"وفا ہے حُسن محبت کی"

قسط 1


وہ اپنا بیگ پیک کر رھی تھی…دو دن بعد ان دونوں کی کراچی کی فلاءیٹ تھی پورے ایک سال بعد وہ کراچی کا سفر کرے گی کیونکہ کچھ ھی دن بعد اس کی بہن کی شادی تھی بس ایک ھی تو بہن تھی اسکی جسکی محبت شادی میں بدلنے والی تھی„„„„„„„„„„„„لیکن؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

**********★★★***********
**********★★★***********

"آپی۔۔.۔۔آپی"۔۔۔۔۔۔۔۔ ایمان کچن میں بریانی بس دم پہ رکھ ھی رہی تھی کہ حیا کچن میں کالج کے یونیفارم اور جوتوں سمیت داخل ہو گئ.
"ارے ارے یہ کیا کر رہی ہو" ایمان چونکی
حیا نے تقریباّّ ڈھکن ہی کھول دیا
"اْف آپی پلیز بہت بھوک لگی ہے اور بریانی دیکھ کہ تو میں ایک منٹ نہیں رک سکتی"
"ارے بے صبر لڑکی آرام سے دسترخوان لگ جاے تب کھانا"
نماز کے بعد کمرے سے نکلتے ہوے امی نے بھی مداخلت کی
"اوکے ماے سویٹ موم بٹ پلیز فاسٹ" حیا نے کہا
"ہاں فریش ہو کر آؤ تب تک میں لگاتی ہوں کھانا" ایمان مسکراتے ہوے کہہ کر کھانا لگانے لگی.

**********★★★***********

ایمان اور حیا دو ھی بہنیں تھیں کم عمری میں ھی باپ کا سایا سر سے اٹھ گیا تھا خاندان والوں نے بھی مشکل وقت میں ساتھ چھوڑ دیا تھا تھوڑی بہت پینشن سے گزر بسر چل رہا تھا.
حیا کا کالج میں لاسٹ ائر تھا اگزامز کے بعد یونیورسٹی جانے کا اراداہ تھا. حیا کو پڑھنے کا بہت شوق تھا وہ سوچ رہی تھی کہ کوئی جاب کر کہ پڑھائی کا خرچہ خود افورڈ کر لےگی. جبکہ ایمان نے بس بی-اے پڑھ کہ پڑھائی کو خیر آباد کہہ دیا تھا وہ بڑی تھی اسلیے گھر کی ذمیداری باخوبی سمبھال لی تھی.

**********★★★***********

اگزامز کی ڈیٹ سر پہ تھی اور وہ کمرے میں بند ہو کر رہ گئ تھی نہ کھانے کی فکر نہ اپنے آپ کو دیکھنے کی ابھی بھی ایمان ھی کھانا اور دودھ لے کر آئی تھی.
"حیا کھانا کھا لو اور یہ سارا دودھ ختم کر کہ جلدی سے سوجاؤ اب رات بہت ہو گئی ہے"
حیا نے فکرمندی سے گھڑی کی طرف دیکھا جو اس وقت سوا تین بجا رھی تھی
"جی آپی بس تھوڑا سا اور یاد کر لوں" حیا نے کہا
"نہیں کوئی ضرورت نہیں اب" ایمان نے أس کے آگے سے سب کتابیں سمیٹ کر کھانا سامنے رکھ دیا نہ چاھتے ہوے بھی وہ کھانا کھانے لگی کھانے کے دوران دونوں باتیں کرتی رہیں.

**********★★★***********

آج اتوار کا دن تھا کل ہی اس کے پیپر ختم ہوے تھے جسکی وجہ سے وہ آرام سے دوپہر ایک بجے اٹھی فریش ہو کر کچن میں گئ.
"ناشتہ بنا دوں"؟ آپی نے دیکھتے ھی مسکرا کر پوچھا
"جی پلیز" 
سستی ابھی بھی تھی نیند پوری نہیں ہوئ تھی شاید ابھی بھی. اس نے بے خیالی کی دی کیفیت میں ناشتا کیا.

**********★★★***********

"آپی آپی مما کہاں ہیں آپ دونوں"
وہ تقریبأ چیختی ہوئی لان میں داخل ہوئی جہاں مما اور آپی شام کی چاے پینے میں مگن تھیں.
حیا کی آواز پہ دونوں مگ رکھ کر بھاگیں اور حیا سے ٹکرا گئیں.
"ارے کیا ھوا حیا....." عابیدہ بیگم نے جلدی سے جھنجھوڑا
"ارے مما آپی میرا رزلٹ اناؤنس ہو گیا ہے" 
"کیا"؟؟؟؟؟؟ ایمان کی تو خوشی میں چیخ نکل گئ. 
"اف توبہ یے میرا تو دم نکل گیا حد یے سیدھے نہیں بتا سکتی تھیں." عابیدہ بیگم ڈانٹنے لگیں
"ارے مما A-1 گریڈ لائی یے آپ کی بیٹی." ایمان نے حیا کی ترفداری کی.
"اچھا؟؟؟ پھر تو مبارک ہو بھئ..."
امی نے خوش ہو کر حیا کو گلے لگا لیا.

**********★★★***********

اسنے رزلٹ کے بعد ہی یونیورسٹی میں ایڈمیشن لے لیا تھا.
آج اسکا یونی میں پہلا دن تھا. کلاس تو پتا بھی نہیں تھی اسے کہاں ہے.
"اف کس سے پوچھوں آخر۔۔۔۔" حیا جھنجلاہٹ کا شکار ہوگئ
لیکن کچھ ہی دیر بعد جھنجلاہٹ ختم ہو گئ.
"ایکسکیوزمی مسٹر"
اسد شاہ کو اپنے پیچھے کسی لڑکی کی آواز سنائی دی جو اپنے دوستوں کے ساتھ باتوں میں مگن تھا.
اسد شاہ نے کچھ حیرت سے اس لڑکی کو دیکھا وہ بظاہر بولڈ شو کر رہی تھی لیکن اصل میں وہ اسد شاہ کو تھوڑی کنفیوز تھوڑی ڈری ہوئی لگی.
"کیا آپ بتا سکتے ھیں اکاؤنٹس ڈپارٹ کہاں ہے"؟؟؟ 
"یس شیور"
اسد شاہ کے کہنے سے پہلے ہی اسکا دوست حمزہ بول اٹھا.
"یہاں سے سیدھے جائیں گی لیفٹ جا کے رائٹ پہ ہی ہے آپکا ڈپارٹ"
اسد شاہ نے اسے روکنا چاھا حمزہ کو آنکھیں دکھائیں لیکن وہ اب جا چکی تھی اسد شاہ کو پتا تھا حمزہ نے غلط کہا ہے ۔۔ایسا نہیں کہ اسد شاہ یہ سب نہیں کرتا لیکن ایسی حرکتیں وہ نئے آنے والے لڑکوں کے ساتھ کرتے تھے.

**********★★★***********

"مے آئی کم ان سر"؟
"یس کم ان"
"سر از اٹ میتھ کیمپس"؟؟
وہ بنا ادھر ادھر دیکھے بول گئ
"ھاھاھاھاھاھاھاھا"
اچانک پوری کلاس جو اس کی بات سننے کےلئے خاموش ہو گئی تھی اس پر ہنسنے لگی.
غور تو تب کیا جب دیواروں پہ جگہ جگہ مختلف جانوروں کی تصویریوں پہ نظر پڑی جہاں مینڈک پہ پرکٹکل ہو رہا تھا
"ارے واہ میڈیکل اور میتھ کلاس کا نہیں پتا اور یہ پڑھنے چلی". ان میں سے کسی اک طلبہ نے آواز لگائی 
"ہاں بھئی کلاس کے باہر بورڈ بھی لگا ہے اور تصویریں بھی"
ایک اور لڑکی نے اس کا ساتھ دیا
"اف۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے نیم بورڈ تو دیکھا ہی نہیں"
شرمندگی کے مارے حیا کا برا حال تھا. 
"سائلنس۔"۔۔۔۔۔سر نے طلبہ کو خاموش کروایا.
اور وہ بنا کچھ بولے وہاں سے بھاگ نکلی.

**********★★★***********

اسد شاہ جو اس کے پیچھے بھاگتا ھوا آیا تھا تا کہ حمزہ نے جو غلط راستہ بتایا اسے صحیح کلاس بتا دے لیکن اس نے سامنے سے حیا کو آتا ہوا دیکھنے لگا جو کلاس سے باہر آچکی تھی.
حیا جو پہلے ہی غصے میں تھی اسے دیکھ کر اور طیش میں آ گئی.
"شیم آن یو" حیا نے ھاتھ کی انگلی سے اشارہ کر تے ہوئے وارن کیا.
غصے سے چہرہ بلکل لال تھا ابنی بے عزتی برداشت نہیں کر سکتی تھی وہ ضدی قسم کی لڑکی تھی. غصہ تو اتنا تھا اسے کہ ایک تھپڑ رسید کر دے لیکن اسد شاہ کے دوستوں کو آتا دیکھ کر کنٹرول کر گئ.
"شرم نہیں آتی لڑکیوں کو پاگل بناتے ہوے اسی لیے تو تم جیسے لڑکے کلاس لینے کے بجاے یہاں آواراہ گردی کرتے ہو کہ کوئ لڑکی آئے تو ہم بیوقوف بنائیں"
وہ تقریبآَ رو دینے کو تھی غصے اور تیز تیز بولنے کی وجہ سے آواز بھی کپکپا رہی تھی 
آس پاس کے سبھی لوگ ان کی طرف متوجہ ہو گئے لیکن ان سب کیلیئے یہ سب نیا نہیں تھا 
"دیکھیں میری بات سنیں"!
"آئی ایم۔۔۔۔۔۔۔۔" وہ کچھ کہنے ہی والا تھا کہ بیچ میں حیا بول اٹھی.
"اوہ جسٹ شٹ اپ نہیں سننی مجھے آپ کی کوئی بکواس"۔۔۔۔۔
اسد شاہ کو شرمندہ چھوڑ کر وہ وہاں سے نکل گئ.

**********★★★***********

احمد شاہ کا تعلق ایک بہت اچھے گھرانے سے تھا ان لوگوں کا شمار شہر کے امیر ترین بزنس مین میں سے ایک تھا ۔۔۔احمد شاہ کی بیوی مہتاب شاہ بہت ملنسار خاتون تھیں ان کے تین بچے تھے.
حیدر شاہ ان کا بڑا بیٹا جو ان کا بزنس سنبھال رہا تھا اور بابا کو گھر بٹھا دیا کہ اب آپ نے کوئی کام نہیں کرنا آفس ہم سنبھال لیں گے۔۔ دوسرا بیٹا اسد شاہ جو یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہا تھا اور یہ اسکا لاسٹ ائر تھا۔۔۔۔ اور آخر میں سب سے چھوٹی بیٹی کرن شاہ جو ابھی کالج میں فرسٹ ائر میں پڑھ رہی تھی.

**********★★★***********

"اف آپی ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں دنیا میں مجھے آج پتا چلا
دل تو چاہا اک تھپڑ لگا دوں لیکن چلو جتنی میں نے اس لڑکے کو سنائی وہ بھی تھپڑ سے کم نہیں تھی" حیا نے گھر آکر ساری بات ایمان کو بتا دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا کی نظر میں اسد شاہ اک آواراہ لڑکا تھا جو صرف دوسروں کو تنگ کرنا جانتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایمان شروع سے ڈر پوک تھی وہ حیا کی طرح مقابلہ نہیں کر سکتی تھی وہ یہی سوچ رہی تھی کہ شکر ہے وہ یونی نہیں گئی کبھی ورنہ کیسے کیسے لوگوں کا سامنا کرنا پڑھتا.

**********★★★***********

آج اسد شاہ کو بھائی کا خیال آہی گیا اور آفس جا پہنچا.
"ارے اسد شکر ہے تم آ گئے میں بس تمہیں ہی یاد کر رہا تھا"
اسد شاہ کو دیکھتے ہی حیدر چیئر سے اُٹھ کر ٹیبل سے لیپ ٹاپ اور کچھ چیزیں سمیٹنے لگا.
"میری ذرا میٹنگ روم میں کچھ لوگوں سے میٹنگ یے تم یہاں دیکھ لینا".
"اوکے بگ بی" اسد نے جوش سے بولا
اسد نے بھی بھائی کے اٹھتے ہی چیئر سنمبھال لی.
اسد کو جب بھی وقت ملتا وہ اپنے بھائی کی مدد کرنے یونہی چلا آتا تھا.
آج بھی وہ کچھ فائلز کو چیک کرنے میں مصروف تھا کہ فون کال کی آواز پہ وہ چونکا.
"سر کوئی انٹر ویو کے لئیے آیا ہے" فون کان سے لگاتے ہی آپریٹر کی آواز آئی.
"اوکے روم میں بھیج دو".
وہ کبھی کبھی ایسے ہی انٹر ویو لے لیتا تھا اور بھائی کو پروگریس بتا دیتا تھا اور وہ سیلیکٹ کر لیتے.
"ٹک ٹک ٹک" دروازہ ناک ہوا
"یس کم اِن"
اس نے کہتے ہی سر اٹھایا۔۔۔کوئی اندر داخل ہوا اور دیکھتے ہی وہ حیرت سے اپنی چیئر سے آُٹھ گیا.
وہ بھی جہاں کھڑی تھی کھڑی رہ گئی اندر آنے کی اب ہمت نہیں رہی تھی اس میں.
**********★★★***********

جاری ہے


 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney