"وفا ہے حُسن محبت کی"

قسط 3


حیا کی نظر اسٹیج پہ کھڑے اسد شاہ پہ پڑی اور کنگ رہ گئی۔۔۔۔
**********★★★***********

کچھ تو ہوتے ہیں محبت میں جنوں کے اثار..
اور کچھ لوگ بھی دیوانہ بنادیتے ہیں۔۔۔۔

اسد شاہ کی نظر پر پل گھٹنوں تک شرٹ گولڈن ٹیولپ اور میچنگ ڈائی ڈوپ کمر تک لہراتے لمبے کھلے بالوں اور لاــــئیٹ سی میک والی حیا پر پڑی تو دنیا جیسے ساکت ہو گئی تھی۔۔۔
اسد شاہ اردگرد سب بھول کر حیا پر نظر لگائے کھڑا تھا۔۔۔خود اسد شاہ بلیک کرتے واٹ شلوار پائوں میں بلیک چپل پہنے اور خوبصورت لک کے ساتھ کسی ہیرو سے کم نہیں لگ رہا تھا ۔
حیا کی نظر اسد شاہ سے ملی ایک پل کا کمال تھا کہ اسکی نظر جھکنا بھول گئی تب ہی کرن شاہ نے اسد شاہ کا کندھا ہلایا.
"بھائی کیا ہوا" اسد شاہ نے چونک کر دیکھا اور ایک پل کو شرمندہ ہو گیا۔اسے سامنے ارتضی بلا رہا تھا. 
حیا کو اسد کے وہاں ہونے کی وجہ سمجھ آنے لگی.
اسد اپنی بے خودی پر خود کو کوستا ہوا اور مرتضی کی طرف چلا گیا.
عابیدہ بیگم نے رنگ بڑھائی مرتضی نے ایمان کے نازک مہندی سے سجے ہاتھ میں پہنائی تو جیسے چار
چاند لگ گئے۔۔۔
اردگرد کھڑے رشتہ داروں نے مبارک باد سلامت رہے کا شور مچایا تو ینگ پارٹی کے شوخ فقروں نے ایمان اور مرتضی کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیر دی۔ 
حیا بچوں کی طرح خوش ہوتے ایمان سے بولی "چلیے آپی اب آپکی باری"
عابیدہ بیگم نے ایمان کے ہاتھ میں رنگ پکڑائی تو مرتضی نے ہاتھ بڑھایا اور ایمان نے کانپتے ہاتھو ںسے رنگ پہنا دی۔
فوٹوسیشن اور مٹھائی کی رسم کا سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا اور پھر کھانا شروع ہوا تو سب سٹیج سے اترنے لگے۔ حیا سٹیج کے کارنر پر کھڑی حیا مسکرا رہی تھی تب ہی کوئی آہستہ سے اسکے پاس آ کر ''مبارک ہو'' بولا اور حیا گھبرا کر پلٹی اسکا بیلنس بگڑ گیا۔
تب ہی اسد شاہ نے ہاتھ بڑھا کر اسے گرنے سے بچا لیا اور بولا
"سوری ایسے نہیں آنا چاہیے تھا مجھے" اسکی آنکھوں میں شرمندگی تھی۔
"ویسے مجھےنہیں معلوم تھا میرے کزن کی شادی آپکی پیاری سی بہن سے ہو رہی ہے" اسد تھوڑا شوخ ہوا.
حیا مسکراتی ایک نظر اس پر ڈالتی اور "ایکسوذمی" بولتی سٹیج سے نیچے اتر گئی اور اسد شاہ اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔۔۔۔
**********★★★***********

تو عالم ہے سمجھتا ہے کتابوں کی زباں
میرا چہرہ بھی پڑھ میرے حالات بتا
بس ہو جائیں مجھے تیری محبت حاصل
تو کوئی ایسی دعا ایسی مناجات بتا

رات کے ۳ بج چکے تھے حیدر خود اپنی کیفیت سے انجان بوجھل دل کے ساتھ کمرے کے چکر کاٹتا صبح ہونے کا انتظار کر رہا تھا کمرے کی کھڑکی سے نظر آتا چاند اسکے رتجگے اور سلگتے دل کا ساتھی بن گیا تھا
صبح ناشتے کی میز پر مسز احمد کے روکنے کے باوجود وہ بنا ناشتے کیے آفس چلا آیا تھا۔
آفس اینٹر ھوتے ہی حیا کو دیکھ کر دل جیسے پرسکون ھوا تھا۔
سارا دن خود سے لڑتے تھکتے گزرنے لگا تھا تب ہی اسد شاہ حیا کو دیکھنے آفس چلا آیا.
اسد شاہ کے آنے سے پہلے حیدر اپنی سیکڑی کو حیا کو بلانے بھیج چکا تھا۔ 
"میم سر حیدر آپکو جلدی آفس بلا رہے ہیں"
حیا جو فائیلز پر جھک کر کام کرنے میں مصروف تھی ڈر گئی اور سوچنے لگی کے سر نے کیوں بلایا ہے شاید ڈانٹنے کیلیے کے کل آفس کیوں نہیں آئی۔ اس نے کلوک کی طرف دیکھا تو ۵ بج چکے تھے اسے حیرت نے جکڑ لیا کیونکہ یہ وقت تو سر حیدر کے لنچ کا تھا۔ 
وہ انہیں سوچوں میں گم اسے خبر ہی نہ ہوئی کہ وہ بنا ڈور ناک کیے آفس میں اینٹر ہوگئی
حیدر اور اسد شاہ آمنے سامنے چئیر پر بیٹھے کسی پروجیکٹ کو ڈسکس کر رہے تھے دونوں نے چونک کر حیا کی طرف دیکھا۔
حیا کو غلطلی کا احساس ہوا تو فوراََ پلٹی کے واپس جا کر دروازہ بجا کے آئے تب ہی حیدر نے روک لیا۔ حیا نے گھبرائی سانسوں کو سمبھالتے ہوئے پوچھا "جی سر"
"مس آپکو اتنا تو پتا ہونا چاہیے کے روم میں آنے کے مینرز کیا ہوتے ہیں" حیدر نے کہا
"سوری سر مجھے دھیان نہیں رہا" دھیرے سے بولی اور وہی دروازے کے پاس سر جھکائے کھڑی تھی۔ اسد شاہ حیران نظروں سے حیدر کو دیکھ رہا تھا۔اس سے پہلے حیدر نے اس کے سامنے اتنے غصے سے بات نہیں کی تھی۔ لیکن وہ حیدر کی حالت نہیں سمجھ سکتا تھا تبھی حیدر دوبارہ بول پڑا۔
"مس حیا کل کہا تھی آپ؟ بنا بتائے چھٹی پر؟"
"سوری سر ایکچولی۔۔"
حیا کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی حیدر اس پر برس پڑا۔
حیدر کو حیا پر بہت غصہ آہا تھا۔ وہ بولتا چلا گیا اور اسد شاہ سے برداشت نہ ہوا تو ٹوک دیا اور بول اٹھا.
"مس حیا آپ چلی جائیں"
لیکن حیدر نے حیران نظروں سے پہلے اسد شاہ کو دیکھا پھر حیا کو جس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔
حیدر بولا "نہیں آ پ کہیں نہیں جائیں گی۔ میرے سوال کا جواب دیں کل کہاں تھی آپ"
اسد شاہ بولنے لگا "بھائی یہ کل_____"
"آ پ خاموش ہو جائیں مجھے بات کرنے دیں"
اسد شاہ کی حیرت کی انتہا نہ رہی وہ بولا
"بگ بی ار یو اوکے"
اس نے نوٹس کیا کے حیدر شاہ کا منہ لال ہو چکا تھا۔
حیدر دوبارہ بولا "پلیز اسد شاہ خاموش ہو جائیں"
اسد شاہ نے سر جھکا لیا اور خاموش بیٹھا سوچنے لگا کے حیدر کو کیا ہو گیا ہے؟؟؟؟
حیدر کے عشق کی تپش اس کی سوچ سے دور تھی وہ سوچ بھی نی سکتا تھا اسکا خوبرو ڈیسنٹ بھائی کالے اندھیرے عشق کے رستےمیں گم ھو رھا ھے۔۔۔
"مس حیا"۔۔
"یس سر؟ حیدر نے دوبارہ تصدیق کرنی چاہی۔
"سر میری سسٹر کی انگیجمنٹ.."
ابھی وہ اتنا ہی بولی تھی کے حیدر نے ٹیبل پر فائیل پھینکی اور بولا
"بہن کی منگنی تھی تو کم از کم بتایا جا سکتا تھا۔ ایک کال آفس کرنی چاہیے تھی کے میں آج نہیں آوں گی"۔ 
حیا نے اس کی طرف بھری آنکھوں سے دیکھا۔۔۔
حیدر کا دل جیسے اس کی گہری سبز آنسو بھری آنکھوں میں ڈوب کر ابھرا تھا اس نے خود پر حیا کو حاوی ہوتے محسوس کیا۔
حیا حیرانگی سے دیکھ رہی تھی۔
"یہ آفس ہے مس حیا آپ کا گھر نہیں یہاں آپکو کام کرنے کے پیسے دیے جاتے ہیں۔اپنے ایک کال کر کے بھی بتانا ضروری نہیں سمجھا۔ اگر سب کو اس طرح ڈھیل دے دی جائےتو آفس کے پینڈنگ کام کون کرے گا"
حیدر کے اس رویے پر حیا کی آنکھیں چھلک پڑی۔اتنی ذلت تو اسنے کبھی نہیں اٹھائی تھی کے سر نے آج پیسوں کا بھی تانا دے دیا تھا وہ منہ جھکائے رو رہی تھی
حیدر کو اپنا آپ خالی خالی محسوس ہونے لگا اور وہ اپنا سر دونوں ہاتھوں پر گرا کر آہستہ سے دل میں بولا کاش تمہیں پتا ہوتا کہ تمہاری وجہ سے۔۔؟
اوہ یہ سب کیوں کر رہا ہوں۔ حیدر کو غصے میں بولے لفظ یاد آنے لگے ۔
اسد شاہ سے حیا کے آنسوں دیکھے نہ گئے تو وہ بولا
"بگ بی کیلم ڈائن"
حیدر مسلسل سوچ میں گم تھا کے میں کیا بتاوں مجھ پر اسکے نا آنے سے کیا گزری ہے کیوں نہیں آٖئی تھی وہ کل وہ کیوں نہیں سمجھ رہی بے بسی کی انتہا تھی تب وہ تھکے تھکے لہجے میں بولا 
"حیا آپ جا سکتی ہیں آئیندہ ایسی غلطی نہ کیجئے گا"
حیا واپس ا ٓکر اپنی کرسی پر بیٹھ کر رونے لگی تبی ہی اسد شاہ چلا آیا اور پانی کا گلاس حیا کو دیتے ہوے بولا
" پلز بھائی کا غصہ وقتی ہے مائینڈ نا کریں وہ ٹھیک ہو جایں گے"
"سر اسد شاہ انکا غصہ وقتی ہوگا لیکن انکے منہ سے نکلے الفاظ نہیں۔ یہ پیسوں کی دھونس جما کر آپ جیسے امیر لوگ ہم غریب لوگوں سے غلامی کروانا چاہتے ہیں۔ یہ بھی بھول جاتے ہیں کے ہماری بھی انا اور خوداری ہوتی ہے۔ ہمارے اندر بھی دل دھڑکتا ہے۔ ہمارے خون کا رنگ بھی سرخ ہوتا ہے پیسا سب کچھ نہیں ہوتا سر عزت بڑھ کے ہوتی ہے۔ بس فرق اتنا ہے امیر بولتا چلا جاتا ہے اور غریب کو سننی پڑتی ہیں۔ لیکن اللہ سب کا ایک ہی ھوتا ھے۔۔۔"
وہ بے بسی سے بولتی چلی گئی. نوکری چھوڑ دینا ایسے حلات میں ممکن ھوتا تو وہ کب کی چھوڑ چکی ھوتی حالات کا سوچ کر وہ مزید رونے لگی.
"حیا ایسی بات نہیں ہے پلیز چپ ہو جائیں نہیں تو میں بھی رونے لگ جاوں گا" اسد شاہ کا لہجہ اتنا بے چارہ سا تھا کے حیا اپنی بے ساختہ روتی آنکھوں سے ہسنے لگی۔
آفس سے نکلتے حیدر نے دھوپ بارش میں اس کھلکھلاتی قوس قزہ کے رنگ کو دیکھ کر خود کو مکمل طور پر حیا کے عشق کے حوالے کر دیا۔ اس بات سے انجان کے محبت کے اس سفر میں وہ اکیلا نہیں بلکہ دو اور دل بھی اسی آگ میں بن کہے خاموشی سے جلنے لگے ہیں۔

**********★★★***********

کبھی تسبیح کو دیکھا ہے؟
سبھی دانے الگ ہو کر بھی
ہر دم ساتھ رہتے ہیں
یہی تعلق ہمارا ہے
بظاہر میں الگ لیکن
دلوں میں ساتھ رہتے ہیں
سدا ایک دوسرے کے نام کی تسبیح کرتے ہیں
اسی کو روح کا بندھن،
اسی کو چاہ کہتے ہیں
اسی کو ساتھ کہتے ہیں۔

ایمان نے کچن کا کام ختم کیا اور کمرے میں آ کر مبائل چیک کیا تو ایک انجان نمبر سے بھیجے میسج کو دیکھ کر سوچنے لگی کون ھو سکتا جو مجھے شاعری بھجے۔۔۔ کیا یہ مرتضی ھیں انہیں سوچوں میں گم تھی کے حیا چلی آئی اور آفس میں کی حیدر شاہ کی باتیں بتانے لگی۔۔۔
"حیا تم یہ نوکری چھوڑ کر کوئی اور دیکھ لو آج ذرا سی بات پر اتنی انسلٹ کر دی کل کچھ اور بول دیا تو"۔۔۔ ایمان نے سوچتے ہوئے بولا
"آپی اگر جاب چھوڑ دی تو آپ کی شادی کی تیاریاں کیسے ھوں گی"۔۔۔
حیا ایمان کو تنگ کرتے ھوئے بولی
"باز آجاؤ اور سوجاؤ اب"۔۔۔ ایمان نے چڑھتے ہوئے بولا.
"اوکے سویئٹ آپی گوڈ نائٹ سوئیٹ ڈریمز آف مائے حینڈسم جیجو..."
حیا شرارت سے بولتی بیڈ پر لیٹ گئ۔۔ایمان نے لائیٹ آف کر دی
چپکے سے حیا کے خیالوں میں اسد شاہ اتر آیا۔۔۔

**********★★★***********

ہجر میں تیرے جو میں نے گزاری ہیں،،
ان راتوں کا حساب کون دے گا،،
بانجھ منظروں میں قید تتلیوں کو،،
رہائ کے گلاب کون دے گا۔۔۔۔

حیا حیا کہاں جا رہی ھو آگےمت جاؤ حیا رک جاؤ آگے کھائی ھے حیا نہیں۔۔۔
بیچنی سے کروٹ بدلتے پسینے میں بھیگے حیدر کی آنکھ کھلی تو اسے کچھ پل سمجھ ھی نہیں آیا کے وہ کہاں ھے۔۔حواس سمبھلے تو احساس ھوا کے وہ برا خواب تھا۔۔۔
حیدر نے شکر ادا کیا ورنہ خواب میں بھی حیا کو کھو دینے کے احساس نے اسکے حواس گم کر دیے تھے۔۔۔اور پھر پچھلی رات کی طرح یہ رات بھی چاند اور سگرٹ کے دھوائیں میں حیا کو سوچتے کب گزری پتا نہیں چلا۔۔۔
اذان کی آواز پر نیند سے سرخ آنکھوں اور دکھتے سر کے ساتھ نماز پڑھ کر حیدر باہر لان میں چلا آیا۔۔
سلائڈنگ ونڈو سے دیکھتی مسز احمد شاہ حیدر کے پاس چلی آئیں اور پرشانی سے اسکی طبعت پوچھنے لگیں۔۔ انھیں اپنا خاموش سلجھا ھوا بیٹا جان سے ذیادہ عزیز تھا۔۔۔

**********★★★***********

صبح جب وہ یونی گئ تو کلاس کے بعد کیفے میں سوچوں میں گم سم بیٹھی سوچ رہی تھی کہ آج آفس کیسے جائے یا نہ جائے
اسی وقت وہاں اسد آیا اور ٹیبل پر نک کر کے بولا
"مس کیا میں بیٹھ سکتا ہوں"
اسکے ایسے انداز پر وہ مسکرا کر سر ہلا گئ.
"کیا ہوا جناب موڈ کیسا اور میں نے ایسا کیا کہہ دیا جو آپکو ہنسی آ گئی"
اسد شاہ نے اسے گھور کر دیکھا۔۔
"کچھ نہیں بس ایسے ہی" حیا بس اتنا ہی کہہ پائی.
"ویسے کل آپکو روتا دیکھ کر مجھ سے رہا نہیں جا رہا تھا ناجانے کیوں میں بھی رو دیتا آپ کے ساتھ" اسد معصومانہ لہجے میں بول رہا تھا
"لڑکے روتے ہوئے اچھے نہیں لگتے پاگل"۔۔ حیا چہکتے ہوئے کہہ رہی تھی.
"اوہ اچھا چلو اسی بہانے آپ ہنسی تو سہی"۔۔۔
"ویسے ایک بات کہوں۔۔۔؟؟؟
آپ فنکشن والے دن بہت اچھی لگ رہی تھی"۔۔
"تھینکس"۔۔۔بولتے ھوئے حیا کی نظریں جھک گئی۔۔۔۔
وہ شرماتی ہوئی اسد کے دل میں اترتی چلی گئ.

**********★★★***********

محبت مانگتی ھے
یوں گواہی اپنے ہونے کی
کہ جیسے کوئی طفل سادہ
دن میں بیج بوئے
اور شب میں بارہا اُٹھے
زمین کو کھود کر دیکھے
کہ پودا اب کہاں پہنچا....!!

محبت بھی عجیب ھوتی ھے یا تو ھوتی ھی نہیں اور جب ھو جائے تو دل میں خواھش پیدا ھو جاتی ھے کے اسے بھی چاھا جائے۔۔۔۔ اور محبت کی کسک ھر لمحہ ھر پل بڑھتی جاتی ھے ایک وقت آجاتا ھے کے انسان کو پور پور اپنے سحر میں جکڑ لیتی ھے۔۔۔۔اور پھر انساں اس دنیا کا رہتا ہی نئیں اسکی ذات جیسے ھوا میں معلق ھو جاتی ھے۔۔۔۔ 
**********★★★***********

جاری ہے


 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney