حرفِ دعا
ریاض عاقب کوہلر
پہلا حصہ
”اٹھتے ہو ،یا پانی کاجگ انڈیلناپڑے گا ؟“ضو نے کمبل میرے اوپر سے کھینچ کر پرے پھینکا ۔
”سونے دو نا یار ....!میں نے کروٹ بدل کر دوبارہ آنکھیں بند کر لیں ۔
”میرا خیال ہے ،یہ الفاظ تمھیں خالی خولی دھمکی لگ رہے g ؟“اس نے دوبارہ تنبیہ کی ۔
میں جواب دےے بغیر دم سادھے پڑا رہا ۔
وہ اطمینان سے بولی ۔”ٹھیک ہے !....پہلے مرحلے میںآدھا گلاس پانی ۔“
اوراس کے پانی پھینکنے سے پہلے میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا ۔”کیا مصیبت ہے یار!.... اب چھٹی کے دن بھی نہیں سونے دو گی ؟“
”آرام کا کوئی ٹایم ہوتا ہے محترم !....گیارہ بجنے والے ہیں اور تمھاری نیند ہی پوری ہونے میں نہیںآ رہی ۔“
”پتا ہے؟.... میں رات کو کس ٹائم سویا تھا ؟“
”میری بلا سے ۔“اس نے کندھے اچکائے ۔”میں تو گیارہ بجے اپنے روم میں چلی گئی تھی ۔
”اچھا تکلیف کیا ہے تمھیں ؟“میں نے تکیے سے ٹیک لگاتے ہوئے پوچھا۔
”اتنی جلدی بھول گئے ؟“اس نے آنکھیں نکالیں ۔
”یہ غصہ کسی اور کو دکھانا ،ڈرتا نہیں ہوں تم سے ؟“اب میں ویسے ہی اٹھ گیا تھا اور اس حالت میں اس سے دب کر بات کرنا مجھے کسی طور گوارا نہیں تھا ۔
”تیری تو ....؟“وہ پھرتی سے میز پر پڑے پانی کے جگ کی طرف جھپٹی اور میں چھلانگ لگا کر باتھ روم کی طرف بھاگ گیا ۔باتھ روم کا دروازہ کنڈی کرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ وہ کمرے سے باہر جا رہی ہے ۔اور مجھے پتاتھا کہ میرے لےے ناشتا لینے جارہی ہے ۔
ہم دونوں کزن ہیں اور والدین کی اکلوتی اولاد بھی۔عذرا جسے میں ہمیشہ ضَو کہہ کر بلاتا ہوںمجھ سے چھے سال چھوٹی ہے ۔اپنی پیدائش کے ساتھ ہی وہ مجھے تحفے میں مل گئی تھی۔ماں کی گود سے زیادہ وہ میری گود میں پلی بڑھی ۔بچپن ہی سے ہم دونوں میں گاڑھی چھننے لگی تھی۔ہم دونوںکا برتاو ¿ بالکل دوستوں والا تھا ۔جوان ہونے کے بعد بھی یہ رویہ نہیں بدلا تھا ۔ لڑکی ہونے کے باوجود وہ مجھ سے ہاتھا پائی کرنے سے بھی باز نہیں آتی تھی۔اینٹ کا جواب پتھر سے دینا اس کی فطرت ثانیہ تھی ۔لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں تھا کہ وہ میری چھوٹی سے چھوٹی بات کا خیال ماں ،بہن کی طرح رکھتی ۔میرے کپڑے استری کرنا ،الماری میں ترتیب سے لٹکانا، بستر کی چادر بدلی کرنا ،میرے لےے ناشتا کھانا وغیرہ لے کر آنااسی کی ذمہ داری تھی ۔
والدین کی طرف سے بھی ہم پر کوئی روک ٹوک نہیں تھی۔ عجیب بات یہ تھی کہ جوان ہونے کے بعد بھی میں نے کبھی اسے ان نظروں سے نہیں دیکھا تھا ،کہ وہ ایک خوب صورت اور پر کشش لڑکی ہے ۔میرے نزدیک وہ ایک دوست کی طرح تھی۔ ایک اچھا ،مخلص اور قیمتی دوست۔ جس سے میں ہر بات منوا سکتا تھا ۔غصے میں آ کر اس کی پٹائی کر دیتا اور غلطی پر ہونے کی صورت میں اس کے تھپڑ اور گھونسے ہنسی خوشی برداشت کر لیتا۔میری چھوٹی سے چھوٹی بات بھی اس سے پوشیدہ نہیں تھی اور نہ اس نے کبھی اپنے خیالات یا احساسات مجھ سے چھپانے کی کوشش کی تھی ۔ والدین کا رویہ ایسا تھا کہ ہم دونوں دو دو ماں باپ رکھتے تھے ۔میں کبھی ابو جان اور چچا جان کی محبت میں تمیز نہیں کر سکا اور نہ امی جان اور چچی جان کی شفقت میں کسی ایک کو زیادہ نمبر دے سکا ۔ یہی حال ضو کا تھا۔
میں نہا کر باہر نکلا تو وہ ناشتے کی ٹرے لےے منتظر نظر آئی ۔
”تمھیں پتا ہے نا؟....مجھے انڈے سے الرجی ہے ۔“میں نے پلیٹ میں پڑے ابلے ہوئے انڈوں کو دیکھ کر ناک بھوں چڑھائی ،جن چھلکا نفاست سے اتارا گیا تھا۔
”جانتی ہوں محترم !....“اس نے بے پرواہی سے کندھے اچکائے۔”لیکن موسم بدل رہا ہے اور سردیوں کی آمد کے ساتھ، تمھیںپسند ہو یا نہ ہو انڈے کھانے پڑتے ہیں اور ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی ٹھونسنے پڑیں گے ؟“
”پر یہ تین انڈے ؟....تم تو روزانہ ایک انڈہ لیتی ہونا پھر ؟“
”ہاں.... آج بھی ایک ہی لوں گی ....دو تمھارے لےے ہیں ۔“
”میں نے نہیں کھانے دو انڈے ،خود کھالینا ۔“میں نے لہجے میں سختی پیدا کرنے کی کوشش کی ،گو میں جانتا تھا کہ اگر اس نے ارادہ کر لیا ہے تو ہر صورت مجھے منا کر چھوڑے گی ،وہ اپنی بات منوانا جانتی تھی ۔
”شاید عزت سے ناشتا کرنا تمھیں اچھا نہیں لگتا ؟“اپنے حصے کا انڈہ اٹھا کر اس نے پلیٹ میری جانب کھسکادی ۔
”یار ضَو....!....کیا بکواس ہے ؟“میں نے پرزور احتجاج کیا ۔
”میرا نام عذرا مختیارہے ....؟“جب اس نے میری بات کا جواب نہیں دینا ہوتا تو وہ یہی انداز اختیا ر کرتی کہ کسی اعتراض نہ کرنے والی بات پر اعتراض جڑ دیتی ۔
”اگر میں نہ کھاو ¿ں تو تم میرا کیا بگاڑ لو گی ؟“میں نے ملک شیک کا گلاس ایک ہی سانس میں خالی کر کے پوچھا ۔
”کوشش کر کے دیکھ لو ؟“اس کے اطمینان میں فرق نہیں آیا تھا ۔
”نہیں پھر بھی ....؟مطلب اگر میں صرف ایک کھاو ¿ں ؟“
”ایک کھاو ¿یا بالکل نہ کھاو ¿ سزا ایک ہی ملے گی ۔“
”ذرا میں بھی سنوں ؟“
”کل انڈیا اورپاکستان کا کرکٹ میچ ہے ۔“وہ سیب چھیلتے ہوئے سرسری انداز میں بولی۔
”اہوہ شٹ یار!....مجھے تو بھولا ہوا تھا ۔“میں جلدی جلدی انڈے ٹھوسنے لگا ، کیونکہ اس کی دھمکی نہایت واضح تھی، کہ اس نے مجھے کرکٹ کا میچ نہیں دیکھنے دینا تھا ۔گو وہ خود بھی میری وجہ سے کرکٹ میچ دیکھتی رہتی تھی لیکن جب ضد پر آ جاتی تو مجھے ایک جھلک بھی نہیں دیکھنے دیتی تھی اور اس کا تجربہ مجھے ہو چکا تھا ،پاکستان اور نیوزی لینڈ کا میچ شروع ہونے میں آدھا گھنٹا رہتا تھا جب اس نے آئس کریم کھانے کی خواہش کا اظہار کیاتھا ۔اس کاموقف تھا کہ مارکیٹ سے آئس کریم لے کر ہم گھر بیٹھ کر کھا لیں گے اور اس خریداری میں بیس پچیس منٹ سے زیادہ نہ لگتے مگر مجھے ٹی وی کے سامنے سے اٹھنا گوارا نہ ہوا نتیجتاََمیں وہ میچ نہ دیکھ سکا ۔اور اب میں انڈیا ، پاکستان کے میچ کی قربانی دینے کے لےے تیار نہیں تھا ۔
وہ مجھے صرف کرکٹ کے میچ کی دھمکی نہیں دیتی تھی ،اس ضمن میں اس کے ترکش میں کئی تیر تھے ،میری کسی قیمتی چیز کا بیڑہ غرق کرنا ،مجھے سونے نہ دینا ،خود بھوک ہڑتال کر لینا وغیرہ ۔ البتہ میری بات پر وہ زیادہ تر،بے چوں چراں عمل کرتی ، کبھی نہیں کرنے کا اتفاق ہو بھی جاتا تو گدھے کی طرح مجھ سے پِٹ جاتی تھی ۔
ناشتا کر کے وہ برتن سمیٹنے لگی ....گھر میں نوکرانی موجود ہونے کے باوجود میرے کام وہ اپنے ہاتھوں سے کرنا پسند کرتی تھی ۔
وہ برتن رکھ کر لوٹی تو میں ابھی تک اطمینان سے بیٹھا تھا ۔”اب چلو بھی راجو!....پہلے ہی اتنے لیٹ ہو چکے ہیں ۔“
”یار ضَو....!کچھ خدا کا خوف کرو ....مجھے شاپنگ سے اتنی چڑ ہوتی ہے کہ جی چاہتا ہے کہیں بھاگ جاو ¿ں ۔“
”بکواس کرنے کی ضرورت نہیں، ہفتے بعد شادی ہے کم از کم تین سوٹ خریدنے ہیں میں نے ،جوتے اور میک اپ کا سامان بھی لینا ہے۔پھر تمھارے لےے مجبوراََ مجھے ہی خریداری کرنی پڑے گی کہ جناب کا انتخاب، گھٹیا پن کی اعلا مثال ہوتا ہے اور یقینا یہ کام دو تین گھنٹوں میں تو نہیں نبٹایا جا سکتا ؟“
میں سر پکڑتے ہوئے بولا ۔”کچھ خدا کا خوف کرو ضَو !....“
”خدا کا خوف ہی تو کر رہی ہوں ....ورنہ تجھے آٹھ بجے ہی مارکیٹ نہ لے جاتی ؟“
”اچھا میری ماں !....اب چلو ۔“میں نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا۔ 
وہ شرارت سے بولی ۔”ویسے آج موڈ نہیں ہے تو یہ کام کل پر بھی ٹالا جا سکتا ہے؟“
”پِٹو گی مجھ سے ضو ....“میںنے دانت پیسے اور وہ کھلکھلا کر ہنس دی ۔وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ کرکٹ میچ میری کتنی بڑی کمزوری ہے ۔
ہم سہ پہر ڈھلے ہی واپس لوٹ سکے تھے ۔اپنے لےے شاپنگ کے ساتھ اس نے میرے لےے بھی شاپنگ کی تھی ،یوں بھی میرے لےے کپڑوں، جوتوں ،پرفیوم ، کمرے کی سجاوٹ کا سامان ،یہاں تک کہ موبائل اور لیپ ٹاپ تک وہ اپنی پسند سے خریدتی ۔میں نے زندگی میں ایک مرتبہ سپورٹس شرٹ خریدنے کی غلطی کی تھی اور صرف ایک دن ہی پہن سکا تھا۔ اس کے بعد وہ کہاں غائب ہوئی مجھے آج تک پتا نہیں چل سکا ۔البتہ اس کا رنگ کتنا بونگا تھا ،لمبائی چوڑائی کتنی بے ڈھنگی تھی ،اس پر ہونے والا تبصرہ ہر خریداری کے موقع پر دہرایاجاتاتھا ۔
ؒ ُ ؑ ِ 
میں ماسٹر کر رہا تھا جبکہ ضو سیکنڈ ایئر میںتھی ۔ کالج وہ میرے ساتھ ہی جاتی البتہ واپسی پر اسے ڈرائیور لینے جاتا کیونکہ مجھے یونیورسٹی سے تھوڑا لیٹ آنا ہوتا تھا ۔واپسی پر وہ کالج کا لباس بدل کرمیری خواب گاہ کی صفائی اپنی نگرانی میں کراتی اور پھر وہیں بیٹھ کر میرا انتظار کرتی ۔ میری واپسی پرہم دونوں تھوڑی دیر گپ شپ کرتے ،اکٹھے دوپہر کا کھانا کھاتے اور اس کے بعد وہ آرام کرنے کے لےے اپنے کمرے میں چلی جاتی ۔اس دن بھی وہ کمرے کی صفائی کے بعد میرے بستر پر لیٹی ایک رسالے کی ورق گردانی کر رہی تھی جب میں تیز قدموں سے چلتا اندر داخل ہوا ،میرے چہرے پر چھائے خوشی کے اثرات اسے نہال کر گئے تھے۔ مجھے خوش دیکھ کر جانے کیوں وہ بھی کھل اٹھتی تھی ۔
”ضو....ضو،پتا ہے آج میں بہت خوش ہوں ؟“میں خوشی سے چہکا ۔
”وہ تو تمھارے تھوبڑے سے بھی دِکھ رہا ہے ،وجہ پھوٹو؟“
”اس کا نام رخشندہ ہے ،مجھ سے ایک سال جونیئر ہے اور بہت پیاری ہے ۔“
ضو کے چہرے پرایک لمحے کے لےے عجیب سے تاثرات نمودار ہوئے مگراگلے لمحے خود پہ قابو پاتے ہوئے اس نے زوردار قہقہہ لگایا....
”محترم !....یہ غالباََ آٹھویں ہے یا پھر نویں ؟....لیکن اس مرتبہ ایک دم اچانک ، مطلب پہلے ذکر نہیں کیا ....؟
”اچانک کہاں ضو....!مہینے بھر سے اس کے دائیں بائیں پھر رہا ہوں ۔“
”مطلب ....پہلے مجھ سے یہ بات چھپائی رکھی ....؟کیوں ....؟“
”وہ کیا ہے کہ ....اگر وہ نہ مانتی تو تم نے میرا مذاق اڑانا تھا ،میں نے سوچا پہلے اسے منالوں اس کے بعدتمھیںبھی بتا دوں گا ۔“
”منا نہ لوں ....پٹا لوں کہو؟“اس نے زبان نکال کر مجھے چڑایا۔”ویسے اگر وہ نہ مانتی پھر ؟“
”تو کیا ....؟تمھیں پھر بھی بتا دیتا ۔“
”بس.... بس میں جانتی ہوں ....شرم آنی چاہےے تمھیں، اگر مجھے دوست سمجھتے تو پہلے دن ہی یہ بات بتا دیتے۔“
”ضو !....سوری نا یار! ....اچھا آئندہ پہلے سے بتا دیا کروں گا ۔“
اس نے قہقہہ لگایا۔”مطلب یہ آخری نہیں ہے ....؟اس کے بعد بھی کہیں منہ مارنے کا ارادہ ہے ؟“
”نہیں یار !....میرا مطلب ہے ابھی رخشی سے ہونے والی ساری باتوں سے تمھیں آگاہ رکھوں گا ۔“
”وہ تو خیر رکھو گے ،جیسے ثمینہ ،رانی ،پنکی ،کرن ،سنبل،اقدس،رضیہ کے بارے مجھے آگاہ رکھتے تھے ۔“
”ہاں اور سچ میں ضو ....!اس مرتبہ میں سنجیدہ ہوں ۔“
”اچھا مذاق ہے ۔“وہ ہنسی ۔”ویسے ،خاندانی بیک گراو ¿نڈ کیسا ہے ؟“
”ایس پی کی بیٹی ہے۔“
”واہ! ....اس کا مطلب ہے ؟تونے ذرا بھی گڑ بڑ کی تو حوالات کی سیر کرنی پڑے گی۔“
”رخشی کے لےے سب کچھ قبول ہے ۔“میں نے اس کا تصور کرتے ہوئے آنکھیں بند کر لیں ۔
”کیا بہت خوب صورت ہے ؟“اس کے لہجے میں حسد یا رشک جیسا کوئی جذبہ ضرور پوشیدہ تھا مگر میںنے زیادہ توجہ اس لےے بھی نہیں دی کہ دوسری عورت کے حسن کی تعریف کوئی عورت بھی برداشت نہیں کر سکتی ۔
”ہاں ضو !....سرخ سیب کے سے رخسار،موٹی موٹی غلافی آنکھیں ، گلابی ہونٹ، صحرائی دار گردن ....سرو قد،یقین کرواپسرا ہے اپسرا....آج تک میں نے اس جیسی حسین لڑکی نہیں دیکھی ۔“
”مطلب پہلے والی تمام سے خوب صورت ہے ؟“
”بے شک ۔“
”تو پھر ،کب ملا رہے ہو ؟“
”جب کہو۔“
”ایسا ہے کہ ....کل میں چھٹی کے بعد ادھر یونیورسٹی ہی میںآ جاو ¿ں گی ۔“
”ٹھیک ہے ۔“میںنے اثبات میں سر ہلا دیا ۔
”اچھا تم چینج کرو میں کھانا لاتی ہوں ۔“وہ کچن کی طرف بڑھ گئی اورمیں سر ہلاتا ہوا واش روم میں گھس گیا ۔
ؒ ُ ؑ ِ
”اچھا پتا ہے ؟آج ضو تمھیں دیکھنے آئے گی ۔“
”یہ کون ذات شریف ہے ؟“رخشندہ مستفسر ہوئی ۔ہم دونوں اس وقت یونیورسٹی کی کنٹین میں بیٹھے چاے پی رہے تھے ۔
”میری دوست ہے ۔“اور پھر اس کی آنکھوں میں جھلکنے والی حیرت دیکھ کر میں نے وضاحت کی ۔”میرا مطلب کزن ہے میری ۔“
”آپ کی کزن کا میرے ساتھ کیا کام ؟“
”وہ بچپن سے میرے ہر کام میں دخیل رہی ہے ،اب شادی ایسا اہم کام میں اس کے مشورے کے بنا تو نہیں کر سکتا نا ؟“
”کیا مطلب ....اگر میں اسے پسند نہ آئی تو آپ مجھے چھوڑ دیں گے ؟“ رخشی کے لہجے میں حیرت کے ساتھ غصے کا عنصر بھی شامل تھا ۔
”اوہو!....یہ میں نے کب کہا ....وہ میری راز دار ضرور ہے مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اس کی وجہ سے ہماری محبت میں کوئی رخنہ پڑ سکتا ہے ؟“
”دیکھ لو جدیر!....کہیں یہ نہ ہو وہ کچھ زیادہ ہی ایفی شنسی (Efficiency) دِکھانا شروع کر دے ۔“
نہیں جی !....وہ ایسی نہیں ہے ۔“میں جلدی سے بولا۔
”اچھا دیکھ لیں گے ....اب چلو پیریڈ شروع ہونے والا ہے ۔“وہ اٹھ گئی اور میں سر ہلاتا ہوا کاو ¿نٹر کی طرف بڑھ گیا ۔
آخر ی پیریڈ شروع ہونے سے پہلے مجھے ضو کا ایس ایم ایس موصول ہوا کہ وہ یونیورسٹی گیٹ پر پہنچ چکی ہے ۔
”اوکے ....ڈرائیور کو واپس بھیج دواورخود یونیورسٹی کنٹین میں آ جاو ¿۔“جوابی ایس ایم ایس لکھ کر میں رخشی کو کال کرنے لگا ۔
”یس ؟“اس نے کال اٹینڈ کرنے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔
”ضو ،کنٹین میں ہماری منتظر ہے ۔“
”کیا آخری پریڈ اٹینڈ نہ کروں ؟“
”ہاں ،رخشی! ....وہ اتنی دور سے صرف تمھیں ملنے آئی ہے ۔“
”اوکے ،میں پہنچ گئی ۔“کہہ کر اس نے کال منقطع کر دی ۔میرے قدم بھی کنٹین کی طرف اٹھ گئے ۔اس وقت کنٹین میں رش نہ ہونے کے برابرتھا ۔ضو نے نسبتاََ خالی گوشے میں جگہ سنبھالی ہوئی تھی ۔وہ اس وقت کالج یونیفارم ہی میںتھی ۔میں اس کے سامنے کرسی سنبھال کر بیٹھ گیا ۔“
”کہاں ہے جی ہماری بھابی ؟“
”بس آنے ہی والی ہے ۔“میں دروازے کی طرف دیکھنے لگا ۔
”اسے میرے بارے بتا دیا تھا نا ؟“وہ عجیب سے لہجے میں مستفسر ہوئی ۔
”ہاں ضو !.... ابھی وہ تمھیں ملنے ہی تو آ رہی ہے ۔“ الفاظ میرے ہونٹوں پر تھے کہ رخشندہ کنٹین میں داخل ہوئی ۔
”یہی ہے ؟“اس کے اندر داخل ہوتے ہی ضو نے آہستہ سے پوچھا ۔
”صحیح پہچانا ....“کہتے ہوئے میں اس کے استقبال کے لےے کھڑا ہو گیا ۔ ضو نے بھی میری تقلید کی تھی ۔
”اسلام علیکم !....“رخشی نے سلام کرتے ہوئے اپنا ہاتھ مصافحے کے لےے ضو کی طرف بڑھا دیا ۔
”وعلیکم اسلام !....آئیں بھابی بیٹھیں ۔“ضو شوخی سے بولی ۔
”ضو!....کیا لو گی؟گرم یا ٹھنڈا....؟“
”راجو جی !....کنٹین کی پھیکی اور بے مزا چاے پر ٹرخانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور تمھیں پتا ہے گھر سے باہر میں کس ہوٹل میں کھانا پینا پسند کرتی ہوں؟“
”تمھیں میں نے نہیں بلایا تھا سمجھیں ؟“میں نے آنکھیں نکالیں ۔
”بلانے کو چھوڑو ....میری آمد کا مقصد دیکھو ،آخر میں نے ہی جا کر امی جان اور ابو جان کو راضی کرنا ہے ۔“
”مجھے تمھاری مدد کی بالکل ضرورت نہیں ،خوا مخوا،میرابڑا بننے کی ضرورت نہیں؟“
” بنوں گی ....کیا تم مجھے روک سکتے ہو ؟“اس نے آنکھیں نکالیں ،اس ٹائم اسے یہ بھول گیا تھا کہ ہمارے ساتھ کوئی تیسرا بھی موجود ہے ۔
” شٹ اپ ضو !....“میں نے اسے ڈانٹ کر خاموش کرانا چاہا ۔
”یو شٹ اپ .... بھاڑ میں جاو ¿....تم بھی اور ....“اس نے رخشی کی طرف دیکھا اورمزید کچھ کہے بغیراٹھ کر کنٹین سے باہر جانے لگی ۔
”اے ضو ! سنو تو ؟“میں اسے آواز دی، مگر وہ سنی ان سنی کرتی باہر نکلتی چلی گئی ۔
”سوری رخشی !....مگر مجھے اس کے پیچھے جانا پڑے گا ۔“میں رخشی کا جواب سنے بغیر تیز قدموں سے چلتا ہواکنٹین سے باہر نکل آیا ....ضو کا رخ یونیوسٹی کے داخلی دروازے کی طرف تھا،میں جانتا تھا کہ اسے وہیں منانے کی کوشش کامیاب ہونے والی نہیں ہے۔وہ کسی بھی صورت واپس آنے پر راضی نہ ہوتی ۔اور اگر میں بالکل اسے نظر انداز کردیتا اوراس کے پیچھے نہ جاتا تب تو شاید وہ کئی دن خفگی میں گزار دیتی ۔
میں پارکنگ کی طرف بڑھا ،جب تک میں کار، پارکنگ سے باہر نکالتا ،وہ یونیورسٹی سے باہر نکل گئی تھی ۔جلد ہی میں نے اسے جا لیا ۔کار اس سے چند گز آگے روک کر میں نیچے اترا۔
”یہ کیا بے ہودگی ہے ضو !....؟“میں اس وقت سچ مچ تیش میں تھا ۔
”مجھے تم سے بات نہیں کرنی ۔“بے پرواہی سے کہتے ہوئے اس نے میرے قریب سے گزرنا چاہا۔
میں نے ہاتھ پکڑ کر اسے روکا ۔”آخر ایسا کیا کہہ دیا میں نے کہ تم سیخ پا ہو گئیں؟“
”ایک غیر لڑکی کے سامنے مجھے شٹ اپ کہنا تمھارے نزدیک کوئی بات ہی نہیں ہے،جانے وہ کیا سوچ رہی ہو گی میرے بارے ؟“
”اچھا کار میں بیٹھ کر بات کرتے ہیں ۔“میں نے اسے بازو سے پکڑ کر کار کی سمت کھینچا ، خلاف توقع بغیر کسی اعتراض کے وہ کار میں بیٹھ گئی ۔
”ضو !....بات سمجھنے کی کوشش کرو،وہ کوئی غیر نہیں میری ہونے والی بیوی ہے۔ اور تم نے بھی تو جواباََ مجھے شٹ اپ کہہ دیا تھا، پھر خفا ہو کر وہاں سے بھاگنے کی کیا ضرورت تھی ؟“
”اب میں جواب بھی نہ دیتی ؟“اس نے آنکھیں نکالیں ۔
”بات سمجھنے کی کوشش کرو یار !....میرے کہنے کا مطلب ہے ،جب تم نے بدلا لے لیا تھا ،پھر کیوں اٹھ آئیں ۔جانے کیا سوچ رہی ہو گی رخشی ....میں نے اس کا آخری پیریڈ بھی مس کرا دیا ۔“
”بڑی تکلیف ہو رہی ہے اس کی ذرا سی زحمت پر.... اور میں جو اتنی دور سے چل کر آئی ہوں وہ تمھارے نزدیک کوئی معنی نہیں رکھتا ؟“وہ بھناتے ہوئے بولی ۔”یوں بھی پہلی نہیں ہے کہ اس کی خفگی سے تمھیں کوئی فرق پڑے ؟“
”اچھا یہ دیکھو....“میں نے دونوں ہاتھ اس کے سامنے جوڑ دےے ،کوئی پیر فقیر ہے تو اس کا واسطا....مجھے معاف کرو۔“
”ہا....ہا....ہا“وہ کھلکھلا کر ہنستے ہوئے بو لی ۔”اچھا اب چلو بھی،یا یہیں رات گزارنے کاارادہ ہے؟“
”واپس چلیں ؟“
”جی نہیں ۔“اس نے نفی میں سر ہلایا۔”یہاں سے سیدھا میکڈونلڈزاور پھر وہاں سے ما بدولت کو مارکیٹ لے جانا....کوئی چیز خریدنی ہے ۔“
”کیا مطلب کوئی چیز خریدنی ہے ؟“میں بوکھلا گیا تھا ۔
”کپڑوں کا ایک سوٹ لینا ہے نا یار !....اس دن تین سوٹ لےے تھے ،ان میں سے ایک تائی جان نے اپنے لےے رکھ لیا اب ایک اور خریدنا پڑے گا ۔“
”’تو کون سا تمھاری شادی ہو رہی ہے ،کہ دو سوٹوں سے گزارا نہیں ہو سکتا ؟“
”تم نے چلنا ہے کہ نہیں ....؟“وہ دوبارہ سنجیدہ ہو گئی تھی ۔
اور میں نے سر جھٹکتے ہوئے کار آگے بڑھا دی ،کہ اس سے بحث کرنا پتھر سے سر ٹکرانے کے مترادف تھا ۔
ؒ ُ ؑ ِ
کھانا ہم باہر ہی کھا کر آئے تھے ،اس لےے وہ میرے کمرے میں رکنے کے بجائے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی اور میں موبائل نکال کر رخشندہ کو کال کرنے لگا۔ مگر اس نے نمبر بزی کر دیا ،گویا وہ سخت خفا تھی ۔میں نے دو تین باراس کا موبائل فون نمبرڈائل کیا مگر وہ بار بار بزی کرتی رہی ،تنگ آ کر میں نے کوشش کرنا ہی ترک کر دیا۔
رات کو میں نے یہ بات ضو کو بتا دی ۔
”اس میں ناراض ہونے کی کیا بات ہے ؟“اس نے حیرانی ظاہر کی ۔
”واہ ....کیا خوب ارشاد فرمایا ہے ۔جب تم کنٹین سے نکل کر بھاگی تھیں تو وہ کیا تھا بی بی ؟“
وہ اطمیان سے بولی ۔”وہ تو تم نے میری توہین کی تھی ....بھاگنے کے علاوہ میرے پاس کوئی چارہ ہی نہیں تھا ۔“
”ضو !کچھ شرم کرو یار ....میں رخشی کو اکیلا چھوڑ کر تیرے پیچھے بھاگتا رہا۔“
وہ ترکی بہ ترکی بولی ۔”تو کیا میں کبھی تیرے پیچھے نہیں بھاگی ، کبھی تیرے نخرے برداشت نہیں کےے ؟“
”ہاں یہ تو ہے ،مگر پھر بھی یار!.... تمھیں یہ ماننا پڑے گا کہ رخشی کے ساتھ میں نے زیادتی کی ہے ۔“
”اچھا کل جا کر منا لینا راجو! ....اب اس موضوع کو چھوڑو ،جو ہونا تھا وہ ہو چکا۔ اوریوں بھی جب تم کسی لڑکی کے بارے سنجیدہ ہو جاو ¿ گے تو تم سے دور نہیں جا سکے گی ، بے عقل ، نالائق اور بے کار تم صرف میرے لےے ہو، لڑکیاں تمھیں ایسا نہیں سمجھتیں ،یوں بھی دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں ۔البتہ قریب آنے کے بعد ان کے پاس بھاگنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔“
”اے !....بے عقل اور نالائق ہو گی تم خود ۔اور کون سی لڑکی مجھے چھوڑ کے گئی ہے؟ذرا نام تو بتاو....؟“
”مجھ سے بار بار ان کے نام مت گنواو ¿ ،تلاوت نہیں ہے کہ میں ہر منٹ بعد وہ فہرست دہرانا شروع کر دوں ۔“
”تمام سے میں نے خود ہی قطع تعلق کیا ہے ....اور یہ بات تم اچھی طرح جانتی ہو؟“
”اچھاآآآ....!“وہ استہزائیہ لہجے میں بولی ۔’ذرا میں بھی تو سنوں کہ تو نے کس کس کو دھتکار اہے ....تو شروع کرتے ہیں ثمینہ سے ؟“
”تو کرونا ....؟اس کی اور تمھاری برتھ ڈے ایک دن ہی آ رہی تھی ۔اور اس کے دعوت دینے کے باوجود میں وہاں نہ جا سکا ۔“
وہ ہنسی ۔”اور اگلے دن اس نے کہا ،کہ آئندہ مجھے اپنی منحوس شکل نہ دکھانا۔“
”نہیں جی! ....ایسی کوئی بات نہیں ہوئی تھی،بس مجھے دیکھ کر وہ کترا کر نکل گئی اور میں بھی اپنے رستے پر چل پڑا۔“

”اپنے نہیں ،کرن کے رستے پر کہو ۔اور جسے تم کترا کر نکل جانا کہہ رہے ہو نا ؟ اس کی تشریح میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ میں تیری منحوس شکل نہیںدیکھنا چاہتی ۔“
میں جوش سے بولا ۔”کرن ،کو تو میں نے خود کہا تھا ،کہ اب تیرے میرے رستے الگ ہیں ؟“
”واہ ....“وہ ہنسی ۔”یہ بھی بتاو ¿ ناں کہ کہا کب تھا ؟“
میں نے زور و شور سے کہا ۔”جب بھی کہا ہو،کہا تو میں نے ہی تھا ناں؟“
”اچھا میں بتا دیتی ہوں ....اتوار کے دن تو نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ اسے لنچ کراو گے ....وہ ہوٹل میں تیرا انتظار کرتی رہی اور تم ........؟“
”ہاں میں اپنی منحوس کزن کو ہاسپیٹل پھراتا رہا ،اسے فوڈ پوائزن ہو گیا تھا،جو ہر کھانا آخری کھاناسمجھ کے کھاتی ہے ۔“ میں بھناتے ہوئے بولا۔
”بات تو پوری ہونے دو ؟“اس کے لبوں پر مسکراہٹ رقصاں رہی ۔ ”اگلے دن وہ کسی اور لڑکے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے چہل قدمی کر رہی تھی ....ایسی صورت میں محترم اس کے علاوہ کیا کر سکتا تھا کہ وہ پنکی کی جھولی میں جا گرے ....اور یاد ہے تو نے پنکی کے سامنے کتنی قسمیں کھائیں تھیں کہ میرے ساتھ تیرا کوئی افیرّ نہیں میں بس تیری اچھی دوست اور کزن ہوں، مگر وہ نہ مانی اور اس نے تجھے سختی سے منع کیا کہ مجھ سے دور رہو گے۔مگر مابدولت کو اتنی آسانی سے کسی کام سے نہیں روکا جا سکتا ۔ تو کیا ہوا؟ پنکی نے بھی تجھے اپنی زندگی سے نکال پھینکا اور ....“
”بس کرو میری ماں !....“میں نے ہاتھ کا نوںکو لگاکر ہاتھ جوڑ لےے۔”میری ساری محبوباوں کو مجھ سے دور کرنے والی تم ہوکمینی ،لیکن اب رخشی کو میں ناراض نہیں ہونے دوں گا ؟“
”اچھا ....آئی ایم رئیلی سوری ....لیکن یقین کرو میں نے جان بوجھ کر کبھی ایسا نہیں کیا۔“اس کے لہجے میں شامل ندامت گویا اس بات کی دلیل تھی کہ اسے رخشی کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا احساس ہو گیا تھا اور میرے لےے اتنا ہی کافی تھا کہ وہ ہٹ دھرم کسی طور اپنی غلطی مان گئی ہے۔
ؒ ُ ؑ ِ
”رخشی !....بات تو سنو ۔“جب وہ لاتعلقی سے میرے پاس سے گزرتی چلی گئی تو مجبوراََ مجھے پکارنا پڑا ۔
”جی ؟“پیچھے مڑ کر اس نے پھاڑ کھانے والے لہجے میں پوچھا ۔
”آئی ایم رئیلی سوری ....“
”جدیر صاحب !....میں اتنی گھٹیا اور فالتو نہیں ہوں ۔نہ تمھاری محبت میں مری جا رہی ہوں ۔تم نے سوچا بھی کیسے کہ یوں میری توہین کرو گے اور میں معاف کر دوں گی؟“
”رخشی !........“
”’میرا نام رخشندہ ہے ،انڈر سٹینڈ ؟“
”اوکے اوکے مس رخشندہ اظہر صاحبہ !مجھے صفائی پیش کرنے کا موقع تو دو نا ؟“
”فرماو ¿....؟“
”وہاں کنٹین میں بیٹھ کر اطمینان سے بات کرتے ہیں ۔“
”سوری،لیکن یہ حقیقت ہے کہ کنٹین پر نعمان میرامنتظر ہے ،اور اس کی موجودی میں ،میں تیری کوئی بات نہیں سن سکتی ۔“
”کیا ....؟“میں غم و غصے سے چیخ پڑا تھا ۔”ہوش میں تو ہو ۔“
”ہاں اور اب تم بھی ہوش میں آ جاو ¿۔نعمان مجھے، تم سے بھی پہلے پرپوز کر چکا ہے اور میرے تمھاری طرف مایل ہونے کے باوجوداس کے دل میں میری چاہت کم نہیں ہوئی ۔ جبکہ تمھارے دل میں کبھی میری چاہت تھی ہی نہیں ؟“
”نہیں یہ جھوٹ ہے ۔“میں نے پر زور انداز میں تردید کی ۔
”جھوٹ کیسے ....؟کیا ایک تھرڈ کلاس لڑکی کو منانے کے لےے تو نے مجھے کنٹین میں بلا کر میرا تماشا نہیں بنایا۔“
”شٹ اپ ،تھرڈ کلاس ہو گی تم خود،بلکہ تیری پوری فیملی ،خبردارآئندہ اگر میری کزن کے بارے اس طرح کے گندے الفاظ استعمال کےے تو زبان گدی سے کھینچ لوں گا۔ بھاڑ میں جائے تیری محبت اور خود تم۔“ضو کے بارے اس کے ریمارکس سن کر میرا دماغ ایک دم گھوم گیا اور پھر اس کاجواب سننے کے لےے میںوہاں رکا نہیں تھا ۔
”اوئے راہ گیر....“میرا قریبی دوست مظہر ہمیشہ مجھے جدیر کے بجائے راہ گیر کہتا تھا۔اس وقت وہ یونیورسٹی کے لان میں گڑی سنگی بینچ پربیٹھا مجھے ہاتھ کے اشارے سے اپنی جانب بلا رہا تھا ،جبکہ میرا رخ اس وقت پارکنگ ایریا کی طرف تھا، کیونکہ میں جانتا تھا کہ اس دن میرا پڑھائی میں جی نہیں لگنا تھا ۔
مظہر کو دیکھتے ہی میرے قدم اس کی جانب اٹھ گئے ،کہ اس وقت کسی ایسے مخلص دوست کی ضرورت مجھے شدت سے محسوس ہورہی تھی ۔
”کدھر بھاگے جا رہے ہو یار !تمھیں تو رخشندہ بھابی کو منانے جا نا تھا ؟“
”ہونہہ !....رخشندہ بھابی ؟“میں طنزیہ انداز میں کہتے ہوئے اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔ 
”مجھے لگتا ہے کچھ غلط ہو گیا ہے ؟“اس نے سوالیہ نظروں سے میری جانب دیکھا اور مجھے خاموش پا کر دوبارہ بولا ۔”کیا میرا اندازہ ٹھیک ہے ۔“
میں نے اثبات میں سر ہلایا۔”ہاں کچھ ایسا ہی ہے ،میں اس سے تعلق توڑ آیا ہوں ۔“
”غصے میں لگتے ہو ؟“اس نے سمجھنے والے انداز میں سر ہلایا۔”اچھا چلو پہلے کچھ ٹھنڈا ہو جائے ،پھر مجھے تفصیل بتلانا کہ کیا ہوا ہے ؟“
”پتا نہیں خود کو سمجھتی کیاہے ....؟“
”کہا نا ....؟ابھی نہیں ۔“اس نے میرا بازو پکڑکر کنٹین کی سمت کھینچا اور میں اس کے ساتھ چل پڑا ۔
”جانتے ہو ،پیار محبت کے کھیل میں کئی ایسے مراحل آتے ہیں کہ محبوب سے قطع تعلق کرنے کو جی چاہتا ہے ....مگر یہ ایک عارضی کیفیت ہوتی ہے ،جس سے محبت ہو تی ہے گلے شکوے بھی اسی سے ہوتے ہیں ۔“میں خاموشی سے اس کی باتیں سنتا رہا ،کنٹین میں جاکر اس نے دو کولڈ ڈرنک منگوائیں ۔
میں نے ایک ہی سانس میں پوری بوتل ختم کر دی ....ٹھنڈے مشروب نے میرے اندر ابلتی تپش کو کم کیا اور میں کچھ بہتر سوچنے کے قابل ہوا۔
”اب بتاو ....؟کیا بات ہوئی ؟“مظہر اپنا کولڈ ڈرنک ختم کر کے مستفسر ہوا ۔
”بس کیا بتاو ¿ں یار؟....بڑی مشکل سے رخشی کو اپنا بنایا تھا اور بڑی آسانی سے گنوا دیا۔“
اس نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔”تھوڑی وضاحت کرنے سے یقیناتمھارے دانت گھس نہیں جائیں گے ؟“
اور میں نے پوری تفصیل اس کے سامنے دہرا دی ۔
وہ اطمینان سے بولا۔”اس میں سراسر تمھاری غلطی ہے ۔“
”میری غلطی کیسے ہو گئی ؟“میں نے احتجاجی لہجے میں کہا۔
”تمھاری کزن ضروری تھی یا محبوبہ ؟۔کزن سے تم گھر میں بھی نمٹ سکتے تھے ۔ اس وقت ضرورت تھی کہ تم رخشی کو تسلی دیتے ۔یوں بھی تمھاری ساری محبوبائیں اسی لڑکی کی وجہ سے برگشتہ ہوئی ہیں “
”یار!.... رخشی کے ساتھ تو میری لڑائی ہی نہیں ہوئی تھی میں اور ضو ہی آپس میں جھگڑ رہے تھے اور پھر وہ خفا ہو کر چل دی۔ مجبوراََ مجھے اس کے پیچھے جانا پڑا یقین کرو اگر میں اس وقت یہ نہ کرتا تو بعد میں اس نے ہفتا بھر تو مجھ سے بات نہیں کرنی تھی ،ناراضی کی حالت میں وہ کھانا پینا بھی چھوڑ دیتی ہے اور....“
”تو چھوڑ دے ،پہلے تمھاری بیوی ہے اس کے بعد کوئی اور ۔“
”مگر وہ میرے ساتھ بہت زیادہ مخلص ہے ،تمھیں کیا پتا وہ کس طرح میری چھوٹی چھوٹی ضرورتوںکا خیال رکھتی ہے ،اس کی ناراضی مجھ سے برداشت نہیں ہو سکتی ۔“
”ویسے میں تمھارے نقطہ نظر سے متفق نہیں ہوں ،لیکن چلو مان لیتے ہیں کہ تم اسے منانے کے لےے اس کے پیچھے بھاگے ،اسے منا لیا۔اب رخشی کو جو غصہ آیاہوا تھا اس کا تدارک کو ن کرتا؟“
”تو منتیں تو کرتا رہا ہوں،وہ خود تعلق نہیں رکھنا چاہ رہی تو میں کیا کر سکتا ہوں ؟“
”غلط ،بالکل غلط ۔جب اس نے غصے کی حالت میں تمھاری کزن کو تھرڈ کلاس کہہ ہی دیاتھا ....تو تمھیں اس بات پر اتنا سیخ پا ہونے کی کیا ضرورت تھی۔تم جانتے نہیں کہ ایک عورت دوسری عورت سے کتنا زیادہ حسد محسوس کرتی ہے ،اگر عذرا تمھاری کزن کے بجائے سگی بہن ہوتی تو شاید رخشی کو اتنا غصہ نہ آتا۔اورمعاف کرنا تمھاری کزن نے ہر وقت تمھارے کام میں روڑے ہی اٹکائے ہیں ۔“
”نہیں ۔“میں نے نفی میں سر ہلایا ۔”مجھے غصہ اس بات پر نہیں آیا کہ اس نے ضو کو برا بھلا کہا،اس سے پہلے وہ نعمان او ر اپنے بارے ایسی گفتگو کر چکی تھی کہ غصہ کرنا میری مجبوری بن گیا تھا ۔جب اسے مجھ سے زیادہ نعمان کی محبت چاہےے تھی تو، بھاڑ میں جائے ۔“
”ہو سکتا ہے نعمان کا ذکر اس نے تمھیں جلانے کے لےے کیا ہو ؟“یہ الفاظ مظہر کے ہونٹوں پر تھے کہ رخشندہ، نعمان کے ساتھ کنٹین میں داخل ہوئی ۔میرا رخ داخلی دروازے کی طرف ہی تھا ۔
”خود ہی دیکھ لو ۔“میں نے اسے دروازے کی طرف متوجہ کیا ۔
”کیا دیکھ لوں ؟“مظہر نے منہ بنایا۔”گھنٹا بھر پہلے اس نے تمھیں کہا کہ نعمان کنٹین پر اس کا منتظر ہے اور وہ اب اس کے ساتھ کنٹین میں داخل ہو رہی ہے۔اس سے کیا ظاہر ہوتا ہے....؟ یہی نا کہ اس وقت اس نے جھوٹ کہا تھا۔ اگر نعمان اس کا منتظر ہوتا تو وہ دونوں ہم سے پہلے یہاں موجود ہوتے ۔“
میں نے ایک گہرا سانس لیتے ہوئے کہا ”چلو ابھی تو اپنے کہے کو سچ کر دیا؟“
مظہر نے انکشاف کیا ۔”ابھی بھی مجھے ڈراما لگتا ہے ۔“
”بہر حال ،اب میرے لےے یہی حقیقت ہے ۔“میں بے پرواہی سے کہتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا ۔”میرا خیال ہے مجھے چلنا چاہےے ؟“
مظہر مسکرایا۔”کیوں برداشت نہیں ہو رہا ؟“
”نہیں یار !....“میں صاف گوئی سے بولا ۔”میرا خیال ہے ہم اتنا آگے نہیں بڑھے تھے کہ اب لوٹناناممکن لگے؟“
”ناممکن نہ سہی ....مشکل تو ہے نا ؟“
میں مسکرایا۔”مشکلیں تو زندگی کا حصہ ہے نا یار!....اور یوں بھی میں پہلی بار اس مرحلے سے نہیں گزر رہا ؟“یہ کہتے ہی میں آگے بڑھ گیا۔مظہر نے اٹھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔میں جانتا تھا کہ وہ رخشندہ کی ٹوہ میں لگا رہے گا۔وہ میرا مخلص دوست تھا اور کبھی بھی مجھے رنجیدہ نہیں دیکھ سکتا تھا ۔
ؒ ُ ؑ ِ
”ارے واہ ....آج تو جلدی پہنچ گئے ؟“
”یہی سوال میں تم سے بھی پوچھ سکتا ہوں ؟“ضو کو اپنے کمرے میں دیکھ کر میں حیران رہ گیا تھا ،کیونکہ ابھی تک اس کی چھٹی کا وقت نہیں ہوا تھا ۔
”میرے سر میں درد تھا اس لےے پہلے پیریڈ کے بعد واپس آ گئی تھی ۔“
”اب کیسی ہے طبیعت؟“سرسری لہجے میں پوچھتے ہوئے میں بیڈ پر بیٹھ کر جوتوں کے تسمے کھولنے لگا ۔
”ڈسپرین لے کر گھنٹا بھر آرام کیا اب بالکل ٹھیک ہوں ۔“
”چلو شکر ہے اور میرے لےے بھی فٹا فٹ اچھی سی چاے بنا کر لے آو ¿۔“چپل پہن کر میں نے باتھ روم کا رخ کرتے ہوئے کہا ۔
”ابھی تو کھانے کا وقت ہے؟ ....بعد میں پی لینا ۔“
”نہیں مجھے بھوک نہیں ہے ۔“میں دروازہ کھول کر اندر داخل ہونے لگا ۔
وہ سرعت سے بولی ۔”بات سنو ....؟“
میں نے رک کر اس کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔
”میں نے آج مچھلی بنائی ہے ۔“مچھلی ہم دونوں کی پسندیدہ خوراک ہے۔
”تم کھالو میں بس ایک کپ چاے لوں گا ۔“کہہ کر میں باتھ روم میں گھس گیا ۔
میں جب باہر آیا تو وہ چاے کا کپ لا چکی تھی ۔میں جانتا تھا کہ میرے بغیراس نے بھی کھانا نہیں کھاناتھا،مگرمیں جان بوجھ کر کھانے کا ذکر کےے بناچاے پینے لگا ۔وہ خاموش بیٹھی مجھے گھورتی رہی ۔چاے پی کر میں نے خالی کپ تپائی پر رکھا اور بستر پر لیٹ گیا ۔
”ضو !....میں تھوڑی دیر آرام کروں گا ۔“
”اے راجو !....کیا ہوا ؟“وہ میرے ساتھ بیڈ پربیٹھ کر میرے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی ۔
”کچھ نہیں ۔“مختصر جواب دے کر میں نے آنکھیں موند لیں ۔
”کیا وہ خفا ہو گئی ہے ؟“
”نہیں ،اس نے قطع تعلق کر لیا ۔“
”میری وجہ سے ہے نا ؟“ضو کی آواز میں کئی اندیشے لرز رہے تھے ۔
”نہیں۔“میں نے اسے مطعون کرنا مناسب نہیں سمجھا تھا۔حالانکہ ہم دونوں اچھی طرح جانتے تھے کہ میری تمام ناکام محبتوں کی بڑی وجہ ضو ہی تھی ۔ ”بلکہ وہ کسی اور سے محبت کرتی ہے ۔“
”تو پہلے اسے پتا نہیں تھا ....؟“
”شاید نہ ہو ،مگر میرے روےے نے اسے ،اس کی جانب مائل کر دیا ۔“
”کیا وہ بہت خوب صورت ہے ؟“
”یہ تو رخشی کو پتا ہو گا کہ وہ اسے کتنا اچھا لگتا ہے ؟“
”اگر میں رخشی سے بات کر لوں ؟بلکہ اسے سوری کر لوں ؟“
”چھوڑو ضو !....تم جاو ¿ آرام کرو ۔“
”چلی جاتی ہوں ۔“وہ اطمینان سے بولی ،مگر اس کی انگلیاں اسی طرح میرے بالوں میں سرسراتی رہیں اور پھر مجھے پتا ہی نہ چلا کہ کب میری آنکھ لگ گئی ۔
ؒ ُ ؑ ِ
اگلے دن میںبریک ٹایم پر کنٹین میں داخل ہوا تو ضو کو رخشی کے ساتھ بیٹھے دیکھ کر میری آنکھیں حیرت سے پھیل گئی تھیں ۔میں سرعت سے ان کی میز کی طرف بڑھا۔ جانے وہ رخشی کو کیا پٹی پڑھانے آ گئی تھی ۔گو اس نے مجھے کہا تھا کہ وہ رخشی کو سوری کہنے آئے گی، مگراس سے کچھ بعید نہیں تھا کہ وہ اسے راضی کرتے کرتے پھر لڑائی شروع کر دیتی۔ کبھی کبھی میں سوچتا، کہ اسے اپنی زندگی میں اتنا زیادہ دخیل نہیں ہونے دینا چاہےے تھا،مگر پھر اس کی محبت، خلوص اور خدمت کی سوچ مجھے ملامت کرنے لگتی ۔
”ضو !....تم یہاں ؟“قریب جانے پر بھی جب وہ میری جانب متوجہ نہ ہوئی تو مجھے خود کہنا پڑا ۔
”راجو!....تم؟.... بیٹھو نا؟میں رخشندہ کو سوری کہنے آئی تھی۔دراصل اس دن تم سے جھگڑتے ہوئے میں ان کے نازک جذبات کا خیال نہ رکھ سکی ۔“
رخشی نے کہا۔”کوئی بات نہیں عذرا میں خفا نہیں ہوں ،بس وقتی طور پر غصے میں آ گئی تھی ۔“وہ میری طرف دیکھنے سے گریز کر رہی تھی ۔
میں نے کہا ۔”غالباََچاے منگواناتمھیں بھول گیاہے ؟“
”تو منگوا دو؟“ضو نے آنکھیں نکالیں۔”تم نے اسی چاے پر ہی ٹرخانا ہے ۔“
”یہ دیکھ رہی ہو ؟“میں نے دونوں ہاتھ اس کے سامنے جوڑتے ہوئے کہا۔ ”چاے بھی پی لو ....اور میکڈونلڈز جا کر بھی زہر مار کر لینا۔“
”ہا....ہا....ہا....“اس نے زور دار قہقہہ لگایا۔”محترم ایک دن کی دوری بھی برداشت نہیں کر سکے اور گھٹنے ٹیک دےے۔کہا تھا نا ؟....پنگا نہیں لینا ۔ بھابی میری کوئی بات نہیں ٹالتیں ۔کیوں رخشی بھابی ؟“اس نے اچانک رخشندہ سے پوچھا اور وہ سر جھکا کر شرمانے لگی ۔
”بس اتنی سی بات تھی ،اب ذرا جلدی سے رخشی بھابی کو سوری کہو،غضب خدا کا اگر میں تم سے جھگڑ کر چل دی تھی،تو تم کیوں میرے پیچھے بھاگ پڑے ،اب تمھیں اخلاقیات بھی میں سکھاو ¿ں گی ۔“
میںاس وقت اس کی باتوں کا جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔اتنی آسانی سے رخشی سے صلح ہو رہی تھی ،میں جلدی سے بولا....
”سوری رخشی !....رئیلی مجھ سے غلطی ہو گئی،لیکن یقین مانوایسا انجانے میں ہوا۔ یوں بھی ضو کے ساتھ لڑائی جھگڑاتو روز کا معمول ہے ۔“
”اٹس اوکے جدیر!....“وہ شرماتے ہوئے بولی ۔”مجھے بھی بس خوامخوا غصہ آ گیا تھا ، حالانکہ یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں تھی ۔“
”چلیں جی ،یہ مسئلہ تو ہوا حل ؟اب میکڈونلڈز چلتے ہیں ۔“ضو نے خوش دلی سے مسکراتے ہوئے تجویز پیش کی ،مگر جانے کیوں مجھے اس کی ہنسی میں مصنوعی پن چھلکتا نظر آیا۔
”اوکے محترما!....لیکن کیا رخشی اپنے باقی پیریڈز کی قربانی دے پائے گی؟“
رخشی مسکرائی ۔”اگر عذرا کی یہی خواہش ہے تو یقینا میرا جواب نفی میں نہیں ہو گا۔“
”بھابی زندہ باد ....“ضونے آہستہ سے نعرہ لگایااور رخشی کے چہرے پر قو

جاری ہے
 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney