!چار چیزوں ہوتیں اور چار نہ ہوتیں۔۔۔
ایک دفعہ حضرت موسیؑ نے مالک کائنات سے عرض کی کہ اے للہ! کیا ہی اچھا ہوتا کہ چار چیزیں ہوتیں او ر چار نہ ہوتیں۔
٭زندگی ہوتی اور موت نہ ہوتی۔
٭تندرستی ہوتی اور بیماری نہ ہوتی۔
٭جوانی ہوتی اور بڑھاپا نہ ہوتا۔
٭دولت ہوتی اور غربت نہ ہوتی۔
تو اللہ رب العزت کی طرف سے جواب آیا کہ
 اے موسیٰ
٭زندگی ہوتی اور موت نہ ہوتی تو میرا دیدار کون کرتا۔
٭تندرستی ہوتی اور بیماری نہ ہوتی تو مجھے یاد کون کرتا۔
٭جوانی ہوتی اور بڑھاپا نہ ہوتاتو میری عبادت کون کرتا۔
٭دولت ہوتی اور غربت نہ ہوتی تو میری شکر کون کرتا۔
یہ سن کر حضرت موسیؑ نے نہایت عاجزی سے سر جھکا یا کہ اللہ تعالیٰ کا ہر کام حکمت  و دانائی سے سر شار ہے۔ 

٭٭٭جب عمریں صرف ساٹھ سال تک ہوں گی٭٭٭
ایک عورت حضرت نوحؑ کے پاس آئی  اور کہنے گی کہ اے نوحؑ میرے بچے دو اڑھائی سال کے ہو کے وفات پا جاتے ہیں ان کی
لمبی عمر کیلئے دعا فرمائیے۔ حضرت نوحؑ مخاطب ہوئے
اے عورت! اللہ تعالیٰ کی شکر گزار بنو۔ ایک وقت آئے گا جب عمریں صرف ساٹھ سال تک ہوں گی      
عورت کہنے لگی
پھر تو وہ مکان بھی نہیں بنائیں گے، یونہی جھونپڑوں میں پڑے رہیں گے"۔"    
حضرت نوحؑ  پھر عورت       سےمخاطب ہوئے
 نہیں،  ان کے مکان ہمارے مکانوں سے زیادہ پختہ اور عالیشان ہوں گے۔
حضرت نوحؑ نے برسوں پہلے جو جو پیشن گوئیاں کی تھی وہ آج پوری ہو چکی ہیں۔اب عمریں شاذو نادر ہی ساٹھ سال سے اوپر جاتی ہیں۔ 

 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney