بدتمیز لڑکے سے ہمدردی کا صلہ ایک نیکی

میں ایک بے حد غریب انسان ہو ں لوگوں سے لے کر پھٹےپرانے کپڑے پہنتا ھوں معذور ہوں اسلئے نوکر نھیں کرسکتا اپنی بیوی و گھر کا اکیلا سنبھالنے وا لا ہوں کئی کئی دن فاقوں میں گزر جاتے ہیں اپنے تب ساتھ نہیں دیتے جب غربت کے ڈیرے ھوں میں نے نوکری کہ ڈ ھو نڈنے کو پیر گھسائے لیکن کوئی بھلا دیتا ہے نوکری ا نپڑھ جاہل کو بالکل نہیں 'مجھ کو کسی نے نھیں پوچھا آخر کار ایک دن بیوی نے فیصلہ کر لیا کہ کیوں ناں دونوں خوکشی کر لیں میں نے اسے سمجھایا کہ نہیں ایسا سوچنا بھی مت خیر اس نے میری بات مان لی ھے میں فٹ پاتھ پہ بیٹھا ہر آتے جاتے راہگیر سے بھیک میں پانچ تین حاصل کر لیتا ہوں جس روپے سے میں اور میری بیوی روٹی خرید کے سوکھی ہی کھا جاتے ہیں مجبوری میں ناشکری اچھی کب ہوتی ہے سوکھی روٹی میں بھی خداکا شکر ا دا کرتے ہیں-

فٹ پاتھ پہ بیٹھا میں ہر گاڑی والے و را ہ گیر کے آگے ہاتھ پھیلاتا انھی میں ایک لڑکا بھی تھا جو اکثر مجھے میری غربت و حالت کا مذاق اڑاتا مجھ میں صبر بہت ہے خاموش کررھتا اور اسے دعائیں ہی دیتا لڑکا اکثر میرے منہ پر پان کی پچکاری تھوک کر موٹربائیک آگے کو بڑھاتا اور بھاگ جاتا کھاتے پیتے گھرانے کا کوئی بگڑا لڑکا تھا میں روزمرہ کے مطابق اپنی جگہ پہ بیٹھا تھا صبح کہ دس بجے کا وقت تھا لوگ آ نھیں رہےتھے جو ایک آدھ گزرا اس نے دھتکارا تھوڑی دیر بعد مجھے دور کچھ گہما گہمی دکھی میں دوڑا گیا پوچھنے پر مجھے لوگوں نے بتلادیا ایک لڑکے کی بائیک کوئی گاڑی ٹکر مار کے گزری تھی میں رش بنا ئے کھڑے لوگوں کو پیچھے دھکیلتا آگے بڑھا تو شاکڈ تھا وہی لڑکا پڑا تھا شدید زخمی حالت میں 'مجھے شدید حیرت ھوئی اس جمگھٹے میں بہت سےنوجوان٬ بوڑھے کھڑے تھے سب خاموش کھڑے تھےشایداسکی موت کےمنتظرتھے ان میں سے کسی میں ھمت نہ تھی کہ اس زخمی لڑکے کو اٹھا کے اسپتال لے جائے میں نے بوڑھے کندھوں پہ اسے ڈالا اور قریبی اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں لے آیا آدھ گھنٹے بعد وارڈ بوائے نے میرے آکر قریب آکر بتایا کہ اسے زخم کم آئے ہیں جس کے باعث اسکی بچت ہو گئی ھے ہوش میں آ گیا ھے آپ اس سے بات کر سکتے ہیں میں شرمندہ سا آگے ڈرتے قدم بڑھانے لگا دماغ نے سوچا تھا یہ اب ایسا کوئی چبھتا جملہ بولے گا کہ کوئی تیر سا جملہ پھینکے گا لیکن جب میں اسکے سامنے گیا تو حیرت زدہ نگاھوں سے مجھے دیکھنے لگا وارڈ بوائے قریب آکر بولا یہ صاحب آپ کو لے کر آئے تھے "میری طرف اشارا کیا بولا.

"آپ کے بتائے نمبرپر کال کر کے آپ کے والدین کو بلا لیتا ہوں ". وارڈ بوائے نے لڑکےسےکہا

" ہاںبیٹا میں ہی تمھیں لایا تھا جب کوئی تمھیں پوچھ نہیں رہا تھامرگئےھویازندہ ہو " 

وہ لڑکا شرمندہ سا بیٹھارہا. بابا مجھے معاف کر دو میں نے تمھیں ھمیشہ دھتکارا تمھیںلعن طعن کی شاید یہی میری سزا ہے " 

قسمت کا لکھا کوئی نھیں بدل سکتا "تمھارا نام کیا ھے میں اسکے قریب آکر اسکے سر پہ ہاتھ پھیرتا بولا 

بابا میں.............!"درد کی لہراس کے بازو سے ہو کر گزری تو ٹھہر کے دوبارا بولا آپ میرے گھر کے سرونٹ بن سکتے ھو اگر آپ راضی ہیں تو آپ کی ڈیڈ سے بات کروں.

وہ میرے جواب کا منتظر تھا .

پرستائش نگاھوں سے اسے دیکھتے ساتھ میں نے ہاں میں سر ہلا دیا.
 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney