The one 
Episode 10

"سر مجھے آپ سے ضروری بات کرنی تھی ۔"
میں گلا کنکھار کر بولا 
"ہاں بولو رائن میں سُن رہا ہو۔"
"وہ میں ۔۔۔۔۔
نجانے کیوں بولتے ہوئے میں اٹک گیا میری انکھوں میں نمی بڑھنے لگی
"بولو رائن کیا کہنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
"سر مجھے کلمہ پڑھا دئے ۔۔۔"
میں نے اپنا چہرہ جکھا لیا کیونکہ میں اپنے انسو فجر کو دیکھانا نہیں چاہتا تھا 
"کیا !!!"
ان کی حیرت بھری آواز ائی اور پھر اگلے لہمے میرے گلے لگ گئے 
"آپ نے مجھے سب سے بڑی خوشی دی ہے بیٹا اللّٰلہ آپ کو بہت ساری خوشیاں دئے 
میں نم انکھوں سے مسکرا دیا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ میرا سفر تھا حیا کے صرف ایک مہینے صرف ایک مہینے میں مجھے میری منزل مل گئی ۔ میں اللّٰلہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کرو اتنا کم ہے ہاں دل میں ایک ٹھیس سے اٹھتی ہے کے میرا یار مکث مکث بن کے ہی چلا گیا یہ تکلیف کھبی نہیں ختم ہوگئی جس انسان سے میں محبت کرتا رہا ہو وہ صراطِ مستقیم پر چلے بنا ہے چلا گیا حیا مجھے معاف کردو میں نے مکث کے غم میں تمہیں کیا کیا نہیں کہہ دیا
ولی کی انکھیں نم تھی پر حیا کی حیا کےتو جسیے انسو سوکھ چکے تھے اس کا گلٹ مزید بڑھ چکا تھا 
مکث اس کی محبت اسے چھوڑ کر گیا تو مکث بن کر ہی گیا یہ ایک زخم کی طرح اس کے دل پر لگ گیا تھا جو ساری زندگی نہیں مندل ہونے والا تھا 
"مکث میں نے تم سے کھبی نفرت نہیں کی ۔""
حیا کے دل سے ہوک اٹھی 
"مجھے بہت خوشی ہے ولی بھائی آپ کو بہت مبارک ہوں میری دعا ہے کے آپ ہمیشہ سیدھی راہ پر چلتے رہیں ویسے فجر کا تو بتادیا آپ نے کیلن کا کیا ہوگا ۔"
ولی ہنس پڑا
"کیلن مجھے اس دن ہی چھوڑ چکی تھی جب میں ڈاکڑ حُسین سے ملنے لگا تھا اس کو اپنی فوسٹر مدر کا بیٹا عامر پسند تھا وہ واپس اچکا ہے اور اس نے کیلن کو پروپوز کیا کیلن کو تو موقع چاہیے تھا مجھ سے بریک آپ کرنے کے لیے اس کو یہ مل گیا ۔"
حیا کو ہنسی ائی لیکن دھیمی سی مسکراہٹ پر بولی 
"چلے اچھا ہے اس میں اللّٰلہ کی کوئی بہتری ہوگی ورنہ آپ کا فجر پہ کیسے دل لگتا ۔"
ولی قہقہ لگا کر ہنس پڑا 
"اچھا چلتا ہو دعاوُں میں یاد رکھنا ۔"
حیا زور سے ہنس پڑی کیونکہ یہ لفظ بلکل گانے کے بول کے تھے اور ویسے بھی ابھی ولی کے انے سے پہلے وہ چنا میریا سن رہی تھئ
"کیا ہوا !"
ولی کو اس کی ہنسی پر حیرت ہوئی 
"کچھ نہیں ۔"
حیا نے دروازے کھولا تب ولی بولا 
"پروگ کب او گئی ۔"
حیا خاموش ہوگئی پھر بولی 
"جب اللّٰلہ نے چاہا فل حال اپنا بی ایس ختم ہوجائے ۔"
"ہاں سنا تھا میں نے تم بی ایس کررہی ہوں ویسے کس میں ۔"
"اکنامکس !!"
"واو ماشاآللّٰلہ میں نے اور مکث نے بھی ۔۔۔۔۔
خیر جانے دو چلتا ہوں اللّٰلہ حافظ 
ولی نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا اور نکل گیا جبکہ حیا اسے دور جاتا ہوا دیکھ رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لیک کے قریب بیٹھی پاؤں پانی میں ڈالے سوچوں میں گم تھی جب کسی نے اس کے انکھوں پر ہاتھ رکھا 
اس نے اس ہاتھ کے اوپر ہاتھ رکھا 
بے بی گرل !!!!!!!
حیا کا دل دھڑک اٹھا اس نے ہاتھ اٹھائے تو اس نے مڑ کر دیکھا مکث کھڑا تھا وہی اونچا لمبا خوبصورت چارمنگ مکث اس کا مکث وہ بہت مختلف لگ رہا تھا 
کلین شیو نے اس کی ال ٹائم سٹبل فیس کو غائب کردیا تھا اس کی انکھوں پہ ائی سائٹ گلاسس تھے جس سے وہ سوبر لیکن بے انتہا حسین لگا رہا تھا 
مکث 
"شش !!"
مکث نے حیا کے لبوں پر انگلی رکھی "مکث تم اگئے ۔"
"ہاں حیا میں اگیا ۔"
مکث نے حیا کا ہاتھ پکر کر کھینچا جس سے وہ اس کے سینے سے لگی 
حیا کا چہرہ لال ہوگیا اور اس نے اپنے ہاتھ ہمیشہ کی طرح چھڑوائے 
"ناٹ فیر بے بی گرل میرے جانے کے بعد روتی رہی لیکن میرے انے پر پھر وہی حرکت ۔"
مکث نے اس کی کانوں میں سرگوشی کی 
"ہٹوں بدتمیز تمہیں پتا ہے میں کتنا روئی تھی تم نے ایسی کیوں کیا ۔"
حیا نے انسو بڑھی انکھوں سے شکوہ کیا 
تم جو مجھے چھوڑ گئی تھی مکث نے جھک کر اس کی نم پلکے چوم لی 
ہٹ جاو میں تم سے نہیں بات کررہی 
حیا اس کی حصار سے نکلی 
"حیا میں پھر چلا جاو گا ۔"
مکث کی وارنگ والی آواز ائی 
"چلے جاو تم جب تک میری نہیں ہوگئے تب تک نہیں ہاتھ لگانے دو گی ۔"
حیا غصے سے بولی 
"حیا مجھے اپنی بات رپیٹ کرنا نہیں پسند ۔"
"اور آب مجھے بھی ۔"
حیا بھی اسی انداز میں بولی 
"اوکے فائن میں جارہا ہوں ۔"
مکث مڑ گیا 
حیا بے اختیار اس کی طرف بڑھی 
مکث مکث !!!! اچھا سوری نہ مکث 
حیا چلانے لگی لیکن وہ رُکنے کا نام نہیں لیے رہا تھا 
"مکث ائیم رئیلی سوری ائی لو یو مکث پلیز واپس اجاو۔"
لیکن وہ چلا گیا 
حیا کی ایک دم انکھ کُھلی وہ اس وقت یونی ورسٹی کے گراونڈ کے درخت کی نیچے نیم دراز تھی یہ جگہ کافئ سنسان تھی اس لیے حیا کو کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا 
"میں خواب دیکھ رہی تھی اُف میرے خدایا ۔"
اس نے جب گھڑی دیکھی بارہ بج رہے تھے اس کی انگلش کی کلاس مِس ہوگئی تھی 
حیا نے گھر جانے کا فیصلہ کیا اور اپنی بُکس اٹھانے لگی تاکہ گھر آرام کرلے پھر شام کو اس نے کام پر Costa جانا تھا
اس نے کتابیں اور بیگ اٹھائے اور چل پڑی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔..................................
اللّٰلہ م آیک بار پھر آپ نے مجھ ازمائش کی گھڑی پہ لیے ائے ہیں پلیز میری لیے کوئی فریشتہ بھیج دیجے جو میری حفاظت کرسکے 
دروازے کی دستک پہ اس نے دروازہ کھولا 
دیکھا سمانے پیٹر کھڑا ہوا تھا 
حیا اپنے آنسو کو روکتی اس کے ساتھ چل پڑی آج اسے صرف اللّٰلہ ہی بچا سکتا تھا 
حیا کار کے پھیچے بیٹھ گئی اور اپنے انسو کو روکنے کی بھرپور کوشش کررہی تھی لیکن پانچ منٹ کے بعد وہ ہچکیوں سے رونے لگی 
پیٹر بلکل خاموشی سے ڈرایو کررہا تھا 
اسی طرح سفر میں پورا گھنٹہ ہوگیا تو حیا نے کھڑکھی کی طرف دیکھا 
دوبئی کی اونچی عمارتوں کے بجائے یہ سمندر کی طرف اگئے تھے
پیٹر نے کار روکی حیا کا دل رُک گیا 
آب پتا نہیں کیا ہوگا پیٹر نے دروازہ کھولا 
وہ کانپتے ہوئے اتری پیٹر نے اس کو چلنے کا اشارہ کیا وہ اس کے ساتھ چلتی گئی جب وہ ایک بڑی سی شپ کی طرف ائے حیا بے اختیار چونک پڑی 
‏Girl you better run away otherwise I have no choice but to send you to womanizer sheikh that will wreck you're soul 
حیا کو اس کی بات پہ حیرانگی ہوئی پیٹر اتنا مہربان 
"پر مجھے کہاں جانا ہے ۔۔۔۔"
"یہ سامنے شپ ہے یہ امپورٹ اکسپورٹ کی ہے یہ شاہد کسی یورپ کنڑی کی طرف جائے دس از اونلی دا بیسٹ اوپشن یو کین اسکیپ گرل
حیا کی انکھوں میں پھر سے انسو نکل ائے وہُ بھاگنے لگی لیکن رُک کر مڑی 
"لیکن منیر آپ کے ساتھ ۔"
‏Oh don't worry about it that jerk already has left the country 
حیا نے تشکر انداز میں اسے دیکھا پھر ہلکی سی مسکراہٹ پر بولی 
تھینک یو پیٹر 
‏Best of luck girl 
اور وہ تیزی سے شپ کے اندر قدم رکھا اور اندر اگئی جہاں سامان رکھا جاتا تھا اندھیرے میں اس کو کچھ خاص سمجھ میں نہیں ارہی تھی اس لیے اس نے بہت سے باکس کے پھیچے تھوڑی جگہ بنا کے بیٹھ گئی اور ایک اور ازمائش کے لیے خود کو تیار کرنے لگی پتا نہیں یہ ازمائشیںُ اس پر کب ختم ہوگئ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"سر مجھے مصطفیٰ کا پتا دیں دئے ۔"
ولی نے ڈاکڑ حُسین سے سلام دعا کرنے کے بعد کہا 
"ارئے مصطفیٰ سے آپ نے کیوں ملنا ہے ۔"
ڈاکڑ حُسین کی حیرت بھری آواز ائی 
"سر اتنی تعریف سنُی ہے آپ کے بیٹے کی سوچا کینیڈا آیا ہوں تو ان سے مل لوں ۔"
"اچھا میں ابھی آپ کو اس کا اڈریس دیتا ہو پھر بتاتا ہو کے وہ کہاں ہے گھر میں تو ٹکتا نہیں ہے یہ لڑکا ۔"
ولی نے فون بند کیا اسے ڈاکڑ حُسین کے سنگ پورے آٹھ مہینے ہوگئے تھے لیکن انہوں نے کھبی اپنے بیٹے مصطفیٰ کے بارے میں نہیں بتایا سنُا تھا وہ بہت الگ ہے ڈاکڑ حُسین سے ، مزہب کے سارے حقوق پورے کررہا ہے ساتھ ساتھ دنیاداری بھئ نبھا رہا ہے ابھی خبر ائی تھی وہ افریقہ گیا تھا لوگوں کے مثائل حل کرنے پھر بے شمار لوگوں کو اپنے فنڈز سے پڑھایا اور حج کروانے کے لیے بھیجا اس کی سوچ یہ تھی کے جب آللّٰلہ نے اتنی بے شمار دولت دی ہے تو خود پر فضول خرچ کرنے کے بجائے ہم دوسری کی ضرورت کا خیال رکھے تو اس سے انسانیت کی ایک مثال کے ساتھ لوگ اللّٰلہ سے شرک کرنا چھوڑ دئے گئے ہاں لوگ شرِک کرتے ہیں شرِک انسانوں کے خاص کر غریبوں میں تو جیسے بس چکا ہے جیسے اگر ان کو کسی چیز کی کمی ہوگئ تو وہ کہے گے اللّٰلہ امیروں پہ زیادہ مہربان ہے ،وہ امیروں کا خدا ہے وغیرہ وغیرہ اگر زرا سی بھی پریشانی آجاتی ہے ہم خدا کو بلیم دینا شروع کردیتے ہیں جبکہ وہ تو ہمیں ٹیسٹ کررہا ہے .اللّٰلہ اپنے ان بندوں پر ہی ازمائشِ ڈالتا ہے جس کو وہ سب سے پیارا ہے کیونکہ اس پتا چلے وہ اس سے کتنا ہونسٹ ہے 
ولی کو بے اختیار ڈاکڑ حُسین کا ٹاپک یاد اگیا جس میں شِرک سے متعلق لیکچر تھا اور یہ ولی کی ڈیمانڈ پہ تھا جب اس نے مصطفیٰ کی یہ سوچ سنُی اسے شرکِ کا پتا تھا کے اللّٰلہ کی علاوہ کسی اور کی عبادت کرنا شِرک کہتے ہیں لیکن اسے مائنر قسم کے شِرک کے بارے میں نہیں پتا تھا اور اسے حیرانگی ہوئی کے اس میں سب سے زیادہ مسلمان ہی ہیں تو ولی کو کنفیوزن ہوئی کے پھر وہ مسلمان کیسے کنسیڈر کیے جاتے ہیں جب وہ اللّٰلہ کو نہیں مان رہے 
"ایسا نہیں ہے ولی میں آپ کو بتاتا ہوں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بندہ کھانے کی ٹرے رکھ کر چلا گیا تھا 
مکث بیٹھا رہا 
اس نے اگے سے کوئی ہنگامہ نہیں کیا بلکہ چُپ کر کے کھانا کھا لیا اسے پتا تھا یہ بندئے ڈاکڑ حُسین کو خبر دیتے ہوگے اور اس نے یہی سوچا کے ڈاکڑ حُسین کی نظروں میں اچھا بن جائے تو ہی وہ اسے جانے دئے گے لیکن کیسے ان کا میشن اسے سمجھ میں اگیا تھا کے مسلمان بنا ہے تو کوئی بات نہیں مسلمان ہی بن جائے گے تھوڑی دنوں کے لیے 
مکث کے چہرے پہ شاطرانہ مسکراہٹ اگئی اس نے ارِد گرد دیکھا سامنے دو طرف بُک شیلف تھے اور وہ یقین سے کہہ سکتا تھا کے حُسین نے صرف اسلامی کتابیں رکھی ہوگی وہ اپنے ہاتھ دھو کر واپس کمرئے میں ایا اور ان میں سے ایک کتاب جو الگ قسم کی لگ رہی تھی جس پہ اسلام نام کا کچھ نہیں لکھا تھا وہ نکالی جس پر انگلش میں لکھا تھا polytheism 
"یہ کیا لیٹ می سی ۔"
مکث بُکس کا دیوانہ تھا وہ ہر قسم کی کتابیں پڑھنے کا شوقین تھا بُک کا ٹائٹل دیکھا تو اس کو انڑیسٹنگ لگا 
"چلوں حُسین آصف تمہیں نیچا دیکھانے کے لیے کچھ ہم بھی جان لیے تاکہ میری حیا کے ساتھ قریب رہنا آسان ہوجائے ۔
وہ کتاب لیے کر سیدھا بیڈ پہ بیٹھ چکا تھا اور پڑھنے لگا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پلیز جنفیر اس کو فون کرو میں بہت تڑپ رہی ہو یہ میرا آخری وقت ہے اس آخری لہمے میں اپنے بیٹے کو دیکھنا چاہتی ہوں 
جب سے اولویا نے مکث کو ایک نیوز چینل میں ایز ا بلینر بزنس مین دیکھا تو اولویا کا منہ کُھل گیا وہ بلکل حُسین کی جوانی کا عکس تھا اُسی جیسے بال اسی کی طرح انکھیں نقش میں بھی کوئی فرق نہیں تھا بس اس نے ڈارک سٹبل رکھی ہوئی تھی جس سے وہ مختلف لگ رہا تھا اولویا کو یہ کام چھوڑے ہوئے دس سال ہوگئے تھے اسے اس گلٹ نے چھوڑنے پہ مجبور کیا تھا کے اس کا بیٹا مکث پتا نہیں کس حال میں ہوگا زندہ ہوگا یا لوگوں کے ظلم سہہ رہا ہوگا اس لیے اس کو مکث کے غم نے برین ٹیومر کا شکار کردیا 
اس نے مکث کو دس سالوں سے ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی لیکن مکث اسے کہی نہ مل سکا اور آب کے جب وہ مرنے والی ہے اس کی یہ آخری خواہش تھئ کے وہ اپنے بیٹے سے مل لیے اور اس سے معافی مانگ لیے لے اس نے جنفیرکو کال کی کے وہ مکث سے اپوینٹ منٹ لیے لے جنفیر نے ہامی بھر لی لیکن پھر جنفیر نے مایوس ہوکر بتایا کے مکس بزنس کے لیے کلیفورنیا گیا ہوا ہے 
اولویا نے پوچھا کے نمبر کیوں نہیں مانگا 
"اولی ڈیر ائیم ریلی سوری مجھے وہ کسی بھی ریزن پر مکث کا نمبر نہیں دئے رہے تھے ان کے رولز کے خلاف ہے ۔"
"پلیز جنفیر میں مر جاو گی اس سے پہلے مجھے مکث سے ملوا دو ۔"
اولویا پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی 
"ریلکس میں کچھ کرتئ ہو۔"
جنفیر نے کسی طریقے سے مکث سے رابطہ کیا 
"ہلیو مکثملین مارٹن سپیکنگ ۔"
"ہلیو مکث میں جنفیر بول رہی ہوں ۔"
جنفیر اس کی بارعب آواز سے متاثر ہوئی تھی یہ تو حُسین سے الگ ہی معلوم ہورہا تھا ۔"
"واٹ کین ائی ہلپ یو مس جنفیر ۔"
مکث فائل کو سائن کر کے سکیٹری کو دئے کر فون کی طرف متوجہ ہوا 
"مکث تمہاری مدر کو کینسر ہے ۔"
مکث ساکت ہوگیا یانی ونیسا کو ۔۔۔۔
"کیا بکواس ہے کون ہے میری ماں کو کیسے کینسر ہوسکتا ہے وہ تو بلکل ٹھیک ہے کینسر کہاں سے ۔۔۔"
مکث کھڑئے ہوکر سخت لہجے میں بولا 
"مکث میں اولویا کی بات کررہی ہو۔۔"
مکث کو جھٹکا لگا اولویا !!!!
"مکث وہ قسم سے بہت گلٹی ہے وہ مر رہی ہے ڈاکڑ نے اسے لاعلاج قرار دئے دیا ہے پلیز اس سے ملنے۔۔۔۔
مکث نے زور سے دیوار پہ فون مارا 
جو بہت سے حصوں میں بٹ چکا تھا 
رائن اس کی چیخنے کی آواز پر فورن داخل ہوا 
"مکث !!!!!!!
"نہیں ہوں میں اس کا بیٹا سمجھی نہیں ہوں میں !!!!!!!!
وہ فون کو دیکھ کر حلق کے بل چلایا 
"مکث میرے بھائی کیا ہوا ہے ۔"
رائن پریشانی سے اس کے قریب ایا 
مکث فورن واش روم میں گھُسا اور ٹیپ کھول کر اپنے اوپر چھینٹے مارنے لگا جیسے اپنے گندگی کو صاف کررہا ہوں 
میں نہیں ہوں اس گندی عورت کی اولاد سمجھی 
وہ چیخ رہا تھا ساتھ میں اپنے منہ پر پانی کے چھینٹے مارہا تھا 
رائن نے اس کھینچا 
"مکث پاگل مت بنوں ہٹوں ۔۔۔Max I'm warning you I'm gonna beat the hell out of you 
لیکن مکث جیسے وحشی ہوگیا تھا 
رائن نے پوری طاقت لگا کر اسے کھینچا اور اسے ایک زور دار تھپڑ مارا 
مکث جیسے ہوش میں ایا 
"پاگل ہے تو بلکہ پاگل نہیں تیرے پاس تو دماغ ہی نہیں ہے یہ دیکھ تو کہی سے لگ رہا ہے مکث مارٹن جس کا اتنا شارپ دماغ ہے وہ ایسی حرکت کرتا پائے جارہا ہے ہزار دفع میں نے کہا ہے تمہیں چلو سائیکٹریس کے پاس میں لے جاتا ہو اگر آپ کو زحمت ہورہی ہے لیکن نہیں میں تو ٹھیک ہو مجھے کیا ہونا ہے تو جاکے اپنا دماغ ٹھیک کر 
وہ اس کی نقل اتارتے ہوئے بولا 
مکث نے نظریں جکھا لی 
"دل کررہا ہے تھپڑوں سے تمہارا منہ لال کردو پاگل کردو گے مکث خود کُو بھی اور مجھے بھی ۔۔
رائن نے اسے صوفے پہ بٹھایا اور انڑ کام سے ایک کافی کے ساتھ سینڈیوچ منگوایا 
اور پھر وہ ٹہلنے لگا مکث ابھی تک سر جکھائے بیٹھا ہوا تھا 
"میں آب بتارہا ہو دوبارہ ایسی حرکت کی تو میں تمہیں شوٹ کردو گا ۔"
رائن کو کھبی اتنا غصہ نہیں ایا تھا جو اسے اس پل ارہا تھا مکث نے اپنے سامنے فون کے پیسس دیکھے وہ ان کو صاف کرنے کے لیے اٹھنے لگا کے رائن سمجھ گیا 
"اگر تو یہاں سے ہلا نہ مکث تو تمہارئ ٹانگیں توڑ دو گا ۔"
مکث پھر بیٹھا رہا فل حال اس کو لڑنے کی سکت نہ تھی 
دروازے کی بیل پہ اس نے فورن دروازہ کھولا اور ایک ویٹر مکث کے سامنے ٹریے ٹیبل پر رکھ چکا تھا لیکن اسے مکث کی حالت پر حیرانگی ہوئی 
"ٹھیک ہے جائے آپ ۔۔۔۔"
رائن اونچی آواز میں بولا 
رائن نے دراز سے ٹرینکولائز نکالی اور مکث کو دی 
"چپ کر کے لیے اور کھا اگے سے اگر کچھ پھوٹا تو یہ جو تیرے بتیسی ہے وہ توڑ کے رکھ دو گا 
مکث کو بلا آخر ہنسی اگئی 
"بس کر اور کتنا غصہ نکلائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"جب تک تیرا یہ beast والا روپ ختم نہیں ہوجاتا تب تک ۔"
رائن کو اس کی ہنسی پہ تاؤ ایا 
"میں ٹھیک ہو یار ۔"
"ہاں وہ تو مجھے نظر آرہا ہے کتنے ٹھیک ہے آپ ۔"
رائن طنزیا لہجے میں بولا 
"چپ کر کے یہ دوائی لے اور انکھ بند کر کے لیٹ جا اگر مجھے یہاں سے ایک انچ بھی ہلتے ہوئے نظر ائے تو بائی گاڈ میں نے اس عمارت سے کود جانا ہے 
"اوکے ڈیڈی ۔"
مکث ہنستے ہوئے بولا اور رائن اسے گھور کر چلا گیا 
جبکہ مکث کی انکھیں پھر سے سُرخ ہوگئی 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا کی انکھ کھُلی جب اس نے دیکھا سورج نکل چکا تھا اور شپ کے انجن کی زور دار آواز نے اس کا استقبال کیا حیا ارِدگِرد دیکھ رہی تھی پھر وہ اہستگی سے اٹھی شکر کیا کے وہاں کوئی نہیں تھا 
اس نے گہرا سانس لیا پھر اس نے دیکھا یہ کسی اولڈ ٹاون جیسا علاقہ لگ رہا تھا جہاں بلڈنگ کے ہر طرف لال اور لائٹ اورنج رؤف نظر ارہے تھے شپ رُکی ہوئی تھی اور آب سامان نکالنے کے لیے اسے کھولا جائے گا 
حیا گہری سوچ میں تھی جب کسی کی آواز پڑ مڑی 
"ہو اڑ یو ینگ لیڈی ۔"
وہ ایک بوڑھا آدمی تھا جس نے بلیو کلر کا جمپ سوٹ پہنا ہوا تھا اور اس کے نیچے سفید ٹی شرٹ جو تقربیع میلی ہوچکی تھی 
"میں میں میں ۔۔۔۔۔۔۔
"واٹ می می میں نے کہا تم کون ہو اور شپ میں کیا کررہی ہوں ۔"
بوڑھے آدمی کے ماتھے پر بل پر گئے 
"ویر ائیم ائی ۔"
حیا تیزی سے بولی 
وی آڑ ان جرمنی 
جرمنی !!!!!!! 
یہ کہاں اگئی میں 
حیا آہستہ سے بڑبڑائی 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حُسین نے سرکاری ہسپتال میں کام کرنا شروع کردیا 
وہ بدل گیا تھا اس رات وہ مسجد میں داخل ہوا تھا نماز شروع ہوچکی تھی وہ ان کو دیکھا جارہا تھا اسے نماز نہیں اتی تھی اور ان نمازیوں کو نماز پڑھتا دیکھ کر اسے رشک ایا وہ سائڈ پہ بیٹھ کر انہیں دیکھنے لگا جب وہ لوگ پڑھ کر واپس جارہے تھے ان میں سے ایک بوڑھا آدمی اسے دیکھ کر چونکہ 
اسے دریافت کیا کے وہ آب تک یہاں کیوں بیٹھا ہے 
حُسین نے روتے ہوئے اپنی ساری کہانی سنائی
"دیکھے کتنا بد نصیب ہو جس کو نماز تک نہیں اتی مجھ جیسے بندئے کو اللّٰلہ کیسے معاف کرئے گا ۔"
حُسین روتے ہوئے بولا تو وہ مسکرا دیے
"کیوں نہیں کرئے گا اللّٰلہ اگر تم معافی کے لیے ہاتھ پھیلاوںُ گئے تو وہ ضرور معاف کرئے گا گناہ چاہیے سمندر کے برابر ہی کیوں نہ ہو وہ پھر بھی معاف کردیتا ہے تم گِرگِرا کر معافی مانگوں تو وہ تمہیں خالی ہاتھ نہیں لوٹائے گا اسے اپنے بندئے کے انسو بہت پسند ہے او میں تمہیں نماز سیکھاتا ہو۔"
پھر وہ بدل گیا اس نے خدا سے رو رو کر معافی مانگی ایک دم جیسے اس کے دل کو تسلی ہوگئی تھی جن سے اس نے بات کی تھی وہ مسجد کے امام تھے امیر علی وہ زیادہ سے زیادہ ان کے سنگ گزارنے لگا 
صرف ایک ہفتہ وہ ان کے گھر قیام پزیر ہوا اس کے بعد اس نے سرکاری ہسپتال میں درخواست دی اور پھر ایک کرائے کا گھر لیے لیا ۔۔صبح کام پر جاتا اور واپسی پر لیکچر اٹینڈ کرنے اس کے بعد امام امیر علی کے کہنے پر وہ اپنے باپ کے گھر گیا 
لیکن گارڈ نے مایوسی سے اسے کہا 
"سر کہہ رہے ہے کے ان کو کوئی بیٹا نہیں ہے بھیج دو اسے واپس ۔"
"پلیز حمید چاچا آپ پاپا سے بات کرے میں ان کے پاؤں پکر لو گا ایک بار صرف ایک بار ۔"
لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا اسی رات حُسین نے امیر علی کو بتایا 
"کوئی بات نہیں باپ ہیں تھوڑا بہت غصہ اجاتا ہے ٹھیک ہوجائے گئے تم روز جایا کرو ایک بات مایوس نہ ہونا اس پاک زات پہ یقین کرنا ۔"
اور پھر حُسین اس معاملے میں ڈھیٹ بن گیا 
لیکن آصف صاحب اس بار پتھر دل کے ہوچکے تھے 
۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔..۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"جرمنی میں جرمنی کیسے اگئی ۔"
حیا پریشانی سے بولی پھر ان کی عجیب نظریں خود پر محسوس کر کے ایک دم بولی 
"آب یہ کہاں جائیں گئی ۔"
حیا کی بات پہ اس نے ابرو اُٹھائے
"کچھ سامان وھیکل کے تھڑو جائیں گا اور سیدھا پروگ ۔"
"آپ میری مدد کرسکتے ہیں ۔"
حیا نے ہاتھ جوڑ کر التجا کی 
ان کی مدد سے وہ ایک باکس میں گھسی اور پھر وہ باکس اُٹھا کر ایک سٹوری کار میں لیے گئیں اور پھر سیدھا سٹیشن پہنچے اور وہاں لیکر گئیں اس کے بعد جب پروگ پہنچ گئیں تو کوئی سامان اُٹھا کر وین میں ڈالنے لگا کے وہ گِر پڑا جس سے حیا باہر نکل پڑی حیا ڈر کر مڑی انہوں نے حیرت سے دیکھا اور وہ اُٹھ 
اور تیز تیز بھاگنے لگی اور گھنٹہ بھاگنے کے بعد وہ کسی سے بُری طرح ٹکرائی وہ جن خاتون کے ہاتھ میں سبزی اور فروٹ کے پیکٹ تھے وہ ٹکر لگنے سے گِر گئے اور ساتھ میں وہ بھی زمین بوس ہوچکی تھی 
"ائے میرے اللّٰلہ ائیم سو سوری ۔"
حیا نے انہیں اٹھانے میں مدد کی 
"پلیز مجھے معاف کردئے میں نے آپ کا سامان بھی گِرا دیا ۔"
حیا نے پہلے انہیں اٹھایا اور پھر ان کا سامان براون بیگ میں ڈالنے لگی 
"رہنے دو بیٹا خراب ہوگئے ہوگے ۔"
انہوں نے نرمی سے کہا اور چلنے لگئ لیکن اگلے ہی لہمے ان کا پاؤں کے درد سے کہرانے لگی 
"آپ کو کیا ہوا انٹی ۔۔۔۔۔۔"
حیا نے ان کو پریشانی سے دیکھا 
وہ فٹ پاتھ پہ بیٹھ گئی 
"لگتا ہے موچ اگئی ہے ۔۔۔۔"
وہ اپنے پاؤں کو دیکھنے لگی 
"انٹی میں آپ کا پاوں دیکھ لو ۔۔۔
انہوں نے سر اٹھا کر حیا کو دیکھا 
"نہیں رہنے دو بیٹی تم جاوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"میں میں کہا جاوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
رومیسہ نے چونک کر حیا کو دیکھا 
"کیوں آپ کا گھر نہیں ہے ۔"
حیا نے نفی میں سر ہلایا 
انہوں بے غور سے حیا کو دیکھا سرخ لمبئ شفون کی مکثی الجھے بال پیلا زرد چہرہ انکھوں کے نیچے حلقے ہونٹ پھٹے ہوئے البتہ کانوں میں اس نے ہیرے کے ٹاپس اور چین پہنی ہوئی تھی
"مجھے کیا تم گھر چھوڑ سکتی ہوں ۔۔۔"
"جی !! جی ضرور کیوں نہیں ۔۔۔۔۔
حیا نے انہیں اٹھایا اور ساتھ لیے کر چلنے لگی 
"نام کیا ہے تمہارا ؟"
انہوں نے اس کے ساتھ چلتے ہوئے پوچھا 
"جی حیا ۔"
حیا اہستگی سے بولی 
"بہت پیارا نام ہے کہاں سے ائی ہوں۔"
"پتا نہیں کہاں سے ائی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا بڑبڑاتے ہوئے بولی 
"انٹی میں پاکستان سے ائی ہوں ۔"
"تم میرے ملک سے ہو یہ تو اچھی بات ہے میرے لیے آسانی ہے اچھا پروگ کس لیے ائی ہوں ۔۔۔۔۔۔
ان کا گھر قریب تھا اس لیے یہ لوگ جلدی پہنچ گئے 
"میں پروگ ؟؟"
"ہاں پروگ ۔۔۔۔اچھا اندر او پھر بتاو مجھے تمہاری حالت ٹھیک نہیں لگ رہی ۔"
رومیسہ بلا کی نظر شاناس تھی اس لیے بولی
حیا جھجھک گئی 
"میں ۔۔۔میں کیسے اسکتی ہو آپ تو مجھے جانتی نہیں ہے 
"اجاو بیٹی تمہارا شکریہ ادا کرو گی جو تم مجھے اٹھاتے ہوئے لیے ائی گھر تک ورنہ آج کل کون کرتا ہے 
۔"رومیسہ کی بات پر حیا پہلی سوچتی رہی پھر ان کے ساتھ اندر داخل ہوئی 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فجر نے اسے سبق سکھانے کے لیے تھوڑا سا اگے چل کر جھاڑیوں میں چھپ گئی تاکہ زاہد کو لگے وہ کافی اگے چلی گئی ہے ورنہ وہ اتنی پاگل نہیں تھی اسے تو جنگلوں کے راستے ہی نہیں پتا تھے 
"آب دیکھنا میری اہمیت کا اندازہ ہوگا اسے کے فجر کے بغیر کوئی کام نہیں ہوسکتا ۔۔۔کتنی بڑی انٹرٹینمنٹ کو کھو رہا ہے وہ 
فجر ہنستے ہوئے اپنے آپ سے بولی 
اُدھر زاہد فجر کو ایک سو ایک بددعایں دیے چکا تھا جو فجر کو باخوبی سنائی دئے رہی تھی 
"خدا کرئے فجر تمہیں کوئی سانپ ڈس لیے نہیں نہیں یہ زیادہ ہوگیا ہے ماموں جان نے تو مجھے قتل کردینا ہے بلکہ نہیں خدا کرئے فجر تمہارے سامنے سانپ اجائے اور پھر تم چیخ کے میرے پاس او ۔"
آج تو لگتا تھا جیسے کنیڈین فورسٹ بددعاوں کے لیے بنا تھا کیونکہ جیسے فجر ہلکہ سے پھیچے ہوئی اس نے کسی کے سُرسراتی ہوئی آواز سُنی ویسی ہی فجر کی ریڑھ کی ہڈی میں میں سنسنی دوڑی 
فجر نے گھبڑا کر جلدی سے منہ اِدھر کیا تو اس کی چیخ نکل ائی کیونکہ اس سے اپنے پانچ انچ کی فاصلے پہ سانپ نظر ایا اس نے سائڈ پہ ہوکر اچھلُ پڑی وہ زاہد کی طرف نہیں جاسکتی تھی کیونکہ اس راستے کی جانب ہی سانپ تھا فجر کے تو ٹانگیں کانپ گئی 
"زاہد بچاو ۔"
فجر چیخی 
زاہد کو ہنسی ائی لیکن بولا کچھ نہیں 
"زائد مجھے بچاو وہ میرے قریب ارہا ہے "
"میں کیسے بچاو میں پھسا ہو ویسے تم ہو کہاں ۔"
زاہد مزئے سے بولا 
وہ اتنے قریب اگیا کے فجر چیختی ہوئی تیزی سے بھاگی اور پوری سپیڈ لگا دئی اگر اتنی سپیڈ یہ اولمپک ریس میں لگاتی تو ضرور اس نے فرسٹ پرائز جیتنا تھا لیکن یہاں پہ اس کا نقصان ہوگیا وہ بہت تیزی سے چلتی کہی کھو گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔: 
۔۔۔ڈاکڑ حُسین کے کہنے پر وہ اس پتے پہ آیا تھا اس سے حیرانگی ہوئی وہ سمجھ رہا تھا اِن کا بیٹا اسےکہی مسجد یا کہی اسلامک سنٹر چلوں بے شک کسی ہوٹل میں لیکن کسی ریسنک ٹریک پر ڈاکڑ حُسین کا کہنا تھا وہ خاصا مُختلف ہے دین اور دُنیا کو ساتھ لیے کر چلنے والا شخص ہے وہ میرے جیسا بلکل بھی نہیں ہے اچھا ہے سب کو اِس جیسا ہی ہوناچاہیں آپ بھی تو ایسے ہی ہوں ولی" 
"صیح کہا آپ نے لیکن آپ کے بیٹے کو ایز ا پریکٹسنگ مسلم کا سوچ کر مجھے تھوڑی حیرانگی ہوئی کیونکہ کے عموماً انسان اِن چیزوں کو چھوڑ دیتا ہے لیکن کوئی بُرائی بھی نہیں ہے 
اس نے فون بند کیا 
اور اندر داخل ہوااور اس کے بارے کسی سے پوچھا انہوں نے بتایا کے اس کی ریس چل رہی ہے 
ولی نے اس طرف دیکھا جہاں بڑی سے ریسنک ٹریک پر دو گاڑیوں کی ریس چل رہی تھی ایک بلیک کار تھی اور دوسری بلیو 
Black Ferrari 
تیزی سے اگے موڑ کاٹ رہی تھی جبکہ بلیو بھی اپنی کوشش میں اس کو کاٹنے میں لگی ہوئی تھی 
بڑی ہی دلچسپ ریس تھی ولی کو تو عرصہ ہوگیا تھا ریس لگائے ہوئے پھر اس نے چونک کر دیکھا کے بلیک فیراری اس کو اگے سے راستہ نہیں دیے رہی تھی 
ولی ٹھٹکھا اسے یہ سٹائل کسی کی یاد دلائی 
یہ آخری لیپ رہ گیا تھا بلیک ابھی تک اگے تھی جبکہ بلیو ہمیشہ کی طرح پھیچے پورے آدھے گھنٹے کے بعد بلا آخر بلیک کی جیت ہوئی 
ولی کو نہیں پتا تھا ان میں سے کون سا وہ ہے 
جب بلیک والے نے گھاس پر لیے کر زور سے ڈرفٹنگ کرنے لگا 
یہ ایک جیت کی خوشی کا اظہار تھا 
پھر وہ باہر نکلا اپنا ہلمٹ کو سر سے اتار کر اپنے منہ کو جھٹکنے لگا جہاں وہ خوشی سے چلایا 
Victory is always for me thank you Allah 
مصطفٰی آصف کو دیکھ کر ولی کو چارسوچالیس والٹ 
کا جھٹکا لگا 
"Max!!!!!!!!"
مصطفی نے کسی کی چیخنے پر چہرہ موڑا اور رائن کو دیکھ کر اس کا منہ کھل گیا 
Ryan !!!!!!!!
جاری ہے
 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney