حرف دعا
دوسرا اور آخری حصہ
صبح کی نماز کے بعد وہ میرے لیے خود ناشتا لایا کرتی تھی ۔حد تو یہ ہے کہ ہم دونوں میں اگر کوئی ناراضی ہوتی ،تب بھی اس کے اس معمول میں کوئی فرق نہیں آتا تھا۔
اس دن بھی حسب معمول وہ مخصوص وقت پر ناشتے کی ٹرے اٹھاے میرے پاس پہنچ گئی ۔اس کے سلام کا جواب دے کر میں خاموشی سے ناشتا کرنے لگا۔ رات والی بات نہ چاہتے ہوئے بھی میری سوچوں میں سرگرداں تھی ۔خلاف توقع وہ بھی خاموش خاموش سی تھی ۔
دونوں نے خاموشی سے ناشتا کیا ۔برتن سمیٹتے ہوے اس نے آہستہ سے پوچھا ۔
”کوئی اور چیز چاہیے ؟“
میں نے نفی میں سرہلانے پر اکتفا کیا ۔وہ بھی مزید کچھ بولے باہر نکل گئی ۔
کالج سے واپسی پر دن کا کھانا اس نے میرے ساتھ ہی کھایا۔لیکن بات چیت سے گریز کیا ۔اپنے معمول کے مطابق رات کو ڈنر کے بعد وہ دوبارہ میرے کمرے میں آئی اور خاموشی سے بیڈ کے ساتھ پڑی کرسی پر بیٹھ گئی ۔میں اس سے بات کیے بنا کمبل میں ہو گیا ۔
اس نے آہستہ سے پوچھا ۔”شاید تم سونے لگے ہو ؟“
”جی ۔“میں مختصراََ بولا ۔
”اوکے ،آرام کرو ۔“وہ اٹھ کر جانے لگی ۔اس کا رویہ اس بات کا غماز تھا کہ اس نے اپنی ماں کی خفگی کو بہت شدت سے محسوس کیا تھا ۔
”ضو !....بات سنو ۔“وہ بہ مشکل دروازے تک پہن پائی تھی کہ میں نے اسے آواز دی ۔
”جی ؟“وہ رک کر پیچھے مڑی ۔
”ادھر آو ¿ ۔“میں تکیے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔
وہ دوبار ہ کرسی پر آن بیٹھی ۔
”خفا ہو ؟“
”نہیں ۔“وہ نفی میں سر ہلا کردیوار پر لگی تصاویر کو گھورنے لگی ۔
میں اسے سمجھانے لگا ۔”یار !....مائیں بھی کبھی اولاد سے خفا رہی ہیں؟ آج نہیں تو دو تین دن بعد دیکھ لینا ان کا موڈ بحال ہو جائے گا ۔“
اس نے اپنی موٹی موٹی شہد انگیں آنکھیں میرے جانب گھمائیں ،جن میں ہزاروں لاکھوں شکوے جھلک رہے تھے ۔
”راجو!....چھوڑو اس موضوع کو ،کوئی اور بات کرو ۔“
”جب تک تیرا موڈ ٹھیک نہیں ہوتا میں کیسے کوئی اور بات کر سکتا ہوں ؟“
”ٹھیک ہی تو ہے ۔کیا ہوا میرے موڈ کو ؟“
”ضو !....میں مانتا ہوں کہ یہ میرا کام ہے ،مگر تم جانتی ہو کہ رخشی کی میری زندگی میں کیا اہمیت ہے ؟تو نے ہمیشہ میرے لیے قربانی دی ہے ۔ایک احسان اور سہی ، اگر اس کے بعد بھی تمھارے ذہن میں کوئی اندیشہ ہے تو چلو صبح سارا الزام میں اپنے سر لے لوں گا ،اب خوش ؟“
”راجو!....فیصل ندیم فیصل لکھتا ہے ....
اب سمجھ آئے ہیں اسباب جدائی کے مجھے
بات کچھ اور تھی میں اور سمجھ بیٹھا تھا 
”اسی شعر میں اگر میں تھوڑا ردّو بدل کرلوں کہ ....
کب سمجھ پاو گے اسباب میری وحشت کے 
بات کچھ اور ہے تم اور سمجھ بیٹھے ہو ؟
”کیا مطلب؟میں سمجھا نہیں ؟“میرے لہجے میں حیرانی تھی ۔
”ہر بات سمجھائی نہیں جا سکتی ۔بہرحال میں خفا نہیں ہوں اور تمھیں بھی ضرورت نہیں ہے اعتراف جرم کی ۔“
”اچھا میری سالگرہ کی تیاریاں کہاں تک پہنچیں ؟“اس کا ذہن بٹانے کی خاطر میں نے موضوع بدلنا مناسب سمجھا ۔
”مکمل ہیں ،بس مہمانوں کی لسٹ رہتی ہے وہ اکٹھے بیٹھ کر تیا ر کریں گے ۔“
”پچھلے سال والی لسٹ میں رخشی کے نام کا اضافہ کر دواور بس ۔“میں نے اطمینان سے کہا ۔
وہ ہنسی ۔”اور رضیہ کا نام نکال دوں ہے نا ؟“
”نہیں رہنے دو،یوں بھی اس نے کون سا آجانا ہے ؟“
”پہلے تو پرانی والی کا نام مدعو افراد کی لسٹ سے نکال دیا کرتے تھے ؟“
”اس وقت کوئی اور بات تھی ،بلکہ تم ایسا کرو پہلے والی تما م کا نام اس فہرست میں شامل کر دو، تاکہ انھیں بھی پتا چل جاے، کہ میری ہونے والی دلہن کیسی ہے ؟“
پتا کیا چلنا ہے ،انھوں نے آنا ہی نہیںہے؟“
”اچھا میرے لیے کوئی ڈھنگ کا لباس خریدا ہے یا پہلے کی طرح جھک ہی مارتی رہی ہو ؟“
”راجو صاحب !....اگر تمھیں لباس کی پہچان ہوتی تو مجھے مارکیٹ میں خوار ہونے کی ضرورت نہ پڑتی ؟یاد ہے نا ایک مرتبہ تو نے شرٹ خریدی تھی....؟“
”یہ ہاتھ دیکھ رہی ہو ؟“میں نے دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے اس کے سامنے باندھ دیے۔”اب خدا رااس شرٹ کو بخش دو ؟وہ کاری گر بھی شاید اس جہان فانی سے کوچ کر گیا ہو؟ مگر اس کی سلائی کی ہوئی شرٹ کی نحوست اب تک میرے گلے کا ہار بنی ہوئی ہے ۔وہ شرٹ جس کے پہننے کی توفیق میرے نصیب ہی میںنہیں تھی؟“
وہ کھل کھلا کر ہنس دی ۔
”ہی ہی ہی ....کی ضرورت نہیں ۔“
”اچھا ٹھہرو، میں تمھیں دکھاتی ہوں کہ کیا کیا خریدا ہے۔“وہ الماری کی طرف بڑھ گئی۔
کریم کلر کا سوٹ ،اسی رنگ کی جرابیں ،کالے شوز ،وہ ایک ایک چیز مجھے دکھانے لگی ....
”یار !....عورتوں کو جو میچنگ کی بیماری ہوتی ہے نا ؟“میں نے کانوں کو ہاتھ لگاے ۔”بس اللہ ہی معاف کرے ۔“
اس نے آنکھیں نکالیں ۔”زیادہ نخروں کی ضرورت نہیں سمجھے ؟“
”بڑی آئی غصہ دکھانے والی ؟“میں نے اسے چڑایا۔
”تو دکھاو ں گی نا غصہ ۔“وہ سچ مچ تپ گئی تھی ۔
”دکھا لو ....دکھا لو،بس چند ماہ کی بات ہے ،جب میری رخشی آ جاے گی، پھر دیکھوں گا کیسے رعب جماتی ہو ؟“
”دیکھ لوں گی اسے بھی ۔“
”اگر اس نے تمھاری پٹائی شروع کر دی تو میں نے نہیں چھڑانا ،سمجھیں نا؟“
”اس کی مجال کہ، وہ مجھے ہاتھ بھی لگاے؟“
”اچھا یار !....یہ سامان واپس رکھو الماری میں ۔“
”سامان رکھو الماری میں؟“وہ غصے میں بڑبڑاتے الماری کی طرف بڑھ گئی ۔
ؒ ُ ؑ ِ
”کل میری سالگرہ کی پارٹی ہے اور تو نے ضرور آنا ہے ۔“ہم اس وقت کیفے ٹیریا میں بیٹھے تھے جب میں نے یہ ذکر چھیڑا ۔
”کتنے بجے ؟“چاے کا خالی کپ اپنے سامنے سے ہٹاتے ہوے وہ مستفسر ہوئی ۔
”رات آٹھ بجے ۔“
”پاپا سے اجازت لینی پڑے گی ؟“
”مجھے نہیں پتا ۔“میں منہ بناتے ہوے بولا ۔”تمھیں آنا پڑے گا ۔“
”میں پوری کوشش....“
میں قطع کلامی کرتا ہوا بولا ۔”آنا پڑے گا،آنا پڑے گا ۔“
”جدیر !....سمجھنے کی کوشش تو کرو نا ؟....اگر پاپا نے منع کر دیا تو ؟“
”تم آج یونیورسٹی سے واپسی پر انکل سے پوچھ لینا اگر انھوں نے منع کر دیا تو پھر پارٹی رات کے بجاے دن کو ہو جاے گی مگر تمھاری شمولیت ضروری ہے ،نہیں تو طعنے دے دے کر ضو میرا جینا اجیرن کر دے گی ۔“
رخشی عجیب سے لہجے میں بولی ۔”اتنا ڈرتے ہو اس سے ؟“
”بات ڈرنے کی نہیں ہے ؟بس میں اس کے سامنے نیچا نہیں ہونا چاہتا۔“
”چلو ٹھیک ہے ،میں شام کے وقت تمھیں کال کر کے بتا دوں گی ۔“
اور میں نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔
”میرا خیال ہے اب چلنا چاہیے ؟“اپنا پرس سنبھالتے ہوئے وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
اور میں سر ہلاتے ہوے کاو نٹر کی طرف بڑھ گیا ۔
ؒ ُ ؑ ِ
رات کے وقت جب رخشی کی کال آئی تو اس وقت ضو میرے کمرے میں ہی تھی۔
”پاپا مان گئے ہیں جی !....“رخشی نے خوشی سے بھرپورلہجے میں اطلاع دی ۔
”شکر ہے ۔“میرے منہ سے بے ساختہ نکلا ۔
اس نے شرماتے ہوے پوچھا ۔”آپ تو یوں شکر ادا کر رہے ہیں جیسے، میری موجودی کے بغیر سالگرہ کا فنکشن ہی نہ ہو پاتا؟“
”اس میں شبہ ہی کیا ہے ؟“
”اچھا ....؟“اس کے لہجے میں ہلکا سا تفاخر در آیا تھا ۔
”ہاں نا جان !تیرے بغیر تو اب پوری زندگی ہی پھیکی اوربے مزہ لگنے لگی ہے ۔“
وہ آہستہ سے بولی ۔”مجھے بھی کچھ ایسا ہی لگتا ہے ۔“
”جانتا ہوں ۔“
”اوکے ڈنر کر کے بات کرتی ہوں ،خدا حافظ ۔“
اورمیرا ۔”میں منتظر ہوں ۔“سن کر اس نے رابطہ منقطع کر دیا ۔
” کس بات پر شکر ادا ہو رہا تھا محترم !“کال ختم ہوتے ہی ضو پوچھنے لگی ۔
”صبح رخشی کہہ رہی تھی کہ، اپنے پاپا کی اجازت کے بغیر اس کا آنا ممکن نہیں ہے۔ اور ابھی وہ مجھے بتا رہی تھی کہ اس کے پاپا نے اجازت دے دی ہے۔“
”راجو !....سچ مچ وہ تمھیں بہت پیاری لگتی ہے ؟“
”ہاں ضو !....بہت زیادہ ۔“
وہ آہستہ سے بولی ”اللہ پاک تم دونوں کی جوڑی سلامت رکھے ؟“
میں نے جلدی سے کہا ۔”آمین ۔“ضو واقعی میرے ساتھ بہت مخلص تھی ۔ ہم تھوڑی دیرتک کل کے فنکشن کے بارے تفصیلات طے کرتے رہے اور پھر رخشی کی کال آئی تو وہ سونے چلی گئی ۔
ؒ ُ ؑ ِ
چھٹی کے وقت میں نے رخشی کو ساتھ چلنے کی دعوت دیتے ہوے کہا ۔
”ابھی چلو نا میرے ساتھ ؟....پارٹی ختم ہونے کے بعد چلی جانا۔“
”میں نے ابھی تیاری کرنی ہے جناب !.... نئے کپڑے پہننے ہیں ، جیولری وغیرہ پہننی ہے ،یونھی کیسے چلی جاوں تیرے ساتھ؟“
میں شرارت سے بولا۔”نئے کپڑے اور جیولری توپہننے ہی ہیں ؟ اگر ساتھ میں ڈھول باجے بھی ہو جائیں ؟“
وہ شرمیلی ہنسی کے ساتھ اپنی کار کی طرف بڑھ گئی ۔
گھر پہنچا تو ضو زور و شور سے پارٹی کی تیاریوں میں مصروف نظر آئی ،وہ اپنی نگرانی میں سارا کام کراتی رہی ۔چھے بجے رخشی اپنے ڈرائیور اور پولیس کے ایک سپاہی باڈی گارڈ کے ساتھ پہنچ گئی ۔آخر کو ایس پی کی بیٹی تھی ۔اسے خوش آمدید کہہ کر میں ڈرائینگ روم میں لے آیا۔ضو غسل خانے میں تھی ۔میں رخشی کے ساتھ بیٹھا رہا ،گلابی غرارے میں وہ کسی اور ہی دنیا کی مخلوق نظر آ رہی تھی ۔ضو نے کالے رنگ کا سوٹ پہنا تھا جس پر سفید دھاگے سے کڑھائی کی گئی تھی ۔ دوپٹاسلیقے سے سر پر جماے وہ ہمارے پاس پہنچی اس وقت میں دبے لفظوں میں رخشی کی خوب صورتی کے گن گا رہا تھا ۔
”چلیں محترم!.... تیار ہو جائیں ۔“اس نے آتے ہی چٹکی بجا کر مجھے اٹھنے کا اشارہ کیا اور رخشی سے مصافحہ کرنے لگی ۔
”ابھی تک تو کافی وقت پڑا ہے تھوڑی دیر ........“
وہ قطع کلامی کرتے ہوے بولی ۔”ساڑھے چھے ہو چکے ہیں اور آٹھ بجے پارٹی شروع ہے ۔یوں بھی تو نے تیاری میں گھنٹے سے زیادہ کاوقت لگا نا ہے ۔“
”ایک تو تم سے جان نہیں چھوٹتی ۔“اسے کہتے ہوے میں رخشی کو مخاطب ہوا۔ 
”بس میں یوں گیا اور یوں آیا ۔“
رخشی کے چہرے پر بھی ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے جسے وہ ہنسی میں چھپا گئی تھی۔
ضو وہیں رخشی کے ساتھ بیٹھ کر گپیں ہانکنے لگی ۔
میں باتھ روم میں گھس گیا ۔جلدی جلدی شاور لیااورتولیہ لپیٹ کر باہر نکلا۔بیڈ پر نیا سوٹ پریس کیا ہوا رکھا تھا جو لازمی بات ہے ضو نے ہی رکھا تھا ۔
سوٹ پہن کر میں نے ٹائی کی تلاش میں نظریں گھمائیں مگر بیڈ پر ٹائی نظر نہ آئی۔
میں نے زور سے پکارا۔”ضو کی بچی !....ٹائی کہاں ہے ؟“
”الماری میں دائیں طرف کے ہینگر سے لٹکی ہے نا ؟“اس نے بھی وہیں سے بیٹھے بیٹھے آواز دی تھی۔
”کون سی باندھنی ہے ؟“میں نے الماری کھولی اورہینگر سے لٹکی درجن بھر ٹائیوں کو دیکھ کر پھر اسے آواز دی ۔
”نئی والی ۔“
”نئی والی کون سی ہے ؟....مجھے تو ساری ہی نئی لگ رہی ہیں ؟“
”میرون کلر کی نئی ہے نا ؟“وہ بھی وہیں سے جواب دیے جا رہی تھی ۔
”جرابیں تو بوٹوں میں رکھ دی ہوتیں ۔“خالی بوٹ دیکھ کر میں جھنجلا گیا تھا۔
”بوٹوں میں ہی ہیں ،نئے والے بوٹوں میں رکھی ہیں ۔“میں ماتھے پر ہاتھ مار کر شوز ریک کی طرف بڑھ گیا ۔
”ریسٹ واچ پرانی والی ہی پہنے رکھوں ؟“
”ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی ہے نئے والی ۔“
گھڑی پہن کر میں نے بال سنوارے اور ٹائی کی ناٹ درست کرتا ہوا ڈرائینگ روم کی طرف بڑھ گیا ۔
ضو ابھی تک رخشی کے ساتھ ہی بیٹھی تھی ۔رخشی کے چہرے پر مجھے عجیب سے اثرات نظر آئے جنھیں میں کوئی بھی نام دینے سے قاصر تھا ۔
”تمھاری طبیعت تو ٹھیک ہے ؟“میں نے اس کے سامنے بیٹھتے ہوے پوچھا۔
”آں ....ہاں ....ہاں میں ٹھیک ہوں ۔“وہ مجھے سخت الجھی الجھی سی لگی تھی ۔
”راجو!آپ دونوں گپ کرو۔میں ذرا مہمانوں کو خوش آمدید کہہ لوں ؟“ ضو اٹھ کر باہر چل دی۔
”رخشی !....سچ بتاو ،کیا بات ہے ؟“میں نے دائیں بائیں دیکھ کر آہستہ سے پوچھا ۔ مہمانوں کی آمد شروع ہو گئی تھی ۔ضو ،امی جان اور چچی جان ڈرائینگ روم کے دروازے پر کھڑے ہو کر آنے والے خواتین و حضرات کو خوش آمدید کہہ رہی تھیں۔
وہ مجھ سے نظریں چراتے ہوے بولی ۔”کچھ بھی تو نہیں ۔“
”مگر مجھے تو یوں لگ رہا ہے جیسے....؟“مگر میں بات پوری نہیں کر پایا تھا کہ میری ماموں زاد شہلا نے قریب آ کر پوچھا۔
”اسلام علیکم جدیر بھائی !....یہ کون ہے ؟“
”آو شہلا!....یہ رخشندہ ہے ۔“میں نے کھڑے ہو کر اس کے جھکے ہوے سر پر ہاتھ رکھا ،وہ ضو کی ہم عمر تھی۔اسی وقت ماموں جان میرے قریب آئے ۔
”کیسے ہو برخوردار؟“اس نے بازو کھول کر مجھے اپنی چھاتی سے لگا لیا ۔
”بالکل ٹھیک ٹھاک ماموں جان !“میں مسرت سے بولا۔
اس کے بعد مجھے رخشی سے بات کرنا نصیب نہیں ہوا تھا ۔مہمانوں کی آمدورفت جاری رہی ۔اور پھر میں نے تالیوں کی گونج میں کیک کاٹا ۔جب سے ضو پیدا ہوئی تھی میں کیک کاٹ کر سب سے پہلے اسے ہی کھلاتا تھا۔اسی طرح اپنی سالگرہ پر وہ مجھے کھلاتی تھی۔ جب کھانے پینے کا سلسلہ شروع ہوا تو میں نے اپنی نگاہیں رخشی کی تلاش میں دوڑائیں مگر وہ مجھے کہیں نظر نہیں آئی ۔ اسی وقت گھر میں کام کرنے والی مریم بوا ہاتھ میں گفٹ پیک لے کے میرے قریب آئیں ۔
”چھوٹے صاب جی !....یہ پیکٹ وہ خوب صورت سی کُڑی جو گلابی غرارہ پہنے ہوئی تھی ۔وہ دے کے گئی ہے ۔کہہ رہی تھی مجھے جلدی میں جانا پڑ رہا ہے میری طرف سے تم چھوٹے صاب کو دے دینا ۔“
میں نے جلدی سے سیل فون نکالااور اس کا نمبر ڈائل کرنے لگا ۔
”جی ؟“اس نے پہلی بیل پر کال اٹینڈ کر لی تھی ۔
میں شکوہ کناں ہوا ۔”رخشی !....کیا بات ہے ؟تم پارٹی کے شروع ہوتے ہی بھاگ گئی ہو ؟“
وہ سپاٹ لہجے میں بولی ۔”کیونکہ پارٹی میں آنا میری غلطی تھی ،جہاں آدمی کی ضرورت نہ ہو وہاں جانا اپنی بے عزتی کرانے کے مترادف ہوتا ہے ،جو میں کرا چکی ہوں۔“
”ایسی کیا بات ہو گئی ہے ؟“
”جدیر صاحب! پلیز دوبارہ رابطہ کرنے کی زحمت نہ کرنا۔میں تم سے دور ہی بھلی۔ میری بے وقوفی کہ پہلی ٹھوکر سے سبق نہیں سیکھا اور پھر....خیراللہ حافظ ۔“ اس نے اپنی بات پوری کیے بغیر رابطہ منقطع کر دیا۔
مجھے پورا فنکشن پھیکا اور بے مزا محسوس ہونے لگا ۔اسی اثنا میں ضو میرے پاس آ گئی ۔
”رخشی نظر نہیں آ رہی ؟“اس نے سرسری لہجے میں پوچھا ۔
”وہ چلی گئی ہے واپس ۔“
”کیوں ؟“اس کی حیرانی میں مجھے خوشی جھلکتی محسوس ہوئی ۔
”اس کی مرضی ۔“کوشش کے باوجود میں اپنے لہجے میں شامل تلخی نہیں چھپا سکا تھا ۔
”طبیعت خراب ہو گئی تھی یا ....کوئی ضروری کام یاد آگیا تھا اسے ؟“ضو کا استفسار جاری رہا ۔
”محترما !....میں اس کاسیکرٹری نہیں ہوں ۔“اسے کہہ کر میں اپنے پھوپی زاد ڈاکٹر جمشید کی طرف متوجہ ہو گیا جو اسی وقت وہاں پہنچا تھا ۔

”سوری جدیر !....مجھے کچھ دیر ہو گئی ۔“اس نے گفٹ پیک میری جانب بڑھاتے ہوے معذرت چاہی ۔
میں پھیکی مسکراہٹ سے بولا۔”کوئی بات نہیں جمشید بھائی !....دیر سویر تو زندگی کا حصہ ہے ۔“
”کیسی ہو عذرا !....؟“وہ ضو کی طرف متوجہ ہوا ۔
وہ مسکرائی۔”فٹ اینڈ فائن جمشید بھائی !“
”پڑھائی کیسے جاری ہے ؟“وہ ضو سے پوچھنے لگا اور میں وہاں سے کھسک لیا ۔
ؒ ُ ؑ ِ
مہمانوں کے جاتے ہی میں اپنے کمرے میں آ گیا ۔چند منٹ بعد ضو بھی ملازماو ں سے تحائف کا ڈھیر اٹھواے وہاں پہنچ گئی تھی۔تمام پیک شدہ تحائف کارپٹ پر ترتیب سے رکھوا کر اس نے ملازماو ¿ں کو باہر جانے کا اشارہ کیا اور میری طرف متوجہ ہوگئی۔
”اب بتاو،رخشی کیوں واپس چلی گئی تھی؟“
”مجھے نہیں پتا ۔“میں سخت اپ سیٹ تھا ۔
”تو کال کر کے معلوم کر لو ؟“
”ضرورت ہی کیا ہے ۔“میں نے اسے سچ بتانا مناسب نہ سمجھا ۔
”اچھا پتا ہے میں نے تیرے لیے کیا خریدا ہے ؟“
میں نے منہ بنایا۔”خریدی ہو گی کوئی بے ہود ہ چیز ۔“
”راجو !....آج کل تم کچھ بدلتے جا رہے ہو ؟“
”نہیں ،بلکہ تیری سوچ بدل گئی ہے ؟اور اب پلیز مجھے سونے دو ۔“میں بحث کیے بغیر کمبل میں ہو گیا ۔اور وہ خاموشی سے رخصت ہو گئی ۔یقینا ہم دونوں کے درمیان وہ پہلے والا خلوص مفقود ہو گیا تھا ورنہ وہ کبھی بھی یوں رخصت نہ ہوتی ؟“
ؒ ُ ؑ ِ
”میں بیٹھ سکتا ہوں ؟“رخشی کیفے ٹیریا میں اکیلی بیٹھی تھی ۔
اس نے نظر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور پھر بغیر کچھ کہے ہاتھ میں تھامے کپ سے چاے کی چسکی لینے لگی ۔
میں بیٹھ گیا ۔”کیا بات ہے ؟“میں نے گفتگو کی ابتدا کی ۔
”کچھ نہیں ۔“وہ سپاٹ لہجے میں بولی ۔
”رخشی !کوئی بات تو ہے کہ تم میری سال گرہ کی محفل کوبیچ میں چھوڑ کر چلی گئیں؟“ میں نے اپنے اندر ابلنے والے غصے کو بڑی مشکل سے کنٹرول کیا تھا ۔
”میں اپنی مرضی کی مالک ہوں ؟“اس کے اطمینان میں فرق نہیں آیا تھا ۔
”ہر کوئی ہوتا ہے ؟....مگر دوسرے کے احساسات کا خیال کرنے کیے بغیر اپنی مرضی چلانا مناسب فعل نہیںہے؟“
”واہ ،کیا کہنے ؟....دوسروں کے احساسات؟....چھلنی کہتی ہے کوزے کو تم میں دو سوراخ ہیں۔“رخشی کے لہجے میں کوٹ کوٹ کر طنز بھرا تھا ۔
”کیا کیا ہے میں نے ؟“میں پھٹ پڑا ۔
وہ تیز لہجے میں بولی ۔”مسٹر جدیر!....جب تم اپنا لباس بھی اپنی پیاری کزن کی مدد کے بغیر بدلی نہیں کر سکتے ؟ ٹائی تک باندھنے کے لیے اس کی مرضی پوچھتے ہو ؟تمھاری ایک ایک چیز کا خیال وہ یوں رکھتی ہے جیسے محبت کرنے والی بیوی ؟ پھر مجھ سے محبت کا ڈرا ما رچانے کی کیا ضرورت تھی؟“
”یہ بھلا کیا بات ہوئی ؟“میں حیران ہی تو رہ گیا تھا ۔”میں نے پہلے دن سے بتا دیا تھا کہ وہ میری ضروریات کا خیال رکھتی ہے اور یہ بھی کہ ہم بچپن سے اکٹھے پلے بڑھے ہیں ،پھر اتنی بے تکلفی تو ہوتی ہے ؟“
”محترم !وہ تمھاری کی سگی بہن نہیں ہے کہ یوں ہر کام میں دخیل ہو ؟ باقی تمھاری امی جان الحمداللہ زندہ ہیں ،تمھاری دیکھ بھال تو ان کی ذمہ داری ہونی چاہیے نا ؟“
”تم خواہ مخواہ شک کر رہی ہو ؟“
”نہیں ،میں یوں ہی شک نہیں کر رہی ۔بدقسمتی سے کل جب میں آپ کے گھر سے نکل رہی تھی تو اسی وقت رکشے سے اترتی رضیہ مجھے مل گئی۔غریب تجدید تعلقات کے لیے آئی تھی کہ اسے بھی جناب کا دعوت نامہ ملا تھا ۔مجھے واپس جاتا دیکھ کر وہ میری آمد کا مقصد پوچھنے لگی ، اور جب میں نے بتا دیا کہ کس لیے آئی تھی تو وہ میرے ساتھ ہی واپس چل دی۔ میں اسے اپنے گھر لے گئی جہاں اس نے تفصیل سے تمھارے معاشقوں پر روشنی ڈالی ، ثمینہ ،رانی ، سنبل، پنکی ،کرن ،،وغیرہ جو جناب کی دولت اور شکل و صورت کی ڈسی ہوئی ہیں تمام کے بارے مکمل آگاہی دی ،بلکہ دو تین سے تو بات بھی کرا دی ۔اب آپ کیا فرمائیں گے ؟“
مجھے چپ لگ ۔اس نے میری آنکھوں میں جھانکا۔
”جدیر صاحب !....آپ کی چپ ثابت کر رہی ہے کہ آپ کو میری بات کی سمجھ آگئی ہے ؟“
”رخشی !....میں تمھیں چاہتا ہوں۔گو کافی لڑکیوں سے میرا افیر چلا، مگر یقین مانو وہ وقتی فلرٹ کے علاوہ کچھ نہیں تھا ۔جب تک مجھے تم نہ ملیں میں کٹی پتنگ بنا رہا لیکن جب سے تمھیں دیکھا میری چاہتوں کو مرکز مل گیا ،پلیز!.... مجھے سمجھنے کی کوشش کرو ۔“
”ہونہہ !....میں سب کچھ بھلا سکتی ہوں مگر مجھے وہ منظر نہیں بھولتا جو کل میری آنکھوں نے دیکھا اور میرے کانوں نے سنا ۔معلوم ہے ؟....تم نے جو جو باتیں اپنے بیڈ روم سے کیں ،عذرا صاحبہ اس سے دو منٹ پہلے ان کی پیشن گوئی کر چکی تھی ۔اس نے کہا ، محترم نہا کر نکلیں گے تو، سوٹ تو پہن لیں گے لیکن جناب کو ٹائی نہیں ملے گی ۔اور وہی ہوا تم نے ٹائی کی بابت پوچھا ۔تمھیں ٹائی کا بتا کر وہ بولی اب یہ ٹائی کے رنگ کے بارے بھی مجھ سے پوچھے گا ۔اور تو نے یہ بھی پوچھا ۔پھر جرابوں گھڑی ہر بات کے بارے اس کا اندازہ درست ثابت ہوا۔ اور آخر میں اس نے یہ بتایا کہ کیک کاٹ کر تم سب سے پہلے ،کس انداز میں اور کتنا بڑا ٹکڑا کس ہاتھ سے اس کے منہ کی طرف بڑھاو گے ۔ اور جب میں نے اس بات کی بھی تصدیق کر لی تو مجھے اپنا وہاں رہنا بے فائدہ لگا....نہیں جدیر ! نہیں ،نہ خود دھوکے میں رہو اور نہ مجھے ہی غلط فہمی میں مبتلا رکھو ۔“
”رخشی!.... یقین مانو ایسا کچھ نہیں ہے ؟“اپنے الفاظ مجھے خود بھی بہت کھوکھلے اور بے اعتبار سے لگے تھے ۔
وہ تلخی سے ہنسی ۔”کسر نفسی ہے جناب کی ؟“
”اس کا مداواہو سکتا ہے کسی طرح ؟“میں نے بے بسی سے پوچھا ۔
’یہی ایک صورت ہے کہ میری آنکھیں اس منحوس کا چہرہ تیرے قریب نہ دیکھیں۔“ رخشی کے لہجے میں ضو کے لیے خوب زہر بھرا ہواتھا ۔
”دیکھورخشی !....کوئی ایسی بات کرو جو ممکن ہو ؟“
”ہونہہ!....واقعی یہ ناممکن ہے ۔“اس نے طنزیہ ہنکارا بھرا اور اٹھ کر کاو ¿نٹر کی طرف چل دی ۔میں وہیں بیٹھے اسے تکتا رہا ۔میرے ذہن میں آندھیاں چل رہی تھیں ۔ میں چاہے جتنی کوشش کر لیتا ،ضو سے پیچھا چھڑانا میرے لیے ممکن نہیں تھا ۔کیونکہ میں اس سے قطع تعلق تو ضرور کر سکتا تھا ،مگر گھر تو میرا نہیں تھا کہ اسے بے دخل کر دیتا ۔
ؒ ُ ؑ ِ
میں اسی وقت گھر واپس آکر لیٹ گیا ۔رخشی نے مجھے عجیب امتحان میں ڈال دیا تھا اور یہ ساری کارستانی ضو کی تھی ۔میں جتنا اس معاملے میں غور کرتا گیا اتنی زیادہ ہی مجھے ضو قصور وار نظر آئی ۔اسے کیا ضرورت تھی رخشی کے سامنے شیخیاں بکھارنے کی۔وہ میری ہر عادت ،ہر خصلت سے واقف سہی مگر کیا ضروری تھا کہ وہ یہ معلومات میری ہونے والی بیوی سے بھی شیئرکرتی رہتی ۔
اسی کی وجہ ہی سے میری پہلے والی تمام محبوبائیں خفا ہوئی تھیں ۔ان تمام سے بچھڑنا میں ہنسی خوشی برداشت کر گیا تھا ،مگر رخشی کے متعلق میں سنجیدہ تھا ۔میں کافی دیر انھی خیالات میں کھویا رہا یہاں تک کہ وہ کالج سے واپس آ گئی ۔
”ہائے راجو !....آج چھٹی کر لی تھی ؟“کمرے میں داخل ہوتے ہی وہ چہکی ۔ اس کا خوشی سے بھرپور لہجہ سن کر میرا خون کھولنے لگا تھا ۔
”خیر تو ہے ؟پریشان دکھ رہے ہو ؟“وہ میرے ساتھ ہی بیڈ پر بیٹھ کر میرے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی ۔
”ہاں میں ٹھیک ہوں ۔“سرد مہری سے کہتے ہوے میں نے اس کے ہاتھ کو نرمی سے پکڑ کر اپنے سر سے ہٹا دیا ۔وہ ہکا بکا رہ گئی تھی ۔چند لمحے وہ ششدر بیٹھی رہی اور پھر آہستہ سے بولی ۔
”میرا قصور ؟“
”قصور تمھارا نہیں میرا ہے ؟“میں نے اپنے اندر جمع ہونے والے زہر کو الفا ظ کی شکل میں ڈھالا ۔”میں نے تمھیں اتنا سر پر چڑھا لیا کہ آج کوئی لڑکی میری شریک حیات بننے کے لیے تیار نہیں ؟“
”غلط فہمی ہے تمھاری ....کسی کو پرپوز کر کے تو دیکھو ؟“
”ہونہہ !....پرپوز ؟....آج رخشی نے بھی مجھے دھتکار دیا ہے ۔وہ بھی یہی سمجھتی ہے کہ میں اسے الو بنا رہا ہوں ،آخر کیا ضرورت تھی اس کے سامنے میری نفسیات کا ماہر بننے کی ؟“
”راجو !....میں نے ایسااسے کیا کہہ دیا ہے ؟تمھارے لیے اس دن میں خود اس کے پاس معافی مانگنے گئی تھی۔اسے سب کچھ سچ سچ بتا دیا۔اس کے بعد بھی وہ خفا ہے تو بھاڑ میں جاے ،وہ نہ سہی تجھے اور کئی مل جائیں گی ۔“
میں ترکی بہ ترکی بولا۔”تم کیوں نہ بھاڑ میں جاو ؟“
”شٹ اپ یار !....موڈ خراب مت کرو ۔“
”مس عذرا !پلیز آپ تشریف لے جائیں اور مجھے میرے حال پہ چھوڑ دیں۔“
”عذرا ....؟“اس کے ہونٹوں سے سرسراتی ہوئی آواز برآمد ہوئی ۔ہوش سنبھالنے کے بعد پہلی بار میں نے اسے عذرا کہا تھا ۔ورنہ کہنا کیا ؟ میں اسے سوچتا بھی ضو تھا ۔“

میں نے اس کے استفسار کا جواب دیے بغیر آنکھیں بند کر لیں ۔مجھے خود اسے عذرا کہنا اچھا نہیں لگا تھا مگر غصے کے اظہار کا مجھے اور کوئی طریقہ نہ سوجھا ۔
چند لمحے وہ یونہی بیٹھی رہی اور پھر اٹھ کر مرے مرے قدم لیتی میری خواب گاہ سے نکل گئی ۔مجھے عجیب سی بے چینی محسوس ہوئی جسے میں کوئی نام نہیں دے سکا تھا۔ مگر میں نے اسے روکنے یا منانے کی کوشش نہ کی اور یونہی خاموش پڑا رہا ۔
دن کا کھانا میں نے نہیں کھایا تھا اور یقینا وہ بھی نہیں کھا سکی تھی ،رات کو ڈائیننگ ٹیبل پر ہمارا سامنا ہوا ،ہم دونوں خاموش خاموش سے تھے ،والدین نے لازماََ ہماری خاموشی کو نوٹ کیا ہو گا لیکن انھوں نے ہمیں جتلایا نہیں ۔یوں بھی یہ خاموشی ان کے لیے کوئی نئی چیز نہیں تھی ۔البتہ میرا وجدان کہہ رہا تھا کہ یہ خاموشی بالکل نئی اور انوکھی ہے ۔دن کو کھانا نہ کھانے کے باوجود میں صحیح طریقے سے نہ کھا سکا۔ یہی حال ضو کا بھی تھا ۔چند لقمے زہر مار کرنے کے بعد وہ بھی سویٹ باول لے کے بیٹھ گئی ۔جبکہ میں سیب چھیلنے لگا ۔
”چچا جان اور ابو جان کسی کاروباری مسئلے پر مصرو ف گفتگو تھے ،گاہے گاہے امی جان اور چچی جان بھی انھیں لقما دینے لگتیں ۔وہ جیسے ہی کھانا کھا کر اٹھے ہم دونوں اپنی اپنی خواب گاہ کی طرف بڑھ گئے تھے ۔
اگلی صبح میں نماز کے بعد ٹریک سوٹ پہن کر پارک میں چلا گیا اور جان بوجھ کر دیر سے لوٹا تاکہ وہ کالج نکل جاے۔واپسی پر کچن کے سامنے سے گزرتے ہوے میں نے ملازماکو ناشتا لانے کا کہہ دیا ۔
وہ حیرانی سے ”جی چھوٹے صاحب !“کہہ کر رہ گئی تھی ۔کیونکہ زندگی میں پہلی بار میں نے اسے ناشتے کے بارے کہا تھا ۔
خواب گاہ میں داخل ہوتے ہوئے وہ مجھے کالج کی یونیفارم میں اپنی منتظر نظر آئی۔ نصاب کی کوئی کتاب کھولے وہ مطالعے میں مصروف تھی ۔
”تم کالج کیوں نہیں گئیں ؟“میں نے سرسری لہجے میں پوچھا ۔
وہ اپنے گول چہرے سے میری جانب متوجہ ہوئی ،اس کی شہد انگیں آنکھوں میںاداسی کا ٹھاٹیں مارتا سمندر موج زن تھا ۔
”آئی ایم سوری جدیر !....واقعی میری وجہ سے آپ کی زندگی متاثر ہوئی ،مگر بہ خدا میں نے جو کچھ کیا جان بوجھ کے نہیں کیا ۔اب آپ کو میری وجہ سے کوئی شکایت نہیں ہو گی ۔“میں ایک دم تم سے آپ کے درجے پرترقی پا گیا تھا ۔اس کا جدیر کہنا بھی مجھے بہت برا لگا ،مگر ہمارے تعلقات ایک دم اس نہج پر آ گئے تھے کہ اعتراض کی گنجائش ختم ہو گئی تھی ۔
”اٹس اوکے ۔“میں سپاٹ لہجے میں بولا ۔
”اچھا خفا نہ ہو ؟میں رخشی کو منا لوں گی ۔“
میں ہونٹ چباتا ہوا بولا ۔”اس کی ایک ہی شرط ہے کہ آپ اس گھر سے بھی دور چلی جائیں جو یقینا ناممکن ہے ۔“
وہ چند لمحے خاموش بیٹھی رہی اور پھر پوچھنے لگی ۔”ناشتا لاو ¿ں؟“
میں اس کی آنکھوں میں جھانکتا ہوا بولا۔”ملازما کو بتا آیا ہوں ؟“
اس نے شاکی نظروں سے مجھے گھورا۔پلکوں کا پشتا بڑی مشکل سے سیلابی ریلے کو روکے نظر آیا ۔اور پھر شاید پلکوں کی ہمت جواب دے گئی کہ اس نے ایک دم رخ موڑا اور دروازے کی جانب چل دی ۔مجھے محسوس ہوا کوئی میرے دل کو مٹھی میں لے کر دبا رہا ہے ۔ وہ میری مخلص دوست اور راز دار تھی مگر اس کی بے وقوفی کی وجہ سے میں اسے خود سے دور کرنے پر مجبور ہو گیا تھا ۔
ملازما ناشتا لے کے آئی تو میں اس پر برس پڑا ۔
”جب تجھے پتا ہے کہ میں ابلاانڈا نہیں کھاتاپھر انڈا لانے کی کیا ضرورت تھی؟اور دودھ نہیں میں ملک شیک لیتا ہوں ۔نہیں معلوم تھا تو پوچھ لیتیں مجھ سے ۔“
”مم....معافی چاہتی ہوں چھوٹے مالک !....آج پہلی مرتبہ آپ کے لیے ناشتا لارہی ہوں نا ؟آئندہ خیال رہے گا ۔“
”اچھا یہ واپس لے جاو ¿۔“میںبہ مشکل نارمل ہوتا ہوا بولا ۔”اور فی الحال میرا موڈ نہیں ہے ۔اس لیے ملک شیک بھی لانے کی ضرورت نہیں ہے۔“
وہ خاموشی سے سر ہلاتے ناشتے کی ٹرے واپس لے گئی ۔
میں اس دن کافی لیٹ یونیورسٹی پہنچا ۔مظہر یونیورسٹی کے سبزہ زار میں بیٹھا مونگ پھلی ٹھونگ رہا تھا ۔
”اجی راہ گیر صاحب !....آج تو شاید چھٹی منانے کے موڈ میں ہو ؟.... دوپہر ہو رہی ہے اور تم ابھی آنکھیں ملتے یونیورسٹی پہنچ رہے ہو ؟“
”بس یار کیا بتاوں ؟اپنے تو ستارے ہی گردش میں ہیں ۔“میں نے اس کی بغل میں بیٹھ کر اس کے سامنے پڑے کاغذ کے لفافے سے مونگ پھلی کے چند دانے اٹھاتا ہوا بولا۔
”یہ کم بخت ستارے تو رہتے ہی گردش میں ہیں میاں ؟“
”صحیح کہا ،مگر میرے ستاروں کی رفتا ر کچھ زیادہ ہی تیز ہو گئی ہے۔“
”شاید رخشی بھابی سے جھگڑا ہو گیا ہے ؟“
”آپ علاحدگی کہہ سکتے ہیں ۔“میں نے لہجے میں اطمینان پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی۔
”وجہ ؟“اس کا مختصر سوال ،تفصیل کا متقاضی تھا۔
”ضو ۔“ میں نے تفصیل میں جانے کے بجاے مختصر اور جامع جواب دینا پسندکیا۔
”اف!“وہ سر پکڑتا ہوا بولا۔”عذرا بہن بھی ،کیا چیز ہے ؟“
”آج تواس سے بھی ختم کر آیا ہوں ۔“میں نے اس کی معلومات میں اضافہ کیا۔
وہ حیرانی سے بولا۔”یقینا میں تمھاری بات سننے میں غلط فہمی کا شکار ہوا ہوں“
”نہیں ....“میں نے نفی میں سر ہلایا۔”تمھاری سماعتوں نے تمھیں دھوکا نہیں دیا ۔“
وہ یقین سے بولا۔”پھر تم غلط بول گئے ہو ؟“
”ایسا بھی نہیں ہے ۔“میں نے مونگ پھلی کا چھلکاتوڑ کردانہ منہ میں ڈالا۔
اس نے منہ بنایا۔”درجنوں نازنینوں کو خفا کرنے کے بعد ؟....حالانکہ یہ کام تمھیں پہلے کر لینا چاہیے تھا ۔“
”امید ہے میں رخشی کو منا لوں گا ۔“میرے لہجے میں امید کا عنصر نمایاں تھا۔
”کچھ ایسا ہی مجھے بھی لگتا ہے اگر آپ کی عذرا والی بات درست ہے تو ؟“
”بالکل درست ہے ۔اور اب میں چلا ۔“میں نے دور سے رخشی کو تاڑ لیا تھا ،وہ سست قدموں سے کیفے ٹیریا کی جانب جا رہی تھی ۔
”اوکے جناب !“اس نے اثبات میں سر ہلایا اور اپنا شغل جاری رکھا ۔
کیفے ٹیریا میں داخل ہو کر میں نے وسیع ہال میں نگاہ دوڑائی ،وہ مجھے اکیلی بیٹھی نظر آئی میں سرعت سے اس کی جانب بڑھا ۔
”میں بیٹھ سکتا ہوں؟“
”جی بیٹھیں پلیز ۔“کہہ کر وہ خود اٹھی اور باہر کی جانب چل دی ۔میں ہونقوں کی طرح اس کی پشت تکتا رہ گیا ۔وہ راضی ہونے کے موڈ میں نہیں تھی ۔
”چلو بھئی چند دن مزیددیکھ لیتے ہیں ۔“میں خود کلامی کرتے ہوئے بیٹھ گیا ۔ میرا سر بھاری بھاری ہو رہا تھا اس لیے میں نے چاے پینا مناسب سمجھا تھا۔
ؒ ُ ؑ ِ
واپسی پر میں کمرے میں گھسا اور رات کا کھانا بھی وہیں منگوایا۔صبح کا ناشتا بھی میرے لیے ملازما لے کے آئی ۔اگلے دن رات کو ڈائیننگ ٹیبل پر ضو سے ملاقات ہوئی ۔وہ خاموش خاموش سی تھی ۔مجھ سے نظریں ملاے بغیر وہ خاموشی سے کھانا کھاتی رہی ۔مجھے لگا ہمارے درمیان ایک بہت بڑی خلیج حایل ہو گئی ہے۔کھانے کے دوران ہی اچانک چچا جان اس سے مخاطب ہوے ۔
”تو یہ تیرا آخرفیصلہ ہے ؟“
”جی ابو جان ۔“وہ اطمنان سے بولی ۔”کل جمشید کے گھر والے آ رہے ہیں۔“
”یہ کس فیصلے کی بات ہو رہی ہے بھئی ؟“ابو جان نے حیرانی سے پوچھا ۔
”آپ کی لاڈلی بھتیجی کی شادی کی ۔“چچی جان نے تلخی سے جواب دیا ۔
”ہائیں ....عذرا کی شادی اور جمشید سے ؟“امی جان ششدر رہ گئیں تھیں ۔ ابو جان بھی ہاتھ میں توڑا ہوا نوالا واپس پلیٹ میں رکھ کر اپنی بھاوج یعنی چچی جان کی طرف متوجہ ہو گئے تھے ۔
”اتنا بڑا فیصلہ ہم سے پوچھے بغیر ؟“
”اپنے بھائی اور بھتیجی سے پوچھیں بھیا!“چچی جان سخت غصے میں تھیں ۔
”چچا جان !....“ضو ،ابو جان سے مخاطب ہوئی ۔”ڈاکٹر جمشید اور میں نے بہت سوچ سمجھ کر یہ حمیدہ کیا ہے ۔پھوپی جان بھی ہمارے اس فیصلے سے بہت خوش ہیں ۔“
”مگر ایک دم ،جمشید سے کیسے بات چل پڑی ،مطلب میں نے تو ....؟“ ابو جان کی حیرانی بے جا نہیں تھی ۔
”ایک دم نہیں چچا جان !....پہلے وہ تعلیم کے سلسلے میں مصروف تھے اور ابھی فارغ ہوئے ہیں۔ویسے فون پر کافی عرصے سے ہمارا رابطہ ہے ۔“اس نے صریحاََ جھوٹ بولا ۔کیونکہ اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو وہ مجھے ضرور بتاتی ۔
”ٹھیک ہے بیٹا جیسے تمھاری مرضی ۔“ابو جان کھڑے ہو گئے ۔انھوں نے بس دو نوالے ہی لیے تھے ۔ابو جان کی طرح امی جان بھی سخت اپ سیٹ نظر آنے لگی تھیں ،بلکہ میں جو کب سے اس دن کا انتظار کر رہا تھا، کہ ضو کی تلوار میرے سر سے ہٹے ۔اچانک مجھے محسوس ہوا کہ کچھ غلط ہونے جا رہا ہے ۔میرا دل نا خوشگوار انداز میں دھڑکنے لگا تھا ۔ابو جان اورامی جان کے ساتھ چچی اور چچا جان بھی ڈائیننگ ٹیبل سے واک آو ٹ کر گئے تھے۔ 
میں اور ضو اکیلے ہوے تو وہ آہستہ سے بولی ۔
”جدیر !....پچھلے ایک سال سے جمشید مجھے کالیں اور میسج کر رہا ہے ۔ سوری کہ میں آپ کو مطلع نہ کر سکی ....اصل میں میں خود پہلے سنجیدہ نہیں تھی ۔مگر کل سارادن سوچنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچی کہ اس سے بہتر رشتا شاید مجھے نہ مل پائے۔ اس لیے کل رات ہی میں نے اس سے موبائل فون پر بات کر لی تھی ۔میری وجہ سے جانے اس نے کتنے رشتے ٹھکرا دیے تھے ۔آج سارا دن ہم نے اکھٹے گزارا۔ پھوپھو جان سے بھی بات ہوئی ۔ وہ بھی بہت خوش ہیں ۔آپ بس چند دن انتظار کرلیں ،جمشید نے وعدہ کیا ہے کہ وہ مجھے ایک ہفتے میں بیاہ کرلے جاے گا ۔باقی کی تعلیم میں وہیں مکمل کر لوں گی ....۔“وہ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ کہتی رہی مگر میرے دماغ میں سائیں سائیں ہو رہی تھی ۔ضو جمشید کے ساتھ گھومتی رہی تھی۔دونوں نے اکٹھے کھانا کھایاہوگا ؟پارکوں میں گھومتے رہے ہوں گے؟ قہقہے بکھیرے ہوں گے ؟اس نے ضو کے ہاتھوں کو تھاما ہو گا؟محبت بھری سرگوشیاں کی ہوں گی ؟ ضو شرمائی ہو گی .... میری نگاہوں میں کئی ان دیکھے مناظر گھوم گئے تھے۔
اور پھر ضو کی بات جاری تھی کہ میں ایک جھٹکے سے اٹھا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔مجھے کمرہ بالکل خالی خالی سالگا ۔ٹی وی پر چلنے والی خبروں کا ہنگامہ بھی میرے کمرے کی خاموشی کو دور کرنے میں ناکام نظر آ رہا تھا ۔ضو کسی اور کے ساتھ کیسے گھوم سکتی تھی؟ وہ کسی دوسرے کی بات پر کیسے ہنس سکتی تھی؟اسے کوئی اور کیسے چھو سکتا تھا؟وہ تو میری تھی صرف میری ۔میری ذاتی جاگیر ۔
مگر یہ کیا ہو گیا تھا؟ ایک ہفتے کے بعد وہ جمشید کی ملازما ہو گی ؟ 
”میں نے انڈے نہیں کھانے ؟“جمشید نخرے سے کہے گا اور ضو بڑی چاہت سے اسے ناشتا کرائے گی؟ ۔
”اٹھ بھی جائیں نا جی !“ضو نے جمشید کے اوپر سے کمبل کھینچا میں نے بے اختیار آنکھیں کھول دیں ۔سامنے دیوا ر پر ضو کا ہنستا ہو اچہرہ نظر آنے لگا وہ ٹرافی وصول کرتے ہوے بہت خوش نظر آ رہی تھی ۔یقینا جمشید بھی اسی طرح خوش ہو گا ۔ضو ایک ٹرافی ہی تو تھی ۔میں بے چینی سے ٹہلنے لگا ۔یہ کیا ہو گیا تھا ؟ کیا میں شروع ہی سے ضو سے محبت کرتا تھا؟مگر یہ محبت اب تک کہاں چھپی تھی؟ ۔
میں خود کلامی کے انداز میں بڑبڑایا۔”جب دوسری لڑکیوں سے گپیں ہانکتے تھے، عشق لڑاتے تھے اس وقت ضو کی محبت کہاں غائب تھی ؟“
میں خود کو لعنت ملامت کرنے لگا ،شاید میں نے سوچا تھا ضو ہمیشہ اسی طرح اس گھر میں رہے گی۔اس نے کس سے شادی کرنی ہے؟وہ بھلا کہاں کسی کو پسند کر سکتی ہے؟ ۔ ہاں ....
”بات کچھ اور تھی میں اور سمجھ بیٹھا تھا ۔“
میں سر تھا م کر ایزی چیئر پر بیٹھ گیا ۔میرے اندر مسلسل زلزلے اٹھ رہے تھے ۔ جانے رخشی کی دوری کا دکھ کہاں جا سویا تھا ؟
”نہیں ایسا نہیں ہو گا ....میں ایسا نہیں ہونے دوں گا ؟“میں خود کلامی کرتا ہوا اٹھا اور ضو کے کمرے کی طرف بڑھا ۔اور پھر میں اس کے دروازے ہی پرپہنچا تھا کہ میرے کانوں میں اس کی مدھرآواز گونجی ۔
”بس سونے لگی ہوں نا ؟....سارا دن تو اکٹھے گزارا ہے ؟“
میں ایک دم رک گیا۔وہ کسی سے گپیں ہانک رہی تھی ۔مجھے لگا میری سانس رک رہی ہے ۔رخشی میرے سامنے نعمان کے ساتھ بیٹھ کر گپیں ہامکتی رہی تھی مگر مجھے محسوس تک نہیں ہوا تھا۔ آج ضو فون پر بات کر رہی تھی اور میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔
وہ ہنسی ۔”نہیں جی نہیں بارہ بجے تک تومیںکبھی نہیں جاگی ؟“وہ خاموش ہو گئی یقینا جمشید کی بات سن رہی تھی ۔
”تب کی تب دیکھی جاے گی ؟“یہ بات کرتے ہوے بھی وہ شرمائے ہوئے انداز میں ہنسی تھی ۔ وقفے کے بعد....
”بتایا نا ....؟مجھے گیارہ بجے کے بعد جاگنے کی عادت نہیں ہے ،یقین مانو راجو کے ساتھ بھی زیادہ سے زیادہ گیارہ بجے تک گپ ہوتی تھی وہ بھی سنڈے نائیٹ کو ۔“
تھوڑے وقفے کے بعد وہ پھر بولی ۔
”اس میں خفا ہونے کی کیا بات ہے ....اور راجو کے ساتھ میں کھیل کے جوان ہوئی

 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney