اپنے والدین کو عزت دیں


اکیس دن دو مہینے اور دو سال ہوئے میں نے اپنی ماں کی آواز نہیں سنی، نہ ماں کے گلے لگا، اور نہ ہی اس عظیم جنت کو دیکھا ہے،ایک ایک پل بہت مشکل سے گزر رہا ہے ماں کے بغیر۔شام کو گھر تھکا ماندا آجاؤں ماں گھر پر نہ ہو تو دل زور زور سے رونے کو کرتا ہے۔میں سوچتا ہوں کہ جو لوگ اپنی والدین کی قدر نہیں کرتا ان کو ڈانٹتے ہیں آخر ان کا کیا ہوگا،یہ لوگ تو دنیا میں اپنی جنت کو جہنم میں بدلنے پر تلے ہوئے ہیں۔اس ذات کی قسم میرا تو جب بازارمیں ضعیف العمر عورت پر نظر پڑتا ہے تو رونا آتا ہے اپنی ماں کی کمی کا احساس ہوتا ہے۔روز اسی کشمکش میں دن گزرجاتا ہے کہ کب رات ہوگی کہ بستر پر لیٹ کے اپنی ماں کے ساتھ بیتے لمحے یاد کروں،پہلے رات کی تاریکیوں سے نفرت سی ہوتی تھی اور اسی انتظار میں اکثر نیند نہیں آتی تھی کہ کب صبح ہوگی کہ کھیلنے کھودنے جائے لیکن کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ جس چیز سے انسان دور بھاگتا ہے وہ اصل میں اسی چیز کے پیچھے بھاگتا ہے۔اور وہی میرے ساتھ بھی ہوا ہے کہ جب اسی تاریکی میں اپنے بستر پر لیٹ جاتا ہوں تو عجیب خیالات ذہن میں آجاتے ہے اکثر تو رو رو کے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کردیتا ہوں،میری ماں نے کس قدر تکالیف سہے میرے لئے اور اب جب میرے کمانے کا وقت آگیا تو میری ماں نے اپنی آنکھیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کردئیے۔مجھے اپنی ماں کی وہ آخری رات اب بھی یاد ہے جب میری ماں جائے نماز پر بیٹھی رو رہی تھی میں سامنے آکر بیٹھ گیا اور کہا کہ امی آپ کیوں رو رہی ہو،دیکھوں میں سامنے بیٹھا ہوں میرے لئے دعا کرو کہ میں آفیسر بن جاؤں ماں نے روتے روتے کہا کہ بیٹھا اللہ تمھیں اعلی مقام دے اور کامیاب کرے۔خیر میں بھی وہاں سے اداس ہو کے اٹھا کیونکہ ماں خفہ تھی اسکی وجہ سے،مجھے کیا پتہ تھا کہ یہ میری ماں کی آخری رات ہے اور بہت جلد مجھے چھوڑ کے جانے والے ہے،جب رات کے 1:30 بج گئے تو ماں نے کہا اسلام بیٹا ایک گلاس پانی دو،میں پانی لایا اور پانی پینے کے بعد امی نے کہا کہ بیٹا میرے دائیں ہاتھ میں درد ہے زرا مالش کردے مے مالش کرہا تھا،یہی میری ماں کی زندگی کے آخری چند لمحات تھے اور اک دم سے میری ماں کو ہرٹ اٹیک ہوا اور اس فانی جہاں سے کوچ کرگئی میں نے کافی آوازیں دے لیکن ماں نے میری ایک نا سنی ،وہ اک قیامت خیز رات تھی، ٹائم بہت تیزی سے گزر رہا تھا اور میں روتے ہوئے دل میں کہ رہا تھا کہ یا اللہ یہ ٹائم کچھ پل کے لئے روک دے کہ میں اپنی ماں کا خوب دیدار کرو،مگر کیا کرے وقت کبھی نہیں رکتا اور نہ گزرا ہوا پل واپس آتا ہے اس لئے شاعر نے پشتوں میں کیا خوب کہا ہے کہ 
مہ ئی مخ تہ پہ زور زیر کتلی نہ وہ
چی یہ مخ پہ کفن پٹ شو ارمان راغے
شعر کا مطلب ہے کہ میں نے کبھی انکے چہرے کو غور سے نہیں دیکھا تھا لیکن جب چہرہ کفن میں چپ گیا تب احساس ہوا ماں لفظ بہت وسیع معنی رکھتا ہے،ماں لفظ کافی کچھ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، ممتاز، قربانی، پیار، محبت، ایثار،عزم،حوصلہ،ہمدرد،دوست،محنت ،عظمت،لگن،بےغرضی،دعا،وفا،استاد،رہنما،خلوص،معصومیت،
سچائی،جنت،جزبہ،دیانت،ایمان،عبادت۔یہ سب ماں کی خوبیوں کا اک جھلک ہے ورنہ اس کل جہان میں الفاظ ختم ہوجائے گے،زمیں سے اسمان تک کتابیں لکھ دی جائے گی لیکن ماں کی خوبیاں لکھ کر پوری نہیں ہوگی ۔
مشکل راہوں میں بھی آسان سفر لگتا ہے
یہ میری ماں کی دعاؤں کا اثر لگتا ہے

ماں کی عظمت کیا ہوتی ہے یہ مثالیں دیکھ کے ہر انسان سمجھ جائے گا کہ واقعی ماں کی قدر کرنی چاہئیے
ایک دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک صحابی آیا اور پوچھا کہ میں نے اپنی معزور ماں کو اپنی کندھوں پر بٹھا کر حج کروایا ہے۔کیا میرا حق ادا ہوگیا ہے؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی تو اس ایک رات کا حق بھی ادا نہیں ہوا جس رات تو نے بستر گیلا کردیا تھا اور تیری ماں نے تجھے خشک جگا پر سلایا اور خود گیلی جگہ پر سوئی۔

ماں احساسات،احسانات،جزبات اور خوبیوں کا وہ بے مثال مجموعہ ہے جو سارے زمانے کے حالات، تکالیف،سختیاں،خود سہتی ہے مگر وہ ہر وقت اپنی اولاد کے لئے فکر مند رہتی ہے۔وہ ہر وقت اپنی اولاد کے لئے دعاگوں ہوتی ہے۔

ماں، کے پیار کا اندازا ہم کچھ اس طرح لگا سکتے ہیں کہ
15 مارچ کو میری سالگرہ تھی ،سالگرہ کی رات میں انتہائی خفہ تھا کیونکہ میری ماں موجود نہیں تھی۔رات کے 12 بجنے میں چند ہی منٹ باقی تھے کہ میں نے سونے کا ارادہ کیا،میرا موڈ آف تھا سالگرہ نہیں منانا تھا، ایسے میں 12 بج گئے اور مجھے میسجز اور کالز آنا شروع ہوئے سالگرہ پر مجھے اک سرپرائز دیا سب نے۔اب مجھے ایک میسج آیا جس میں ڈھیر سارا پیار تھا،سالگرہ کی مبارکباد دی اور پھر لکھا تھا کہ بیٹا میں نے تمھارے لئے 25000 یعنی پچیس ہزار درود پاک کا ختم کیا ہے اور یہ آپکی سالگرہ گفٹ ہے،میں حیران رہ گیا اور سوچتا رہا،خیر اسی کے ساتھ میری اداسی انتہائی خوشی میں بدل گئی۔پھر مجھے یقین ہوا کہ واقعی ماں تو ماں ہوتی ہے جتنا اپنے بچوں سے پیار کرتی ہے اتنا دوسروں کے بچوں کا بھی احساس رکتھی ہے۔اور وہ تھی شہید احمد علی شاہ کی والدہ جو آرمی پبلک سکول میں شہید ہوا تھا،اس کے فورا بعد مجھے ایک دوسرا میسج ملا جس میں نیک خواہشات اور دعاؤں کا اک گلدستہ بیجا تھا۔انکے دل میں بھی دکھ درد کے انبار تھے،انکا بھی جوان بیٹھا آرمی سکول میں دشمن کی گولیوں کا نشانہ بن کر شہید ہوا تھا،یہ بدقسمت ماں تھی شہید مبین شاہ آفریدی کی،جن کی نیک خواہشات اور دعاؤں نے میری مایوسی اور اداسی کو چند ہی منٹو میں ختم کردیااور اک نئی امید دلائی اور یہ بات غلط ثابت کردی کہ جن کی اپنی ماں باپ نہیں ہوتے انکے دکھ درد میں کوئی شریک نہیں ہوتا۔
ماں تیری عظمت کو سلام
 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney