میرے استاد میرے دوست میرے بزرگ


مجھ سے پوچھا گیا‘ کہ آپ نے زندگی میں‘ کن کن اساتذہ سے علمی استفادہ کیا ہے۔ 
وقت‘ حالات‘ حاجات اور حضرت بےغم صاحب سے بڑھ کر‘ آدمی کس سے سیکھ سکتا ہے۔ 
سوال کرنے والے کی‘ اس سے تشفی نہ ہوئی۔ شاید ہر چہار کی استادی کو‘ وہ ناقص سمجھتے ہوں گے۔ حضرت بےغم صاحب تو میری زندگی میں ١٩٧٢ میں آئیں‘ اور پھر مسلسل اور متواتر آتی ہی چلی گیئں۔ ان کے مزید آنے کے امکان کو رد نہ کیا جائے۔ ان سے پہلے بھی تو لکھتا پڑھتا تھا۔ اپنی رائے کا اظہار کرتا تھا۔ اس لیے لامحالہ ١٩٧٢ سے پہلے بھی تو میری زندگی میں استاد آئے ہوں گے۔ 
یہ کوئی ١٩٥٨ کی بات ہو گی‘ والد صاحب مرحوم جو میرے پیر و مرشد بھی تھے‘ سکول چلے آئے اور ماسٹر صاحب سے میری تعلیمی حالت پوچھی۔ 
دراز قامت کے ماسٹر صاحب نے‘ بلامروت جواب میں ارشاد فرمایا: خلیفہ ہے۔

کہنے کو تو وہ یہ کہہ گیے‘ لیکن میری حالت مت پوچھیے۔ قبلہ گاہ تو چپ چاپ چلے گیے۔ جواب میں کیا کہتے۔ میرا خیال تھا‘ کہ آج خیر نہیں۔ خوب مرمت کریں گے۔ شام کو‘ جب وہ گھر تشریف لائے‘ میرا خون خشک ہو گیا۔ معاملے کا نتیجہ میرے اندازے سے قطعی برعکس نکلا۔ مجھے پاس بٹھایا‘ پیار کیا۔ جیب سے ٹانگر نکال کر‘ کھانے کو دیے۔ صبح کی بات‘ مجھے نہ جتائی‘ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ اس دن کے بعد‘ میرے ساتھ خصوصی شفقت فرمانے لگے۔ مجھے اپنے ساتھ ساتھ رکھتے۔ بیٹھک میں کوئی آ جاتا‘ تو پاس بٹھا لیتے۔ باتیں کرتے‘ گلستان سے کہاوتیں سناتے۔ میں ان کے ساتھ سونے لگا۔ پڑھنے‘ یا کتابیں لے کر آنے کو‘ کبھی نہ کہا۔ بڑوں کی محفل میں بیٹھنا‘ مجھے اچھا لگتا۔ پہلے سنتا تھا۔ پھر میرے قبلہ گاہ نے‘ سوال کرنے کی عادت ڈالی۔ جہاں الجھتا‘ سوال کرتا۔ میں اپنے قبلہ گاہ کے ساتھ رہتے ہوئے‘ بڑوں کی صحبت سے لطف اندوز ہوتا۔ بڑے مجھ سے سوال بھی کرتے‘ میں ان کے سوال کا اعتماد سے جواب دیتا۔ جواب غلط ہوتا یا صحیح‘ کچھ یاد نہیں۔ انہوں نے منع کیا تھا‘ کہ کسی بھی آنے والے سے‘ اس کے اصرار کے باوجود‘ کچھ لینا نہیں۔ ہاں مجھ سے مانگنے میں‘ تکلف نہ کرنا۔ مزے کی بات‘ وہ میری ہر ضرورت کو بھانپ لیتے‘ اور مجھے مانگنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔

گھر کے حالات بہتر نہ تھے‘ میٹرک کا امتحان دینے کے فورا بعد‘ انہوں نے مجھے لائل پور موجودہ فیصل آباد میں‘ اپنے ایک دوست کے توسط سے‘ اقبال ٹرانسپورٹ میں ملازمت دلوا دی۔ وہاں محمد حسن بخاری بھی ملازم تھے۔ موصوف‘ ساٹھ سال کی عمر سے زیادہ تھے۔ بڑے شفیق اور مہربان تھے۔ مجھے لکھنے‘ پڑھنے اور دریافت کرنے کی عادت تھی۔ وہ میری حوصلہ افزائی فرماتے۔ انہوں نے میری تحریروں پر لکھا بھی‘ جو آج بھی میرے پاس موجود ہے۔ کتابت شدہ مسودہ بھی کہیں ناکہیں پڑا ہو گا۔ پرچم نام کا ایک مقامی رسالہ شائع ہوتا تھا۔ میں اس رسالے کا نمائندہ بن گیا۔ بعد ازاں‘ اقبال ٹرانسپورٹ سے ملازمت چھوز کر‘ چناب ٹرانسپورٹ میں آ گیا۔ یہاں بھی میرا پالا ساٹھ سال کی عمر سے زائد شخص کے ساتھ پڑا۔ ان کے ساتھ کچھ زیادہ وقت نہ رہا‘ تاہم جتنا عرصہ رہا‘ سہراب صاحب سے بہت کچھ سیکھا۔ سہراب صاحب بڑے سخت اور اصول پرست آدمی تھے۔ غلطی پر درگزر کرنے کی بجائے‘ ڈانٹ پلاتے۔ اس وقت تو برا لگتا تھا‘ بعد میں معلوم ہوا کہ ان کی ڈانٹ بڑے کام کی چیز تھی۔

میٹرک کے رزلٹ کی اطلاع‘ میرے قبلہ گاہ نے دی۔ میڑک میں کامیابی حاصل کر لینا‘ میرے لیے بڑی معنویت کی بات تھی‘ اور مجھے یقین ہو گیا‘ کہ اب میں خلیفہ نہیں رہا۔ قبلہ گاہ نے‘ بزگوں کی محفل میں بیٹھنے کی عادت ڈال دی تھی۔ مجھے اپنی عمر کے لڑکوں کے ساتھ مل کر بیٹھنا‘ خوش نہیں آتا تھا۔ شاید میں نویں جماعت میں تھا‘ میرے قبلہ گاہ نے یہ بات میرے دل و دماغ میں باندھ دی تھی‘ کہ اگر زندگی میں کچھ کرنا ہے‘ تو کسی لڑکی سے عشق نہیں کرنا۔ اگر عشق کرنا ہے‘ تو الله سے کرو‘ الله باقی رہنے والا ہے‘ تم بھی باقی رہو گے۔ میں ناچیز الله سے عشق کے کب قابل تھا‘ ہاں کسی خاتون کے عشق کے منہ نہ لگا۔ ہو سکتا ہے‘ میں کسی خاتون کی پسند کے قابل نہ تھا۔ کسی خاتون کو پسند کرنے کے لیے‘ میرے پاس وقت ہی نہ تھا۔ ہاں خواتین سے نفرت بھی نہ تھی۔ حضرت والدہ ماجدہ سے عشق کرتا تھا۔ چھوٹی بہن نصرت شگفتہ‘ میری پسندیدہ سہیلی تھی۔ ہم دونوں آپس میں خوب موج مستی کرتے‘ تاہم ہمارے باہمی شور شرابے اور کھیل کود سے‘ گھر کے دوسرے لوگ ڈسٹرب نہ ہوتے تھے۔ ہم اپنے منہ کا لقمہ‘ ایک دوسرے کو کھلا کر‘ خوشی محسوس کرتے۔

میرے قبلہ گاہ کے‘ فوج میں کوئی صاحب واقف تھے۔ میں اے ایم سی میں‘ باطور نرسنگ اسسٹنٹ بھرتی ہو گیا۔ ٹرینگ کے بعد‘ سی ایم ایچ کھاریاں آ گیا۔ وہاں سے‘ کچھ عرصہ بعد‘ سی ایم ایچ حیدرآباد تبادلہ ہو گیا۔ سی ایم ایچ حیدرآباد میں‘ شگفتہ لاہوتی باطور پینٹر ملازم تھے۔ ان کے پاس‘ شہر کے شاعر ادیب آتے رہتے تھے۔ بزرگ وضع دار اور خوش گو تھے یہ ہی وجہ ہے‘ کہ سب ان کی عزت کرتے تھے۔آنے والے انہیں استاد مانتے تھے۔ میں ان کے ہاں تقریبا روزانہ جاتا۔ جب جاتا‘ کوئی ناکوئی آیا ہوتا اور اپنا کلام سنا رہا ہوتا۔ اس طرح میں بھی آنے والے کے کلام سے لطفف اندواز ہوتا۔ مجھے ان کے اصلاح کے اطوار سے بھی آگاہی ہوتی۔ دو تین بار مجھے اکیلے میں ملنے کا اتفاق ہوا۔ بڑی شفقت سے‘ کلام کی اصلاح کی اور اصلاح شدہ کلام دو تین بار مجھ سے سنا۔ کسی اگلی نشت میں‘ جب پانچ سات لوگ آئے ہوتے مجھ سے کلام سنانے کی فرمائش کرتے۔ میں وہ ہی اصلاح شدہ کلام‘ سنا دیتا۔ دل کھول کر داد دیتے۔ اس طرح محفل میں سنانے کی عادت پڑ گئی۔ رائی بھر جھجھک محسوس نہ ہوتی۔ یہاں ہی‘ حیدرآباد کے معروف صحافی افسانہ نگار احمد ریاض نسیم سے ملاقات ہوئی‘ جو برسوں چلی۔

حیدرآباد سے میرا تبادلہ‘ سی ایم اییچ بہاول پور ہو گیا۔ یہاں مجھے ایک جاروب کش سے ملاقات کا موقع ملا‘ اور میں نے ان سے زندگی کا حقیقی چلن سیکھا۔ ان سے ملنے کے لیے‘ مجھے تھوڑا اوپر سے آنا پڑتا تھا تاہم‘ میں ان سے ملے بغیر‘ ڈیوٹی پر نہ جاتا تھا۔ ہماری ملاقات فقط ایک لمحے کی ہوتی۔ میں چلتے چلتے ان سے پوچھتا: کیا حال ہے سائیں بادشاہ 
جواب میں‘ وہ جھاڑو زمین پر رکھ دیتے‘ اور ہاتھ جوڑ کر فرماتے: نئیں باباجی‘ میں نئیں الله بادشاہ
یہ سن کر میں آگے بڑھ جاتا۔ اس کلمے سے مجھے قلبی سکون میسر آتا۔

١٩٧٢
میں‘ میری شادی زیب النسا سے کر دی گئی۔ وہ مر گئی ہے‘ اور میں نے مرنا ہے‘ سچی بات تو یہ ہے کہ مرحومہ بڑی صابر‘ قناعت پسند اور شفیق عورت تھی۔ ان پڑھ تھی‘ لیکن عادت کے حوالہ سے‘ پڑھے لکھوں سے‘ کہیں بڑھ کر تھی۔ عمر زیادہ ہونے کے باعث‘ ابتدا میں میرا رویہ بہتر نہ رہا لیکن وہ سب بڑے حوصلے سے‘ برداشت کر جاتی۔ ایک دن میں نے سوچا‘ اس میں اس بےچاری کا کیا قصور ہے۔ میں نے خود کو یکسر بدل دیا۔ الله نے عنایت فرمائی‘ ہمیں چاند سا بیٹا‘ سید کنور عباس عطا کیا۔ پھر تو سب کچھ ہی بدل گیا۔ اس کے بعد‘ زیب النسا مجھے دنیا کی سب سے پیاری عورت محسوس ہونے لگی۔ میں یہ تسلیم کرنے میں قطعی شرمندگی محسوس نہیں کرتا‘ عجز انکسار اور برداشت کا مادہ‘ زیب النسا سے ملا۔ الله اسے‘ قبر میں کروٹ کروٹ سکون عطا فرمائے۔


شاید ہی کوئی دن ہو گا‘ جس دن میں نے کچھ پڑھا یا لکھا نہ ہو گا۔ بیماری کی حالت میں بھی‘ یہ شغل خیر جاری رکھتا۔ دوستوں سے ملاقات رہتی‘ تو بھی کوئی ناکوئی معاملہ گفتگو میں رہتا۔ رسائل میں چھپنے کے باعث‘ بہت سے اہل قلم سے میرا رابطہ ہو گیا۔ احمد ریاض نسیم سے میرا قلمی رابطہ تو تھا ہی‘ اعظم یاد جو ١٩٥٩ سے لکھ رہے تھے‘ خط و کتابت رہی۔ اس دور میں بڑا مانا ہوا نام تھا۔ ملک شاہ سوار ناصر‘ ایم اے علی‘ کوکب مظہر خاں وغیرہ خط و کتابت میں آ گیے۔

میرے قبلہ گاہ کا اصرار تھا‘ کہ میں مزید پڑھوں۔ ان کی ہدایت اور نصیحت پر‘ میں نے پڑھنا شروع کیا۔ کالج کا پروفیسر ہونا‘ ان کا خواب تھا‘ اور یہ خواب ان کی زندگی ہی میں‘ ١٩٨٥ کو شرمندہءتعبیر ہوا۔ انہوں نے ١٩٨٨ میں پردہ فرمایا‘ اور خلد نشین ہوئے۔ 

میری پہلی تقرری‘ گورنمنٹ کالج نارنگ منڈی ہوئی۔ وہاں پروفیسر امانت علی‘ پروفیسر مشتاق راحت‘ ڈاکٹر قیس اسلم‘ پروفیسر انور خاں اور پروفیسر رفیق مغل جیسے‘ لوگوں سے ہیلو ہائے ہوئی۔

١٩٨٧ میں‘ گورنمنٹ اسلامیہ کالج قصور میں آ گیا۔ پروفیسر ارشاد احمد حقانی‘ صحافتی دورے پر رہتے تھے۔ مجھے بی اے کی تاریخ کا پریڈ دے دیا گیا۔ 

ڈاکٹر صادق جنجوعہ کا تبادلہ لاہور ہو گیا‘ تو ایک عرصہ تک مجھے سال اول سے سال چہارم تک پنجابی پڑھانے کا موقع ملا۔

گویا پنجابی اور تاریخ کے طلبا سے‘ میں نے بہت کچھ سیکھا۔

پروفیسر اکرام ہوشیارپوری‘ پروفیسر علامہ عبدالغفور ظفر‘ پروفیسر ڈاکٹر عطاارحمن اور پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد چودھری‘ میرے دوستوں میں تھے۔ بعد ازاں پروفیسر امجد علی شاکر تشریف لے آئے تو ان سے بھی پیار اور دوستی کا رشتہ استوار ہوا۔

مختلف رسائل میں چھپنے کے سبب‘ اہل قلم سے رابطہ بڑھتا چلا گیا۔ ان میں ڈاکٹر بیدل حیدری‘ ڈاکٹر محمد امین‘ ڈاکٹر اختر شمار ڈاکٹر وفا راشدی‘ ڈاکٹر نجیب جمال‘ ڈاکٹر وقار احمد رضوی‘ ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی‘ پروفیسر حفیظ صدیقی‘ ڈاکٹر گوہر نوشاہی‘ ڈاکٹر تبسم کاشمیری‘ تاج پیامی‘ پروفیسر کلیم ضیا‘ ڈاکٹر مظفر عباس‘ ڈاکٹر منیر الدین احمد‘ ڈاکٹر عبدالقوی ضیا‘ ڈاکٹر آغا سہیل‘ ڈاکٹر سید اسعد گیلانی‘ ڈاکٹر فرمان فتح پوری‘ ڈاکٹر قاسم دہلوی‘ مولانا نعیم صدیقی‘ مولانا وصی مظہر ندوی وغیرہم سے قلمی رابطہ رہا۔ 

ڈاکٹر سعادت سعید‘ ڈاکٹر انیس ناگی اور مبارک احمد‘ کی سرگرمیاں میری توجہ کا مرکز رہیں۔

لاہور فٹ پاتھ پر سے کتابیں خریدنے جاتا تو ڈاکثر سہیل احمد خاں اور ڈاکٹر سید معین الرحمن سے ضرور ملتا۔ ڈاکٹر تحسین فراقی سے خط و کتابت اور ملاقات بھی رہی۔

ایمان داری کی بات یہ ہی ہے‘ کہ جہاں حالات اور وقت نے سکھایا‘ وہاں میں نے ان لوگوں سے بھی بہت کچھ سیکھا۔ یہ سب میرے لیے بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ میں نے جو بھی ناچیز سا کام کیا ہے‘ سب ان کی محبتوں اور عطاوں کا پھل ہے۔ 

سچ پوچھیے‘ تو انار کلی فٹ پاتھ نے بھی‘ مجھے بہت کچھ سکھایا ہے۔
 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney