"خون کے رشتے"
ازقلم:زہرہ خالد
قسط نمبر 1
وہ ابھی کچھ دیر پہلے یونیورسٹی سے آئی تھی اور اب اپنے کمرے میں لیٹی آرام کر رہی تھی تب ہی تکیے کہ نیچے پڑا سیل بجنے لگا.. حورین نے بے زارگی سے سیل اٹھایا جہاں ”حسان کالنگ“ لکھا آ رہا تھا ....

وہ مسکرا دی اور کال اٹینڈ کر لی جی فرمائیے سلام کرنے کہ بعد حورین نے رعب دار لہجے میں کہا۔۔۔۔۔۔۔۔

”اوہ حد ہے آنی کبھی تو خوشگوار لہجے میں بات کر لیا کریں حسان نے منہ بسورتے ہوئے کہا“ اچھا خیر تم بولو” کیا کام ہے“ حورین نے مسکراہٹ دبائے کہا ...

”اف آپ کو یہ لگتا ہے میں صرف آپ کو اپنے کام کہ لیئے یاد کرتا ہوں ؟؟“ حسان نے خفگی سے کہا ”جی آج تک تو آپ نے اپنے کام کہ لیئے ہی یاد کیا ہے“ ”جیسے کہ کالج کا فارم جمع کرانا ہے، اور وہاں لائن لمبی لگی ہے، تب آپ کو میں یاد آتی ہوں، اور اگر کوچنگ میں کوئی اسائمنٹ ہے، وہ مکمل کرنا ہے ، تب آپ کو حورین آنی یاد آتیں ہیں“ ”اگر آپ کی امی جان نے آپ کو بازار بھیجنا ہے تو وہاں آپ کو اپنی کمپنی کہ لیئے حورین آنی یاد آتیں ہیں“ ”اب کی بار حورین نان اسٹاپ شروع ہو چکی تھی“ وہ اسے سارے لمحات یاد دلا رہی تھی۔۔۔۔۔

”اچھا اچھا بس کر جائیں“ ”اگر آپ کو قسمت سے مجھ جیسا بھانجا مل گیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اسے ہر وقت باتیں سنائیں“ حسان نے بے زارگی سے کہا ”اب کی بار حورین نے با مشکل مسکراہٹ روکی“ .... اور اس کو روکنے کے لیئے اسے” کھانسی کا سہارا لینا پڑا“۔۔۔۔۔۔۔

”اوہ ہو آنی پانی پی لیں “ حورین کو کھانستا سنتے ہوئے حسان نے فکر مندی سے کہا ۔۔” اہاں آپ کی آنی کو بے وجہ کھانسی نہیں آتی اب کی بار حورین نے شریر لہجے میں بھر پور طنز کیا“ ... اف آنی حد ہے حسان نے افسوس سے کہا

”اچھا خیر تم بولو نا کیا کام ہے“ حورین نے بیڈ پہ لیٹے لیٹے کہا ” وہ مجھے آپ کو ایک گڈ نیوز دینی تھی “ حسان نے جوشیلے لہجے میں کہا ” گڈ نیوز کیسی ؟؟ “ حورین نے حیرانگی سے کہا ... یہ تو مل کہ ہی بتاوں گا... حسان نے کہا... ہوں ٹھیک ہے تو تم گھر کب آو گئے ؟؟ آج شام حسان نے سوچتے ہوئے کہا۔۔ ہہم ٹھیک ہے پھر شام میں ملتے ہیں حورین نے ایک ہاتھ سے اپنا سر سہلاتے ہوئے کہا ... لیکن آنی میری ایک شرط ہے حسان نے چہکتے ہوئے کہا کیسی شرط حورین نے آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا.. آنی آپ کا بھانجا آپ کو ایک گڈ نیوز سنائے گا تو ظاہر سی بات ہے وہ اسکے بدلے کچھ لے گا بھی حسان شرارتی لہجے میں بول رہا تھااوہ کم آن صاف صاف بولو کیا چاہئے تمہیں...؟؟ حورین نے خفگی سے کہا وہ ایک ہاتھ سے ابھی بھی سر سہلا رہی تھی

” آنی شام کا ڈنر آپ میرے ساتھ کریں گئی ٹھیک ہے ؟؟“ حسان نے اس کے انداز کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا ... ”واٹ تم اور ڈنر یہ کیسا مزاک ہے ؟“ حورین نے حیرانگی سے کہا ”اوہ ہو بل کون سا میں پے کر رہا ہوں“ حسان نے ہنستے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔


” کیا مطلب؟؟ تم نہیں کرو گئے تو تمہارا بھوت کرے گا کیا ..؟“ 
اب کی بار حورین نے غصے سے کہا ” نہیں ....نہیں... آنی میرا بھوت نہیں میری پیاری سی آنی کی چڑیل پے کرئے گئ“۔۔۔

کیوں کہ ان کا بھانجا انہیں ایک گڈ نیوز سنائے گا تو ظاہر ہے حسان کی آنی اتنی غیرت مند تو ہیں کہ کچھ کھلا ہی دیں .... ”حسان کہ بچے کان کھول کر میری بات سن لو میں کوئی ڈنر کہ پیسے پے نہیں کرنے والی..“ مہینے کہ آخری دن چل رہیں ہیں اور تمہیں فضول خرچیاں سوج رہیں ہیں..

حورین خفگی سے بولتی ہی چلی گئی ... ”ہاہاہا اوکے تو پھر میں کوئی گڈ نیوز نہیں سناوں گا سمجھیں آپ “....حسان نے ناراضگی سے کہا ”اوہ ہو یہ کسی عجیب بات کر رہے ہو تم“ حورین اب اٹھ کہ بیٹھ گئی تھی ”صیح تو کہہ رہا ہوں ایک ہی میری آنی ہیں اور وہ بھی کبھی میری بات نہیں مانتی اب کی بار حسان نے زبردستی لہجے میں اداسی لائی“... 

اچھا اچھا اب زیادہ ایموشنل مت ہو میرے پاس صرف 1000 پیسے ہی بچے ہیں تو شام میں ڈنر اسی کا کر لیں گئے حورین نے سوچتے ہوئے کہا واو آنی آپ دنیا کی سب سے اچھی آنی ہیں تھینک یو سو مچ حسان نے خوشی سے کہا ... ”ویسے گڈ نیوز ہے کیا ؟ حورین نے پوچھا ”صبر آنی صبر اس کا پھل میٹھا ہوتا ہے“ ویسے اتنا بتا دوں آپ نے جل جانا ہے یہ گڈ نیوز سنتے ہی... حسان ہنستے ہوئے کہہ رہا تھا ” کیوں میں کیوں تم سے جلنے لگی بھلا ؟“... 

حورین نے کتابیں ریک میں لگاتے ہوئے کہا ”ہاہاہاہا ظاہر سی بات ہے جب میں آپ سے کسی چیز میں آگے بڑھوں گا تو آپ کیا کریں گئیں؟؟.... اف حسان بس کر دو ”تم میرے بیٹے ہو مجھے تمہاری ہر کامیابی پہ ناز ہے“ حورین نے خفگی سے کہا چلیں یہ شام میں طے ہو گا حسان نے شریر لہجے میں کہا

اوکے .. اب کال رکھ دو شاباش حورین نے ہنستے ہوئے کہا چلیں ٹھیک ہے شام میں تیار رہیئے گا میں ویٹ بلکل نہیں کرنے والا یہ جو آپ تیار ہونے میں اتنا وقت لگاتیں ہیں نا اس سے اچھا ہے.. ”بندہ آپ کو لے کہ ہی نا جائے“...اچھا اب زیادہ اتراو مت سمجھے..؟ ”میں جا رہی ہوں اپنی چائے بنانے“ تم کال رکھو اب حورین نے خفگی سے کہا ... ”میٹھی چائے پیئے گا تھوڑی مٹھاس آئے گئی آپ کے لہجے میں“.. ”حسان نے مسکراہٹ دبائے کہا “ ”میں نے تم سے مشورہ نہیں مانگا سمجھے...؟“

”ہاہاہا میں نے مشورہ دیا بھی نہیں نصیحت کر رہا ہوں آنی...“ حسان نے ذور دار قہقہہ لگاتے ہوئے کہا.... ”فائن تم اس قابل ہی نہیں کہ تمہاری کال اٹینڈ کی جائے.....“ غصے سے کہتی حورین نے کال کاٹ دی.... ” اور سیل ٹیبل پہ رکھ کہ کمرے سے باہر آ گئی ... ”حسان نے ہنستے ہوئے میسج ٹائپ کیا اچھا آنی سوری..“ اور اپنا ڈریس پریس کرنے کو نکالا ... ” حور بیٹا تم نے کھانا کھا لیا تھا دوپہر کا ؟ ... فاطمہ بیگم نے کچن میں چائے بناتی حور سے پوچھا نہیں امی، بھوک نہیں تھی مجھے.. ” کپ میں گرم چائے انڈیلتی“ حور نے سمپل سا جواب دیا

جاری ہے
 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney