"وفا ہے حسن محبت کی"

قسط 5 آخری 


دونوں گھروں میں شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں ایمان بھی اسلام آباد سے آگئی تھی
وہ دونوں مایوں کے دن باتیں کر رہی تھیں ۔۔۔
"حیا پہلے کیوں نہیں بتایا کے جسے تم پسند کرتی ھو وہ حیدر ھے۔۔۔"
حیا نے حیدر کے نام پر سر اٹھایا اور بولی
" میں نے ایسا کب کہا۔۔۔؟؟؟"
"ارے تم نے نی تو ایک دفعہ بتایا تھا کے جسے تم پسند کرتی ھو وہ تمھارے آفس میں سے کوئ ھے اور کہا تھا جب وقت آۓ گا تو نام بتا دو گی کچھ پتا نہیں کے وہ لائک کرتا بھی ھے یا نہیں۔۔۔"
ایمان اپنی دھن میں بولتی جا رہی تھی اور حیا دھواں ھوتے چھرے سے اسد کو یاد کر کے رونے لگی۔۔۔
"ارے پاگل کیا ھوا رو کیو رہی ھو۔۔۔ او اچھا شادی ھو رہی ھے اسلیے۔۔۔
شادیاں تو سب کی ھوتی ھیں اپنا گھر چھوڑ کر پرائے گھر سب نے جانا ھوتا ھے۔۔۔حیدر تمھے بہت خوش رکھے گا نا رو۔۔۔"
ایمان کی باتوں پر اسکے رونے میں تیزی آگئی اور ھچکیاں بندھ گئی۔۔۔
ایمان ھر بات سے انجان یہ سمجھ کر چپ کرواتی رہی کے گھر چھوڑنے پر رو رھی ھے۔۔۔۔

**********★★★***********

مہندی کے دن حیدر کے نام کی مہندی ماھم کے ھاتوں پر خوب سجھ رہی تھی۔۔۔
مہمان آنا شروع ھوگئے تھے ایمان مہمانوں کو سمبھالنے میں بہت مصروف تھی اور یوں
آخر کار بارات کا دن آیا حیا سرخ عروسی جوڑے میں آسماں سے اتری ناذک پری لگ رھی تھی۔۔۔ 
ایمان اسکے ساتھ تھی۔۔۔
وہ لوگ ڈریسنگ روم میں حیا کا فوٹو سیشن کر وا رہی تھیں۔۔۔
تب ہی کچھ کڑکیاں اندر شور مچاتے ھوۓ آئ ۔۔۔
"ھائے لڑکے نے شادی سے انکار کر دیا ھے۔۔۔"
ایمان ایک دم پرشان ھو کر کمرے سے نکلی تو فوٹو گرافر بھی اسکے پیچھے چلا گیا۔۔۔
اور حیا وہاں اکیلی بیٹھی اپنی بدقسمتی پر رونے لگی۔۔۔

**********★★★***********

"یہ کیا تماشا ہے حیدر تم ہم سب کو یہاں کیوں لائے ہو" 
احمد شاہ نے غصہ سے حیدر کی طرف دیکھ کر کہا جو دلہا کے روپ میں گلے میں ہار ڈالے کھڑا تھا.
وہ سبکو یہاں ڈریسنگ روم میں لے کے آیا تھا جہاں حیا نظریں نیچے کر کے دھڑکتے دل کے ساتھ اگلے پل کا انتظار کر رہی تھی.
"پاپا آج دلہا میں نے نہیں اسد نے بننا ہے"
"بھائی یہ.........." اسد نے پھتی آنکھوں سے حیدر کو دیکھا جو اپنے گلے کا ہار اتار کر اسد کے گلے میں ڈال رہا تھا.
حیا نے ایک جھٹکے سے اپنا سر اٹھا کر دیکھا یہ وہ کیا سن رہی تھی.
"حیا آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں کہ آپ دونوں ایک دوسرے میں انٹرسٹد ہو..." وہ اب حیا کی طرف بڑھا
"یہ سب کیا ہے باہر سب انتظار کر رہے ہیں اور تم یہ ڈرامہ لگا رہے ہو"
"پاپا یہ ڈرامہ نہیں سچائی ہے" 
حیدر نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ڈائری آگے بڑھائی جو حیا نے پکڑ لی.
یہ اسد کی ڈائری تھی جو حیدر اسے ڈھونڈھنے کی غرض سے کمرے میں گیا اور اسکے سائڈ ٹیبل پر یہ ڈائری دیکھ کر پڑھتا چلا گیا اور حیرانیوں میں ڈوبتا چلا گیا.
ایمان نے ڈائری لیتے ہی پڑھنا شروع کیا.
ڈائری کے پہلے صفحے پر اسکی اور اسد کی تصویر لگی تھی.
"آئی لو یو حیا" لکھا تھا.
اس نے دوسرا صفحہ کھولا اسپر کارڈ لگا تھا جو اسد نے سوری کا حیا کو دیا تھا.
وہ یونہی ورق پلٹتی چلی گئ.

**********★★★***********
"تم مجھے پہلے دن ہی اچھی لگی جب ہمارے آفس پر جاب کے لیے آئی اور مجھے تمہارے پاس رہنا اچھا لگتا.
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تم میرے دل میں اترتی گئ.
آج میں نے تمہیں پہلی بار اتنا تیار ہوتے ہوئے دیکھا تمہاری آپی کی منگنی میں اور تم یہاں تھی میں دیکھ کے حیران تھا آج میری حیا مجھے دنیا کی سب سے الگ لڑکی لگی.
جب تم میری ضد پر آج میری گاڑی میں پہلی بار بیٹھی تھی شاید کوئی بھی لڑکی آج پہلی بار بیٹھی تھی. آج میں نے سوچ لیا تھا تم سے اظہار کر دونگا اور تمھیں بارات لے کے آنی والی بات کا اشارہ دے کے چلا گیا لیکن مجھے اس دن پتہ چلا تم بھی مجھے پسند کرتی ہو اور کیوں کہ تمہارے چہرے پر کافی رنگ آئے تھے جس میں ایک رنگ شرم کا بھی تھا.

آج میں گھر والوں کے سامنے تمہارا نام لینے ہی لگا تھا شادی کے لیے کہ.......
اچانک بھائی کے منہ سے تمہارے نام شادی کے لیے سن کے میں ٹوٹ گیا.....
میں آج اسد شاہ حیا کے لیے بہت رویا کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا بھائی یا پھر حیا.......
اور پھر میں نے تمہیں اگنور کرنا شروع کر دیا.
چلو اتنا تو اسرا تھا تم میرے سامنے رہو گی. 
مجھے اندازہ ہے تمہیں دھوپ میں چھوڑ کے تمہیں کتنی تکلیف ہوئی ہوگی. تم پر کیا گزر رہی ہوگی جب میں نے تم سے اجنبی لہجہ اختیار کیا جب کسی اور لڑکی کا ہاتھ تھام کہ اسے اپنی گرل فرینڈ بتا کہ تمہارے سامنے سے گزرا.....
مجھے معاف کرنا حیا مجھے معاف کرنا......

**********★★★***********

ایمان یہ سب پڑھتے صوفے پر بیٹھتی چلی گئ.
"او میرے الله"
اسنے اپنے سر کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا پھر ایک جھٹکے سے اٹھی اور حیا کا ہاتھ پکڑ کہ ذور سے جھنجوڑ دیا.
"کیا کرنے جا رہی تھی تم ہاں ایک بار تو مجھ سے کم از کم کہتی تم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہو...وہ لڑکا جو تمہارے آفس میں تھا وہ حیدر نہیں اسد تھا...."
وہ اب کمرے میں سبکو چیخ چیخ بتا رہی تھی ساتھ کھڑے مرتضی نے ڈائری لے کہ اسے پڑھناے لگا.....
"اور اسد تم تو کسی کو کچھ بتاتے کم از کم بھائی کو کچھ تو بتاتے"
ایمان اب تک سکتے کی حالت میں تھی.
حیا کے آنسو آنکھوں سے رواں تھے.
"ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا" مرتضی نے ڈائری سائڈ پر رکھتے ہوئے ہاتھ مسلتے ہوئے کہا.
"شکر ہے حیدر تم نے سب وقت پر بتا دیا ورنہ یہ دونوں تو پاگل اپنی زندگی برباد کر نے جا رہے تھے"
"نہیں بھائی پہلے آپ نے فیصلہ لیا تھا سو حیا پر آپکا حق ہے" اسد نے سر جھکا دیا ندامت سے.
"کس نے کہا پہلے فیصلہ میں نے لیا تھا میں نے تو زبان سے عہد کیا تھا پہکے فیصلہ تم دونوں کر چکے تھے میں اکیلا تھا اس عہد میں لیکن تم دونوں نے مل کے کیا تھا اور تم دونوں کے دل کے بیچ میں اسطرح میں کیوں آوں نہ خود خوش رہوں اور نہ میرا بھائی میرے جذبات یک طرفہ تھے اور انکا ہونا نہ ہونا ایک برابر ہے مجھے تم دونوں کی خوشی چاہئے اور اسی میں میری اور سبکی خوشی ہے...."

**********★★★***********

"نکاح خواں واپس جا رہے ہیں جلدی آ جائیں" رشتے دار خاتون کو جیسے ہی باحانہ ملا وہ کمرے میں جلدی سے جاھنکے چلی آئی.
"چلو اسد نکاح کے لیے دیر ہو رہی ہے" 
خاتوں اسد کے گلے میں ہار دیکھ کے حیران ہو گئ.
"ارے دلہا تو حیدر ہے نا......پھر یہ اسد........"
"نہیں خالہ دلہا اسد ہی ہے ہم نے تو بس حیدر کو دلہا بنانے کی تیاری کروائی تھی."
مرتضی کی بات پر سب ہنس دیے اور آنٹی کو حیرت میں چھوڑ کر سب باہر چلے گئے.

**********★★★***********

"آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں آپ مجھے کیوں اگنور کر رہے تھے..."
لال جوڑے میں اسد کے کمرے میں اسکی دلہن بن کے وہ اس سے سوال کر رہی تھی.
"بتا دیتا تو مجھے کیسے پتا چلتا کہ تم مجھ سے کتنا پیار کرتی ہو تمھے فرق پڑھتا بھی ہے کہ نہیں"
اسکے جواب پر حیا نے گھور کے دیکھا.
"بھائی کی بہت فکر تھی حیا کی نہیں"
حیا نے منہ بناتے ہوئےکہا
"فکر تو دونوں کی تھی اب دیکھو نہ بھائی سے ہوتی شادی تو تم سامنے رہتی اور بھائی کو بھی مل جاتی..."
اسد نے شرارت میں کہا.
اسکی بات پر حیا نے ذور سے ہاتھوں کا مکا بنا کر اس پر وار کیا.
"ارے ارے یہ کیا کر رہی ہیں ہمارے یہاں شریفوں کی بیویاں شوہروں سے لڑتی نہیں ہیں.."
حیا نے اسے ایک تکیہ کھینچ مارا اور اسد نے اسے اپنے پاس کر لیا.
اسکی دھکتی سانسیں اسکے چہرے پر تھی. حیا نے نگاہیں جھکا لیں.
"اب بس کیوں کر دی پیار کی لڑائی نہیں کرنی" اسد نے اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھی. وہ بلش کر گئ.
اسد نے اپنی بانہوں کا گھیرا تنگ کیا وہ اسمیں سماتی چلی گئ. آپنے ہونتوں کو اسکے ہونتوں پر رکھتے ہی اس نے کمرے کی روشنی مدھم کر دی.
حیا نے خود کو اسکی محبت کے سپرد کر دیا.
اس گھر کی چھت کے نیچے آج اسے اپنی دعاوں اور دل کی رضا مل گئ تھی اور وفا ہے حسن محبت کی آج بن کر اسے مل چکی تھی. اور وہ اپنی زندگی کے نئے سفر کا آغاز کر چکے تھے ایک دوسرے کے ہم نشین بن کے............

❤❤❤❤❤ The End ❤❤❤❤

 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney