میزان محبت
 2 قسط 

جس وقت سیمل گھر پہنچی اس وقت عصر کا وقت نکل رہا تھا،جلدی سے نہاکر کپڑے تبدیل کرکے وه فوراً صلٰوةٍالعصر کی نیت باندھ کر کھڑی ہوگئ__نماز پڑھنے کے بعد سیمل نے دعا کے لیۓ ہاتھ اٹھاۓ تو اپنی ماں باپ کی لمبی زندگی اور گھر کی خیروعافیت مانگی__

نماز پڑھ کر وه کچن میں آئی اور امی سے ابو کی طبیعت دریافت کی۔ سیمل اپنے ماں باپ کی چھوٹی بیٹی تھی اور اسکا ایک ہی اکلوتا بھائی تھا جسکی شادی ہوچکی تھی اور جو اپنی زندگی بے حد خوش و خرم طریقے سے گزار رہا تھا__ سیمل کے ابو کا اپنا بزنس تھا__ ولید جو کہ سیمل کا بھائی جسکو پیار سے سیمل ولی بھیا پکارتی تھی ، اپنی اکلوتی بہن پہ جان چھڑکتا تھا__انکی بیوی بھی دل کی بہت اچھی تھیں اور سیمل کو اپنی چھوٹی بہن مانتی تھیں__ 

ولی بھیا لندن میں الگ گھر میں اپنے ماں باپ کی اجازت سے شفٹ ہوگئے تھے البتہ وه روز ماں باپ کی طبیعت دریافت کرنے کے لیۓ سکائپ پہ روزانہ کال کرتے تھے __اسکے ولی بھیا کی وجہ سے ہی وه اپنی قیمتی خواہش کو پورا کر رہی تھی__ سیمل ایم بی بی ایس کے سیکنڈ ائیر میں تھی__اور زینب اور اسکی دوستی کالج لائف میں ہوئی تھی جو اب تک میڈیکل کالج میں بھی برقرار تھی__سیمل کی واحد پکی دوست صرف زینب تھی وه اسی سے ہر بات شئیر کرتی تھی__سیمل لڑکوں سے الرجک تھی__

بیس کی دہائی کی نوجوان نسل کی طرح سیمل بالکل نہیں تھی__وه انتہائی ریزرو نیچر کی ساده لوح لڑکی تھی__ اسے میک اپ وغیره سے چڑ بلکہ نفرت کہا جائے تو ٹھیک ھوگا __

وه پردے کا خاص خیال رکھتی تھی__
اسکے ابو کی طبیعت چند دنوں سے ناساز تھی تبھی وه آفس سے چھٹیوں پہ تھے__ 
وه کچن میں جاکر دیکھتی ہے تو کھانے میں میں پلاؤ بنا ہوتا ہے __
اسے دیسی کھانے کم ہی پسند تھے __ 
وه امی کے کمرے میں آتی تو دیکھتی امی ولی بھیا سے اسکائپ پہ بات کررہی ہیں__
وه بھی اپنے بھیا کو سلام کرتی ، حنا بھابھی کی طبیعت پوچھ کر اپنی چھوٹی سی فیری ڈول کا پوچھتی جو ابھی ایک ہفتے پہلے ہی دنیا میں آئی تھی اور ان سب کی آنکھ کا تاره بن گئی تھی__ 
"ولی بھیا ! میری بےبی کا کیا نام رکھا ؟؟" 
" تم بتاؤ گڑیا کیا رکھوں ابھی امی سے بھی یہی پوچھ رہا تھا__؟ "
"عائشے رکھ دیں، قسم سے بڑا پیارا نام ہے__"سیمل نے نام تجویز کیا جسکو سن کر اسکے بھیا خوش ہوگئے__
"گڈ ،نائس نیم آئی لائک اٹ__ چلو گڑیا یہی نام رکھ دیتے ہیں__"
"شکریہ ولی بھیا! "سیمل نے فرمیلیٹی ادا کی___"ارے پاگل لڑکی ڈاکٹر بن گئ یہ نہیں پتا کہ بھائی کو تھینک یو سوری نہیں بولتے__"ولی بھیا نے چھوٹا سا شکوه کیا__
"ارے ولی بھیا سوری!" سیمل تھوڑی سی شوخ ہوئی__
"امی دیکھیں یہ نہیں سدھرے گی__" کمرے میں سیمل کی جاندار ہنسی گونجی__
"سیمل تم جاؤ مجھے بات کرنے دو__"امی نے شاہی فرمان جاری کیا__ سیمل کو ناچار اٹھنا پڑا__
اپنے کمرے میں آکر وه پڑھائی میں مصروف ہوگئی__

❇⭐❇⭐❇⭐❇⭐❇⭐❇⭐❇⭐❇⭐❇

اکرام صاحب کی سیکرٹری نے کال ریسیو کرنے کے بعد بروقت آکے سلمان صاحب کے کمرے میں اطلاع دی کہ" سر__ایک بیڈ نیوز ہے__ آغا کمپنی نے اپنی ڈیل کا کنٹرایکٹ کینسل کردیا ہے تو کمپنی کو کافی نقصان ہوا ہے__"
"سلمان صاحب جو اکیلے آفس میں بطور آفسر اپنے فرض انجام دے رہے تھے سر پکڑ کر بیٹھ گئے__" 
اپنے آپ سے ہی سرگوشی کرنے لگے کہ یہ کمپنی تو کافی نقصان میں جاتی جارہی ہے__مجھے اکرام سے ملنا ہی ہوگا__اکرام اور سلمان بزنس پارٹنر تھے__اور دونوں ہی کافی پرانے دوست تھے جسے انھوں نے اپنی دوستی کو بزنس شئیر کر کے اور مضبوط کرلیا تھا__
سلمان صاحب اس وقت گھر جانا چاہتے تھے__انھوں نے گھڑی میں وقت دیکھا تو گھڑی نے رات آٹھ بجے کا وقت بتایا__
فضا میں خنکی بڑھتی جارہی تھی__موسم اپنی مخصوص وقت پہ بدل رہا تھا__درختوں کے پتے جھڑ چکے تھے__کسی درخت پہ ایک مینا اکیلی بیٹھی تھی__تھوڑی دیر بعد ایک اور مینا آکر اسکی تنہائی دور کرنے لگ گئی__

❇⭐❇⭐❇⭐❇⭐❇⭐❇⭐❇⭐❇⭐❇

"سر کل سنڈے کے دن تو میٹنگ نہ رکھیں میں وه اپنی فیملی کے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں__"وه سر سے التجایا انداز میں گزارش کر رہا تھا__
"سنو برخودار ہم تم سے اور تمھارے کام سے ھمیشہ خوش ہوتے ہیں اور تم اپنا کام پوری ڈیڈیکیشن سے بھی کرتے ہو__آج تم نے ہم سے کافی عرصے بعد فرمائش کی ہے تو کیا یاد کرو گے چلو کل کا آف دیتے ہیں مگر یاد رکھنا تم ایک بہترین نیوی آفیسر اور ایک سیکیرٹ ایجنڈ ہو__تمہارے لیۓ کوئی دن سنڈے اور کوئی فیملی نہیں ہوتی __" سر نے کافی اچھی یاد دہانی کروائی__
"جی سر آپ نے بجا فرمایا بالکل آئینده خیال رکھوں گا__ابھی اس کوتاہی کے لیۓ معزرت__" اس نے معافی مانگنے میں بالکل دیر نہیں کی کیونکہ وه جانتا تھا اس فیلڈ میں آنے کے بعد اسے سب کچھ چھوڑنا پڑے گا__حتیٰ کہ ماں باپ بھی__
کل سے اسے اپنے ماں باپ کی کافی یاد ستا رہی تھی تبھی اسنے گھر جانے کی درخواست کی تھی__
جلدی جلدی اپنا کام ختم کرکے وه گھر کے لیۓ روانہ ہوگیا__
گھر آکر وه اپنی امی کے گلے کا ہار بن گیا جو کہ کچن میں کام کررہی ہوتی ہیں__
"آگیا میرا بیٹا__ بہت دن سے میں اور تمہارے ابو تمہیں یاد کررہے تھے__ "امی نے اپنے بیٹے کا ماتھا چوما __
"تبھی تو میں آگیا دیکھیں__"
پھر وه اپنے مخصوص انداز میں امی کے ہاتوں کو چوم رہا تھا__
"چلو جلدی سے کھانا لگا دوں تو تم دونوں ابا بیٹے کھانا کھاؤ__
"کیوں؟ ابو نے کھانا نہیں کھایا ابھی تک_؟" اسے ابو کی عادت کا علم تھا تبھی اسے اتنی حیرا نگی ہوئی__
"پتہ نہیں بیٹا ! جب سے آفس سے آئیں ہیں پریشان ہیں تم یی پوچھو جاکر __"امی نے بے بسی سے جواب دیا__
وه سیدھا ابو کے کمرے میں آیا__سلام دعا کے بعد اس نے پریشانی کی وجہ پوچھی تو ابو نے سب کچھ اپنے سپوت کے گوش گزار کردیا__
ساری بات توجہ سے سننے کے بعد وه بولا
" ابو آپکو اکرام انکل کو سب کچھ بتا دینا چاہیۓ آخر کو وه بھی بزنس میں برابر کے شریک ہیں__"
"ہاں بیٹا میں کل جاؤنگا انکے گھر__میں نے سوچا ہے ہم اپنے دس فیصد شئیرز بیچ دیتے ہیں اس سے ہماری کمپنی سٹیبل ہوجاۓ گی __"ابو نے اپنا دماغ چلاتے ہوئے ایک ترکیب بتائی__
"ٹھیک ہے ابو ! مجھے اس بارے میں کوئی آئیڈیا نہیں ہے__"وه اپنے خیال کا اظہار کر کے اٹھ گیا__

❇⭐❇⭐❇⭐❇⭐❇⭐❇⭐❇⭐❇⭐❇

اگلی صبح سیمل فجر پڑھ کر باہر آگئ چونکہ آج اتوار تھا تو آج اخبار نے آنا تھا تو وه اخبار پہ تبصره کرنے چلی گئی__تھوڑی دیر میں اسکی امی اپنا چاۓ کا مگ اور سیمل کے لیۓ کافی لے آئیں__
سیمل نے تشکرانہ انداز میں کافی لیتے ہوئے سر خم کیا__
کافی ختم کرنے میں اسے زیاده دیر نہیں لگی__
کافی پیتے ہوئے ھی امی نے بتایا تھا کہ صبح بھی ابو کی طبیعت ناساز تھی __وه ابو کی وجہ سے پریشان بھی تھی کہ آخر کیا وجه ہو سکتی ہے کہ انکی صحت یوں گرتی جارہی ہے__ آج اسکا صفائی کا موڈ تھا__
اور سونے پہ سہاگہ آج ماسی نے بھی نہیں آنا تھا تو وه اکیلی ہی کام میں جُت گئ__
مکمل ماسی والے حلیہ میں کام کرتے ہوئے اسے دوپہر ہوگئی تھی__اب بس باہر لان کی صفائی رہتی تھی__وه جلد از جلد یہ کام ختم کرکے اپنی پڑھائی کرنا چاہتی تھی__اتنے میں مین گیٹ پہ بیل ہوئی__دروازه جیسے ہی کھولا اسکی آنکھیں حیرت سے کھل گئیں__

❇⭐❇⭐❇⭐❇⭐❇⭐❇⭐❇⭐❇⭐❇

ناشته کرنے کے بعد سلمان صاحب اپنے آفس چلے گئے تھے__
البتہ انکے صاحب زادے کا دیر تک سونے کا اراده تھا__
لنچ میں انکی واپسی آن لائن ٹیکسی پہ ہوئی__
انھوں نے دیکھا لان میں دو آنکھیں حیرت سے دیکھ رہی تھیں__ جن میں سے ایک انکے سپوت سیکرٹ ایجنڈ کی تھی اور ایک انکی شریکِ حیات کی تھی__
"وه گاڑی خراب ہوگئی تھی تو مکینک کے پاس چھوڑ کر آیا ہوں__"
انھوں نے دونوں نفوس کی آنکھوں میں موجود حیرت کو دیکھ کر ٹیکسی میں آنے کی وجہ بتائی__
"بیٹا مجھے تھوڑی دیر میں اکرام کے گھر لے چلنا__"اسکے ابو نے مودبانہ انداز میں گزارش کی__
"اچھا ابو آپ حکم کیا کریں__ آپکا حکم سر آنکھوں پہ__" سر کو تھوڑا خم کرتے ہوتے ہوئے وه ابو کے سامنے جھکا__
"ویسے ابو آپ میری گاڑی لے جا سکتے ہیں__"
"نہیں بیٹا مجھ سے تمھاری گاڑی نہیں چلتی__"ابو نے شاہی بہانہ جاری کیا__
اسکے بعد انکے اکلوتےکا قہقہہ پورے لان میں گونجا____
تھوڑی دیر بعد وه اپنی وٹز میں ابو کو لے کر اکرام انکل کی طرف نکل گیا___
گاڑی کو عالیشان گھر کے سامنے روکتے ہوئے اس نے اپنے ابو سے اجازت طلب کی__
'ابو میں جاؤں؟؟" 
"نہیں بیٹا بس مجھے یہ پیپر سائن کروانے ہیں وه کروا لوں اور عیادت کولوں پھر ساتھ ہی چلتے ہیں__تم بھی اندر چل لو ساتھ __ابھی چلے جاؤ گے تو پھر تھوڑی دیر بعد آنا پڑے گا _فضول میں خواری ہوگی__"ابو سو طرح کے حالات بتا دیئے__ 
"ٹھیک ہے ابو__"اس نے بلاآخر انکی بات مان لی__
ڈور بیل دے کر وه دروازه کھلنے کا انتظار کرنے لگے__
جیسے ہی دروازه کھلا ، جو چہرہ اسے سب سے پہلے دکھائی دیا ،وہ بے حد خوش کرگیا__ ابھی تو اس نے دل میں ہی اپنے اللّٰه سے فریاد کی تھی اتنے خوبصورت چہرے کو پھر سے دیکھنے کی __اسے نہیں پتا تھا بعض دعائیں اتنی جلدی قبول ہوتیں ہیں___ 

اگلے دن سیمل اور زینب ایک ساتھ کالج کے گراؤنڈ میں قیام پزیر تھیں___
جب زینب نے اسے اپنے نئے آنے والے رشتے کی خبر دی__زینب تو راضی نہیں تھی__البتہ اسکے گھر والے (جن میں اسکے امی ابو شامل تھے) صرف منگنی کرنے کا کہہ رہے تھے__شادی ڈاکٹری کی پڑھائی مکمل کرنے کے بعدکرنے کا اراده تھا__سیمل نے دل ہی دل میں اپنے لئے شکر ادا کیا کہ اچھا ہے اسکا کوئی پروپوزل نہیں آیا__ورنہ اسکو مجبوراً گھر والوں کی بات ماننی پڑتی___ پر یہ شکر تھوڑی ہی دیر کاتھا__قسمت نے اسکا کوئی بڑا امتحان لینا تھا__قسمت کے آگے آخر سب ہی یارتے ہیں __کسی کی جیت ممکن نہیں ہوتی__ چاہے کوئی کتنا ہی بڑا شہنشاه ہو یا اس معاشرے کا فقیر___قسمت کے آگے سب گھٹنے ٹیکتے ہیں___

❇⭐❇⭐❇⭐❇⭐❇⭐❇⭐❇⭐❇⭐

جب سیمل نے مین گیٹ کھولا تو مد مقابل کو دیکھ کر حیرت کا ایک شدید جھٹکا لگا__ دوسری طرف بھی یہی کچھ حال تھا__لیکن وه الله کی عظمت پر تہہ دل سے رشک کر رہا تھا__حیرت کے سمندر میں موجود تیرتی کشتی کے اندر سیمل کو اپنی جان کہیں قید ہوتی ہوئی معلوم ہورہی تھی__حالت ماسیوں سے کم نہ تھی__ڈھیلی چوٹی میں گندھے بال جو مشکل سے قید تھے__آدھے بال فریب دیتے ہوئے چہرے پہ جھول رہے تھے__دوپہر کی ہلکی ہلکی دھوپ کے باعث پیشانی پی پسینہ کے چند ننھے ننھے قطرے اٹھکھلیاں کرریے تھے__حالات کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے بغیر مقابل سے ڈرے وه سلمان انکل سے مخاطب یوئی تھی__
"السلام علیکم! سلمان انکل آئیے اندر_ _ _"
"وعلیکم السلام! ہمیشی جیتی رہیے بیٹا __الله آپکے نصیب اچھے کرے___"انہوں نے سچے دل سے دعا دی___
راہداری عبور کرتے ہوئے وه دونوں مرد آگے اور سیمل انکے قدموں کی پیروی کررہی تھی__جب وه دونوں مرد تھوڑا آگے چل کر رکے تو اس نے جلدی سے آگے بڑھ کر گیٹ کھولا تھا جو راہداری کو لاؤنج سے ملاتا تھا__ لاونج میں آکر صوفوں کی طرف اشاره کرکے انکل اور اس سے مخاطب ہوئی آپ دونوں یہاں بیٹھیے میں ابو کو بلا کر لاتی ہوں __سیمل انہیں بیٹھتے ہوئے دیکھ کر جلدی سے اس غرض سے آگے بڑھی کی ابو کو بلا لوں مبادا کہیں وه اپنی خراب حالت کو سوچتے ہوئے نہ ڈوب کے مرجائے__ عجلت میں چلتے ہوئے ، میز کے کونے سے جسکا شیشہ ابھی صفائی کے دوران اٹھاتے ہوئے سیمل سے ٹوٹا تھا، سے ہی جا ٹکرائی_ درد کی ایک لہر اسکی ریڑھ کی ہڈی میں دوڑ گئ__ درد اتنا شدید تھا کہ وه وہی ڈھے گئ__ خون تیزی سے کٹنے کے باعث پاؤں کی چھوٹی انگلی سے بہہ رہا تھا __"عارش" بروقت اٹھ کر سیمل کے پاس آیا_ اور اجازت طلب کی وه اسکا پاؤں دیکھ لے__کہیں ایسا نی ہو کہ بغیر اجازت کے ہاتھ لگانے پر وه اسکے باپ کے سامنے ہی اسکو تھپڑ نہ مار دے_ اجازت ملنے پر وه پاؤں کا جائزه لینے لگ گیا__
کیا ایسا نہیں ہوسکتا کی ہم تم سے تمکو مانگیں
اور تم مسکراکے کہو کہ اپنی چیز مانگا نہیں کرتے


⭐❇⭐❇⭐❇⭐❇⭐❇⭐❇⭐❇⭐❇

"امی میں آپ سے کہہ رہی ہوں کہ ابھی میری شادی نہ کریں ابھی پڑھائی مکمل کرنے دیں پھر آپ جس سے بولیں گیں میں کرلوں گی شادی __" زینب نے آخری کوشش کی__
"بیٹا ہم تمہارا بھلا ہی چاھتے ہیں_آخر کو کل ہم مرگئے تو کون سہارا بنے گا تمہارا___تمہارا تو کوئی بھائی بھی نھیں ہے کہ میں تھوڑی بے فکر ہوجاؤں__جوان لڑکی جسکے ماں باپ نہ ہوں نا تو اسکو یہ معاشره انہیں جینے نہیں دیتا__طرح طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے اور وه طرح طرح کے کھیل کھیلتے ہیں___میری مانو تو صرف منگنی کرلو میری جان__" امی نے آخری کوشش کرتے ہوئے اپنی لاڈلی بیٹی کو لاجواب کردیا__
"ٹھیک ہے امی میں راضی ہوں_ جیسا آپ اور بابا جانی بولیں گے ویسا ہی ہوگا__" زینب نے بلآخر میدان میں ہتھیار ڈال دیے__
"جیتی ره میری بیٹی__ میں ابھی شکیلہ (رشتے والی بائی) سے بات کرتی ہوں_"
اتنا کہہ کر امی فون پہ بات کرنے چل دیں___

⭐❇⭐❇⭐❇⭐❇⭐❇⭐❇⭐❇⭐❇

"بہت گہرا کٹ لگا ہے__ ویٹ آپ اوپر بیٹھیے میں ابھی آیا__اتنا کہہ کر عارش سیمل کو کندھوں سے سہارا دیتے ہوئے اٹھانے لگا__اوپر صوفے پہ بیٹھا کر وه فوراً وه لان کی طرف بھاگا جہاں اس نے ابھی اندر آتے وقت گھیاگوار(Aleo-vera) کا پودا لگا دیکھا تھا__سیکرٹ ایجینٹ اور نیوی کی ٹریننگ کے دوران اسے یہ بات اچھی طرح سمجھائی گئی تھی کہ گھیاگوار لگانے سے فوراً خون رک جاتا ہے __
جلدی سے ایک ڈالی ہاتھ میں لۓ وه لاؤنج کی جانب آکر سیمل کے سامنے دوزانوں بیٹھ گیا اور اسکا پاؤں اٹھا کر اپنے گھٹنے پہ رکھا__
سلمان صاحب جو سیمل کے برابر میں آکے بیٹھے ہوئے اسے چپ کرانے کی کوشش کر رہے تھے مگر انکی یہ کوشش بے صدھ تھی__
جیسے ہی گھیاگوار لگایا_تھوڑی سی کھولن اسکے پاؤں میں ہوئی کیوں کہ اسکا پاؤں شیشے سے زخمی کے ہونےکے باعث جلن پیدا کررہا تھا__.عارش نے اپنا ایک ہاتھ اپنا آگے بڑھایااور اس سے مخاطب ہوکر بولا__
"آپکو زیاده درد ہورہا ہے تو آپ میرے یاتھ کو دبا لیں__" یکایک سیمل نے نفی میں سر ہلایا__
اتنی دیر میں امی لاؤنج کے کمرے سے نمودار ہوئیں__ تقریباً بھاگتے ہوئے وه سیمل کے پاس آئیں خون دیکھ کر اور وه بھی انکی بیٹی کے پاؤں سے، انکے ہاتھ پیر پھول گئے__عارش نے ان سے فرسٹ ایڈ باکس مانگا جسے وه فوراً لے کر حاضر ہوئیں__
سیمل روتے ہوئے یہ سوچ رہی تھی کہ آخر کیوں یہ شخص میری ہر تکلیف کا مرہم بن رہا ہے__ اور ہرمشکل میں میرا ساتھ دیتے ہیں__پہلے جیکٹ دے کر ، پھر رکشے والے کو ڈانٹ کر میرے دل میں اپنے لیۓ عزت کا مقام بنایا__اب یہ_ _ _ کیا میں کبھی انکے کام آسکونگیں__

خیال رکھا کرو اپنا جان تم_
میرے پاس تم جیسا اور کوئی نہیں ہے

سیمل اپنی تقدیر سے بے خبر یہ سوچ رہی تھی جبکہ سیمل کو ہی عارش کو بھرپور طریقے سے کام آنا رہا__
کبھی کبھی بن مانگے بھی خداتعالٰی اپنے بندوں کی سنتا ہے__بلاشبہ وه تو ہو ایک کے دل میں دفن خیالات سے بھی واقف ہے__وہی سبکی سنتا اور عطا کرتا ہے__
کچھ یہی حال سیمل اور عارش کے ساتھ تھا__قسمت انہیں سامنے تو لے آئی تھی__بس انہیں ایک دوسرے کا احساس دلانا تھا__افسوس صد افسوس یہ احساس بہت بری طرح دونوں کے اندر آنا تھا__
جاری ہے
 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney