"خون کے رشتے"
ازقلم:زہرہ خالد
قسط نمبر 2

حد ہے تمہاری تمہیں روز بھوک نہیں لگتی ؟"
ناشتے کے نام پہ تم ایک سلائس کھا کہ اٹھ جاتی ہو، کہ تمہیں یونیورسٹی سے دیر ہو جائے گئی، دوپہر میں تمہیں بھوک نہیں لگتی، رات میں تمہیں کھانا پسند نہیں میں” کروں تو کیا کروں اس لڑکی کا...“ فاطمہ بیگم نے سر پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ... کچھ نہیں کریں یہ چائے پئیں آپ .... حور نے چائے کا کپ ان کہ سامنے رکھا اور خود سامنے صوفے پہ بیٹھ گئی ” حور سدھر جاو کل کو دوسرے گھر بھی جانا ہے وہاں یہ سب کون برداشت کرے گا ..“؟؟ فاطمہ بیگم نے فکر مندی سے کہا ... حور خاموش رہی وہ ایسی ہی تھی جن معاملات میں اسے لگتا تھا کہ وہاں بولنے کا کوئی فائدہ نہیں، تو وہاں وہ خاموشی اختیار کر لیتی اس وقت بھی وہ خاموشی سے چائے کہ سپ لیتی سب باتیں سن رہی تھی... ”اچھا حور حسان آئے گا آج شام میں ..“ فاطمہ بیگم نے باتوں کہ درمیان کہا .. ”جی میری بات ہو گی ہے اس سے .. ”شام کا ڈنر ہم باہر کریں گئے “ کیوں بھئی خیریت...؟ فاطمہ بیگم نے حیرانگی سے کہا... ”جی امی خیریت ہے اسے کچھ بتانا تھا مجھے تو اس لیئے بول رہا تھا “ حور نے کہا .....”اچھا ٹھیک ہے “ فاطمہ بیگم یہ کہتے ہوئے کھڑی ہوں گئیں ... ”حور میں اور حسان میں زیادہ فرق نا تھا وہ اس سے صرف تین سال بڑی تھی.. وہ حسان کی صرف آنی ہی نہیں بلکہ اس کی بیسٹ فرینڈ تھی ہر چھوٹی سے چھوٹی، بات وہ حور کو بتاتا تھا، خود حور بھی حسان کو اپنی ہر بات بتاتی، وہ اس کا ایک ہی لاڈلا بھانجا تھا شاید اسی لیئے حور سے زیادہ کلوز تھا ...”شاید لوگ ٹھیک کہتے ہیں خون کے رشتوں میں محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے جو ہر لمحے بڑھتی ہی رہتی ہے “ 
حور ....!!! ” حسان آ گیا بیٹا“ ... ”حور جو لیپ ٹاپ کو آگئے رکھے.. کام میں بزی تھی امی کی بات سن کہ حیرانگی سے سامنے وال پہ لگی گھڑی دیکھنے لگی ..جہاں رات کہ دس بج رہے تھے ” اوہ شٹ مجھے احساس ہی نہیں رہا کہ وقت زیادہ ہو گیا ..”حور خود سے ہم کلامی کرتے جلدی سے بیڈ سے کودی .. ”آئی امی“... اور یہ کہہ کر واش روم میں گھس گئی... ”نانو یہ آپ کی جو بیٹی ہیں اتنا وقت تیاری میں کیوں لگاتیں ہیں ..؟؟ ”حسان جو پچھلے آدھے گھنٹے سے حور کا ویٹ کر رہا تھا اکتا کہ بولا... ”ارے تو تمہیں کیا جلدی ہے وہ لڑکی ہے تیاری میں وقت تو لگے گا..“ فاطمہ بیگم نے پان دان میں چھالیاں رکھتے ہوئے کہا.... واہ نانی واہ کیا بات کہی ہے ، آپ نے حسان نے خفگی سے کہا ”اچھا خیر جلدی واپس آ جانا رات کا وقت ہے“ اوہ ہو نانی یہ بات اپنی بیٹی کو سمجھایئں.... ”وہ یہاں سے نکلیں گئی تب ہی ہم یہاں واپس آیئں گئے ..“ حسان نے جلتے ہوئے کہا ... ”بہت طنز نہیں کرنے لگ گئے تم ...؟؟“ سامنے سے آتی حور نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا .. ” واو آنی واہ آپ بہت جلدی نہیں آ گئیں ،؟؟ ” اچھا چلو پتا ہے مجھے تم کتنے طنزیہ انسان ہو...“ حور نے خفگی سے کہا ”اچھا امی اللہ حافظ...“ ”اللہ حافظ نانو ...“ ”فی امان اللہ بیٹا دعا پڑھ کہ جانا ...“ ” باہر آ کہ حور نے آس پاس نظر دوڑائی ...حسان تمہاری بائیک کہاں ہے ؟؟ ” ہاہاہا بائیک کا زمانہ گیا آنی اب آپ کا بھانجا ایک عدد کار چلا سکتا ہے ...“ حسان نے ہنستے ہوئے کہا ”واٹ ؟؟؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟؟ کب سیکھی تم نے ...؟ حور نے حیرانگی سے کہا ” یہ تو اب سیکریٹ ہے اچھا چلیں تو باقی باتیں راستے میں کریں گئے ... ”ویسے آنی کیسا لگ رہا ہے میرا سرپرائز ؟ حسان نے ساتھ بیٹھی حور سے پوچھا جو ابھی تک شاک میں تھی... ”اٹس ایمیزنگ ..“ لیکن تم نے سیکھی کب؟ ” ہاہاہا یار آپ کا چہرہ دیکھنے والا ہے..“ حسان نے ہنستے ہوئے کہا ...” میں جو پوچھ رہی ہوں اس کا جواب دو..“ حور نے خفگی سے کہا... ”اف آنی حد ہے ہے بندہ تعریف کے دو بول ہی بول دے...” لیکن نہیں آپ نے تھوڑی بولنے ہیں...“ حسان نے افسوس سے کہا .. ” اچھا ایسا کرتے ہیں حسان کہ تم مجھے یہاں بیٹھنے دو اور مجھے بس تھوڑا سا سمجھا دو کہ کیسے چلانی ہے میں چلا لوں گئی ... حور نے بچوں کی طرح ضد کی ارے آنی کیا ہو گیایہ ڈرائیونگ ہے کوئی گیم نہیں جو اتنی آسانی سے آ جائے گا حسان نے اتراتے ہوئے کہا.. ”ٹھیک ہے مت سکھاو تم آئندہ میرے پاس بھی نہیں آنا سمجھے تم؟؟ “حور نے خفگی سے کہا ”ارے یار اچھا ٹھیک ہے میں سکھا دوں گا لیکن ابھی نہیں آنی کل سے آرام اور سکوں سے یہ ڈرائیونگ ہے اسے بہت تحمل سے سیکھتے ہیں اور سکھاتے ہیں “.... بلکے ایک کام کر لیتے ہیں جن سے میں نے سیکھی ہے ان سے آپ کی بات کر لیتا ہوں رائٹ؟؟ (وہ جانتا تھا حور نے کبھی نہیں ماننا جبھی تنگ کر رہا تھا) بلکل نہیں میں کسی اور سے ہر گز نہیں سیکھوں گئ سمجھے تم ؟؟ حور نے اسے گھورتے ہوئے کہا... اچھا اچھا ٹھیک ہے میں ہی سکھا دوں گا آپ کو لیکن ذرا ابھی ڈنر کر لیں؟ یا وہ بھی جب آپ کو ڈرائیونگ آ جائے گئی تب کریں گئے؟ حسان نے طنزیہ انداز میں کہا تم طنز مت کرو .. یہ کہہ کر حور باہر دیکھنے لگی. ”مجھے پتا تھا آپ نے یہ سب کرنا ہے“ حسان نے ہنستے ہوئے کہا... حور چپ ہی رہی ” ”ارے آنی اب ناراض تو نا ہوں میں نے بولا تو ہے کہ سکھا دوں گا “..”تم پہلے وعدہ کرو حور نے اسکی طرف ہاتھ بڑھایا ..” ہاں آپ کو تو یقین ہی نہیں ہے نا “ ...حسان نے خفگی سے کہتے ہوئے ”اسٹیئرنگ سے ہاتھ ہٹا کہ اس سے ملایا

جاری ہے
 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney