"وفا ہے حُسن محبت کی"

قسط 4


"او گاڈ یہ میں نے کیا کر دیا۔....۔۔اسے غصے میں اتنا کچھ سنا دیا۰۰۰.....میں نے ایسا کیوں کیا۔۔.....۔ پہلے تو کبھی مجھے اتنا غصہ نہیں آیا۔۔۔.......کیا ھو گیا تھا مجھے,؟؟؟...۔۔۔ناجانے کتنا ھرٹ ہوئ ہوگی وہ۔۔۔کتنا برا سمجھا ھوگا اس نے مجھے....۔۔۔اب کیا کروں سوری بولوں اسے؟؟۔
نہیں نہیں یہ میری شان کے خلاف ھے
ایک کمپنی کا مالک معمولی لڑکی سے معافی ۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں لیٹا یہی سوچ رہا تھا کھانا بھی نہیں کھایا تھا۔۔۔
لیکن وہ کوئ معمولی لڑکی تو نہیں ھے؟؟؟
حیدر جلدی سے بیڈ پہ سے اٹھ گیا۔۔۔۔
یہ تو۔۔۔وہ لڑکی ھے جس کے لیے تم پرشان ھو حیدر۔۔۔
بھلا حیدر جس کے لیے پرشان ھو وہ معمولی کیسے ھو سکتی ھے۔۔۔
اس کے سامنے کوئی دوسرا حیدر اس سے مخاطب تھا۔۔
لیکن میں اس کے لیے یہ سب کیوں سوچ رہا ھوں ۔۔۔
کیوں کے تم اس سے محبت کرنے لگے ھو حیدر۔۔۔
نہیں نہیں مجھے اس معمولی لڑکی سے محبت؟؟؟؟؟
ناممکن۔۔۔
وہ معمولی نہیں ہے اب تمھاری محبت ھے حیدر۔۔۔۔
اس کے سامنے کوئی بہت زور سے ہنسا۔۔۔
وٹ دا ہیل
یہ کیسا انکشاف ھے۔۔۔۔
وہ حیراں پرشاں بیٹھا تھا کہ سائڈ ٹیبل کا لمپ اس نے ھاتھ مار کر توڑ دیا تھا۔۔۔
جاؤ جا کر معافی مانگو کر دو اس سے اظہار بتا دو اسے کے وہ تمھارے لیے کیا ھے۔۔۔جاؤ جاؤ۔۔۔
اسکا ضمیر اس کے سامنے کھڑا اس پر ھنس رہا تھا اور وہ گم سم بیٹھا حیا کو سوچ رھا تھا۔۔۔۔"

**********★★★***********

"آئیں میں آپ کو ڈراپ کر دوں۔۔۔"
وہ یونی سے گھر آنے کے لیے سٹاپ پر کھڑی تھی کے ایک بلیک گاڑی اسکے پاس آ کر رکی۔۔۔
"نہیں میں چلی جاؤں گی"۔۔۔
حیا کو اس طرح اسد شاہ کے ساتھ جانا اچھا نہیں لگ رھا تھا۔۔۔
"ارے آپ تکلف کر رہی ہیں"
اسد شاہ اسکے منع کرنے پر باہر نکلا اسے احساس ھوا کے دھوپ کی تپش بہت ذیادہ ھے اور وہ ہر روز بس کا انتظار کرتی ہے نا جانے کتنی دیر کھڑا ھونا پڑتا ھوگا اسے۔۔۔
"نہیں میں چلی جاؤں گی" 
"دیکھیں اگر آپ نہ بیٹھی تو میں مرتضی بھائی کو بولوں گا کے آپ کو ھم پر اعتبار نہیں"۔۔۔
اب کی بار اس نے ذرا غصے سے کہا۔۔۔
"ایسی بات نہیں ھے۔۔میں تو بس"۔۔۔حیا اسکو دیکھ کر رھ گئی اسے ناراض دیکھنے کی ھمت حیا میں نہیں تھی۔۔۔
"اوکے نابیٹھیں" وہ ناراضگی سے بولتا اگے بڑھنے لگا۔۔۔
"روکیں پلیز"۔۔۔
"آآآپ مرتضی بھائی سے کچھ مت بولیے گا" وہ التجائیا انداز میں بولی۔۔۔۔
اور گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔۔
"آپ کی شادی کب ھو رھی ھے"۔۔۔
ادھر اُدھر کی باتوں کے بعد اسد شاہ نے بیک ویو مرر سے دیکھتے کس انداذ سے پوچھا تھا بس وہ ہی جانتی تھی۔۔۔
"جی ابھی تو آپی کی ھونی ھے میری سٹڈی بھی کمپلیٹ نہیں اور ماما بھی اکیلی ھوتی ھیں"۔۔۔
گود میں رکھے ھاتوں کو دیکھتے وہ یے سب اسے بتانے لگی۔۔۔
اسکے بعد اسد شاہ نے کوئ بات نہ کی اور گھر کے سامنے پہنچ گئے۔۔۔
"اللہ حافظ میں چلتا ھوں"۔۔۔
حیا کو ڈراپ کر کے وہ باہر سے ہی جانے لگا تھا۔۔۔
"ارے اندر آئیں نا آپی اور امی سے مل کر جائے گا"۔۔۔
"نہیں پلیز پھر کبھی"۔۔
"لیکن چائے وغیرہ کچھ"۔۔۔
"میں آوں گا ضرور پھر کبھی فیملی کے ساتھ (بارات لے کر)" آخری الفاظ اس نے آہستہ سے کہے تھے لیکن حیا نے سن لیے۔۔۔
اسد شاہ نے گاڑی آگے بڑھا دی اور حیا وہیں کھڑی گاڑی کو دیکھتی رہی۔۔۔

**********★★★***********

"آپ کو حیدر سر نے بلایا ہے"
یہ بات سنتے ہی وہ ڈر گئی کہیں کل کے بعد اس سے آج کوئی غلطی تو نہیں ھو گئی کہ پھر اب سر ڈانٹیں گے۔۔۔آخر کیا بات ھو گئی ھے۔۔۔؟
"جی سر"۔۔؟؟
اندر داخل ھوتے وقت وہ ناک کرنا نہیں بھولی تھی کل والی تذلیل اسے ابھی تک یاد تھی۔۔۔
"بیٹیھں مس حیا"
حیدر نے کھنکھارتے ھوئے اور چئیر کی طرف اشارہ کیا۔۔۔
"حیا کل والی بات کی وجہ سے میں آپ سے سوری بولنا چاہتا ھوں"۔۔
لیپ ٹوپ پر نظر جمائے وہ اب تک مغرور بنا بیٹھا تھا۔۔
"نہیں سر غلطی میری تھی میں نے آپ کو نہیں بتایا تھا"۔۔۔
"Well I am sorry haya..
کل کچھ ایسے الفاظ بول دیے جو آپ کو ہرٹ کر گئے"۔۔۔
اب کی بار حیدر نے لیپ ٹاپ بند کرتے ھوئے کہا۔۔۔
اور حیا پر نظر ٹکا دی وہ شرمندہ نظر آ رہا تھا۔۔
"حیا میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ھوں"۔۔
"جی بولیے سر"۔۔۔۔
"حیا وہ ایکچولی"۔۔۔
"ہیلو بگ بی"
اندر آتے اسد شاہ کو دیکھتے ھوئے حیدر ایک پل کو رک گیا۔۔۔
حیا نے اسے دیکھتے ھوئے اسے سلام کیا۔۔۔
"جی سر آپ کیا کہ رھے تھے"۔۔۔
"نہیں کچھ نہیں کچھ پوائنٹ ڈسکس کرنے تھے۔۔۔پھر کبھی ابھی آپ جائیں"۔۔۔
حیدر نے پہلو بدل دیا۔۔۔
"اوکے" بولتے حیا چلی گئی۔۔۔
"اسد ایک بات بتاؤ"۔۔۔
اب حیدر اسد سے مخاطب تھا جو کے فائیل دیکھ رہا تھا۔۔۔
"ہمممممم" اسنے فائیل میں مصروف جواب دیا۔۔۔۔
"یہ حیا کیسی لڑکی ھے۔۔ائی مین تمھیں کیسی لگی۔۔۔؟"؟؟
حیا کے نام پر اس نے سر اٹھایا۔۔۔
"اچھی ہے بہت اچھی" پھر سے فائل میں مصروف اسد نے مسکرا کر جواب دیا۔۔۔۔
حیدر نے بھی مسکراتے ھوئے سر چئر سے لگا لیا۔۔۔

**********★★★***********

لڑکے والوں نے شادی کی جلدی کر دی اور کہا ہمیں صرف آپکی بیٹی چاہیے اور کچھ نہیں اور کچھ ہفتے گزرتے پتا ہی نہ چلا امی سے جو ہوا آپی کے لیے کیا.
یوں دیکھتے دیکھتے مایوں کا دن آن پہنچا.
وہ پیلے جوڑے میں ملبوس ہاتھ میں کنگن اور گھنگھٹ میں بیھٹی تھی۔۔۔
ایمان کے پاس چند رشتہ دار اگئے تھے کافی گہما گہمی تھی۔۔۔
حیا نے بھی پیلا سوٹ پہنا ھوا تھا کمر تک آتی چوٹی گجرے کنگن آنکھ میں کاجل اور میکپ سے نادارد وہ بہت اچھی لگ رہی تھی۔۔۔ آج لڑکے والو نے آنا تھا۔۔۔ 
اس طرح دو دن مایوں مہندی کا سلسلہ جاری رہا اور سب اچھے سے ہو گیا۔۔۔

**********★★★***********

بارات والے دن وہ بہت نروس تھی۔۔۔لال عروسی جوڑے میں وہ پری لگ رہی تھی۔۔۔حیا اسکا شرارہ پکڑ کر سٹیج تک لائی۔۔۔ نکاح وغیرہ کے بعد کھانے کا سلسلہ شروع ھوا۔۔۔
"حیدر بیٹا یہاں آنا کسی سے ملوانا ہے"۔۔۔۔
مسز احمد نے حیدر کے پاس آکر کہا جو الگ ہی کرسی پر بیٹھا اپنے مبائل میں بزی تھا۔۔۔
"ایسی کون سی عظیم ہستی ہے جسے آپ مجھے ملوانا چاھتی ھیں"۔۔اس نے حیرت سے کہا۔۔
ارے بیٹا آو تو۔۔
اسے نا چاہتے ھوئے بھی اٹھنا پڑا۔۔۔
"حیا یہ ہیں ھمارے بیٹے حیدر"
حیا نے پیچھے مڑ کے دیکھا اور حیدر سامنے اتنی خوبصورت لڑکی دیکھ کر سکتے میں آگیا۔۔۔
"حیا آپ یہاں کیسے"۔۔۔؟؟؟
حیا کو پہلی بار اتنا تیار دیکھ کر وہ حیراں تھا۔۔۔۔
"بیٹا آپ انہیں جانتے ھیں۔۔۔؟؟؟
"جی ماما یہ تو میرے آفس میں"۔۔۔ 
"لیکن یہاں میں ایمان آپی کی بہن ھوں آئی مین دلہن کی" حیا نے مسکرا کر کہا
"Oh Great pleasent surprise"

حیدر پوری شادی میں صرف بارات والے دن ہی آیا تا کہ کزن کی ناراضگی نہ ملے اسے تو اب پتہ لگا کہ وہ حیا کی بہن وہ اور ذیادہ شرمندہ ہوا اپنی غلطی پر.
اسد شاہ سے وہ شادی میں کتنی بار مل چکی تھی کیوں کے اس نے کوئی فنکشن مس نہیں کیا تھا دونوں کا فوکس پوری شادی میں ایک دوسرے پر رہا۔۔۔
لیکن حیدر سے سامنا اب ہوا تھا۔۔۔
"حیا بیٹا بات سنو" اسکی امی کی آواز آئی 
وہ "ایکسیوزمی" بولتی وھاں سے چلی گئی۔۔۔۔
خیر خیریت سے رخصتی ہو گئی امی اور میں نے الله کا شکر ادا کیا.
شادی کی تھکاوٹ کی وجہ سے ولیمہ دو دن بعد رکھا گیا تھا اس نے آفس سے چھٹیاں لی ھوئی تھیں۔۔۔۔

**********★★★***********

"بھائی یہ دیکھیں شادی میں ھم نے جو لڑکیاں سلیکٹ کی انکی تصویریں میرے مبائل میں ھیں آپ لوگ اپنی اپنی پسند کی لڑکی سلیکٹ کر لیں"۔۔۔
کرن شاہ نے اپنے دونوں بھائیوں کو گھیر لیا تھا۔۔۔
مرتضی بھائی کے بعد اسے بھی بھابیاں لانی تھی۔۔۔۔
"ھاں بھی ھمیں بھی اب اپنی بہوؤں کو دیکھنا ھے"
مسز احمد بھی ایکسائٹڈ تھی۔۔۔۔
"مجھے ان میں سے کوئی بھی پسند نہیں لڑکی میں نے پسند کر لی ھے میں خود بتا دوں گا" حیدر کی اس بات پر سب حیران ھوئے ۔۔۔
"اؤی ھؤۓ بگ بی آپ نے بھی لڑکی سلیکٹ کر لی اور ھمیں خبر بھی نہیں"۔۔۔۔
کرن اور اسد نام پوچھنے لگے۔۔۔۔
"ایک منٹ نام تو بتا دوں گا لیکن آپ لوگو نے غور نہیں کیا اسد نے کیا کہا۔۔۔۔آپ نے بھی۔۔۔؟ مطلب اسد نے بھی کر لی"۔۔۔
کرن بہت خوش ھو گئی تھی کہ ایک ساتھ دو بھابیاں۔۔۔
اسد نے سر جھکا کر مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ھلایا۔۔۔
"تو بتائیں نا بھائی"۔۔۔؟
کرن نے اثرار کیا
"نو پہلے بگ بی"۔۔۔؟
اسد نے آنکھ مارتے ھوئے کہا حیدر اسے گھور کر منہ نیچے کر لیا
"حیا"۔۔۔۔
حیدر کے منہ سے حیا کا نام سن کر اسد کے سر پر بم گرا تھا۔۔۔
وہ پھٹی آنکھوں سے بھائی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

**********★★★***********
پسند کی دوسری سیڑھی چاہت ہے اور چاہت کے بعد پیار ہو جاتا ہے کسی چیز سے ______
پیار محبت میں بدل جاتا ہے اور محبت عشق کا روپ دھار لیتی ہے____ عشق جنون بن جاتا ہے_____اور جنون آپ کو پاتال تک لے جا سکتا ہے_____اس لیے پانچویں سیڑھی پر آنے سے پہلے اپنے قدم روک لو _____
**********★★★***********

"حیدر بیٹا تم نے تو میرے منہ کی بات چھین لی"
مسنر احمد نے خوشی سے اس کے سر پہ ھاتھ پھیرتے ہوئے کہا
اسد اب تک سن بیٹھا تھا۔۔۔۔۔اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔یہ وہ کیا سن رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسکی حیا کسی اور کی نہیں اپنے سگے بھائی کی دلہن؟؟؟؟
"نہیں۔۔۔۔نہیں"۔۔۔۔۔
وہ ایک سیکنڈ میں اٹھ کر وہاں سے کمرے میں جانے لگا کہ کرن نے روک لیا
"بھائی آپ بھی اپنی پسند"۔۔۔۔
"پھر کبھی"۔۔۔۔۔اسد نے اسکی بات کاٹتے ہوئے کہا
"ارے اسے کیا ہوا"؟؟؟۔۔۔۔سب اسے دیکھتے رہ گئے۔۔۔۔
اس سے تو بولا بھی نہیں ج ارہا تھا سب کچھ ختم ہونے والا تھا۔۔
"حیا صرف میری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
میری دلہن بنے گی وہ۔۔۔۔صرف میر۔۔۔نہیں ہونے دونگا کسی اور کا میں اسے"۔۔۔۔۔
وہ اب تک بے یقینی کے عالم میں بیٹھا تھا۔۔۔۔۔۔
"تو پھر کیا کرو گے؟؟؟؟....اس کے دماغ نے اس کے ہی دل سے سوال کیا۔۔۔۔۔
"کیا کر سکتا ہوں میں؟؟۔۔۔۔۔آج وہ خود ہی لاجواب تھا۔۔۔۔۔
"بھائی سے چھین کر اسے اپنی محبت بناؤ گے؟؟؟
دماغ نے پھر اسکے دل پہ ضرب لگائی
"نہیں۔۔۔۔۔۔مجھے میرا بھائی عزیز ہے
اس نے بڑبڑاتے ہوئے کہا
"تو پھر حیا؟؟؟وہ کیا ہے؟؟؟کہاں ہے وہ؟؟؟
دل نے پھر اس سے سوال کیا
عجیب کشمش میں تھا وہ۔۔۔۔۔
ساری رات وہ یونہی چھت پہ جا کر ٹہلتا رہا۔۔۔۔اسکا تو چین قرار سب ختم ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔اسنے تو خواب دیکھے تھے حیا کے۔۔۔۔۔۔حیا بھی تو اسکے جذبات سے ناواقف نہ تھی۔۔۔۔۔۔اظہار نہیں کیا اسنے تو کیا ہوا؟؟؟۔۔۔۔
اسکی آنکھوں میں میرے لئے محبت تھی۔۔۔۔میں نے خود دیکھی تھی۔۔۔۔۔۔۔کیا جواب دوں میں اسے"؟؟؟
سر درد سے پھٹا جا رہا تھا لیکن سوچیں تھی کہ پیچھا ہی نہیں چھوڑ رہی تھیں۔۔۔۔

**********★★★***********

حیا کتنی دیر سے اسکا انتظار کر رہی تھی لیکن ھال میں سب مہمان آچکے تھے۔۔۔۔۔اسد اب تک غائب تھا۔۔۔
"اف۔۔۔کہاں رہ گئے آپ اسد"
حیا نے واچ پہ نگاہیں جمائے بیچینی سے ٹہلتے ہوئے سوچا۔۔۔۔
لیکن اب تو کھانا بھی شروع ہو گیا تھآ۔۔۔۔۔۔ایسے کیسے ہو سکتا جہاں حیا آئے وہ نہیں آئے۔۔۔۔۔۔آج ولیمے پر کیوں نہیں آیا تھا وہ۔۔۔۔۔
اسے اب کی فکر ہونے لگی تھی۔۔۔۔موبائل پہ بھی کتنی بار کال ملائی لیکن کچھ دیر بعد موبائل آف جا رہا تھا۔۔۔۔
"کہاں ہو تم پلیز کال تو رسیو کرلو۔۔۔۔
اک مسج کر دیا تھا اسنے لیکن اسے کیا پتا تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہونے کو ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

**********★★★***********

شادی کی فراغت کے بعد حیا نے آفس جانے کا فیصلہ کیا۔۔۔
آج بھی جانے کا وقت ہو رہا تھا لیکن اسد اسے کہیں نظر نہیں آیا۔۔۔۔
موبائل پہ کوئی جواب نہیں تھا۔۔۔۔۔
دوسرے دن بھی وہ آفس میں نظر نہیں آیا۔۔۔۔۔
ابھی وہ سر کے روم میں کام سے جا رہی تھی کہ۔۔۔
آفس کے گیٹ سے اندر آتے اسد پہ اسکی نظر پڑی۔۔۔۔حیا کی جیسے جان میں جان آگئی۔۔۔۔۔۔۔
"اسد۔۔۔۔۔۔
وہ اسے آواز دیتے ہوئے اسکی طرف لپکی۔۔۔لیکن وہ اسے نظر انداز کرتا ہوا حیدر شاہ کے روم میں جانے لگا
حیا کو وہ آج بہت الگ لگا۔۔۔۔۔جو اسد حیس کے لیے کِٹ میں آتا تھا۔۔۔آج واقعی وہ اسد اس اسد سے الگ تھا۔۔۔۔وہ آج پینٹ شرٹ میں نہیں بلکہ بنا استری کے قمیض شلوار میں ملبوس۔۔۔بکھرے بال۔۔۔بڑھی ھوئی شیو میں دیکھ کہ حیا کہ دل کو کچھ ہوا لیکن آج وہ اس کے پاس سے بنا بات کیے نکل گیا۔۔۔۔۔۔اور وہ وہیں کھڑی رہ گئی۔۔۔۔۔
بوجھل قدموں سے وہ اپنے روم میں آ کر چیئر پہ بیٹھتے ہوئے اسکے بارے میں سوچنے لگی۔۔۔۔۔۔
"کیا ہوگیا اسے۔۔۔۔۔پہلے تو کبھی ایسا نہیں ہوا۔۔۔۔ایسا کیوں کر رہا ہے وہ"۔۔۔۔۔؟؟
یہی سوچتے سوچتے اب اسکے آنسو نکل گئے۔۔۔۔گھر جا کر بھی وہ کھوئی کھوئی رہی۔۔۔۔

**********★★★***********

"اسد۔۔۔۔۔۔
اسے اپنے پیچھے حیا کی آواز سنائی دی
وہ بنا پیچھے مڑے آگے بڑھنے لگا کہ حیا نے روک لیا
"پلیز میری بات سنیں"
وہ یونی کے لان میں کھڑی آج اس سے بات کرنے کا فیصلہ کر چکی تھی۔۔۔۔
وہ اسے بتانا چاہتی تھی۔۔۔وہ اسکے لیے کتنی بےچین رہی پریشان رہی۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔
"سوری مس حی۔۔۔۔۔کلاس کے لیے لیٹ ہو رہا ہے"۔۔۔۔۔
اتنا اجنبی لہجا؟؟؟۔۔۔
"لیکن مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے"
اسے اب غصہ آنے لگا اسکے اس ضدی پن پہ
"جی بولیے"
"آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں"
وہ روتی صورت سے اس سے پوچھ رہی تھی۔۔۔۔۔
"کیا کر دیا میں نے آپ کے ساتھ حیا؟؟؟
کیا نہیں تھا اسکے اجنبی لہجے میں۔۔۔۔۔۔
"آپ مجھے اگنور کیوں کر رہے ہیں"؟
اب کے بار اس کے آنسو نکل گئے
اسد سے آنسو دیکھے نہیں جا رہے تھے۔۔۔۔
دل نے پھر کہا۔۔۔۔۔کہہ دو اسے ابھی۔۔۔آئی لو یو
"کہہ دے کہ پلیز نہیں رو ورنہ میں بھی رو دونگا"۔۔۔۔
"اگنور؟؟؟؟ لیکن ھماری بات اتنی تھی ہی کب جو میں آپکو اگنور کرونگا؟؟؟۔۔۔۔۔۔اور ویسے بھی ہمارے بیچ صرف رشتہ داری یے"۔۔۔۔
ہمارا زیادہ بات کرنا اچھا بھی نہیں"۔۔۔۔
حیا سوچ رہی تھی۔۔۔۔آج اسے ترس بھی نہیں آیا اس کے انسو پہنچے کل کہتا تھا۔۔۔۔حیا نہیں رو ورنہ میں بھی رو دوں گا۔۔۔جو اسے ہر وقت ہنسانے کی کوشش میں لگا رہتا تھا۔۔۔آج وہ یہ سب؟؟؟ ۔۔۔۔کیوں۔۔۔۔شاہ کیوں؟؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"میں لیٹ ہورہا ہوں۔۔۔بائے"
کہتے ہوئے وہاں سے نکل گیا
"تم واقعی لیٹ ہو گئے"۔۔۔۔۔کلاس میں جا کر اس نے سرد آہ بھری۔۔
کیا کیا نا سوچا تھا میں نے
کیا کیا نہ سپنے سجائے لیکن کیا وہ سب اک دوستی سمجھتا تھا؟؟لیکن اس نے اس دن بارات والی بات کیوں کہی؟؟؟
کیا وہ سب ٹائم پاس تھا؟؟
فراڈ تھا؟؟
**********★★★***********

میں نے پوچھا مجھ سے محبت کرتی ہو؟ 
کہا بالکل بھی نہیں کبھی سوچنا بھی مت
پھر ایک دن میں اس سے ناراض ہو گیا تو اس کی جیسے جان ہی نکل گئی سارا دن منانے میں گزار دیا اور ایسا لگتا تھا کہ اگر دو منٹ اور میں نے بات نہ کی تو یہ مر جائے گی.
راضی ہونے کے بعد میں نے پھر پوچھا مجھ سے محبت کرتی ہو
بولی ایک بار کہا نہ نہیں کرتی تو نہیں کرتی
اس پاگل کو خود بھی پتہ نہیں ہے کہ اسے مجھ سے محبت ہے یا جان بوجھ کے ایسا کرتی ہے...؟ 
ھاں واقعی حیا کو نہیں پتہ تھا وہ کتنی محبت کرتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
**********★★★***********

وہ چھٹی کے وقت دھوپ میں بس کے آنے کا انتظار کر رہی تھی کہ اسد کی گاڑی اسے سامنے سے آتی دکھائی دی
اور حیرت کی انتہا جب نہ رہی جب وہ اسے دیکھتے ہوئے بھی وہاں سے نکل گیا
جسے کل تک یہ احساس تھا کہ میں دھوپ میں کتنی دیر سے کھڑی ہوں ۔۔۔۔اور آج وہ دیکھ کر بھی انجان ہو گیا۔۔۔آج اسے یہ احساس کیوں نہیں ہوا؟؟؟؟
کیوں کیا تم نے میرے ساتھ ایسا؟؟؟

"ذرا سی بات"
زندگی کے میلے میں
خواھشوں کے ریلے میں
تم سے کیا کہیں جاناں
اس قدر جھمیلے میں
وقت کی روانی ھے
بخت کی گرانی ھے
سخت بے زمینی ھے
سخت لامکانی ھے
ھجر کے سمندر میں
تخت اور تختے کی 
ایک ھی کہانی ھے
تم کو جا سنانی ھے
بات گو ذرا سی ھے
بات عمر بھر کی ھے
عمر بھی کی باتیں کب 
دو گھڑی میں ھوتی ھیں
درد کے سمندر میں
ان گنت جزیرے ھیں
بے شمار موتی ھیں
آنکھ کے دریچے میں 
تم نے جو سجانا تھا
بات اس دیے کی ھے
بات اس گلے کی ھے
جو لہو کی خلوت میں 
چور بن کے آتا ھے
لفظ کی فصیلوں پر 
ٹوٹ ٹوٹ جاتا ھے
زندگی سے لمبی ھے
بات رتجگے کی ھے
راستے میں کیسے ھو ؟
بات تخلیے کی ھے
تخلیے کی باتوں میں 
گفتگو اضافی ھے
پیار کرنے والوں کو 
اک نگاہ کافی ھے
ھو سکے تو سن جاؤ 
ایک دن اکیلے میں
تم سے کیا کہیں جاناں 
اس قدر جھمیلے میں

**********★★★***********

نہ چاہتے ہوئے بھی آج یونی آئی تھی وہ اسد کیلئے۔۔۔۔
ادھر ادھر تلاش کہ بعد بھی وہ نظر نہ آیا 
وہ وہیں سیڑھیوں پہ بیٹھ کر اسکا انتظار کرنے لگی 
کہ اچانک اسکی نظر سامنے سے آتے اسد پہ پڑی جسکا ہاتھ کسی لڑکی کے ہاتھ میں تھا
پینٹ شرٹ پہنے دوپٹے سے بے نیاز وہ لڑکی یونی کی سب سے خراب لڑکیوں میں سے ایک جانی جاتی تھی۔۔۔۔
حیا نے حیرت سے اسد کو دیکھا اور اس کے پاس چلی آئ۔۔۔
"حیا یہ لیزہ میری گرل فرینڈ"۔۔
اسے آپنے کانوں پر یقین نہیں آیا تھا وہ یہ کیا بول رہا تھا اور اسکے کانوں نے کیا سنا تھا۔۔۔
"یہ کون ھے جان"۔۔۔؟؟
لیزہ نے ایک ادا سے بالوں کو پیچھے کرتے ھوئے کہا
"یہ حیا ھےھمارے آفس میں جاب کرتی ھے"۔۔۔
"اچھا حیا ھم چلتے ھیں"۔۔۔
اور وہ دونوں حیا کی دنیا تباہ کر کے وہاں سے چلے گئے

**********★★★***********

"سر میں ریزائن کرنا چاہتی ھوں" حیدر کے سامنے بیٹھی حیس نےبولا تو حیدر حیراں ھو کر دیکھنے لگا..
"لیکن حیا اسکی کوئ وجہ"۔۔۔؟؟
حیدر نے پرشانی سے پوچھا۔۔۔
"نو سر وہ بس گھر میں امی اکیلی ھوتی ھیں اسلئے"۔۔۔
"لیکن حیا"۔۔۔
"سر پلیز میں یہ جاب چھوڑنا چاہتی ھوں وہ ازمیر کی بات کاٹ کر بولی"۔۔۔
حیدر اسکی بات پر چپ ھو گیا وہ دیکھ رہا تھا کے حیا فیصلہ کر چکی ھے اب نہیں مانے گی۔۔۔
"اوکے اپکی مرضی آپ ریزائن لیٹر سائن کر دیں"۔۔۔
حیا نے سائن کر کے جاب کو خیر باد کہہ دیا۔۔۔

**********★★★***********

حیا نے خود کو گھر میں مصروف کر لیا تھا
ایمان کی فیملی اسلام آباد شفٹ ھو گئی تھی پہلے تو ایمان آجاتی تھی لیکن اب وہ بھی نہیں آ سکتی تھی۔۔۔ حیا گھر کے کام کے بعد بور ھو جاتی تھی۔۔۔
اسکی سوچوں میں اب بھی اسد رہتا تھا اور وہ اسکی بے وفائ کا دکھ لیے راتوں میں روتی تھی
پہلے ایمان سے وہ سب شیئر کر لیتی تھی اب اسکی ایسی کوئ دوست بھی نہیں تھی وہ اندر اندر جلتی تھی۔۔۔
وہ سارے کام کر کے ابھی آ کر بیٹھی ہی تھی کے دروازے کی گھنٹی بجی۔۔۔
"جی کون"۔۔۔؟؟
پوچتے ساتھ ہی اسنے دروازہ کھول دیا اور مسز احمد کو دیکھ کر حیران ھو گئی۔۔۔
"آ۔آ۔آ۔آپ"۔۔۔؟
"جی بھی ھم کیوں نہیں آسکتے"۔۔۔؟
وہ وہیں کھڑے کہنے لگی حیس کو شرمندگی کا احساس ھوا۔۔۔
"نہیں ایسی بات نہیں اندر آئیں پلیز اور انھیں لے کر ڈرائنگ روم لے آئی"۔۔۔
امی کہاں ھیں انھوں نے بیٹھتے ھوئے پوچھا۔۔۔
"جی میں بلا کر لاتی ھوں وہ کمرے میں ھیں" اور امی کو بلانے چلی گئی۔۔۔
ان کے جانے بعد امی میرے پاس کمرے میں آئیں.
"بیٹا مسز احمد تمھارے رشتے کے لیئے آئی تھی"
وہ کھانا کھا رہی تھی جب اسکی امی نے بولا اسنے چونک کر دیکھا تو کیا اسد نے۔۔۔۔؟؟؟
وہ سوچ ہی رہی تھی کے اگلے الفاظ سن کر اسپر بمب گرا۔۔۔
"حیدر شاہ کے لیے بول رہی تھی۔۔۔ شادی میں جان پہچان ھوئی تھی اچھا بچہ ھے"۔۔۔
اسے کچھ سنائی نہیں دے رھا تھا ایسا لگا کے گھر کی چھت اسپر گر گئی ھے۔۔۔ 
حیدر کے نام پر وہ پھٹی آنکھوں سے امی کو دیکھے گئی۔۔۔۔
"حیدر" نوالہ اسکے گلے میں اٹک گیا۔۔۔اسکی سوچ میں بھی
بھی نہیں تھا کے کبھی ایسا ھوگا۔۔۔
امی اسے حیران چھوڑ کر برتن کچن میں رکھنے چلی گئی۔۔۔
"سر حیدر۔۔۔ اوہ مائی گاڈ اسد کیوں نہیں"۔۔۔؟؟؟
"یا اللہ یہ کیسی آزمائش ھے کیسا امتحان ھے میں نے اسد کو چاہا تھا اسد کی پسند بن کر۔۔۔ اب سر حیدر کی بیوی۔۔۔ اسی گھر میں کیسے رہ سکتی ھوں۔۔۔
نہیں مجھے نہیں کرنی شادی ان س" وہ کمرے میں بند سوچوں میں گم تھی۔۔۔۔
تو پھر کیا تم ساری زندگی اسکا روگ لے کر بیٹھی رہو گی۔۔۔؟
تم حیدد سے شادی کے لیے ہاں کہہ دو۔۔۔
تم بھول جاؤ گی اسے اور تمھے اک ھی چھت کے نیچے اپنی بھابھی کے روپ میں دیکھ کر جلتا رہے گا۔۔۔
تمہیں اس سے بدلا لینا چاھیے۔۔۔ اسنے تمھارے ساتھ غلط کیا۔۔۔
ھاں میں بدلا لوں گی حیدر سے ھی شادی کروں گی۔۔،
میں تمھیں برباد کر دوں گی اسد شاہ"۔۔
وہ خود سے سوال جواب کرتے روتے ھوئے کب سو گئی اسے پتا نہ چلا۔۔۔

**********★★★***********

آج حیا کی حیدد کے ساتھ منگنی تھی۔۔۔
ایک ماہ بعد کی ڈیٹ شادی کے لیے فکس کی گئی تھی۔۔۔
حیدر کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ تھا۔۔۔
آج اسکی من چاہی لڑکی اسکے نام سے منسوب ھو گئی تھی۔۔۔
حیا کے دل میں بدلے کی آگ جل رہی تھی۔۔۔
اپنے ھونٹوں پر مسکراھٹ جمائے سٹیج کے سامنے بیٹھے اسد کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔۔
نا چاھنے کے باوجود اسے آنا پڑا تھا لیکن اسکا دل حیا کو سجے سنورے دیکھنے کو مچل رھا تھا وہ چلا آیا تھا۔۔۔
وہ ہمیشہ اسے اس روپ میں دیکھنا چاہتا تھا لیکن اپنے بھائی کی دلہن نہیں اپنی چاہت کے روپ میں۔۔۔۔
پنک فراک میں حیا بہت پیاری لگ رھی تھی حیدر کی نظر اس سے نہیں ھٹ رھی تھی۔۔۔ 
حیا کے چھرے پر آج شرم نہیں بلکے بدلے کی مسکراھٹ تھی۔۔۔
وہ نظرے نیچے کر کے بھی اسد شاہ کا ھال بتا سکتی تھی۔۔۔
اسد سائڈ پر کھڑا دونوں ھاتھ باندھے سب دیکھ رہا تھا اسکا دل تڑپ رھا تھا۔۔۔
اسکا بھائی اب اسکی حیا کی انگلی میں ڈائمنڈ رنگ پہنا رہا تھا۔۔۔
اس سے آگے وہ نہیں دیکھ سکا اور تیزی سے چلتے ھوئے باھر نکل گیا۔۔۔
اور ساری رات سڑکوں پر گاڑی گھماتا روتا رہا تھا۔۔۔
**********★★★***********

جاری ہے


 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney