اساتذہ کا عالمی دن

 دنیا میں 5 اکتوبر اساتذہ کرام کی عزت و وقار کے دن کےطور پر منایا جاتا ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں استاد کا احترام و تکریم ناپید ہوچکی ہے۔آج کےشاگردوں کی اکثریت استاد کے احترام کو بھولا بیھٹی ہے۔ اس ماحول کے زمہ دار اساتذہ والدین اور شاگرد سب ہی ہیں۔ جب قومیں اپنی روایات و اقدار کو بھلا دیتں ہیں تو یہی کچھ ہوتا ہے جو آج کل ہو رہا ہے۔ ایک وہ زمانہ تھا جب اساتذہ بھی بے مثال ہوتے تھے اور شاگرد بھی اپنے اساتذہ کا مثالی احترام کرتے تھے۔

ایک واقعہ جناب سردارمحمد چودھری اپنی کہانی" چائے والے سے آئ جی تک" (اردو دائجسٹ) اپنے ایک محترم استاد شیخ غلام قادرکا قصہ بیان کرتے ہیں۔ کہ آٹھویں جماعت تک پہنچتے پہنچتے میرے ایک ہونہار طالب علم ہونے کی شہرت کافی پھیل چکی تھی۔ ہم بہت خوش قسمت تھے کہ ہمیں بہترین محنتی اساتذہ ملے۔ اس وقت پرائیویٹ ٹیوشن کا رواج نہ تھا۔ پورے شہر میں استادوں کی بے انتہا عزت کی جاتی تھی ہر شخص انھیں اٹھ کر ملتا تھا اور جھک کر سلام کرتا تھا۔ ہر استاد کی کوشش ہوتی کے وہ بہترین شاگرد تیار کرے؛

آٹھویں جماعت میں تب ایک امتحان جس کا نام اینگلوورنکولرفائینل (Vernacular final Exam-Agnlo ) تھا جو پورے پنجاب کی سطح کا امتحان ہوتا تھا۔ جس میں بہترین نمبر پر آنےوالے طلبہ کو وظائف ملتے تھے۔


میرے محترم استاد شیخ غلام قادر مرحوم چھٹی کے بعد بھی کافی دیر تک اس امتحان کی تیاری کے لیے پڑھاتے رہتے۔ لاہور اردو بازار سے بہت اچھی اچھی کتابیں اپنے خرچ پر ہمارے لیے منگواتے اور پڑھاتے۔ اتوار ہو یا دوسری کسی چھٹی کا دن ہمیں اپنے گھر پر پڑھاتے۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں بھی یہ سلسلہ جاری رھا۔ اور استاد اس کا کوئی معاوضہ نہیں لیتے تھے۔ اور نہ ھم معاوضہ دینے کی حیثت رکھتے تھے۔ بلکہ زیادہ وقت گزر جائے تو اپنے گھر سے ہمیں کھانا بھی کھلا دیتے۔ وہ کبھی کسی صورت چھٹی نہیں کرتے تھے۔ جنون کی حد تک محنتی انسان تھے۔ انھیں صرف ایک ہی شوق تھا کہ ان کے شاگرد بہترین طالب علم بن جائیں اور یہی ان کا فخر تھا۔ ہم چاہتے تھے کہ کبھی تو چھٹی ہو۔ جیسے کے بچوں کی فطری عادت ہوتی ہے۔ مگرچھٹی کہاں وہ لمحہ بھر کے لیے بھی فارغ نہ چھوڑتے تھے۔

ایک دن ہم ان کے گھر پڑھنے صبح ہی صبح پہنچے۔ تو معلوم ہوا کہ ماسٹر صاحب گھر پر موجود نہیں ہیں۔ رات اب کی بیٹی کا انتقال ہوگیا ہے جو تپ دق کی مریضہ تھیں وہ انھیں دفنانے گئے تھے۔ قبرستان گھر کے ساتھ ہی تھا۔ ھم نے سوچا ہم بھی قبرستان چلتے ہیں لیکن دیکھا ماسٹر صاحب کچھ لوگوں کے ساتھ واپس آ رہے ہیں۔ ہم دبک کر بیٹھ گئے اورمنہ رونا سا بنا لیا۔ ہم نے سوچا؛ آج ضرور چھٹی مل جائے گی۔ مگر چھٹی نہ ملنا تھی اور نہ ملی۔ ماسٹر صاحب آتے ہی پڑھانے بیٹھ گئے۔ ہمیں افسوس بھی نہ کرنے دیا۔ لوگ افسوس کے لیے آتے؛ ہاتھ اٹھاتے دعا ہوتی اور لوگوں کے رخصت ہوتے ہی دوبار حسب دستور پڑھائ شروع ہو جاتی۔ ان کے ایک رشتےدار شیخ انوارالحق افسوس کے لیے آئے تو دیکھا کہ ماسٹر جی خوب انہماک کے ساتھ ہمیں پڑھا رہے ہیں۔ وہ حیران ہوئے کہنے لگے۔
غلام قادر آج تو چھٹی کر لیتے! 
ماسٹر جی بولے۔۔ کیوں ؟
تمھاری بیٹی فوت ہوئ ہے۔

اسی کے لیے تو میں انھیں پڑھا رہا ہوں۔ اس پڑھانے کا جوثواب ہوگا سب اس کو بخش دوں گا۔ یہ کہہ کر وہ رو پڑے اور ہم سب بھی رونے لگے۔۔
 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney