"خون کے رشتے"
ازقلم:زہرہ خالد
قسط نمبر 4
مجھے اندازہ ہو گیا ہے.....” جی جناب بلکل“ حور نے ہنستے ہوئے کہا....” اچھا چلیں کل میں شام میں آوں گا تیار رہیئے گا..“ میں ویٹ بلکل نہیں کرنے والا سمجھیں آپ؟؟ ... حسان نے خفگی سے کہا ”اوکے جی...“ حور نے ہنستے ہوئے کہا

”ویسے کر کیا رہیں ہیں آپ اس وقت..“ ؟ حسان نے سوچتے ہوئے کہا میں اس وقت اپنے ایک عدد بھانجے سے باتیں کر رہی ہوں.... حور نے مسکراہٹ دبائے کہا

ہوں اور میری کال سے پہلے ؟ ....“ حسان نے فورا کہا.... ”تمہیں کیا کرنا ہے..؟ اب کی بار حور نے بے زارگی سے کہا ...

” اف آنی میں کیا کروں گا ؟...“ 

” پھر کیوں پوچھ رہے ؟...“

” ہاہاہا مجھے پتا ہے آپ کیا کر رہی تھی...” حسان نے خوشی سے کہا .

.. کیا کر رہی تھی؟... حور نے پوچھا 

نانی کا سر کھا رہی ہوں گئیں آپ... حسان نے مسکراہٹ دبائے کہا ... فضول اندازے مت لگایا کرو سمجھے ؟ حورین نے خفگی سے کہا

اچھا جی چلیں .... یہ بات آپ کی مان لیتا ہوں...“ حسان نے مصنوعی سنجیدگی سے کہا .

.. اچھا میں کال رکھ رہی ہوں نید آ رہی ہے مجھے....“ حور نے اسکی بات نظر انداز کرتے ہوئے کہا ... 

سونے کہ علاوہ بھی کوئی کام آتا ہے آپ کو ؟ پتا نہیں کیا کریں گئیں دوسرے گھر جا کر .... حسان نے خفگی سے کہا...

” تم نا میرے ابا نا بنوں تو بہتر ہے سمجھے ؟...“ 

ویسے آنی آپ کہ ہسبینڈ نے نا شادی کہ بعد ہمیں روز کال کر کہ کہنا ہے...” کہ اپنی اس آنی کو کچھ سکھایا بھی تھا یا نہیں ؟..“ حسان نے ہنستے ہوئے کہا

” حسان میں نے تمہارا منہ توڑ دینا ہے سمجھے تم ؟...“ حور نے خفگی سے کہا ” ہاہاہاہا میں سچ بتا رہا ہوں آنی ”تمہارے سچ کو آگ لگے“ حور نے غصیلے انداز میں کہا..

...” سچ کو آنچ نہیں آنی“... حسان نے ذور دار قہقہہ لگاتے ہوئے کہا.....” فائن تم اس قابل ہی نہیں کہ تمہاری کال اٹینڈ کی جائے غصے سے کہتی حور نے کال کاٹ دی اور سیل ٹیبل پہ رکھ دیا ..... 

”وہ جلدی سے عبایا پہن کہ باہر آئی، جہاں ”حسان “ کار میں بیٹھا اس کا انتظار کر رہا تھا 

بہت جلدی نہیں آ گئیں آپ ؟؟ ...حسان نے اسے آتا دیکھ کہ کہا ....”حور خاموشی سے دروازہ کھول کہ بیٹھ گئی...“

” صرف پندرہ منٹ لیٹ ہوئی ہوں...“ حور نے گھڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا 

” واو بہت بڑا احسان کیا ہے آپ نے صرف پندرہ منٹ لیٹ ہو کہ...“ حسان نے خفگی سے کہا

” اچھا بس اب تم سکھا رہے یا میں جاوں ؟؟ .... حور نے خفگی سے پوچھا

حد کرتی ہیں.... آپ بھی آنی خیر چلیں آپ یہاں آ جائیں آج باقاعدہ طور پر آپ کو ڈرائیونگ سکھا رہا ہوں حسان نے سنجیدگی سے کہا ... ہاں ٹھیک ہے ..

. اچھا کیا بتایا تھا میں نے آپ کو ؟ ”حسان نے حور کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

حور کچھ دیر خاموش رہی پھر بولی یار میں بھول گئی....” ماشااللہ مجھے آپ سے یہ ہی امید تھی....“ ” ایک ڈرائیور کی حیثیت سے آپ کا مستقبل شاندار ہے....” حسان نے سنجیدگی سے کہا.

...” اچھا نا اب دوبارہ بتا دو نہیں بھولوں گئی...“ حور نے آہستہ سے کہا ...

”ظاہر سی بات ہے مجھے ہی بتانا پڑے گا..“ حسان نے اتارتے ہوئے کہا ”ہاں تو میں نے کل آپ کو یہ بتایا تھا، کہ سب سے پہلے سائڈ مرر درست کرتے ہیں چلیں کریں آپ.....“ حور نے سائڈ مرر درست کیئے اب ؟ حور نے حسان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ” گڈ اب آپ اپنے ایک پاوں کو کو بلکل سائڈ پہ رکھ لیں اور دوسرے کو بریک پہ رکھیں ابھی آپ ریس کو استعمال نہیں کریں گئی...” یہ آٹو میٹک کار ہے اسمیں فی الحال آپ ریس سے دور رہیں یہ سمجیھیں۔۔؟ ریس آپ کی دشمن ہے اور بریک آپ کا دوست... ”رائٹ ؟ حسان نے سنجیدگی سے کہا ... ”اوکے حور نے اپنےپاوں کو بریک پہ رکھتے ہوئے کہا ...” اب آپ P پریس کریں .....”اور کار اسٹارٹ کریں حور نے کار اسٹارٹ کی گڈ اب آپ D کو پریس کریں..... حور نے D پریس کیا اسکے ساتھ ہی کار آگئے... کی طرف بڑھنے لگی


"ارے حسان یہ تو چل گئی حور نے بچوں کی طرح خوش ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

ہاہا ہا آنی ابھی آپ ڈرائیونگ پہ توجہ دیں ....” سامنے دیکھیں آپ نے بس سامنے آنے والی ہر چیز کو بچانا ہے...“

” آپ کے پاس بریک ہے آپ نے اسے یوز کرتے ہوئے دماغ کا استعمال کرنا ہے....“ حسان نے سنجیدگیسے کہا کیا ”مطلب ہے تمہارا میرے پاس دماغ نہیں ہے ؟...“ حور نے خفگی سے کہا ...

. ارے نہیں...” آنی وہ تو لیکن اسے یوز کرنا نہیں آتا نا“.....” آپ کو حسان نے ہنستے ہوئے کہا 

بھاڑ میں جاو تم حور نے اسٹیئرنگ پہ زور سے ہاتھ مارا وہ تو شکر کہ اسٹیئرنگ پہ....” حسان کا کنڑول تھا ورنہ تو حور نے گاڑی کو کہیں ٹھوک دینا تھا آنی کیا کر رہیں ہیں آپ ؟ ....حسان نے بروقت کار کو کنڑول کرتے ہوئے کہا .....”

حور نے خفگی سے اس کی طرف دیکھا لیکن خاموش رہی اچھا چلیں D کو پریس کریں ......دوبارہ حور نے خاموشی سے پریس کیا آنی بریک کا یوز کرتی رہیں...” آپ نے ہر اسپیڈ بریکر پہ بریک لگانا ہے...“ آہستہ سے.. ”وہ اسے سمجھا رہا تھا...” انڈیکیڑ کا استعمال کرنا ہے...“ ” جب آپ لیفٹ مڑیں گئی تب آپ اوپر کا انڈیکیڑ دیں گئیں....” اور جب رائٹ مڑیں گئیں تب آپ نیچے کا انڈیکیڑ دیں گئیں...“ حور اسکی بات سنتے ہوئے ویسے ہی کر رہی تھی ”وہ اسے اب گلی کے روڈ پہ لے آیا تھا ...“ ساتھ..... ساتھ حسان کی انسٹرکشنز بھی جاری تھیں...” تقریبا تین ماہ بعد ...”آج حور کو حسان نے بلکل آذادی سے ڈرائیونگ کی اجازت دے دی تھی ....آج وہ اسکے برابر میں بیٹھا تھا

اور حور بہت ہی مزے سے ڈرائیو کر رہی تھی .....” تب ہی ایک اسپیڈ بریکر پہ بریک نا لگانے کی وجہ سے....” حسان زور سے سیٹ سے اچھلا...“ ” اور حور کو دیکھا....” جو” 40 کی اسپیڈ“ سے ڈرائیو کر رہی تھی ..... حسان نے خفگی سے کہا ”آنی میں نے آپ کو اس طرح سکھایا تھا ؟.....”وہ جو کار کو بیک کر رہی تھی چونک گئی ..... اور ساتھ بیٹھے اپنے بھانجے کو دیکھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جاری ہے
 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney