"خون کے رشتے"
ازقلم:زہرہ خالد
قسط نمبر 5
آخری قسط
.....جو ُاسے دیکھ رہا تھا کیوں کیا ہوا ؟؟...” کار کو نیٹورل پہ لاتے ہوئے تحمل سے بولی....” ہاتھ اسکے اسٹیرنگ پہ تھے...” آنی میں نے ابھی اوپر نہیں جانا ساتھ بیٹھے حسان نے منہ بناتے ہوئے کہا .....” چند لمحے وہ ُاس کو گھورتی رہی پھر سر جھٹک کہ کار کو اسٹارٹ کر دیا.....” ویسے آنی میں سوچ رہا تھا کہ جن سے میں نے سیکھی تھی ان سے آپ کی بات کروں “... حسان نے شریر نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا..... تم اگر اس وقت چپ کر کہ بیٹھ سکتے ہو... تو ٹھیک ہے...” ورنہ میں یہی اتار دوں گئی.... حورین نے خفگی سے کار روکتے ہوئے کہا....” اوہ ہو نہیں بھئی اس ویرانے میں آپ مجھے تنہا چھوڑ دیں گئی ...؟؟؟ حسان نے افسوس سے سر ہلایا ہاں بلکل...” اگر تم نے اپنے سر کے قصیدے پڑھنے بند نہیں کیئے...“ ” حورین نے وارنگ والے انداز میں کہا ......”حد ہے بھلائی کا زمانہ ہی نہیں ...“ حسان منہ ہی منہ میں بولا ۔ ” ایک تو پورے تین مہینے تک میں نے آپ کو ڈرائیونگ سکھائی...” اور آپ ہیں کہ ابھی بھی غلطیاں کر رہیں ہیں....“ حسان نے افسوس سے کہا ” اگر میری جگہ میرے سر ہوتے نا وہ آپ کو بتاتے کہ ڈرائیونگ سکھانا کیسے کہتے ہیں.... حسان نے خفگی سے کہا ” حسان تم چپ ہو رہے یا نہیں حور نے گاڑی ایک سائڈ پہ روک کہ کہا ....” سوچ رہا ہوں ہو جاوں لیکن ایک شرط پہ ....حسان نے شریر لہجے میں کہا .....” کیسی شرط...؟؟“ حورین نے اسے گھورتے ہوئے کہا ؟ آپ آئسکریم کہلائیں مجھے آج اور ویسے بھی میں نے آپ کو ڈرائیونگ سکھائی ہے.... حسان نے اتراتے ہوئے کہا..... حور چند لمحے اسے گھورتی رہی پھر بولی چلو ٹھیک ہے....” تم بھی کیا یاد کرو گئے“ کہ تمہاری آنی کتنی فراخ دل ہیں....” واو میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہا...؟؟...“ حسان نے شریر لہجے میں کہا حسان کی اس بات پہ دونوں ہی ہنس پڑے .....“

ختم شد
 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney