The one 
by Sapna gul
Episode 1

کیفے مونٹمارٹے میں اس وقت سخت گہما گہمی تھیں 
وہ تیزی سے ٹیبل صاف کرتی جارہی تھی اس کے چہرے پر عجیب سی سختی تھی جبکہ انکھیں بے رنگ 
سی اتنا کام کرنے سے اس کے ہاتھ پیر سوج گئیں تھے لیکن اس کو کوئی پروا نہیں تھی اس کے ساتھی اس کو دیکھ کر حیران رہ جاتے ان کا کہنا تھا اگر یہ چوبیس گھنٹے بھی کام کرتی رہے تب بھی یہ منہ سے ُاف تک نہیں کرے گی بے شک اس کی جان ہی کیوں نہ نکل جائے 
"حیا !"
کرسٹینا جو کاونٹر پر کھڑی تھی اس کو آواز دیں 
حیا سارے ٹیبل صاف کر چکی تو اس کے پاس ائی
"بولوں کرسٹی ."
اس کے چہرے کے ساتھ اس کی آواز بھی سپاٹ تھی 
"ڈیرک سر تمہیں اپنے آفس میں بلا رہے ہے۔"
اس نے سر اثبات میں ہلایا اور مینجر آفس میں دستک دیں 
"کم ان !۔"
حیا اندر داخل ہوئی 
سر آپ نے مجھے بلایا تھا
"او یس حیا کم اینڈ سٹ۔"
حیا کر کے بیٹھ گئی 
"حیا میں آپ کے کام سے بہت امپریس ہو اس لیے میں چاہوں گا آپ مجھے ایک فیور کریں ۔"
ڈیرک نے سیدھے مطلب کی بات کی وہ ایسا ہی تھا ایک لفظ تعریف کا بول کر ٹو دی پوائنٹ بات کرتا تھا
"جی بولیے سر ۔"
حیا بے تاثر لہجے میں بولی 
ڈیرک کو لگتا یہ کھبی زندگی میں مسکرائی نہیں ہے نہ ہنسی ہے عجیب سی لڑکی ہے جس سے یہ پہلی بار ملا تھا لیکن کمال کی فرمنبردار اور محنتی لڑکی تھی پورا ایک سال ہوگیا تھا لیکن ڈیرک کو آج تک شکائت نہیں ہوئی تھی اس سے 
"اوکے حیا میرے ایک دوست کی ایک نئے بار کی افتاتع ہوئی ہے میں چاہوں گا اس کی اوپنگ والے دن تم ویڑس کا کام کرو رات کے سات بجے سے لیے کے بارہ بجے تک تمہیں بہت اچھی اماوئنٹ ملے گی ۔"
حیا اس کی بات سُنے کے بعد بولی 
"ائیم سوری سر بٹ یو نو میں ایسی جگہ نہیں جاتی خاص کر جہاں شراب نامی شہہ ہوں اور جہاں آپ مجھے بھیجنا چارہے ہیں وہاں تو مین چیز ہی شراب ہے 
وڈکا ،شیمپین ،سکوچ ،ریڈ وائن اور پتا نہیں کیا کیا 
مجھے سرو کرنا پڑیں گا ۔"
"ائی نو حیا بٹ آپ کون سا پی رہی ہیں آپ نے بس انہیں سرو کرنا ہے ۔"
"سر اگر میں کسی کو شراب سرو کررہی ہوں تو میں گناہ کررہی ہوں اور یہ گناہ اتنا ہی ہے جتنا میں شراب پی کر کرو گی ۔"
ڈیرک نے گہرا سانس لیا "اور یہ یقینن آپ کے مزہب میں ہے ۔"
‏Yes definitely
اس نے ابرو اچکائے 
"ٹھیک ہے تم ایک کام کرو تم جاو تم وہ ویڑس کو مینج کرنا حتاکہ میں چاہتا تھا تم سرو کرو ۔"
"سر اگر مجھے یہی کام کرنا ہوتا تو مجھے بہت سے بار میں افر تھی تو میں آپ کے کفیے میں کام نہ کررہی ہوتی ۔"
"اوکے حیا آپ مت جائیں زرا کرسٹینا کو بلوا دیں ۔"
اس نے جیسے ہار مانتے ہوئے کہا 
حیا فورن اٹھی اور نکل پڑی 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"حیا تمہیں اس لڑکے کے ساتھ روڈلی بہیو نہیں کرنا چاہیے تھا کتنے پیار سے اس نے تمہارا نمبر پوچھا تھا ۔"
لائبہ جو اس کے ساتھ کھڑی تھی اس سے بولی 
"وہ ایک غیر مزہب لڑکا مجھ سے نمبر مانگ رہا تھا میں اس سے اپنا نمبر دیں دیتی ۔"
حیا سخت لہجے میں بولی 
"تو اس میں کیا میرا بوئی فرینڈ کارل بھی تو غیر مزہب ہے مجھے تو کوئی اعتراض نہیں ہے ۔"
حیا کو افسوس ہوا 
لیکن سر جھٹک کر بولی 
"یہ تمہاری سوچ ہے میں کھبی مر کر ایسا نہیں سوچ سکتی ۔"
"حیا اتنی اکسڑیم کیوں ہوں۔"
وہ کافئ مشین سے کافی ڈالتے ہوئے بولی 
میں نے کب کہا میں اکسڑیم ہوں حیا کپ سیٹ کررہی تھی 
"اچھا چلوں اگر ہمارے مزہب کا لڑکا اتا تو۔"
"میرے خیال میں لائبہ ہمیں کام کے وقت بات نہیں کرنی چاہیے اور خاص کر فضول باتیں ۔"
حیا ٹرئے میں کافی رکھ کر اگے چل پڑی 
"بہت ہی عجیب لڑکی ہے مجھے نہیں لگتا اس کے سینے میں دل ہے ۔"
حیا واپس ائی اور بولی 
"اڈر تین کپیچینوں اور ایک چاکلیٹ لاوا کیک ۔"
وہ حیا کے چہرہ دیکھتی رہی 
لحیا کیا آج تم میرے ساتھ royal garden چلوں گی ۔"
حیا نے اس سے ناسمجھی سے دیکھا 
"آج ہماری شفٹ ارلی تھی اس لیے ہم دوپہر کو فارغ ہوجائے گے ۔"
"سوری لائبہ مجھے اسلامک سنٹر جانا ہے ۔"
حیا مڑنے لگی کے لائبہ نے روکا 
"حیا مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے ۔"
"بولوں!۔"
"ابھی نہیں اس لیے کہ رہی ہوں میرے ساتھ چلوں۔"
حیا چپ چاپ اس سے دیکھتی رہی اور بولی 
"ٹھیک ہے ۔"
لائبہ نے شکر کا سانس لیا زندگی میں پہلی بار حیا نے اس کے بات پہ ہاں کی ہے 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"حیا آج میں تم سے بات کرنا چاہتئ ہوں 
میں اور کارل شادی کرنا چاہتے ہیں ۔"
حیا نے اسے دیکھا 
"تو مجھے کیوں بتارہی ہوں ۔"
"حیا ممی نہیں مان رہی وہ چاہتی ہے میں ان کے بانجھے سے شادی کرلو جو پاکستان میں رہتا ہے 
اور تم جانتی ہوں میں کارل کے بغیر نہیں رہ سکتی ۔"
حیا خاموشی سے اس کے ساتھ چلتی رہی 
"حیا کچھ تو بولوں۔"
"کیا بولوں ۔"
حیا نے اپنے بالوں کو کانوں کے پھیچے کیا 
"حیا حیا تم اتنی بےحس کیوں ہوں تم مجھے ایک روبوٹ لگتی ہوں انسان نام کی کوئی چیز نہیں ہے تم میں ۔"
لائبہ نے اپنا سر پیٹ لینا چاہا 
"جب ایک انسان اندر سے مر جائے نا تو وہ زندہ لاش کی مانند زنگی گزارا ہوتا ہے فرق یہ ہوتا ہے وہ دنیا والوں کے سامنے زندہ ہوتا ہے لیکن اپنے لیے مر چکا ہوتا ہے ۔"
حیا کا لہجہ ہر احساس سے عاری تھا 
"حیا مجھے بتاو کیا ہوا تھا دیکھوں ایک سال سے ہم دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہیں تمہیں ممی پروگ اپنی بانجھی کی حصیت سے لائی اور میں جانتی ہوں تم ممی کی بانجھی نہیں ہوں ۔"
حیا کو جھٹکہ لگا اور اس نے لائبہ کو دیکھا 
"ہاں میں جانتی ہوں تم ممی کی کوئی بانجھی نہیں ہوں 
اور مجھے یہ بھی پتا ہے کے تم انہیں پاکستان سے نہیں یہی پروگ میں ملی ہوں ۔"
حیا کے چہرہ ایک دم سفید ہوگیا 
"کک کیا تمہیں انٹی رومیسہ نے بتایا ہے ۔"
"ممی اتنی پاگل نہیں ہے جو مجھے بتائیں گی ۔"
لائبہ نے سر نفی میں ہلایا 
"تو پھر ۔"
حیا نے اس سے دیکھا 
"حیا پلیز بتاو تمہارے ساتھ ایسا کیا ہوا تھا جو تم بلکل ٹوٹ کے رہ گئی ہوں میں نے تمہیں اب تک مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا آور میں جانتی ہوں تمہاری مسکراہٹ ہی سب سے حسین طرین ہے پلیز حیا اپنا درد مجھ سے نہ چھپاوں۔"
"تم نے مجھے اس لیے یہاں بلوایا تھا کے میں تم اپنی ہسٹری بتاتی رہوں ۔"
حیا تیز لہجے میں بولی 
"ایسا نہیں ہے ۔"
"پلیز لائبہ تم نے میرا وقت برباد کیا صرف اس لیے کے تم بس مجھ سے پاسٹ پوچھتی رہوں ۔"
"ہاں جانا ہے مجھے تمہارا پاسٹ حیا تمہاری فمیلی کہاں ہے تم اس الگ ملک میں کیوں رہ رہی ہوں ۔"
"تمہیں جان کر کیا کرنا اور پلیز مجھے تنگ نہ کرو ائیم ٹرولی فیڈ آپ ۔"
"نہیں حیا پلیز مجھے بتاو اپنا درد کیوں چھپا رہی ہوں کیا ہوا تھا تمہارے ساتھ بولو ں۔"
حیا تیزی سے چلنے لگی 
"حیا !"
"لائبہ اگرتم نے اگے سے کچھ بولا میں تم لوگوں کو اپنی شکل بھی نہیں دکھاو گئ۔"
وہ اتنا کہہ کر چل پڑی 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"امی امی ! جلدی سے ناشتہ لائے میں لیٹ ہورہی۔"
"حیا کیا آج جانا ضروری ہے ۔"
آمی نے اس کے سامنے الو کے پڑھاٹے رکھیں ۔
"ارے واہ امی اج اپنے میرا دل خوش کردیا میرے ال ٹائم فیورٹ الو کے پرھاٹے ۔"
حیا مزے سے کیچپ لگا کر کھانے لگی 
"امی چائے تو بنا دیں ۔"
"حیو کیا آج جانا ضروری ہے ۔"
امی نے اس کے سامنے چائے رکھی 
"امی ضروری تو نہیں ہے لیکن آپ بتائے کیا کام ہے آپ کو ۔"
حیا جلدی جلدی کھاتے ہوئے بولی 
"بیٹا آج تمہاری خالا نیویارک سے آرہی ہے ۔"
حیا کا نوالا چھوٹ گیا 
"کیا!امی سچ خالا جان آرہی ہیں ۔"
حیا کے چہرے پر خوشی کی ساتھ انکھوں کی چمک بھی بڑھ گئی 
"ہاں رات کو میں بتانا چارہی تھی لیکن تم سو گئی تھی ۔"
"امی پہلے کیوں نہیں بتایا آپ نے ۔"
حیا فورن اٹھی اور یونی فورم اتارنے کے لیے کمرے میں بھاگی 
"ارے کہاں جارہی ہوں کالج نہیں جانا ۔"
"امی آب کون جانا چاہتا ہے کالج ائی کانٹ بلیو اٹ زیب آرہا ہے اُف میں بہت خوش ہوں ۔"
"اف لڑکی شرم کر زرا بھی حیا ہوں بلکل بھی اپنے نام پر نہیں گئی ۔"
"امی زیب میرے بچپن کا دوست ہے میں کیوں شرماوں بھالا ۔"
حیا چہکی 
"پتا نہیں کیا ہوگا اس لڑکی کا ۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیفے میں آج رش کم تھا رات کے آٹھ بج رہے تھے 
حیا نے اج کاونڑ سنبھالا ہوا تھا زیادہ نہ اڈر ہونے کے باعث اس نے دیکھا مغرب کا وقت ہوگیا ہے اس نے نماز پڑھنے کا سوچا لیکن آج سٹاف کم تھا تو وہ کشمکش میں پڑ گئی پھر اس نے لائبہ کو آواز دی 
"ہاں بولو۔"
حیا نے دیکھا لائبہ یونی فورم چینچ کر کے وائٹ جینز اور بلیو ٹاپ پہن لیا تھا 
"تم جارہی ہوں ۔"
حیا اس کو دیکھتے ہوئے بولی 
"ۂاں آج میں کارل کے ساتھ کھانا کھانے جارہی ہوں کام تو ہے نہیں ایسا کرو تم بھی چلو ڈیرک سے بات کرلو ۔"
"نہیں نہیں مجھے نماز پڑھنی تو کاونڑ کوئی سنبھال لیے ۔"
"ایک کام کرو کیفے کو کلزو کردیتے ہیں جب تم نماز ختم کرلو تب دوبارہ کھول لینا ویسے بھی کیفے خالی ہے ۔"
"نہیں یہ ٹھیک نہیں ہے ۔"
"ایک کام کرو جاو ڈیرک سے بات کر لو ۔"
حیا نے گہرا سانس لیا اور جانے لگی جب اس نے کاونڑ پر ٹیپنگ سنی
تو اس نے دیکھا تو ایک منٹ کے لیے جم گئی 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا نے پوری الماری میں سے کوئی اچھا سوٹ چیک کیا لیکن اس کوئی پسند نہیں آیا 
پھر اس نے دیکھا تو سوچا یہ پہن کر دیکھوں 
بوٹل گرین شفون کی سٹایلش شلوار قمیض جس کی قمیض پر کھڑائی والا کام ہوا تھا اور شلوار کی پانچوں میں خوبصورت سی لیس لگی ہوئی تھیں 
اس نے یہ پہن کر دیکھا تو مطمن ہوگئی اور اپنا میک آپ کرنے لگی 
گندمی رنگت ، لائٹ بروان انکھیں ،گالبی گال سب سے زیادہ گال ہی اس کے گالبی تھے شاہد ہی کسی کے ہوں 
دراز پلکے جو اس کے گالوں کو چومتی وہ پرکشش تھی 
لیکن اپنی بڑی بہن ازکا سے زیادہ خوبصورت نہیں تھی 
لیکن اس کی شخصیت کو ازکا سے زیادہ پسند کیا جاتا تھا کیونکہ ازکا موڈی تھی اور یہ شوق اور چنچل 
ہارون اندر ایا اور اس سے دیکھا 
"تم کسی کی شادی میں جارہی ہوں ۔"
اس سے چار سالہ بڑا بھائی اس کو دیکھتے ہوئے بولا 
"نہیں تو کیوں ویسے بتاو نا ہارون میں کیسی لگ رہی ہوں ۔"
"ازکا سے زیادہ خوبصورت نہیں ہوں ۔"
ہارون نے اس سے جیلس کروانا ضروری سمجھا 
"ہاں مانتی ہوں وہ پیاری ہے سب سے حیسن طرین لڑکی ازکا ہی ہے لیکن بھائی بتاو نا میں کیسی لگ رہی ہوں ۔"
مجال ہے جو حیا جیلس ہوں 
"تمہیں پتا ہے خالا پاکستان کس لیے آرہی ہے ۔"
ہارون نے اس کے بستر پر پڑی چپس کا پیکٹ کھول کر بولا
"ظاہر ہے پورے دو سال بعد آرہی ہے خالا ہم سے ملنے آرہی ہوگی اور ضرور زیب نے فورس کیا ہوگا ۔"
"جی زیب نے فورس کرنا ہے ۔"
ہارون ہنستے ہوئے بولا 
"اچھا خیر میں جارہی ہوں ویسے ازکا کدھر ہے ؟۔"
"یونی گئی ہوئی تھی ابھی ان کو لینے ایر پورٹ جارہی ہے ۔"
"اچھا میں زرا دیکھ لو سب کچھ انتظام ٹھیک ٹھاک ہوگیا ہے کے نہیں ۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس سے دیکھنے لگی دراز قد ،کسرتی جسم ،گندمی رنگت پر بے انتہا پرکشش نقوش ڈیب اوشن بلو انکھیں جس میں انسان سمندر کے طرح ڈوپ جائیں ڈارک بروان بال جو سٹائلش انداز میں تھے اور بروان سٹبل (شیو )اس کے شارپ جبڑے کو مکمل کرہے تھے وہ اس وقت نیوی بلو سوٹ میں تھا 
اس نے زندگی میں کھبی اتنا خوبصورت مرد نہیں دیکھا تھا وہ تو اس جہان کا ہی نہیں لگتا تھا ایسا قدرت کا شہاکار دیکھ کر وہ جم ہی گئی تھی 
اس بندے کے ماتھے پر بل پر گئے 
‏If you have stare me enough can you please take my order 
(اگر آپ نے مجھ پر غور کر لیا ہوں تو میرا اڈر لیے گی )
وہ ناگواری سے اپنے ائرش اکسینٹ میں بولا 
حیا چونکی اور اس نے خفت سے اس کا چہرہ سرخ ہوگیا آج اس سے پہلی بار بے اختیاری ہوئی تھی اور کسی مرد کو دیکھ کر ہوئی تھی 
"سوری سر آپ اپنا آڈر بتائیں ۔"
حیا کا چہرہ آب پہلے کی طرح سپاٹ ہوگیا 
آنکھوں میں وہ عجیب سی سختی لیے ائی تھی کے سامنے کھڑا شخص بھی چونک پڑا 
پھر وہ اپنا سر جھٹک کر بولا 
"کولڈ کافی !۔"
حیا نے اڈر لکھا 
‏Anything else sir 
وہ آب اس سے غور سے دیکھ رہا تھا جیسے وہ پہلے اسے دیکھ رہی تھی 
حیا نے انکھیں مزید سخت کرلی 
"نو۔"
Sir takeaway ?
"نہیں ادھر ہی ۔"
وہ صوفے پہ بیٹھ گیا 
حیا جلدی جلدی بنانے لگی لیکن وہ جانتی تھی کے وہ شخص اسے دیکھ رہا ہے 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،۔،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا نے کار کا ہارن سنا تو خوشی سے اٹھی
" وہ اگئے 
وہ اگئے ۔"
وہ جلدی سے بھاگی 
اس نے شاہ زیب کو دیکھا وہ ویسا ہی تھا دو جیسے دو سال پہلے چھوڑ کر گیا تھا 
پانچ فٹ دس انچ ،خوش شکل شاہ زیب اس کی دل کی دھڑکنوں کو تیز کررہا تھا 
شاہ زیب ہنستا ہوا ازکا کے ساتھ اندر داخل ہوا اور 
حیا بھاگتی ہوئی اس کے پاس پہنچی 
"زیب تم بلا آخر اگئے ۔"
حیا خوشی سے چیخئ 
شاہ زیب نے اچانک اس سے ناگواری سے دیکھا 
"یہ کون ہے ازکا ؟"
حیا ایک دم حیران ہوئی 
"زیبی تم نے مجھے نہیں پھیچانا ۔"
حیا حیرانگی سے بولی 
"ایم سوری پر آپ ہے کون ؟"
وہ الجھن سے اس سے دیکھتے ہوئے بولا 
حیا ایک دم چپ ہوگئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کولڈ کافی بنا کر اس نے ٹیبل کے سامنے رکھ دیں وہ اب اس سے دیکھنے کے بجائے فون پر کسی کو مسیج کررہا تھا 
حیا نے شکر منایا اور مڑنے لگی کے اس کی آواز پر رک گئی 
"تمہارا نام کیا ہے ؟"
حیا نے اس سے دیکھا وہ آب بھی فون پر لگا ہوا تھا 
‏Excuse me 
"میں نے کہا تمہارا نام کیا ہے ؟"
‏None of your business mr 
حیا سختی سے کہہ کر کاونٹر پر چلی گئی آب اس نے سوچا کیا کررہے نماز کا ٹائیم بھی چلا گیا ہے گھر جاکے قصہ پڑھنی پڑیں گی 
وہ کچن ایڑیا میں ائی وہاں کک ریو سب کچھ بند کررہا تھا 
"حیا میں تو جارہا ہوں اور لوگ تو نہیں ہے 
۔"
"نہیں صرف ایک بندہ ہے اس نے کولڈ کافی منگوائی ہے۔"
"چلوں تم چلی جاو تمہیں دیر ہورہی ہوگی میں رُک جاتا ہوں ۔"
ریو نے اس مسئلے کا حل بتایا 
"نہیں ریو تم جاوں میں میجنج کرلو گی ۔"
ریو مسکرایا فکر نہ کرو ابھی پانج منٹ میں ڈیرک آرہا ہے تم چلی جاو ۔"
اچھا اس نے اپنی جیکٹ اور پرس کو اٹھایا 
اور اس نے کاونڑ پر رکھا 
اور دیکھا 
وہ وہاں پر نہیں ہے 
اور کولڈ کافی ویسی ہی پڑی ہوئی تھی 
"عجیب آدمی ہے اگر پینی نہیں تھی تو منگوائی کیوں تھی ۔"
حیا کو غصہ آیا 
اس نے فورن گلاس ٹرے میں رکھا 
اور پیسے اٹھا کر وہ سوچ میں گم ہوگئی وہ بہت ہی عجیب تھا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
"یہ حیا ہے زیب تم نے اپنی دوست کو نہیں پھیچانا ۔"
حیا کو ایک دم خاموش دیکھ کر ہارون بولا 
"اچھا حیا تم ہوں نائس ٹو میٹ یو یار ۔"
وہ اتنا کہہ کر خالا سے ملنے لگا 
حیا کو جھٹکا لگا اتنا فورمل انداز اتنا فورمل انداز اس نے دیکھا وہ آب امی سے مل کر اذکا سے باتیں کرتے ہوئے اندر جارہا تھا 
حیا وہی کھڑی رہی نجانے کیوں آج اس کی انکھوں سے موتی ٹوٹ کر نکالا تھا 
ہارون نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا "حیا آو اندر چلے تم نے کھانا بنایا تھا ۔"
وہ اپنی چھوٹی بہن کی حالت جانتا تھا 
حیا نے سر اثبات میں ہلایا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ روڈ پر چل رہی تھی وہ آج شاہ زیب کو سوچنے کے بجائے پہلی بار اس بندے کو سوچ رہی تھی بہت ہی ڈرفنٹ بندہ لگا تھا اور اس کی انکھیں اسے اندر تک جما کر رکھ گئی تھی اسے لگا کوئی اس کا پھیچا کررہا ہے اس نے مڑ کر دیکھا 
وہاں کوئی نہیں تھا اس نے پھر مڑ کر چلنا شروع کردیا 
لیکن اس سے لگ رہا تھا کے کوئی اس کا پھیچا کررہا ہے اس نے قرانی آیات پڑھنا شروع کردی اور جلدی سی اپنی رہاش کی طرف پہنچھی وہ ایک بہت ہی لویر کلاس کا علاقہ تھا 
اس کا گھر صرف ایک کمرے کا تھا ایک کمرے میں ہی سب کچھ تھا کچن واش روم بیڈ روم 
اس نے جلدی سے لاک لگایا اور اپنا بیگ پھینکا 
اور واشروم میں گھس پڑی 
تھوڑی دیر بعد جب اس نے نماز ممکل کی پھر چھوٹا سا اوپن کچن سے اس نے پانی پیا اور چھوٹے سے فریج سے اس نے دیکھا آج تو وہ بھول گئی تھی کے کچھ لانا ہے اس لیے فریج کو خالی دیکھ کر اس نے مایوسی سے بند کیا اور پھر دوبارہ پانی کا گلاس پی کر میٹرس پر سو گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"یہ کھانا کس نے بنایا ہے ۔"
شاہ زیب نے جیسی ہی بریانی کا چمچ لیا تو کھنسنا شروع کردیا 
"بیٹا یہ بریانی حیا نے بنائی ہے ہم تو عادی ہے میرے نہیں خیال آپ کو زیادہ مرچے پسند ہے ۔"
خالا نے پریشانی سے شاہ زیب کو دیکھتے ہوئے بولی 
"سوری انٹی لیکن میرا نہیں خیال آپ کو سترہ سال کی لڑکی کو کھانا بنانے کا بولنا چاہیے تھا
‏I'm sorry not to be offended but it was 
‏such a pathetic food
حیا کے چہرے پر سایا لہرایا ہارون کا چہرہ غصے سے لال ہوگیا 
"زیب چھوڑو اس سے ٹرائے کرو فش اینڈ چپس یہ میں نے بنائے ہیں ۔"
ازکا نے جلدی سے اس کے سامنے چپس سرو کیے 
اور شاہ زیب نے لیے اور بائٹ لیے کر بولا 
"واو ازکو یو ار امیزنگ انٹی آپ کو سارا کھانا ازکا سے بنانا چاہیے تھا کسی امیچور بچی سے نہیں 
۔"حیا کے انکھیں آنسو سے بھر گئ اور وہ تیزی سے وہاں سے اٹھی 
‏Sorry not to be offended Shahzaib but you're behaviour was pathetic 
ہارون بنا کسی لحاظ کے کہہ کر حیا کے پھیچے بھاگا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،۔،،،،،،،،،،،،،۔
حیا چونکئ آج اس کا دھیان کہاں چلا گیا تھا 
"حیا تم ٹھیک ہوں ۔"
کرسٹینا نے اس کا شانہ ہلایا 
"ائیم فاین کرسٹی ۔"
"تم مجھے بلکل بھی ٹھیک نہیں لگ رہی ۔"
"حیا ڈیر کیا ہوا ۔"
لائبہ ٹرے رکھ کر فکرمندی سے اس کے پاس ائی 
"نہیں میں ٹھیک ہوں میں جاکے اڈر لو ۔"
وہ جلدی سے نوٹ پیڈ اور پین پکر کر وہاں کھڑی ہوگئی 
جب وہ ایک بار پھر حیرت سے جم گئی وہی بلیو انکھوں والا بندہ بیٹھا ہوا تھا لیکن آج وہ پہلی کی طرح اکیلہ نہیں تھا اس کے ساتھ ایک خوبصورت سی گرین انکھوں والی جس نے سن ڈریس پہنا ہوا تھا اس سے ہنس کر بات کررہی تھی 
حیا نے دیکھا وہ اس سے ہی دیکھ رہا ہے اس بات پہ حیا کا پارہ آوٹ ہوگئا لیکن ضبط سے کام لے کے سامنے ائی 
وہ اس سے ابھی گھورنا بند نہیں کیا تھا 
Sir order !!!!
وہ زور دیتے ہوئے بولی 
"ایک فریپچینو ، ہاٹ چکلیٹ نو شگر اینڈ یس دو پین کیکس ۔"
اس نے مینیو دیکھے بنا اس سے آرام سے بولا لیکن اس نے اپنی انکھیں حیا سے نہیں ہٹائی تھی 
"باسٹرڈ نا ہوں تو ۔"
حیا بڑبڑائی 
اس نے یہ آڈر کرسٹینا کو دیا 
اور جلدی سے واش روم کی طرف گئی اس نے دیکھا اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہوا تھا لیکن انکھوں کے حلقے آج زیادہ کیوں لگ رہے تھے 
اس کو چکر بھی محسوس ہورہے تھے رات کو بھی نہیں کھایا تھا اور صبح اورنج جوس راستے سے لیے کر پیا تھا لیکن پیٹ میں آب چوہے دور رہے تھے 
آس نے پانی کے چھینٹے مارے اور باہر نکلی 
"یہ لو حیا ۔"کرسٹینا نے اس سے ٹرے پکرائی اور حیا نے لیے لی وہ وہاں پہنچی ہی تھی جب اس کو اپنا سر چکراتا ہوا محسوس ہوا 
اس نے کنڑول کیا لیکن زیادہ نہ کرسکی تو وہ ٹرے سیدھا ٹیبل پر گئی پر فرپیچنو بلونڈ بندی پر گری اور ہاٹ چکلیٹ بلو ائیز والے پر 
حیا کو جھٹکا لگا 
Bloody hell !!!!
وہ بولنڈ بندی زور سے چیخی 
حیا گھبڑا گئی 
"ائی ایم سوری میڈم ۔"
وہ سب کچھ اٹھانے لگی کفیے میں جیسے جامند خاموشی طاری ہوگئی
‏You bitch 
اس بولنڈ لڑکی نے حیا کو زناٹے دار تھپڑ مارا حیا ساکت ہوگئی اس کا چہرہ پیلا ہوگیا وہ بندہ انکھیں پھلائے اس سے دیکھ رہا تھا لیکن منہ سے کچھ بول نہیں پایا تھا 
"تم اندھی ہو کیا تم نے میرا اکسپنسیو ڈریس خراب کردیا اینڈ یو جسٹ ڈسٹروی مکث سوٹ ویل ایم گنا فائر یو ۔"
‏Just take it is easy Nichole it was just an accident 
وہ بندہ اتنا سا کہہ کر اٹھا اور ریسٹ روم کی طرف گیا 
لائبہ فورن اس کے پاس ائی 
"حیا تم ٹھیک ہوں ۔"
حیا نے اس سے دیکھا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہ زیب نے اگلے دن اس کے منہ پر تھپڑ مارا 
وہ جو پہلے سے گھبرائی ہوئی تھی اس کے تھپڑ پڑنے پر کانپ گئی 
وجہ یہ تھی اس نے اپنے لیے میلک شیک بنایا تھا اور وہ مزے سے گانا گاتی ہوئی اچھل رہی تھی کے اچنک اس کا پیر پھسلا اور پورا میلک شیک شاہ زیب پر گر پڑا جو صوفے پہ بیٹھا فون یوز کررہا تھا 
"کیا ہوا ۔"
خالا فورن بھاگتی ہوئی ائی 
حیا کا چہرہ انسو سے بھر چکا تھا آج تک اس کو کسی نے اس سے اونچی آواز میں بات نہیں کی تھی اور شاہ زیب نے اس کو زناٹے دار تھپڑ مار دیا 
"انٹی دیکھیں اپنی بیٹی کو اس نے میری شرٹ کے ساتھ کیا کیا ۔"
شاہ زیب غصے سے بولا 
"حیا یہ کیا کیا تم نے ۔"
امی حیرانگی سے بولی 
"امی میرا پیر پسھل گیا تھا ۔"
حیا ہچکی لیتے ہوئے بولی 
"بند کرو اپنے یہ مگرمچ کے آنسو اور میری شرٹ صاف کرو ۔"
وہ دھاڑ اٹھا
"آرام سے بیٹا لاو مجھے دو میں صاف کردیتی ہوں ۔"
"نہیں انٹی آب یہ حیا فاطمہ ہی صاف کریں گی ۔"
"نہیں کرو گی میں آپ کی نوکرانی نہیں ہوں سمجھے ۔"
وہ روتے ہوئے تیزی سے بھاگی 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،۔،،،،،۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈیرک کو اتنا پرشرایز کیا کے اس نے حیا کو جاب سے نکال دیا وہ بہت شرمندہ تھا 
"ایم ویری سوری حیا لیکن مس نقول نے ہمارے کیفے کو بند کروا دینا تھا یہ لو تمہاری مہینے کی پے 
‏I'm really sorry Haya i know she was way too rude to you but I can't help 
تم چاہوں تو ایرک کی بار میں کام کرسکتی ہوں ۔"
حیا نے چپ کر کے پے لی اور اتنا ہی بولی 
‏Thank you very much no needed ill manage
وہ رکی نہیں باہر چلی گئی 
لائبہ اس کے پاس ائی "حیا چلو میرے ساتھ ممی کو بتاتی ہوں یہ بھی کوئی طریقہ ہے دل تو کرتا ہے اس چڑیل کا منہ نوچ لو۔"
"لائبہ کیا تم پلیز آج مجھے اکیلہ چھوڑ دو گی ۔"
"کیا!"
"ہاں لائبہ آج مجھے صرف تنہائی کی ضرورت ہے میں دنیا سے فل حال الگ رہنا چاہتی ہوں ۔"
حیا اپنی انکھوں کو مسلنے لگی 
"پر حیآ اچھا چلو اپنا خیال رکھنا ڈونٹ بی سیڈ اور پلیز کچھ کھا لینا اپنا خیال رکھنا ۔"
حیا نے سر ہلا کر چل پڑی 
اور لائبہ اس سے دور جاتا دیکھنے لگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کالج سے واپس ائی تھی تو دیکھا ازکا اور شاہ زیب ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے ہنس کر بات کر رہے تھے 
اس نے بس ایک نظر انہیں دیکھا 
اور اندر چل پڑی 
کچن میں گھسئ اور فریج سے جوس کا ڈبہ نکال کر ڈالنے لگی 
"اگئی تم ۔"
امی نے اس سے دیکھا اور اس کو پیار کرتے ہوئے بولی 
"جی اگئی 
امی بات سنے ۔"
"ہاں بولو ں ۔"
امی پیاز کے بوٹے نکال کر انہیں کاٹنے لگی 
"یہ ازکا یونی نہیں جارہی ۔"
امی کا ہاتھ اس کی بات پہ رُک گیا 
"کیا مطلب ۔؟"
"امی ازکا فیشن ڈیزانگ کررہی اور ابھی تک تو اس کے کافی پروجیکٹس تھے یہ نہ تو پروجیکٹس کر رہی نہ ہی یونی جارہی ہے یہ ہر وقت شاہ زیب کے ساتھ ہی ہوتی ہے ۔"
امی سمجھ گئی 
"شاہ زیب پسند کرتا ہے ازکا کو اور بسمہ کو کہا ہے اس نے کے ازکا کے لیے رشتہ بھیجے ۔"
حیا کا ہاتھ رُک گیا اور وہ چپ ہوگئی اس نے امی کو دیکھا 
امی نے اس کو چپ چاپ دیکھا تو بولی 
"حیا میری جان وہ تمہارے لیے نہیں ہے وہ تمہیں پسند نہیں کرتا میری بچی تمہیں شاہ زیب سے بھی۔"
حیا فورن ُاٹھ کر وہاں سے چلی گئیں 
ان دونوں کو دیکھ کر اس کے دل کو برُی طرح چوٹ لگی 
اور وہ روتے ہوئے بستر پر گر پڑی 
اور بے تہاشا رونے لگی بے شک شاہ زیب نے اس کے ساتھ تلخ رویہ رکھا تھا لیکن وہ تو اس سے محبت کرتی تھی پہلے کتنا خیال رکھتا تھا اس کو ازکا میں اس سے کیا نظر آیا جو مجھ میں نہیں آیا 
وہ روتے روتے ایک دم سوگئی لیکن اس نے ارادہ کر لیا تھا وہ اس سے بات کریں گی ضرور کرین گی جو بندہ دو سال پہلے اس سے اتنے پیار سے پیش آرہا تھا دو سال میں ایسا کیا ہوا جو وہ ایسا کر رہا ہے 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
درید کیانی سول انجینر تھیں ان کی تین اولادیں تھی 
ازکا جو فیشن ڈیزانگ کررہی تھی ،ہارون بی بی اے کا سٹوڈنٹ تھا اور سب سے چھوٹی حیا ائے لیول کررہی تھی حیا گھر بڑھ کی لاڈلی تھی ساوئے ازکا کے ازکا کے نہیں بنتی تھی اس سے لیکن حیا ازکا کو بہت چاہتی تھی وہ ازکا کے طرح بنا چاہتی تھی اس جیسے لمبے بال بڑی بڑی کالی انکھیں سلم سمارٹ ،فیشن سینس اس کا ٹاپ کلاس تھا اس کی ہر چیز میں پرفیکشن تھی اور ایسی پرفیکشن نے اس خاصا مغرور بنا دیا تھا 
حیا اس کے بر عکس ٹوٹلی ڈفرنٹ تھی شوخ چل بلی ڈاون ٹو ارتھ پہلے اس کو سارے لڑکوں والے شوق تھے 
کرکٹ کھیلانا ، ویڈیو گمیز ، آدھے سے زیادہ دوست ہی اس کے لڑکے تھے کیونکہ ان کے ساتھ فٹ بال میچ لاگنے چل پڑتی کھبی سائیکل میں پورا کالنی گھوم جاتی بیل بجا کر بھاگتی اور بہت سے شوق تھے جو بلکل بھی کسی لڑکی کے نہیں ہوسکتے تھے لیکن اس میں یہ تبدیلی شاہ زیب خان اس کے خالا کے بیٹے سے ائی تھی جس نے اس کے لائف سٹائل تو نہیں بدلا لیکن اس میں لڑکیوں والے شوق اگئے تھے 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے سٹال سے برگر لیا اور کھانے لگی وہ فل حال کچھ نہیں سوچ رہی تھی اس کا ذہن بلکل بھی کام نہیں کررہا تھا وہ بس بینج پہ بیٹھ کر کسی غیر نقطہ پر غور کررہی تھی 
بے دھیانی میں اس نے کافئ اپنے ہاتھ پہ گرا دی 
"سی!۔"
اچانک اس کا ہاتھ پکرا گیا اور اس پہ رومال رکھا گیا 
اس نے کرنٹ کھا کر اس سے اُٹھانا چاہا 
لیکن مقابل کی گرفت مضبوط تھی 
‏It will hurt 
ایرش اکسینٹ میں بولتا ہوا اس کا ہاتھ چیک کررہا تھا 
حیا نے دیکھا وہ وہی بندہ تھا 
‏Just leave my hand 
(میرا ہاتھ چھوڑوں )
حیا نے غصے سے ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی 
"میرے ساتھ او ۔"
"واٹ !"
"میں نے کہا چلوں میرے ساتھ ۔"
"ہرگز نہیں ۔"
حیا کو تو پتنگے لگ گئے 
"پلیز حیا میرے ساتھ چلوں میں تمہاری مرہم پٹی کرو گا پھر مجھے اپولجائز کرناہے ۔"
حیا نے دوسرے ہاتھ سے اس لگانا چاہا تو اس نے اس کے دوسرے ہاتھ جکھڑ لیے 
‏Just let me go 
(مجھے جانے دو)
حیا زور سے چیخی 
‏I don't like to repeat myself haya 
(مجھے دوبارہ اپنی بات دھرانا پسند نہیں ہے حیا )
"الو کے پٹھے چھوڑو میرا ہاتھ ۔"
حیا نے اس سے اردو میں بولا جو فل حال اس کے پلے نہیں پڑا 
"اگر تم نہیں اٹھوں گی میں تمہیں اٹھا کر لیے جاو گا اینڈ ایی مین اٹ ۔"
اس کی انکھیں وارنگ کی انداز میں بولی 
حیا نے دیکھا کوئی لوگ اس کی مدد کے لیے نہیں ائے گا اس نے بے بسی سے اس حسین طرین شخض کو دیکھا جس نے اس کے دونوں ہاتھ جکھڑے ہوئے تھے 
حیا نے اپنے دانت اس کے بازو پر گاڑنے چاہیے وہ بندہ اس کا ارداہ جان گیا تھا 
اور اس سے سیدھا اٹھا کے چلنے لگا 
حیا کو بے انتہا غصہ چڑا اور اس سے مارنے لگی 
"مجھے چھوڑو !"وہ چھڑوانے کی بھر پور کوشش کررہی تھی لیکن مکث تیزی سے اپنااسٹن مارٹن ڈی بی ایس 
کا دروازہ کھولا اور اس اندر گھسانے کی کوشش کی جو اتنی مشکل نہیں تھی لیکن تھی ضروری حیا جیسی کار میں گھسی اس نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی لیکن بے سود وہ بلیک ٹنٹٹ شیشے کو مارنے لگی جہاں باہر والا اس سے نہیں دیکھ سکتا تھا
"کوئی ہے مجھے بچائے ۔"
اس نے جتنی زور مارنے میں لگا سکی اس نے لگائی 
مکث اندر بیٹھا تو اس نے غصے سے اس کا بازو کھینچا 
"مجھے نکالو یہاں سے ذلیل آدمی ۔"
وہ اس نے اس کے چوڑے شانے کو مار مار کر ہانپ گئی لیکن مکث کو اثر نہیں ہورہا تھا 
وہ رونے لگ گئی 
"پلیز مجھے جانے دو کہاں لیے کر جارہے ہوں مجھے ۔"
‏Your hurting your hand haya it's better you just calm down 
(تم اپنے ہاتھوں کو تکلیف دیں رہی ہوں حیا بہتر ہے تم پرسکون ہوجاوں )
مکث سکون انداز سے بولا
‏To hell with my hand let me go you bastard
حیا زور سے چیخی 
مکث کا چہرہ مزید سنجیدہ ہوگیا 
‏Watch your language lady 
مکث نے کار ایک پوش ایڑیا میں روکی جہاں ایک بڑی سی بلڈنگ کے ہر طرف سبزہ تھیں مکث نے اس کار سے نکالا 
"میں نہیں جاو گی تمہارے ساتھ۔"
حیا نکل کر تیزی سے بھاگنے لگی لیکن اس نے اس کا بازو پکر لیا 
سامنے اس نے شیشے کا دروازہ کھولا وہاں ریسپشن ایڑیا تھا وہاں ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی اور مکث کو دیکھ کر مسکرائی لیکن حیرت بھی ہوئی ایک اشین لڑکی اس کے ساتھ گھسیٹی جارہی تھی 
"گڈ مارنگ مسڑ مارٹن ۔"
مکث نے سر ہلایا اور اس سے لیے کر لفٹ میں گھسا 
حیا کو بے بسی سے رونا اور غصہ آرہا تھا 
"پلیز میں نے تمہارا کیا بگاڑا مجھے جانے دو مجھے نوکری سے نکال دیا نا اب کیا چاہیتے ہوں ۔"
حیا نیچے بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی 
لفٹ کھل گئی اس نے اس کا ہاتھ کھینچا 
"میں نے تمہیں نہیں نکالا حیا ۔"
اس نے اتنا کہا کر بلیک دروازے پر پہنچھا صرف ایک ہی دروازہ تھا لوبی میں مطلب یہ پینٹ ہاوس تھا 
"تم کیا کرنے والے ہوں لیٹ می گو ائی بیگ یو ۔"
حیا چیخ چیخ کر رونے لگی اس نے دروازہ کھول کر اندر کھسیا 
اس نے دروازے کو لاک لگایا اور اسے اگنور کرتا ہوا اندر چلا گیا 
حیا تیزی سے دروازے کو کھولنے کی کوشش کرنے لگی 
لیکن یہاں بھی فائدہ نہیں تھا 
اس نے مڑ کر دیکھا 
یہ حد سے زیادہ خوبصورت پنٹ ہاوس تھا وائٹ اور وڈن ورک بڑی سی لارج ہوم تھیٹر بڑے بڑے ونٹیج وائٹ کلر کے صوفے ہر طرف ہ پیٹنگز لگی ہوئی تھی کچھ پینٹنگز کو دیکھ کر حیا کی نظریں جھک گئی وہ حد سے زیادہ بے ہودا تھی اس نے استغفار پڑھا سامنے وائٹ اور بروان طرز کا اوپن کچن تھا جس میں وہ کھڑا کچھ نکال رہا تھا
سامنے آیا اور اس نے برنال لگانے کے لیے جھکا ہی تھا اس نے تیزی سے دھکا دیا 
"دور رہو ں مجھ سے ۔"
وہ گلا پھاڑ کے چیخئ 
مکث نے خاموشی سے دوبارہ اگے بڑھنا چاہا 
"ائیم سوری حیا میں تمہیں ایک اور جاب افر کردو گا پلیز پہلے یہ لگا لو تمہیں ابالے پڑ گئے ہیں ۔"
وہ نرمی سے اگے بڑھنے لگا کے حیا اور پھیچے ہوئی 
"تمہیں میرا نام کیسے پتا ۔"
وہ حیرانگی سے بولی
"حیا تمہاری ساتھی نے تمہارا نام لیا تھا جب نقول نے تمہارے ساتھ بدتمیزی کی تھی ۔"
وہ اب اتنا بڑھ چکا تھا اس کے ہاتھ میں برنال لگانے لگا 
حیا نے دوبارہ کھینچانا چاہا لیکن اس نے مضبوطی سے پکرے رکھا 
"پلیز فور گاڈ سیک مجھے جانے دو ۔"حیا کو یہاں کا ماحول پسند نہیں آرہا تھا خاص کر کے اس پیٹنگ سے اس کا اور دل خراب ہورہا تھا 
چہرہ بھی زرد ہوچکا تھا 
جب وہ لگا چکا تھا تو اس نے دیکھا وہ بے ہوش ہونے والی ہے اس نے اس کو بازو میں لیا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب وہ فٹ بال میچ کھیل کر ائی تھی اس کا چہرہ پسینے سے بڑھا ہوا تھا پونی سے بال باہر نکلے ہوئے تھے شرٹ اور پینٹ کیچر سے بڑھا ہوا تھا 
بھاگتے ہوئے اندر سے گھسی کے کسی سے ٹکرائی 
"او سوری ۔"
"اٹس اوکے سویٹ گرل ۔"
شاہ زیب نے اس کا بازو پکر کر سنبھالا 
"آپ کون ہے !"حیا اس سے الگ ہوئی 
شاہ زیب بہت غور سے اس کے سراپے کو دیکھ رہا تھا 
"میں تمہیں نہیں پتا میں کون ہوں او گاڈ حیا تم ٹی وی نہیں دیکھتی ۔"
حیا نے ناسمجھی سے دیکھا 
"دیکھتی ہوں لیکن آپ ہے کون ؟"
"ُاف تم ٹی وی نہیں دیکھتی اگر دیکھتی تو مجھے پہچان لیتی ۔"
"سوری میں animal planet نہیں دیکھتی ۔"
شاہ زیب نے حیرت سے دیکھا اور قہقہ لگا کر ہنس پڑا 
"حیا یہ کیا فضول بات کررہی ہوں ۔"
امی کے آواز پہ حیا نے دیکھا وہ بہت گھور رہی تھی اسے 
"امی یہ ہے کون اور ہمارے گھر پر کیا کررہے ہیں ۔"
حیا نے پہلے امی کو دیکھا پھر شاہ زیب کو عجیب انداز میں گھورا 
"ارے پاگل یہ تمہاری خالا کا بیٹا ہے زیبی ۔"
"کون زیبی اچھا امی یہ وہی خالا کا بیٹا ہے گینڈا خان 
جو کالا موٹا بدھا نلائق خان ۔"
حیا روانگی میں بولتی بھول گئی کے کس کے سامنے بول رہی ہے 
شاہ زیب کی انکھیں پھیل گئیں 
امی کا چہرہ لال آور جب حیا نے دیکھا کے زبان سے اس سے کیا پھسلا ہے تو منہ پر ہاتھ رکھا 
"ایم سوری۔" وہ تیزی سے بھاگی 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے انکھ کھلی اس نے دیکھا وہ صوفے پر لیٹی ہوئی ہے اور اس کے اوپر بلینکٹ پڑا ہوا ہے
وہ تیزی سے اُٹھی 
ایک بڑی سے وال کلاک میں اس نے دیکھا شام کے پانچ بج چکے ہے
میرے اللّلہ ! مجھے یہاں سے جانا چاہئیے ۔"
"وہ تیزی سے اٹھی لیکن کسی نے اس کا بازو پکڑ کر جھکڑا 
"کہاں جارہی ہوں تم ۔"وہ ابرو اچکاتے ہوئے بولا 
حیا نے اپنا ہاتھ اس کے سینے پر رکھ کر اس دھکا دینے کی کوشش کی وہ جیسے ہنس پڑا 
"حیا تم ایسے کام کیوں کرتی ہوں جس کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہے ۔"
"دیکھوں پلیز مجھے جانے دو اگر آپ کے کپڑوں کا نقصان ہوا ہے so i will pay for it ۔"
وہ پھڑپھڑا بھی رہی تھی اور ساتھ میں اس نے انکھوں میں ایک التجا رکھی 
ؤہ مسکرا اٹھا
"سویٹ گرل جتنا نقصان ہوا ہے نا تمہیں ساری زندگی لگ جائے گی مجھے پے کرتیں کرتیں ۔"
وہ جیسے اس کا مزاق اڑا رہا تھا 
حیا کو خون کھول اٹھا اور زور لگا کر دھکا دیا 
"بولو کتنے لگے ایک لاکھ ،دو لاکھ بولو کتنا مہنگا سوٹ تھا تمہارا ۔"
وہ کچھ پل اس سے دیکھتا رہا پھر بولا
"ٹونٹی ایٹھ تھاوزنڈ کورونا ۔"
حیا کا منہ کھل گیا 
وہ سوٹ پاکستان میں کم سے کم ڈیڈھ لاکھ کی ہوگی 
وہ دنگ ہوکر سوچ رہی تھی جب وہ اس کی سوچ پڑھ کر بولا
"صرف شرٹ سوٹ کے اماونٹ بولو گا تو تمہارا سر چکرا جائے اٹس بیٹر کے زیادہ سوچو نا پرنسس 
۔"وہ بے باکی سے اس کے سراپے کو دیکھنے لگا 
حیا نے مٹھیا بھینج لی 
"خیر تم کیا پیوں گی وڈکا ،وسکی ،شمپین ۔"
وہ بار کی طرف بڑھا 
"شٹ اپ تمہیں شرم نہیں ائی مجھ سے یہ پوچھتے ہوئے ۔"
حیا کا غم سے برا حال ہوگیا ایسی تو بے بسی اس نے اپنے برے دن میں بھی محسوس نہیں کی تھی 
"میں نے کچھ غلط کہا ۔"
وہ مڑا اس کے ہاتھ میں دو گلاس اور شمپین کی بوتل تھی 
"تم گھٹیا آدمی مجھے حرام شے لگانے کا کہہ رہے ہوں ۔"
‏Why it is forbidden to you oh are you a buddhist 
(یہ تمہارے لیے حرام کیوں ہے او کہی تم بدھسٹ تو نہیں ہوں )
"میرے اللّلہ !!!!!ا"س نے اپنے سر پکڑا 
"پلیز مجھے جانے دو ورنہ میں پولیس کو بلوادو گی ۔"وہ گلاس لبوں سے لگا کر سپ لینے لگا اور اس سے دیکھ رہا تھا "شوق سے کرو میں بھی دیکھوں کے مکث مارٹن کو کون جیل بجھواتا ہے ۔"
وہ اس کو چڑانے کے لیے کھل کر مسکرایا مسکراتے وقت اس کا گہرا ڈمپل پڑ رہا تھا جو اس کی بروان سٹبل (شیو) پر کلیر طریقے سے نظر آرہا تھا 
حیا نے دیکھا بالکنی کا دروازہ کھلا ہے ہاں آب بس بہت ہوگیا اپنی عزت کے لیے جان دینے پڑ گئی تو وہ بھی کرو گی وہ تیزی سے بھاگی 
مکث نے اس سے دیکھا اور اس کا ارادہ فورن جان گیا 
"او نو !!۔"
حیا فورن بلکنی پہنچی جہاں چھوٹا سا پول اور چیر تھے سامنے شام کے سائے نظر آرہے تھے حیا جیسے ہی ریلنگ پر پہنچی 
مکث نے اس کا بازو پکڑا 
‏Are you freaking insane what do you think you were doing 
(تمہارا دماغ خراب ہے یہ تم کیا کرنے جارہی تھی تمہیں اندازہ ہے )
مکث نے اس پورے طریقے سے جھکڑے رکھا 
"اللّٰلہ جی مجھے مزید آزمائش میں مت ڈال مجھ پر رحم کر ۔"
حیا نے اپنی زور سے انکھیں بند کر لی 
مکث اس ایشن بیوٹی کو دیکھ کر مسمرائز ہوگیا اور خود کو روک نہ پایا اور گستاخی کر بیٹھا 
حیا کی انکھیں پھٹ گئی 
‏You're so beautiful 
وہ مسکرایا 
حیا کا غم کی شدت سے دماغ گھوم اٹھا 
"تم کمینے گھٹیا آدمی ۔"اس نے پوری جان اس زو.
ﺟﺎﺭﯼ ﮨﮯ
 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney