"خون کے رشتے"
ازقلم:زہرہ خالد
قسط نمبر 3
جی نہیں..... بلکل بھی نہیں ہے .. تم کتنے جھوٹے ہو، مجھ سے بولا تھا ،ساتھ سیکھیں گئے ...؟ اور اب خود سیکھ بھی لی اور بتایا بھی نہیں ..؟ حور ناراضگی سے کہ رہی تھی ... میں نے سوچا آپ کو سرپرائز دوں گا.... اسی بہانے آپ کچھ کہلا ہی دیں گئیں وہ شریر لہجے میں کہہ رہا تھا ....

” میری ٹیچنگ کا پہلا رول وہ حسان کہ ساتھ کار میں بیٹھی اس سے سیکھ رہی تھئ تب ہی حسان نے کہا ..... کیا رول ہے ؟ ” کہ آپ نے مجھے حسان نہیں ”سر“ کہنا ہے ....”حسان نے سنجیدگی سے کہا اب کی بار حور کی ہنسی چھوٹ گئی ...”تم اور میرے سر “؟؟ وہ ہنستے ہوئے کہہ رہی تھی..... ” آنی یار بی سیریس میں سنجیدہ مزاج کا” سر“ ہوں.... ”ہاہاہا حسان تم اور سنجیدہ ؟؟... ”آنی پلیز آپ مجھے سر کہیں “.... ”آپ نے نہیں سنا کہ جس نے مجھے ایک لفظ پڑھا دیا وہ میرا استاد ہے“ اور میں تو آپ کو ڈرائیونگ سکھا رہا ہوں حسان نے سنجیدگی سے کہا .... ہاہاہاہا بس... بس اب آپ ذرا سمجھانا شروع کریں حور نے کہا ....” قدر ہی نہیں میری خیر سنیں.....” یہ جو p لکھا ہے اس کا مطلب ہے پاور، جب آپ کی کار p پہ ہو گئ، تب اسٹارٹ ہو گئی. رائٹ ؟ .. ہوں ٹھیک... حور نے سر ہلایا...”جب آپ کار میں بیٹھیں گے تو سب سے پہلے سائڈ مرر درست کرنے ہیں پھر بیک مرر رائٹ؟“.... ہوں... ”یہ جو R لکھا ہے، اس کا مطلب ہے ریورس کرنا جب آپ R پریس کریں گئی تو کار ریورس ہو گئی رائٹ ؟... ” D کا مطلب ہے ڈرائیو مطلب اس پہ آپ کی کار آگئے کو چلے گئی....” N کا مطلب ہے نیٹورل مطلب رک جانا اس پہ کار رک جائے گئ ٹھیک ہے؟ ...“ یہ بیسک انفارمیشن ہے، ڈرائیونگ کہ بارے میں.... پہلے یہ یاد کر لیں پھر ہم چلائیں گئے ....؛ ”حسان نے یہ کہہ کر سیٹ سے ٹیک لگا لی “... ” حسان تم مجھے روڈ پہ کب سکھاو گئے ؟...“ حور نے بے چینی سے پوچھا ...” وہ جو آرام سے ٹیک لگا کہ بیٹھا تھا ، یک دم اٹھ گیا، ” آنی میں آپ کو کوئی ایلین لگتا ہوں؟ ..“ کیوں کیا ہوا ؟ حور نے پوچھا ...” حد کرتی ہیں آپ بھی آنی ، ” اچھا ابھی گھر جائیں کل باقی سمجھیئے گا حسان نے افسوس سے کہا ... ” ہاں ٹھیک ہے مجھے پتا ہے تم نے سکھانا ہی نہیں ہے، حور خفگی سے کہتی کار سے اتر گئی ....” اور حسان صرف یہ بول کر رہ گیا.....” واو آنی کیا خوب صلہ دیا ہے....“ ” حور کیا کر رہی ہو ؟ 
” فاطمہ بیگم نے اس کے کمرے میں آ کہ کہا “ ....”حور جو خاموشی سے بیڈ پہ لیٹی تھی سیدھی ہو کہ بیٹھ گئی...” کچھ نہیں امی بس لیٹی ہوئی ہوں ...” اچھا ٹھیک ہے ...“ ” یہ دودھ کا گلاس رکھ کہ جا رہی ہوں پی لینا یاد سے..“ فاطمہ بیگم نے سائڈ ٹیبل پہ دودھ کا گلاس رکھتے ہوئے کہا...” جی ٹھیک ہے حور نے آہستہ سے کہا....” اچھا حسان نے تمہیں ڈرائیونگ سکھائی؟ فاطمہ بیگم نے حور کہ پاس بیٹھتے ہوئے کہا ... جی ابھی تو صرف تھوڑا بہت بتایا ہے ، کہہ رہا تھا باقی کل بتائے گا، حور نے نرمی سے کہا چلو اچھا ہے، ” ڈھنگ سے سیکھنا، اور حسان کو زیادہ ڈانٹنا ،مت فاطمہ بیگم نے تاکید کرتے ہوئے کہا...” اف امی میں اس کو کیوں ڈانٹوں گئی بھلا ؟ حور نے خفگی سے کہا.....” کیوں کہ تم لوگ ساتھ ہو اور لڑوں نہیں یہ تو ایک ناممکن سی بات ہے....” حور وہ بچہ ہے لیکن پھر بھی تحمل مزاج کا ہے ، اور ڈرائیونگ کے لیئے تحمل اور ٹھنڈے مزاج کا انسان کا ہونا ضروری ہے، فاطمہ بیگم اب اسے سمجھا رہیں تھیں...” تو میں کون سی گرم مزاج کی مالک ہوں ؟ یا آپ کو یہ لگتا ہے میں گاڑی کو کہیں ٹھوک دوں گئی...؟؟ حور نے خفگی سے کہا ....” اللہ نا کرے کیسی لڑکی ہو ایسی باتیں منہ سے نکالتے بھی نہیں ہیں، اور ایک تم ہو کتنے مزے سے بولے جا رہی ہو...“ فاطمہ بیگم نے افسوس سے کہا ... آپ ہی تو کہہ رہیں ہیں... حور نے نظریں چراتے ہوئے کہا .... میں تمہیں سمجھا رہی ہوں ” کہ دھیان سے کرنا اور تم ہو کہ غلط مطلب لے رہیں..“ فاطمہ بیگم نے خفگی سے کہا ” حسان ٹھیک کہتا ہے کہ حور آنی کو ہر بات کی بہت جلدی ہوتی ہے..“ ” اچھا امی بس.... اب اس کی مثال نا دیں ...مجھے، حور نے بے زارگی سے کہا ....” پتا نہیں کب سدھرے گئی یہ لڑکی...“ فاطمہ بیگم زیر لب بولتے کمرے سے باہر آ گئیں ... ” حور آہستہ آہستہ اپنے سر کو سہلاتی کھڑی ہوئی ... اور ” سیل اور دودھ کا گلاس ٹیبل سے اٹھا کہ گیلری میں آ گئی...” موسم کافی خوشگوار تھا رات کہ وقت بھی ٹھنڈی ہوائیں چل رہیں تھیں.... وہ خاموشی سے دودھ پینے لگی، ” تب ہی سیل بجنے لگا ...، حور نے ایک نظر سیل کو دیکھا جہاں ”حسان کالنگ“ لکھا آ رہا تھا ... دودھ کا گلاس سائڈ پہ رکھتے ہوئے.. اس نے کال اٹینڈ کی...” جی فرمائیے سلام کرنے کہ بعد حور نے آہستہ سے کہا... ” اف دنیا میں کسی استاد کی ایسی شاگرد بھی ہو گئی جو اپنے استاد کو ڈھنگ سے سلام بھی نا کرے.... حسان نے خفگی سے کہا ....”آپ کچھ زیادہ خوش فہم نہیں ہو گئے ہیں ؟؟...“ حور نے شریر لہجے میں کہا .....” حد ہے آنی میں آپ کو ڈرائیونگ سکھا رہا ہوں، تو آپ کا سر ہی ہوا نا ؟؟ ...“ حسان نے خفگی سے کہا جی نہیں ...”بلکل بھی نہیں جناب ...“ حور نے مزے سے کہا ....” خیر مجھے پتا ہے آپ بہت بے مروت ہیں ...آپ کب قبول کریں گئی کہ میں آپ کو ڈرائیونگ سکھا رہا ہوں....” جی بلکل میں یہ کبھی قبول نہیں کروں گئی کہ ”حسان الہی “ مجھے ڈرائیونگ سکھا رہے ہیں.... حور نے ہنستے ہوئے کہا .....” ہاں.. ہاں پتا ہے آپ کتنی زیادہ بے مروت ہیں... ”اور آپ کتنے خوش فہم ہیں..“ حور نے ”ترکی با ترکی“ جواب دیا ....” اف آنی حد ہوتی ہے....“ ” کبھی میرا جیسا بھانجا بھی دیکھا ہے آپ نے ؟...“ ” ”اہاں بہت بار دیکھا ہے، یار بلکہ روز ہی دیکھتی ہوں.... حور نے مسکراہٹ دبائے کہا ” اچھا خیر آپ نے کبھی مجھے اپنا سر ماننا ہی نہیں ہے ... مجھے اندازہ ہو گیا ہے.....”

جاری ہے
 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney