کاش! ایسا ہوتا،ویسا نہ ہوتا

ڈاکٹر صاحب کی دوسری شادی کو ڈھائی سال ہوچکے ہیں اور کونسا دن ہے کہ گھر میں ہنگامہ برپا نہیں ہو تا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زندگی کے بہت سے اہم موڑ ایسے ضرور ہوتے ہیں جن میں کیئے گئے فیصلے" کاش" کا حصہ بن کر انسان کی زندگی کا لازمی جُز بن جاتے ہیں جنکو وہ زندگی بھر فراموش نہیں کر سکتا۔

انسان اپنے تمام معاملات بہترین طریقے سے حل کرنے کا خواہش مند ہوتا ہے۔ اُسکی اولین کوشش ہوتی ہے کہ وہ اُس ہی کام پر توجہ دے جسکا اُسکو شوق ہوتا ہے۔ لیکن داخلی سوچ پر خارجی پہلو ہمیشہ غالب رہتے ہیں ۔ لہذازیادہ تردوسروں کے فیصلے حاوی ہو جاتے ہیں۔گو کہ ہمیں انسان تین طرح کے ملتے ہیں ۔ایک زندگی کے معاملات میں آگے بڑھنے کیلئے ہر قسم کافیصلہ کرنے میں آزاد نظر آتا ہے۔ دوسرا درمیان میں رہتا ہوا نظر آتا ہے۔ یعنی کہیں فیصلے کے مطابق وہ کام کر گز رتا ہے اور کہیں دوسروں کے کہنے پر رُک جاتا ہے۔تیسرا سب سے زیادہ دلچسپ ہوتا ہے۔ یعنی نہ بذاتِ خود کوئی فیصلہ کر پاتا ہے اور نہ ہی دوسروں کے مشورے پر آگے بڑھنے کی کوئی کوشش کرتاہے۔ بلکہ وہ شاید سب زیادہ پکا فیصلہ کر چکا ہو تا ہے کہ چاہے کوئی کچھ بھی کہے وہ زندگی ایک متوازن سطح پر ہی گزارے گا۔لیکن دلچسپ یہ ہوتا ہے کہ تینوں طرح کے انسانوں کے معاملات کا تعلق ایک اہم لفظ "کاش"سے منسلک ضرور نظر آتا ہے۔اس ہی طرح کے انسانوں میں سے ایک ڈاکٹر صاحب کی زندگی کا واقعہ بیان کیا جارہا ہے تاکہ اندازہ لگایا جاسکے کہ اُنکے لیئے "کاش"کی اصطلاح کیا اہمیت رکھتی ہے۔ 

ڈاکٹر صاحب کا دوسری شادی کا فیصلہ
شمالی لاہور کے ایک گھر میں ڈاکٹر صاحب اپنی بیوی ،3بیٹوں اور 3بیٹیوں کے ساتھ سکون کے ساتھ سادہ زندگی گزار رہے تھے۔ جولائی کی ایک رات وہ اپنے کلینک سے گھر واپس جارہے تھے کہ راستے میں اچانک اُنکی موٹر سائیکل خراب ہو گئی اور وہ گھر لیٹ پہنچے۔ بیوی سے کچھ گفتگو کی اور اُوپر چھت پر جا کر سو گئے۔بچے وہاں پہلے ہی سو رہے تھے۔ابھی سوئے چند لمحے ہی ہوئے تھے کہ بیوی نے اُنکو جگا کر کہا کہ اُسکی طبعیت خراب ہو تی جارہی ہے اور پھر اچانک پیٹ میں درد کی شکایت شروع ہو گئی جو صبح تک "ڈائریا"کی شکل اختیار کر گئی۔اس دوارن ڈاکٹر صاحب نے دوائی بھی دی لیکن افاقہ نہ ہونے کی وجہ سے اپنی بیوی کو جیل روڈ،لاہور کے ہسپتال لے گئے جہاں اُسکا فوراًعلاج شروع کر دیا گیا اور پھر دو تین گھنٹے بعد بہتر حالت محسوس ہونے پر اُنھیں واپس گھر بھیج دیا گیا۔


حبس و بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے تقریباً ایک گھنٹے بعد ہی بیوی کو پھر اُس ہی تکلیف کی شکایت ہو گئی۔ڈاکٹر صاحب نے اُسکی بہن کو اطلاع دی ۔جس کے آنے پر فیصلہ ہوا کہ اُسکو دوبارہ ہسپتال لیکر جانے میں ہی بہتری ہے۔ڈاکٹر صاحب نے جلدی سے ایک رکشہ لیا اور تینوں اُس میں سوار ہو کر ابھی چند فرلانگ پر ہی گئے ہوں گے کہ اُنکی بیوی اپنے خاوند کے ہاتھوں میں ہی دم توڑ گئی۔احتیاطً ہسپتال لے کر چلے گئے کہ شاید کوئی سانس باقی ہو لیکن وہ اس جہاں فانی سے رُخصت ہو چکی تھی۔یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس کا ڈاکٹر صاحب اور اُنکے بچے چند گھنٹے پہلے سوچ بھی نہیں رہے تھے اور اب آناً فاناً ایسا ہونے پر کہہ رہے تھے کہ " کاش" ایسا نہ ہوتا۔ لیکن یہی واقعہ آگے چل کر ایک ایسی کہانی کی شکل اختیار کر گیا کہ آج بھی اُس گھر میں سب ایک دوسرے کو کہہ رہے ہیں کہ "کاش" ویسا نہ ہوتا۔

ڈاکٹر صاحب نے زندگی میں کبھی اپنے گھریلو کام نہیں کیئے تھے اور اپنی بیوی سے کہا ہواتھا کہ بچوں سے بھی تب تک کوئی خانہ داری کا کام نہ لینا جب تک وہ اپنی تعلیم مکمل نہ کرلیں۔لہذا اب اُسکی وفات کے بعد ایک طرف خانہ داری کا مسئلہ لا حق ہو گیا اور دوسری طرف جب بچے اسکول و کالج چلے جاتے تو گھر کو تالا لگ جاتا۔ان حالات میں ڈاکٹر صاحب کو اچانک شوق چڑ ھ گیا کہ وہ دوسری شادی کریں گے۔سب نے سمجھایا ابھی تین چار سال ایسا کوئی قدم نہ اُٹھانا۔خاص طورپر تینوں بڑی بیٹیوں کی تعلیم و شادی کی ذمہداریوں سے فارغ ہونے تک۔دوسرا بیٹے تینوں چھوٹے ہیں اور خاص طور پر سب سے چھوٹا والا تو ابھی پانچ سال کا ہے۔ لہذا دوسری ماں 6بچوں کے ساتھ وہ سلوک نہ کر پائے گی جسکی آپ تواقع کر رہے ہیں۔گھر میں ناچاکی پیدا ہونے کا خدشہ نظر آرہا ہے اور بے سکونی میں جینا سب کیلئے مشکل ہے۔خاص کر جہاں بچوں کے مستقبل کا تعلق ہو۔ 

لیکن ڈاکٹر صاحب پر دوسری شادی کا ایسا بھوت سوار ہوا کہ اخبار میں ضرورتِ رشتہ کا اشتہار دے کر ایک ایسا رشتہ تلاش کر ہی لیا جس میں دونوں طرف سے کچھ جھوٹ سچ میں تبادلہِ خیال ہوا اور وہ مطلقہ خاتون اس بات پر راضی ہو گئی کہ وہ تما م بچوں کا خیال رکھے گی بمعہ اپنے ایک 12سالہ بیٹے کے جو اُسکے پہلے خاوند میں سے تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے چند قریبی دوست احباب سے تمام معاملے پرمشورہ طلب تو کیا لیکن دل میں اُنھوں نے اُس سے شادی کی ٹھان رکھی تھی۔موقف یہ تھا کہ مجھے اُس سے محبت ہو گئی ہے۔اُنکے گھریلو ماحول کے مطابق تو شادی نہ کرنے کا مشورہ ہی عام رہا ۔لیکن اگلے چند روز بعد ڈاکٹر صاحب نے اچانک اطلاع دی کہ اُنھوں نے نکاح کر لیا ہے۔جس پر ایک دوست نے صاف کہہ دیا کہ ڈاکٹر صاحب آپ خود ہی کنویں میں چھلانگ لگانا چاہتے تھے۔اب گہرائی ناپو۔

ڈاکٹر صاحب کی دوسری شادی کو ڈھائی سال ہوچکے ہیں اور کونسا دن ہے کہ گھر میں ہنگامہ برپا نہیں ہو تا۔دوسری بیوی سے بھی بیٹی پیدا ہو چکی ہے اور معاملات روز بروز بگڑ ہی رہے ہیں۔کون سچا ہے اور کون جھوٹا کیسے فیصلہ ہو ؟ خاص طور پر جہاں چار خواتین ہوں۔ایک بہت مشہور لطیفہ ہے کہ " دو خواتین محلے میں کھڑی ایک دوسرے سے کسی بات پر لڑ رہی تھیں اور ساتھ کہہ رہی تھیں کہ تُو جھوٹی ،تُو جھوٹی۔کچھ فاصلے پر کھڑے دو شخص یہ ماجرا دیکھ رہے تھے ۔اُن میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ بھئی جاؤ اس لڑائی کو ختم کروا دو ۔ دوسرے والا بولا کہ یہ کون ثابت کرے گا کہ ان میں سے سچی کون ہے"؟ بہرحال 6بچے احساسِ کمتری کا شکار ہو رہے ہیں اور دوسری بیوی پہلے دن سے ہی احساسِ کمتری کا رونا رو رہی ہے اور اس کہانی کا ہر کردار کہہ رہا ہے کہ "کاش"ایسا نہ ہوتا ۔" کاش"کوئی تو کسی کی مان لیتا۔ بلکہ ڈاکٹر صاحب سب زیادہ کہہ رہے ہیں کہ " کاش"میں ہی ایسا نہ کرتا۔ 

قدرتی نظام پر یقین رکھنے کے باوجود انسان اپنی محرومیت کا بوجھ "کاش" پر ہی ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ہاں یہ سوچ و فکر اہم ہو سکتی ہے کہ اُس میں انسان کے اپنے فیصلوں کا کتنا عمل دخل ہے اور کتنا واقعی کہیں لکھا ہوا ہے جو ہو کر رہے گا۔اُوپر بیان کی گئی کہانی میں ڈاکٹر صاحب کا فیصلہ کس زمرے میں آئے گااس کا فیصلہ تو ہرقاری اپنے طور پر ہی بہتر کر سکتا ہے لیکن زندگی کے بہت سے اہم موڑ ایسے ضرور ہوتے ہیں جن میں کیئے گئے فیصلے" کاش" کا حصہ بن کر انسان کی زندگی کا لازمی جُز بن جاتے ہیں جنکو وہ زندگی بھر فراموش نہیں کر سکتا۔جن میں سے 2قابلِ ذکرزیرِ بحث لاتے ہیں:
تعلیم:
علم تو قدرتی دین ہے لیکن بہتر تعلیم اُس میں نکھار پیدا کر دیتی ہے۔عملی زندگی میں چاہے کتنے ہی کامیاب ہوں لیکن اگر تعلیمی معیار کے مطابق سند حاصل نہیں کی ہوئی تو ایک تعلیم یافتہ کے سامنے اپنے آپ کو کمتر ہی سمجھیں گے اور اپنے قریبی رفقاء سے اسکا ذکر ضرور کریں گے کہ میرے والدین نے تو بہت کوشش کی تھی کہ دینی و دُنیا وی بہترین تعلیم حاصل کر لوں لیکن اُس وقت سمجھ ہی نہیں آئی ۔"کاش" میں اُنکی رہنمائی میں ایسا کر لیتا تو آج میرے پاس سب کچھ ہونے کے باوجود یہ شرمندگی تو نہ ہوتی۔بلکہ اگر کسی کو کامیابی حاصل 
نہ ہو تو وہ بھی یہی کہتا ہے کہ اسکی اہم وجہ اعلیٰ تعلیم نہ ہونا ہے۔ 

ملازمت و کاروباری فیصلے:
انسان اپنی عملی زندگی کا آغاز ملازمت یا کسی بھی کاروبار سے کرتا ہے۔لہذا بعض دفعہ ایسے مواقع آتے ہیں کہ متبدل میں ملازمت بھی ہوتی ہے اور کاروبار بھی۔یا دو ملازمتیں یا دو کاروبار۔حرفِ عام میں انسان کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ وہ دو کشتیوں میں سوار ہوگیا ہے۔اب کس میں قدم جمائے اور کس کو چھوڑے، انتہائی مشکل فیصلے کا وقت۔مشورے دینے والے بھی درمیان میں لٹکا دیتے ہیں۔بہرحال آخر کا ر فیصلہ کرنا ہی پڑتا ہے ۔پھر اگر نتائج مُثبت آنے شروع ہو جائیں تو نئی سوچ پیدا ہوجاتی ہے کہ" کاش" مستقبل میں ایسا ہو جائے اور اگر منفی تو "کاش"ایسا نہ ہی کرتا۔
 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney