"وفا ہے حُسن محبت کی"

قسط 2


کوئی اندر داخل ہوا اور دیکھتے یی وہ حیرت سے اپنی چیئر سے آُٹھ گیا
وہ بھی جہاں کھڑی تھی کھڑی رہ گئی اندر آنے کی اب ہمت نہیں تھی اس میں.
"آئیے مس" اسد شاہ نے استہزائیہ انداز میں حیا کو اندر آنے کی دعوت دی.
حیا کو ایسا لگا وہ پلِ صراط پہ کھڑی ہے کرے تو کیا کرے اتنے انتظار کے بعد سے تو اسے اس انٹرویو کیلیئے کال آئی تھی.
اخبار میں جب اس نے یہ جاب دیکھی اتنی اچھی سیلیری پہ اسے یہ جاب مل جائے گی اس نے تصور بھی نہیں کیا تھا اور جب اس نے اپنے سب ڈاکومینٹس ای-میل کیے تو کچھ ہی دن بعد اسکے دیے ہوئے نمبر پہ کال آگئی.
نیا نمر دیکھ کر ڈسکنیکٹ کرنا چاھتی تھی لیکن یہ خیال آتے ہی کہ یہی نمبر میل کیا تھا اس نے اٹھا لیا.
"اسلام و علیکم" حیا نے سلام کیا 
"وعلیکم اسلام"
حیدر نے جواب دینے کے ساتھ بات آگے بڑھائی 
"حیدر شاہ اسپیکنگ فرام شاہ انڈسٹریل کمپنی
آپ نے ہمیں جاب کیلئیے میل کی تھی آپ کل شام 5:00 بجے انٹرویو کیئے ہمارے آفس آ جائیں"
حیا سے تو کچھ بولا ہی نہیں گیا خوشی کے مارے زبان ہی بند ہو گئی ہو جیسے اسکے ہوش اڑ گئے
"اوکے" وہ بس اتنا ہی کہہ سکی
وہاں سے کال بند ہو گئی اور وہ اب تک بے یقینی کے عالم میں بیٹھی تھی
ہوش میں تو تب آئی جب آپی کمرے میں آئیں اور اسکا کھلا ہوا منہ دیکھا
"ارے کیا ہوا حیا کسکا فون تھا"
ایمان کی آواز پہ وہ چونکی اور زور سے چیخ مار کہ گلے سے لگ گئی 
"اوہ آپی آپی آپی آپی آپ کو نہیں پتہ آج میں کتنی خوش ھوں"
"ارے اب بتاؤ بھی ہوا کیا ہے" ایمان کو تشویش ہوئی
وہ بہت بے چین تھی اپنی پیاری سی بہن کی خوشی سننے کیلیئے
"آپی میں ایسے ہی جاب کی سائیڈ کھول کر بیٹھی تھی کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حیا نے اسے ساری بات بتا دی
"اف تم خوش تو ایسے ہو رہی ہو جیسے جاب پکی ہی ہو گئی" ایمان نے اسے ڈانٹا
"اف آپی پکی بھی ہو جائیگی آپ کی بہن کسی سے کم ہے کیا" حیا نے کالر جھاڑتے ہوئے لڑکوں والے انداز میں اِٹھلا کر کہا اور دونوں ہی ہنس دیں 
"چلو اچھی بات ہے میری دعا یے تم کامیاب ہو جاؤ جو تم چاہو وہ تمہیں مل جائے"
"آمین"۔۔۔۔۔۔دونوں کے منہ سے ایک ساتھ لفظ آمین نکلا.

**********★★★***********

حیا وہاں اب تک شاکڈ کھڑی تھی. 
اس کو ایسا لگا جیسے وہ اس پہ ہنس رہا ہے
وہ اب تک دروازے کو پکڑ کر گم سم کھڑی تھی کہ اچانک
حیدر کی آواز اسکے کان میں پڑی وہ کسی سے فون پہ بات کرتا ہوا روم میں آ رہا تھا کہ دروازے پہ کھڑی حیا کو دیکھ کر رکنا پڑا.
حیا وائٹ کلر کا چوڑی دار پاجامہ بلیو کلر کی گھٹنوں تک قمیض اور نفاست سے وائٹ کلر کا سر پہ دوپٹہ ھاتھ میں فائل لیے کھڑی تھی۔۔۔۔کپڑوں کے سفید رنگ کی طرح اس کا چہرہ بھی اتنا ہی چمک رہا تھا۔۔۔اجلا اجلا بلکل فریش۔۔۔۔ تھوڑی سی کنفیوز وہ نازک سی لڑکی حیدر کو پہلی نظر میں ہی اچھی لگی
حیا دروازے میں اب تک کھڑی تھی 
"ایکسکیوز می"
حیدر نے ھاتھ کے اشارے سے کھانستے ہوئے اسے سائیڈ پہ ہونے کا کہا.
"اوہ سوری"
حیا اسکا مطلب سمجھ کر سائیڈ پہ ہو گئی تو حیدر کو بھی جانے کا موقع مل گیا 
"یس؟؟؟
حیدر نے سوالیہ نگاہوں سے حیا کو دیکھا
"آئی ایم حیا۔۔۔۔۔۔۔ سر آپ نے انٹرویو کیلئیے بلایا تھا"
حیا نے اپنا تعارف کروایا
"اوہ آئی سی"
حیدر اب تک اپنی پوزیشن سنبھال چکا تھا جو حیا کو دیکھ کر ہوئی تھی.
"Have a sit...."
حیدر نے اپنی چیئر سنبھالتے ہوئے حیا کو بیٹھنے کی کا کہا.
"تھینکس"
اسد شاہ سوالیہ نظروں سے حیا کو دیکھتا وہاں سے باہر آ گیا.
**********★★★***********

"ہاں بھئی کیسا رہا انٹرویو"؟؟
رات کے کھانے سے فارغ ہونے کے بعد امی نے حیا سے پوچھا
"جی ٹھیک رہا کہہ رہے ہیں کال کر لیں گے"
حیا نے سنجیدگی سے جواب دیا 
اس کے اسطرح جواب دینے پہ دونوں ہی نے چونک کر اسے دیکھا جو گود میں ھاتھ رکھے کچھ سوچ رہی تھی
"حیا۔۔۔۔" ایمان نے اسے آواز دی
"ہاں۔۔۔ حیا نے چونک کر سر اٹھایا
"کیا ہوا تمہیں"؟؟۔۔۔۔۔ ایمان نے اس سے پوچھا
"کچھ نہیں ۔۔۔۔۔۔ حیا نے اسی پوزیشن میں کہا
اور اٹھ کر کمرے میں چلی گئی.
اسے جاتا دیکھ کر وہ حیران ہوئی ایمان کام سے فارغ ہو کر کمرے میں چلی آئی
"حیا کیا ہوا تمہیں آج ۔۔۔۔آج تو تمہیں خوش ہونا چاہئیے جاتے ہوئے تم کتنی خوش تھی"
ایمان نے بستر پہ لیٹتے ہوئے حیا سے پوچھا 
"آپی آج آفس میں وہی تھا"
حیا چھت کو گھورتے ہوئے کہنے لگی 
"ہائیں کون؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔ ایمان نے حیرت سے اسے دیکھا
"وہی جو یونی میں تھا" وہ اب بھی ایسے یی لیٹی تھی
"ارے بھئی تم کس کی بات کر رہی ہو"
ایمان اس کی ان سب پہلیوں سے جھنجھلا گئی
"او ہو جسے میں نے سنا دی تھی جب اس نے مجھے غلط کلاس بنا دی تھی" اب اس نے تفصیل بتانا شروع کی
"وہ کمپنی اسی کی ہے"
"اوہ اچھا اچھا پھر"
"پھر یہ کہ پتا نہئیں اب یہ جاب مجھےملے گی بھی کہ نہیں"
حیا کو جاب نہ ملنے کا افسوس تھا
"نہیں نہیں تم فکر مت کرو اگر نصیب میں ہوئی تو زرور ملے گی" ایمان نے اسے تسلی دی
"لیکن میں تمہیں جبھی کہتی ہوں ذیادہ جذباتی نہیں ہوا کرو"
"ھممم"۔۔۔۔۔ماہم بس سرد آہ بھر کہ کروٹ سے لیٹ گئی

**********★★★***********

حیا کی جاب کنفرم ہوگئی تھی. اسنے شکر ادا کیا کہ اب وہ اپنی یونی اور گھر کے اخراجات آسانی سے اٹھا لے گی. اس نے اپنی زندگی بے حد مصروف کر لی.
صبح یونی جاتی 2:00 بجے گھر آ کر کھانا وغیرہ کھا کر فریش ہو کر 4:00 شام آفس جاتی رات 8 بجے گھر واپسی ہوتی آفس زیادہ دور نہیں تھا بس میں 15 منٹ کے سفر سے چلی جاتی
اسد شاہ کا خیال تو آیا تھا اسے مگر اس سے سامنا نہیں ہوتا تھا اسکا ورنہ جو پہلے دن یونی میں ہوا تھا وہ معذرت کر لیتی مگر وہ آفس بھی نہیں آتا تھا اسلیے اسے تھوڑا حوصلہ رہا اسکا سامنا کرنے سے وہ کتراتی تھی. 

**********★★★*********

گزرتے وقت کے ساتھ عابیدہ بیگم کو ایمان کے رشتے کی فکر ہونے لگی تھی چوبیس کی ہوگئی تھی وہ لیکن اب تک کہیں بات نہیں بنی. 
اسی سلسلے میں اک رشتے والی کو کہا ہوا تھا.
خدا خدا کر کے وہ کسی اچھے رشتے کی مناسبت سے مہمانوں کو لے کے آ رہی تھی.
آج انکے آنے کی وجہ سے حیا نے بھی آفس کی چھٹی کر لی تھی.
شام 5 بجے مہمانوں کی آمد ہوئی
حیا اور عابیدہ بیگم نے انھیں اک چھوٹے لیکن صاف ستھرے کمرے میں صوفوں پہ ادب سے بٹھایا.
جہاں ھر چیز ایمان کے سلیقے کا ثبوت دے رہی تھی
"ہائے آپ کتنی پیاری لگ رہی ہیں" 
حیا کمرے میں ایمان کو لینے آئی اور اسے دیکھتے ہی دادی اماں کی طرح بلائیں لینے لگی ۔۔۔۔ ایمان اسکی اس حرکت پہ ہنس دی
"او جی کیا کہہ ان کو بلاؤ گی جیجا بن کے جو آئیں گے"؟؟؟؟؟
حیا نے اسکا دوپٹہ سیٹ کرتے ہوئے اسے چھیڑا 
"اف حیا تم بھی نہ"
ایمان نے چھینب کر اسے گھورا
"ارے آپ شرما رہی ہیں"
حیا نے آنکھیں پھیلا کر کہا
"اب چلیں؟۔۔۔۔۔ ایمان ہہ بات بول کر خود ہی پچھتائی
"کیا کہا آپ نے؟؟؟ آپ اور جلدی چلنے کی بات اوہ یعنی یہ اوپری دکھاوا اور اندر دل میں لڈو افففف"
"حیا پلیز" ایمان کے روکنے سے اسے چھیڑنا بند کیا اور دونوں چلتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئیں
کمرے میں لڑکے کی امی اور بہن اسکی راہ دیکھ رہی تھیں 
"آؤ بیٹا یہاں بیٹھو"
عابیدہ بیگم نے اپنی جگہ سے اٹھ کر ایمان کو لڑکے کی امی کے پاس بٹایا۔۔۔۔جبکہ بہن سامنے صوفے پہ بیٹھی تھی حیا بھی اس کے برابر میں بیٹھ گئی اور سب کا جائزہ لینے لگی حیا کو انکی فیملی اچھی لگ رہی تھی 
دھیرے دھیرے بات کرنے کا لہجہ سلجھے ہوئے لوگ
وہ بھی لڑکی سے باتوں میں لگی رہی ۔۔۔۔۔۔ ایمان
سر جھکا کر آنکھیں نیچے کئے بیٹھی تھی
"ماشااللہ بھئی ھمیں تو آپ کی بیٹی بہت پسند آئی اب آپ لوگ بات آگے بڑھا لیں"
حیا یہ سنتے ھی جلدی سے کچن میں گئی جہاں ایمان
نے چائے کی ٹرے پہلے ہی تیار کر دی تھی اسے بس اب چائے نکانی تھی

**********★★★***********
اس سے اگلے دن وہ آفس میں کمپیوٹر پہ نگاہیں جمائے اپنا کام کر رہی تھی کہ اسکی ایسسٹنس ھاتھ میں فائل لیے کمرے میں داخل ہوئی 
"میم یہ سر اسد شاہ نے دی ہے اسکا ڈیٹا کمپیوٹر میں سیو کر لیں"
اسد شاہ کا نام سنتے ہی وہ چونک گئی کیونکہ اس کا ذیادہ تر واسطہ حیدر شاہ سے ہی پڑتا تھا آج اسد کہاں سے آ گیا اسد شاہ سے بس یونی میں سامنا ھوتا ہے
"اوکے" اس نے جواب دے کر فائل لے لی.
فائل کو کھولتے ہی سب سے پہلے اسکی نظر خوبصورت سے سفید رنگ کے کاغذ پہ پڑی خوبصورت سے اس کاغذ کے وہ لفظ پڑھ کے وہ حیران رہ گئی.
"آئی ایم رئیلی ویری سوری"
بہت خوبصورت یہ الفاظ اسے حیران کر گئے.
نیچے کچھ اور بھی لکھا تھا.
"اس دن میرے دوست حمزہ نے آپ کے ساتھ جو کچھ کیا اس کے لئے میں آپ سے معافی مانگتا ہوں میں نے حمزہ کو بہت برا بھلا کہا اور آپ کے پیچھے آیا تھا لیکن تب تک دیر ہو چکی تھی"
وہ اب تک حیرانی میں تھی کہ اس نے اسد شاہ کے بارے میں کیا سوچا تھا اور وہ کیا نکلا ۔۔وہ چاہتا تو اپنی بے عزتی کو انا کا مسئلہ بنا کر اسے جاب سے نکلوا دیتا لیکن اتنے خوبصورت انداز میں کبھی کسی نے سوری نہیں کیا تھا وہ بھی اپنی غلطی نہ ہونے پہ اسے اس دن یونی والا واقعہ یاد آگیا ۔۔۔۔۔واقعی اسکی غلطی نہیں تھی وہ تو یونہی اپنی بےعزتی پہ جذباتی ہو گئی تھی
یہ سب سوچ کر اک لمحے کے لیے مسکرا دی .

**********★★★***********

آج ان لوگوں کو لڑکے والوں کے جانا تھا۔۔۔رشتے والی خالہ بھی آگئی تھیں
"ارے بھئی جلدی چلو وہ لوگ انتظار کر رہے ہونگے"
"ہاں خالہ بس چلتے ہیں"
عابیدہ بیگم اور حیا دونوں خالہ کے ہمراہ ایمان کو گھر میں چھوڑ کر جا رہے تھے.
بیس منٹ رکشے میں سفر کے بعد وہ لوگ ان کے گھر کے سامنے تھے
باہر سے گھر کا نقشہ کافی اچھا تھا بہت بڑا کالا رنگ کا گیٹ اور اسکے دونوں اطراف ہریالی تھی باہر سے یہ گھر بنگلہ نما لگ رہا تھا
"ارے آئیے آئیے" ۔۔۔۔۔اندر داخل ہوتے ہی پہلا سامنا لڑکے کی امی سے ہوا
سلام دعا کے بعد انہیں ایک ہال نما گیسٹ روم میں بٹھایا گیا
کمرے میں لڑکے کی امی مسز جنید شاہ بہن حنا اور لڑکے کی کزن کرن تھیں جو کہ دونوں ہم عمر تھین
کمرہ بہت خوبصورتی سے سجا ہوا تھا اک اک چیز دیکھنے میں ہی بہت قیمتی لگ رہی تھی حیا تو ان کے گھر سے بہت متاثر ہوئی 
اسلام وعلیکم
کمرے میں مردانہ آواز گونجی 
"وعلیکم اسلام"۔۔۔۔سب نے انھیں دیکھ کر جواب دیا
"آؤ بیٹا بیٹھو"
"یہ ہیں مرتضیٰ ہمارے بیٹے" 
"واؤ۔۔۔۔حیا کے منہ سے دیکھتے ہی ہلکی سی آواز میں کہا ۔۔۔۔اف کتنا پیارے لگیں گے آپی کے ساتھ بیسٹ کپل۔۔۔حیا دل ہی دل میں ایمان اور مرتضیٰ کو ایک ساتھ تصور کرنے لگی 
"ماشاءاللہ ۔۔۔بیٹھو بیٹا"
"کیا کرتے ہو بیٹا"؟؟
"جی ہماری کلاتھ فیکٹری یے اپنی ہم تینوں بھائی اسکو ہی سنبھالتے ہیں"
بڑے مہذب انداز میں عابیدہ بیگم کو جواب ملا
"ماشاءاللہ بھئی اچھی بات ہے سب مل کر محنت کرو"
ادھر ادھر کی باتوں کے بعد ہم لوگ لوگ جانے کیلیے اٹھ گئے
"مجھے تو یہ رشتہ سمجھ میں آیا ہے بھئی ۔۔۔خالہ آپ ان سے آگے کی بات کر لینا
رکشے میں بیٹھ کر امی نے خالہ سے کہا
"ہاں امی کتنے اچھے تھے نہ مرتضیٰ بھائی اور انکی فیملی"
حیا نے بھی ھاں میں ھاں ملائی
"لیکن حیا میں سوچ رہی ہم اپنے سے اونچے لوگوں میں کر رہے کہیں مہنگا نہ پڑ جائے" عابیدہ بیگم کو تشویش ہوئی
"نہیں امی آپ کا وہم ہے کتنی ڈیسینٹ فیملی تھی ایسا کچھ نہیں ہوگا اگر ایسا ہوتا تو وہ ہمارے غریب خانے سے لڑکی پسند کر کہ کیوں جاتے"؟:
"ھمممم یہ تو ہے" عابیدہ بیگم سوچ میں پرھ گئیں.

**********★★★***********
وہ اپنی ہی دھن میں چلتی جا رہی تھی کہ سامنے سے کسی سے اتنی زور سے ٹکرائی کہ لائبریری سے کچھ کتابیں جو اس نے اشو کروائی تھیں وہ سب اس کے ھاتھ سے چھوٹ گئیں۔۔۔
"ارے دیکھ کر نہیں چل سکتے کیا۔۔۔۔۔۔۔ آنکھیں ن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسد شاہ جو اس کی سب کتابیں زمین سے جمع کر کہ سر اٹھایا ہی تھا کہ۔۔۔۔۔حیا کی آواز کانوں میں پڑی۔۔۔۔۔۔۔
"آئی ایم سوری اگین"
اسد شاہ نےکتابیں اس کے ھاتھ میں تھمائیں اور کہتے ہی نکل گیا۔۔۔۔۔۔
حیا اب تک وہیں کھڑی یہ سوچ رہی تھی کہ آج پھر وہ بے قصور تھا اور سوری کہہ گیا ۔۔۔۔غلطی تو اس کی تھی ۔۔۔۔۔۔سوچیں تو اس کی کہیں اور تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کلاس میں بھی سارا وقت وہ اسے ہی سوچتی رہی ۔۔۔۔۔۔۔

**********★★★***********

آج حیا آفس نہیں آئی تھی اور حیدر کتنی دیر سے اس کی راہ دیکھ رہا تھا
"روفی۔۔۔۔مس حیا آئیں کیا"؟
روفی جو اسکا ہیلپر تھا حیدر نے بے چینی سے پوچھا
"نو سر"۔۔۔۔روفی جو کچھ فائلز لینے آیا تھا جواب دے کر باہر نکل گیا۔۔۔۔
حیدر کو حیرت تھی۔۔۔ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ اس نے آج تک بلا وجہ چھٹی کی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن کیوں ؟؟؟
وہ اپنے کزن کا اتنا اہم فنکشن جھوڑ کر اسکے لئے آفس آیا اور وہ آفس نہیں آئی۔۔۔۔۔۔
"اف میں یہ سب کچھ کیوں سوچ رہا ہوں اس کے نہ آنے سے میرا آفس بند تو نہیں ہوجائے گا آئے نہ آئے مجھے کیا"
حیدر نے غصے میں زور سے لیپ ٹاپ بند کیا اور ایزی چیئر سے ٹیک لگا لی۔۔۔۔
"کم از کم ایک فون کال تو وہ کر ہی سکتی تھی آفس کا نمبر بھی ہے اس کے پاس وجہ بھی نہیں بتائی نہ آنے کی"۔۔۔۔۔۔۔۔
حیدر چیئر پہ سر رکھے تشویش میں تھا کہ کہیں کچھ۔۔۔۔۔۔
ٹیبل پہ ھاتھ رکھ کر دونوں ھاتھوں کی انگلیاں سر میں دبالیں
"لیکن میں اس کے بارے میں اتنا کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
وہ اب تک حیرت میں تھا۔۔۔۔۔حیدر وہ لڑکا جس نے آفس میں اتنی لڑکیاں ہوتے ہوئے کسی کو آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا لڑکیوں کو اپنے روم سے بھی دور رکھا وہ حیدر آج اک لڑکی کے نہ آنے سے اتنا پریشان کیوں ہے ۔۔۔۔
"کیوں۔۔۔۔کیوں۔۔۔۔کیوں"؟
بیل بجا کر اس نے چائے کا آرڈر دیا۔۔۔۔۔۔۔سر میں شدید درد اٹھ رھا تھا اور اسے سکون چاہیے تھا۔۔۔۔

**********★★★***********

آج ایمان کی رسم تھی اسلیئے حیا نے بھی آفس کی چھٹی کر لی تھی ۔۔۔۔۔لڑکے والوں نے ضد کر کے کمبائن منگنی ھال میں کرنے کا کہا تھا عابیدہ بیگم کے منع کرنے کے باوجود مسز جنید نے انھیں منا لیا
"ارے بھئ ھمارے پہلے بیٹے کی منگنی ہے ھم تو دھوم دھام سے ہی کریں گے"
مسز جنید نے رسم کی بات چیت کرتے ہوئے عابیدہ بیگم کے گھر بیٹھ کر کہا
"وہ تو ٹھیک ہے لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔آپ شادی پہ ارمان پورے کرلینا ۔۔۔۔۔۔ہمارا بھی ابھی خرچہ"۔۔۔۔۔۔۔
امی نے ہچکچاتے ہوئے سر جھکا لیا
"ارے نہیں نہیں بہن آپ سے ہمیں کچھ بھی نہیں چاہئے ۔۔۔۔۔۔بس آپ کی بیٹی لے کر جا تو رہے ہیں اپنی بیٹی بنا کر.... اور شادی میں تو ابھی چھ مہینے ہیں"
جنید شاہ کی یہ بات سن کر عابیدہ بیگم اور حیا کی آنکھوں میں آنسوں آگئے
"پھر بھی کچھ تو۔۔۔۔۔۔
حیا نے امی کو پھر کہتے سنا
"نہیں بس ھم نے جو کہہ دیا سو کہہ دیا ۔۔۔۔۔۔۔بھئی ھم لڑکے والے ھیں"۔۔۔۔۔
مسز جنید کی یہ بات سننتے ہی سب ھنس دیے وہ خود بھی ھنس دیں۔۔۔۔۔

**********★★★***********

ایمان پارلر سے تیار ہو کر جیسے ہی ھال میں داخل ہوئی فوٹو گرافر (جو مرتضیٰ کا دوست تھا)
نے روک لیا
"رکیں......مرتضیٰ بھی آپکے ساتھ آئیں گے"۔۔
یہ بات سنتے ہی ایمان جیسے برف کی ہوگئی ان کہ یہاں کبھی ایسا نہیں ھوا تھا۔۔۔۔۔
اسے پارلر سے بھی حیا نے ضد کر کہ تیار کروا دیا تھا اور خود بھی ہو گئی تھی۔۔۔۔۔ورنہ اسے ان سب کا کہاں شوق تھا۔۔۔۔
مرتضیٰ کو ایمان کے ساتھ کھڑے کر کے مووی کی لائٹس آن کر دی گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔
دونوں کے چہرے روشنی سے چمک اٹھے۔۔۔۔۔۔۔
دونوں ساتھ بہت خوبصورت لگ رہے تھے۔۔۔۔۔
ایمان پنک اور لائیٹ فیروزی کمبنیشن کلر کی نیٹ کی پاؤں تک میکسی اور سر پہ دوپٹہ جو بالوں کا جوڑا بنا کر کمر تک سیٹ کیا گیا تھا نفاست سے کیا ھوا میک اپ ھاتھ میں میچنگ کا پرس اور میچنگ جیولری سینڈل ۔۔۔۔۔۔۔۔کسی پری سے کم نہیں لگ رہی تھی
مرتضیٰ نے بھی بلیو کلر کی ویلویٹ شیروانی اور اس پہ وائٹ کڑھائی پاؤں میں کھسے چہرے کا سفید رنگ اور ہلکی شیو وہ بھی غضب ڈھا رھا تھا۔۔۔۔۔
دھیرے دھیرے دونوں کو اسٹیج تک لا کر کھڑا کر دیا اسی دوران مرتضیٰ نے ایمان کا ھاتھ پکڑ لیا ایمان اسکی اس حرکت پر بہت کنفیوز ہوئی.
ھال میں مدھم آواز میں میوزک بھی بج رھا تھا
حیا جو اب تک مرتضیٰ سے کافی حد تک فری ہو گئی تھی اسٹیج پہ چڑھتے ہی پرجوش ہو کر کہا
"چلیئے بئھی اب جلدی سے انگوٹھی پہنا دیجیئے"
اسد شاہ نے سامنے سے اسٹیج پر آتی حیا کو دیکھ لیا تھا
یہ الفاظ بولتے ہی حیا کی نظر مرتضیٰ کے برابر کھڑے اسٹیج پہ کھڑے اسد شاہ پہ پڑی اور کنگ رہ گئ.
**********★★★***********

جاری ہے


 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney