ہی تھی۔۔ میں نے اچانک سے رسیور اُٹھا یا تھا۔۔
مُجھے تعجب ہوا تھا سُن کے جب حنا نے زروا سے کہا کے کاش وہ اُس کی بھابھی بن جائے۔۔ اور آج میں پہلی دفعہ غو ر کر رہا ہو اس بات پہ تو کچھ کچھ ہوا دل میں۔۔۔
بس بس شرم حیاگھول کے پی گئے ہو کیا ؟ میری بہن کی بات میرے سے کر رہے ہو۔۔
یار اک واحد دوست ہو تم میرے اب تم سے دل کی بات نہیں کروں گا تو اور کس سے کروں ؟
اچھا تو اپنی منگیتر کو کیسے ہینڈل کرو گے۔۔
نہ تو وہ مجھے پہلے پسند تھی نہ اب ہے۔۔۔ وہ بابا کے کہنے پے اُن کے بزنس پاٹنز کی بیٹی سے شادی کے لئے ہا ں کہی تھی۔۔ ہاں بھی کیا زبردستی کہو۔۔ نہ امی جی رازی تھیں نہ حنا اور نہ میں۔۔ وقار علی نے بالکنی سے نیچےزروا کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
----------------------------------------

اماں کچھ بھی ہو مُجھے نہیں کرنی امجد بھا ئی سے شادی۔۔۔ لو بھلا کوئی تُوک بنتی ہے ساری عمر بھائی کہتے آؤں اور اک پل میں سرتاج بنا لوں میں کہیں دے رہی ہو مجھے نہیں کرنی شادی امجد بھائی سے۔۔۔ زروا نے بھائی۔۔۔۔ پہ زور دے کہ کہا۔۔ اماں جو اپنی صاحبزادی کی چلتی زبان سُن رہی تھی بار بار بھائی کہے جانے پہ بولے بنا نہ رہ سکی بیٹا جی ہم مشرقی لوگ ہیں ہمارے ہاں شادی سے پہلے لڑکے کو بھائی کہا جاتا ہیں ۔۔۔ تم تو یہ چاہتی ہو نہ تمہارے پیدا ہونے پہ مجھے اور تمہارے باپ کو چائیے تھا تمھارے دولہے کا ہا تھ تمہارے ہاتھ میں دے دیتے ۔۔ لو بیٹا اسی کے ساتھ مغز ماری کرنی ساری عمر ۔۔۔ پتہ نہیں آجکل کی اولاد میں ہمارے زمانے کی شرم حیا رہی ہی نہیں ۔۔۔ اماں زمانہ بدل گیا آجکل تو ماں باپ سے پوچھا بھی نہیں جاتا اور لڑکا لڑکی شادی بھی کر لیتے ہیں ۔۔
اے لڑکی تمہارا کیا مطلب ہے اس بات سے ؟؟
زروا گڑبڑاگئی ۔۔ اما ں کچھ بھی نہیں میں تو آج کل کے بچوں کی بات کر رہی تھی جن کو ماں باپ کی عزت کا لحاز ہی نہیں ۔۔۔ اماں اس کی بات پہ ۔۔۔ اور جو تمہاری زبان چل رہی ہے اُس کا کیا؟۔۔
اماں باتت ختم کریں مجھے ابھی شادی ہی نہیں کرنی آپ انکار کر دو۔۔۔
ہاں اماں انکار کر دو کہاں وہ پتلا پتنگ کی طرح اور کہاں یہ موٹی بھینس ۔۔۔ احمد جواماں اور زروا کی تکرار کب سے سُن رہا تھا اور اپنی بات کہنے کا موقعہ ڈہونڈہ رہا تھا ۔۔ اور اچھا موقعہ ہاتھ لگا تھا۔۔ اما ں کو مننا نے کا اور اپنے دوست کی بات رکھنے کا ۔۔۔ کیونکہ ابّا سے کہنا آسان تھا اماں کی نسبت۔۔
احمد بھائی میں کہاں سے موٹی لگتی ہو آپ کو اچھی خاصی سماٹ ہواور اپنے کالج میں میس یونیوس کی حیثیت رکھتی ہو ۔۔
اوہ موٹی بس کرو اپنی تعریفوں کے پھول باندھنا ں اتنی بھی کوئی خا ص نہیں ہوں ۔۔۔ احمد شرارت سے کہتا ہوا اماں کے قدموںمیں بیٹھ گیا۔۔ ابّا سے تو بات کر چکا تھا آج یہ قعلہ بھی فتح کرنا تھا۔۔ ابّا اپنا گرین سگنل دیکھا گئیے تھے جو تماری ما ں چائیے کی مجھے بھی وہی منضور ہوگا۔۔۔
اما ں آپ وقار علی کو تو جانتی ہیں نہ میری یونیوسٹی کا دوست اُس نے زروا کا ہاتھ مانگا ہیں اُس کی بہن حنا بھی زروا کی دوست ہے۔۔۔
ہائے اللہ بھائی کیا کہہ رہے ہیں آپ ؟
تم جاؤں یہاں سے مجھے اماں سے بات کرنی ہے ۔۔۔
اماں سوچ سمجھ کے فیصلہ کیجیے گا وہ منگنی شدہ آدمی ہے اور امیربھی۔۔۔ اماں جو بیٹے کی بات بہت غور سےسن رہی تھی زروا کی بات پہ حیرت سے بیٹے کو دیکھا۔۔
تم جاتی ہو کے تمہاری شادی امجد بھائی سے ہی تہہ کر دے مل کے گوٹکا اور پان کھایا کرنا ۔۔۔
اماں نے زروا سے برتن دھونے کا آرڈر پاس کیا۔۔جو منہ بناتی ہوئی کچن کی طرف ہو لی۔۔۔ برتن پٹکتے ہوئے بھُر بھڑائیں بھی جا رہی تھی۔۔ میری زندگی کا فیصلہ اور مجھے ہی بولنے کا کو حق نہیں ۔۔ یا اللہ کیا بھیگارا تھا کسی کا بس کالج میں اِدھر اُدھر کی گوسیپ ہی تو کرتی ہو اور تو بُرا کوئی کام نہیں کیا ۔۔ پلیز بچا لے ایک طرف کنواں ایک صرف کھائی بیچ میں مجھ معصوم کی شامت آئی ۔۔۔۔

اماں آپ جانتی تو ہیں کیسا اچھا لڑکا ہے MBA کے بعد اپنے بابا کا بزنس میں جوائن کیا ہے ۔۔ اچھا کماتا ہے کو بڑائی بھی نہیں امجد بھا ئی کی طرح نہیں ہے اور حالہ کو بھی سالوں بعد یاد آگئی ہماری جب ہمارے حالات اچھے نہیں تھے کس نے ساتھ دیا ۔۔ آج اُ ن کے بیٹے کے لئے خاندان میں کو ہامی نہیں بھر رہا تو سکی بہن یاد آگئی ہیں۔۔ میری ایک ہی بہن ہے میں اُس کے مستقبل کے ساتھ نہیں کھیل سکتا ۔۔ آپ بہتر سوچ سکتی ہیں بہن کے پیار میں بیٹی کو فراموش مت کیجیے گا۔۔ کل کو وہ ہم سے کوئی گلا کرنے کے لائق ہی نہ رہے۔۔
اماں نے ساری بات تہمل سے سُنے کے بعد کہا ۔۔ وہ جو اُس کی منگنی ہو ہے اس کا کیا ہوگا ۔۔۔ اُس کے لیے وہ ہی جانے اُسنے اتوار کو اپنی فیملی لانے کا کہا ہے تب تک سوچ سمجھ لے ۔۔۔
زروا جو کب سے دروازے کی اوڑ کھڑی اپنے بھائی کی باتیں سُن رہی تھی۔۔ کب آنکھوں سے آنسوں بہہ نکلے تھے اندازا ہی نہیں ہوا۔۔
احمد جو دروازے پہ کھڑی زروا کے آنسوں دیکھ چلا تھا ۔۔ پاس جا کے بولا بھلا ہو وقار علی کا جوتم جیسی بھینس کو اپنے کھونٹھے سے باندھے پہ رزامند ہو گیا ہے ۔۔۔ زروا بھائی کی شرارت کو سمجھتے ہوئے پیار سےبھائی کے کندے پہ مکا رسید کیا۔۔ احمد نے بہن کے مسکراتے چہرے کی طرف دیکھا اور پیار بھڑا ہاتھ زروا کے سر پہ راکھ دیا۔۔ زروا نے اپنے آنسو ں صاف کرتے ہوئے سوچا ۔۔۔ صحیح کہتے ہیں بزرگ کے باپ اور بھائی بہن ،بیٹی کا غرور ہوتے ہیں۔۔

تم میری کال اٹینڈ کیوں نہیں کر رہے ہو میں پاگلو ں کی طرح تمہارے پیچھے پیچھے ہو اور تم مجھے ایٹڈیوڈ دیکھا رہے ہو مجھے ہوتے کون ہو تم یہ میرے باپ کا ہے سب میرے اور تم ملازم ہو یہاں۔۔
وقار علی آفس میں میٹنگ میں تھا کے اچانک میٹنگ روم میں سارا نے آتے ساتھ وقار پہ چلانا شروع کر دیا۔۔
بیٹا تحمل سے بات کروں ہم میٹنگ میں ہیں۔۔ اخلاق صاحب بیٹی کی بد تمیزی پہ شرمندہ ہوتے ہوئے بولے۔ پاپا آپ تو مت بولے ہمارے آپس کے معملات میں ۔۔۔
وقار علی نے غصے سے فائل کو ٹیبل پہ پھینکا۔۔۔ یہ میں تمہارے والد کا نوکر کب سے ہو گیا ہم دونوں کی کمپنی مرج ہے پاڑٹنر ہے اور میرا نہیں خیال زیارہ عرصے تک رہنے والے ہیں برا گمنڈ ہے نہ اپنے بزنس میں تو سن لو یہ میرے اور میرے بابا کی وجہ سے ابھی مارکیٹ میں نام ہے ورنہ کب کا سڑک پہ آگئے ہوتے۔۔ ان سب کی بحث میں پہلی دفعہ مصطفیٰ صاحب نے بھی حصہ لیا اور بیٹے کو چپ کرواناں چاہا۔۔ بس کروں وقار علی اور کچھ مت بولنا۔ بابا آپ سن رہے ہیں وہ کیسے سب لوگوں کے سامنے ہمیں ذلیل کر رہی ہے۔۔ اور آپ اب بھی ان کی طرفداری کر رہے ہیں۔۔
میری جب سے تمہارے ساتھ انگیجمنٹ ہوئی ہے تب سے تمہارا دماغ ساتوے آسمان پہ ہے۔۔ کبھی بھی تم میری گیدرنگ میں نہیں گئے۔۔ میرے سب فرینڈز تم کو بیکورڈ مائینڈ کہتے ہیں ۔۔ اور پچھلے تین دن سے مسلسل اگنور کر رہے ہو کیا مطلب سمجھو ں میں اسکا ۔۔ پاپا مجھے نہیں رکھنا یہ تعلق اب میں نہیں چاہتی ساری لائف ہم یوہی جھگڑتے رہے میں اس کو بہت بروڈ مائینڈ سمجھتی تھی پر یہ وہی بیکورڈ منٹیلٹی کے لوگ ہے۔۔ اور غصے میں اپنی رنگ اُتار کے ٹیبل پر رکھ دی۔۔ اخلاق صاحب نظر تک نہیں ملا رہے تھے۔۔ وقار علی نے آگے بڑھ کے رنگ اُٹھائی اور اخلاق صاحب کے پاس بیٹھ گیا۔۔ انکل میں ایسا خود بھی نہیں چاہتا تھا۔ کافی دنوں سے ایسی کشمکش میں تھا کے کیسے آپ کو انکار کروں پر اب آپ شرمندہ مت ہو ۔ ہمارا ساتھ یہی تک کا تھا۔۔ میں آپ کے بزنس میں ہر طرح کی ہیلپ کروں گا پر یہ رشتہ نہیں نبھا پاؤں گا۔ میں معافی چاہتا ہو میں کسی اور کو پسند کرتا ہو۔۔ اور سارا بہت اچھی لڑکی ہے اللہ اس کے نصیب اچھے کرے پر میں اس کا ساتھ کبھی نہیں نبھا سکتا۔۔ بابا آپ سے بھی معافی چاہتا ہو۔ امید ہے کے آپ ناراص نہیں ہو گے ۔۔ اور میٹنگ روم سے باہر چلا گیا۔۔
----------------------------------------
حنا بہت خوش تھی آج اس کے دل کی مراد پوری ہونے جا رہی تھی اس کی بیسٹ فرینڈ اس کی بھابھی بن رہی تھی۔۔ سب خوش تھےوقار علی سب سے زیادہ خوش تھا اس کو من چاہا جیون ساتھی اللہ نے عطا کر دیا تھا۔ اس دن کے بعد مصطفیٰ صاحب نے بھی اس ٹاپک پہ بات نا کی اور راضی خوشی بیٹے کی خوشی میں خوش ہو گئے۔۔۔
پر سب سے زیادہ گبھرائی ہوئی زروا تھی جو دلہن بنے آج وقار علی کے روم میں آئی تھی۔۔
----------------------------------------
اک لڑکی کی زندگی بھی کتنی عجیب ہوتی ہے نکاح کے دو بول پہ اک اجنبی کے ساتھ رخصت کر دیا جاتا ہے۔۔ اپنے پیاروں سے دور جن کے ساتھ آپ نے زندگی گزارتے چلے آتےہیں۔۔ اور کہہ دیا جاتا ہے یہی اب سے تمہاری آنے والی زندگی ہے۔۔ اُس کے پاس بھروسہ کرنے کے علاوہ کوئی چارا نہیں ہوتا۔۔ دراصل بھروسہ تو اُس پاک ذات پہ ہوتا جس نے اک انجان کو ہمسفر بنا ہوتا ہے۔۔ یہی کچھ سوچتے ہوئی دروازے پہ کوئی دستک ہوئی اندر کمرے میں جو داخل ہوا اور اُسےدیکھتے ہی سانس تھم سی گئی۔۔ یہ وہی دشمنِ جاں تھا جس کے نام پہ وہ یہاں اُس کے کمرے میں اُس کے بیڈ پہ حق سے بیٹھی تھی۔۔
اس نے آتے ہی دروازہ بند کیا اور اپنی شیروانی اُتار کے صوفے پہ پھنکنے والے انداز میں پھینکی گھڑی اُتار کے سائیڈ ٹیبل پہ رکھی اور بیڈ پہ ڈھ جانے والے انداز میں گڑھ سا گیا۔۔۔۔
”اہم۔۔۔ وہ کیا نام ہے تمہارا “
وقارعلی کا اتنا کہنا جُرم ہوا پہلے تو گھونگھٹ میں سب کاروائی دیکھتی رہی پر اِس سوال پہ حیرانی سے گھونگھٹ ہٹا کے بے یقینی سے دیکھا۔ وہ اِس کی اس حرکت پہ مسکرا دیا۔۔ آپ کو میرا نام بھی نہیں پتہ اور شادی بھی کر لی آپ نے۔۔۔
وقار علی نے حیرانی سے دیکھتی اپنی نئی نویلی دلہن کو دیکھا۔۔
یارشادی کے ہنگامے میں بھول گیا ہوں بتاؤ تو اپنا نام۔۔۔
آپ کو واقع نہیں پتہ میرا نام۔۔۔ وہ اک پل کے لیے مذاق سمجھی تھی اُس کی معصوم بنی صورت دیکھ کے بے یقین راہ گئی ۔۔۔ کوئی اپنی بیوی کا نام بھی بھولتا ہے؟؟ وہ بھی نئی زندگی کے آغاز میں۔۔
جائیں میں نہیں بتاتی جس کا نام یاد ہے اُس کے پاس جائیں۔۔
چینج کرنے کی نیت سے بیڈ سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔۔ یہی سوچ کے کیا فائدہ ایسے شوہر کا جس کو اپنی بیوی کا نام ہی نہیں پتہ۔۔۔ وقار علی نے اُس کے ارادے کو بھانپتے ہوئے اُس کا ہاتھ پکڑ کے پاس بیٹھایا
یہ کیا بدتمیزی ہے میں آپ کو نہیں جانتی چھوڑے میرا ہاتھ ۔۔۔
کیوں بھئی ابھی تو تم مجھے اپنی بیوی کہہ رہی تھی اک پل میں مکر گئی۔۔
وقار علی نے شرارت سے کہا۔۔ نہیں ہو میں آپ کی بیوی اور جانے دے مجھے وہ منہ بنائے بیٹھ گئی۔۔ اچھا سُنو زروا ایک گلاس پانی ہی پلا دو ۔۔ جو غصہ میں پھر سے اُٹھے لگی تھی اک دم سے اُس کی طرف گھومی۔۔ مجھے پتہ تھا آپ مذاق کر رہے ہیں۔۔۔
وہ قہقہ لگا کے ہنسا۔۔۔ یار اتنی ڈری سہمی بیٹھی تھی مجھے بس یہی طریقہ سوجھا تم کو رلیکس کرنے کا اورتم ہو گئی رلیکس۔۔۔ وہ جو اپنی خوشی چُھپا نہ پا رہی تھی مصنوعی سےغصہ میں بولی ۔۔
اگر آپ کو سچ میں میرا نام یاد نہ رہتا تو میں آپ کو زندگی بھر معاف نہیں کرنا تھا۔۔
وقار علی زروا کے اِسطر ح معصومیت سے بولنے پہ مسکرا دیا اور شرارت سے بولا۔۔
یار میں کیوں کر بُھولنے لگا اپنے پہ مسلت کیے جانے والے عذاب کا نام ۔۔
زروا نے گُھور کے دیکھا۔۔
میں آپ پہ عذاب ہو یہ تو میں اب بتاؤ گی آپ کو۔۔ وہ وقار علی کی طرف بھڑنے لگی تھی۔۔۔
وقارعلی: ہاں ضرور بتانا مگر نزدیک آکر اور پیار سے میں مائنڈ نہیں کروں گا۔۔ اور دونوں ہنس دئیے۔
زروا نے بیڈ پہ اپنا لہنگا پھلایا اور گھونگھٹ اُورلیا۔۔
وقار علی نے سوالیہ نظروں سے یہ کاروائی دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔
اب یہ کس لیے ؟
زروا نے گھونگھٹ ہٹا کے کہا۔۔ لو بھلا میری سوہاگ رات ہے اور سب دولہے اپنی دلہن کو رونمائی دیتے ہیں۔۔ اُس لیے مجھے گھونگھٹ تو اُڑھنا ہو گا نہ۔۔ وقارعلی اچھا۔۔۔۔ کو لمبا کرتے ہوئے بولا ۔۔ پریار اک مسئلہ ہے میں تو تحفہ لانا ہی بھول گیا۔۔
زروا نے آنکھیں نکالتے ہوئے کہا اب اور مذاق نہیں ورنہ صبح میں اپنی دوستوں کو کیا دیکھاؤگی اپنی رُنمائی کا گیفٹ۔۔۔ وقار علی مسکڑاتے ہوئے ۔۔۔ اچھا اچھا چلو یہ کنگن دیکھا دینا ۔۔ اور آگے بھرکے زروا کی کلائی تھام لی اورکنگن پہنا دئیے۔۔ اب تو سب کو بتا سکو کی نہ کے کس طرح میں نے پیار سے یہ کنگن اپنے ہاتھوں سے پہنائیں تم کو۔۔۔ زروا شرم سے مسکرا دی۔۔
وقار علی منہ بنا کے بولا ۔۔۔
اچھا اب میرا تحفہ کہاں ہے مجھے بھی دیکھنا ہے۔۔
زروا شرارت میں بولی۔۔۔
میں زروا وقار علی بقلم خُود آپ کی ہوئی۔۔
یہی ہے آپ کا گیفٹ۔۔

❤❤ چلو آج اعتراف کر لیں ❤یہ اپنی جان تم کو دی❤اپنی آن تم کو دی ❤میری ذات اب تم ہو ❤میرانشان اب تم ہو ❤مگراتنی سے گزارش ہے ❤میرےجاناں....❤❤❤جدا مجھ سے نہ ہونا تم ❤خفامجھ سے نہ ہونا تم ❤ساری رنجشیں❤لمحوں میں بھلا دینا ❤مجھے اپنا بنا لینا تم❤دل سے دور نہ کرنا ❤لمحے رنجور نہ کرنا❤مجھے اپنا بنانا تم❤نہ مجھ سے دور جانا تم❤بس اتنا یاد رکھنا تم❤کہ ہم تمہارے ہیں❤تم فقط ہمارے ہو( شاعری ازقلم فائزہ جعفری)

-----------💙💙ختم شُد💙💙----------
 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney