The one 
Episode 11

حُسین کو اس ہوسپیٹل میں کام کرتے ہوئے پورے چھ سال ہوگئے تھے وہ آب ڈاکٹری کے ساتھ اسلامک سکولر بننے کی تیاری کررہا تھا 
وہ آب بھی اپنے باپ سے معافی مانگنے جاتا تھا لیکن ناکام رہا واقی میں اس بار اس کا باپ اس سے بُری طرح متنفر ہوچکا تھا 
حُسین اس سال حج کر کے واپس ایا تھا جب اس کی ملاقات اسد عمیر سے ہوئی 
اسد عمیر امیر علی کا دوست کا بیٹا تھا وہ ایک دن حُسین کا لیکچر سن رہا تھا عورتوں سے متعلق تو وہ اس سے امپریس ہوگیا اسد نے سوچ لیا وہ اپنی لاڈلی بہن کی شادی اسی بندئے سے کروائے گا پھر اسد روز انے لگا اور اسی طرح حُسین سے بات چیت ہونے لگی 
حُسین کو اسد اچھا لگا تھا اس نے اپنے گھر پہ بولایا
جس پر اسد نے انے کا وعدہ کیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مس حیا جیسے کے آپ جانتی ہیں آپ کو یہ financial aid مسڑ مصطفیٰ کی بدولت ملی ہے۔ وہ محنتی لڑکیوں کے لیے بے شمار ایڈز دینے کے لیے تیار ہے وہ چاہتے ہے لڑکیاں پڑھے اور کچھ کر دکھائے شروع میں تو مجھے آپ سے بہت امیدیں تھی بٹ آب آپ کے پہلے سمسڑ میں ہی بُری جی پی ائے دیکھ کر مجھ بے حد مایوسی ہوئی آپ بے شک رگولر سٹوڈنٹ ہے لیکن رگولرٹی کا کچھ تو ثبوت دئے ۔"
مسز ہوپکِنس بہت سنجیدگی سے حیا کو دیکھتے ہوئے بولی 
حیا شرمندگی سے سر جکھا گئی 
"ائیم سوری میم ائندہ آپ کو شکائت کا موقع نہیں ملے گا ۔"
"میں بھی یہی امید کرتی ہو حیا Have a good day ۔"
حیا باہر نکلی تو انا اس کے قریب ائی 
"کیا بہت ڈانٹا ہے مس ہوپکِنس نے 
حیا نے نفی میں سر ہلایا 
"ڈانٹا نہیں ہے بس سمجھایا ہے ٹھیک ہی تو کہتی ہے میرے کتنے پوئر گریڈز ائے ہیں سچ میں مجھے تو پڑھنا ہی نہیں چاہیے میں ایک ویٹریس بنے کے قابل ہی ہو اتنے غظیم بندئے کے پیسے برباد کررہی ہو جو لڑکیوں کے لیے اپنا پیسہ پانی کی طرح بھا رہا ہے تاکہ وہ اگے اپنا فیوچر سنوار سکے "
حیا اہستگی سے بولی 
"مصطفیٰ آصف کی بات کررہی ہو مائی گاڈ حیا کیا بندہ ہے اتنا چارمنگ اور الیورنگ پرسنآلیٹئ میں نے آج تک نہیں دیکھی سچ میں ہی از ویری نائس گائے تمہیں یاد ہے وہ ہمارے ولکیم ویک میں ایا تھا لیکن تم نے ایونٹ ہونے سے پہلے ہی نکل گئی تھی اس کی باتیں تم سنتی تو لگ پتا جاتا کاش ہر لڑکی کو ویسا ہی بندہ ملے۔
حیا بس خاموشی سے سنتی رہی 
"اچھا اکاوئنٹس کی کلاس لینی ہے؟"
انا بولی 
"انا تم جاوں میں ابھی اتی ہو لائبریری سے کچھ بُکس لیے او ۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اولویا لندن کے سرکاری ہوسپٹل میں ایڈمٹ ہوگئی تھی 
ساری دولت تو اس کے کام چھوڑنے پر لیے لی گئی 
حُسین کو ہمیشہ بےشمار ہوسپٹل پہ بولایا جاتا تھا 
وزٹ کے لیے اور یہی پل تھا جس میں اس کا اولویا سے سامنا ہوا 
حُسین کو ڈرفنٹ ڈیپارٹمنٹ دکھائے جارہے تھے 
جب وہ نیورلوجی ڈیپارٹمنٹ میں ایا اولویا کو واش روم سے واپس اپنے کمرئے میں لیے کر جارہے تھے جب اولویا نے حُسین کو پہچان لیا 
"حُسین !!!!"
حُسین جو ڈاکڑ لوکس سے بات کررہا تھا کسی کی کمزور آواز سے اس کا نام پکراتے ہوئے سُنا تو بے اختیار مڑا 
وہ ایک بہت ہی کمزور اور بمیار خاتون لگ رہی تھی جو اس کی ہی عمر کی لیکن حُسین نے فورن اس کی گرینش بلیو ائز کو فورن پہچان لیا 
"اولویا !!!!"
حُسین فورن اس کی طرف ایا 
"اولویا یہ تت تم ہو ۔"
"حُسین !
اولویا نے رونا شروع کردیا 
نرس نے فورن اسے بستر پہ لیے کر گئی 
"پلیز آپ کے سر میں تکلیف ہوجائے گی رویے مت ۔"
نرس نے اسے پانی پلایا اور اسے نصیحت کی 
حُسین اس کے قریب ایا 
"اولویا یہ تمہیں کیا ہوا ہے ۔"
"مجھے اپنے کیے کی سزا ملی ہے مکث کو بیچ کر مجھے خدا نے بہت بڑی سزا دی ہے ۔"
حُسین کا منہ کھل گیا 
"کیا !"
"ہاں تم سے بدلے کی اگ میں میں نے اپنے بیٹے کو جلا دیا وہ میرا مکثملین نہیں ہے وہ تو کسی ونیسا نامی کا مکث مارٹن ہے وہ ایک معصوم سا مکث نہیں ہے وہ تو ایک پینتیس سالا ٹاپ بلینر ٹائی قون ہے وہ ایا تھا میرے پاس پتا ہے کیا کہہ کر گیا تھا تم سنُو گے حُسین اس نے کیا کہا تھا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنفیر نے جب مکث کو اولویا کی ریپورٹ فیکس کے طور پر بھیجی تو مکث نے جنفیر ہڈسن نے متعلق ساری انفورمیشن نکالی اور اس کے گھر ایا 
جنفیر نے دروازہ کھولا تو مکث کو دیکھ کر حیران ہوئی 
"مکث تم !۔"
مکث غصے سے اس کو پرے کرتے ہوئے اندر داخل ہوا 
جنفیر نے اس کے روڈ انداز کو اگنور کیا اور دروازئے کو بند کیا 
مکث صوفے پہ بیٹھا گیا اور اس نے چیک اس کے سامنے اچھالی 
"سائن کیا ہوا میں نے جتنی رقم لکھنا چاہتئ ہو لکھ سکتی ہو مجھ جیسے بندئے کو پیسے کی کوئی کمی نہیں ہے ۔"
اکسکیوز می ؟
جنفیر کو اس کا انداز بے حد ناگوار لگا 
‏That bloody hooker wants my money fine she can have it but tell her Not to mess with me or else I have no choice but to break her bones
مکث کرخت لہجے میں بولا 
"مکث تمیز سے جس کی بات کررہے ہو وہ تمہاری ماں ۔۔۔۔۔
مکث نے سامنے پرے ٹیبل کو زور سے ہاتھ مارا 
‏Shut your filthy mouth 
مکث غرایا 
جنفیر اچھل کر پھیچے ہوئی 
‏Don't say that she's my mother or else I won't spare you old lady 
مکث سرد لہجے میں بولا 
"مکث ٹھیک ہے وہ تمہاری ماں نہیں ہے لیکن انسانیت کے ناطے ۔"
مکث نے ایک زور دار قہقہ لگایا 
"انسانیت ! مسز ہڈسن انسانیت میں جب خود ایک انسان نہیں ہو تو آپ مجھے انسانیت کا واسطہ دیتی ہیں۔ وہ انسان اسی دن مرگیا جب ایک ماں نے اپنے بچے کو بیچ دیا اوکے رُکیے مجھے آپ ملوائی گی میری سو کالڈ مدر سے ۔۔۔۔"
جنفیر اچانک اس کی بات بدلنے پہ حیران ہوئی 
"اولویا سے ملوں گئے ۔"
"افکورس وائی ناٹ وہ میری ماں ہے میں کیوں نہیں ملو گا ان سے۔"
مکث کے چہرے پہ عجیب سی مسکراہٹ ائی 
"ٹھیک ہے چلو پھر ۔"
جنفیر اسے لیے کر جانے پہ تو تیار ہوگئی لیکن اس کو کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا تھا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"ائے میرے اللّٰلہ اتنا بڑا ظلم حیا تم نے اپنے گھر والوں کو کیوں نہیں سمجھایا ۔"
حیا نے اپنی بات مکمل کی تو رومیسہ انٹی کی انکھوں میں انسو اگئے اور انہوں نے حیا کو گلے لگا لیا حیا کو یہ انسو اور یہ ہگ زرا بھی نقلی اور جھوٹے نہ لگے ایسا لگا جیسے امی نے اسے گلے لگادیا 
"اچھا رو نہیں میں تمہاری مدد کرو گی ۔"
"نہیں انٹی آپ کو زحمت کرنے کی ضرورت نہیں ہے بس کچھ ایسا کردئے کے میں اس ملک میں کام کرنے لگ جاو ائی نو میں پروگ کے لیے ایللیگل طور پہ ائے ہو کچھ ہو نہیں سکتا ۔"
حیا نے انہیں امید سے دیکھا شاہد یہ کچھ کرسکے 
"نہیں فکر نہ کرو میرے ایک دوست ہے وہ وکیل ہے وہ کچھ کرسکتی ہے ابھی تو بلکل نہ فکر کرو ہاں ایک کام کرو پہلے فریش ہوجاو اور میں تمہیں کوئی کپڑے دو کچھ کھایا بھی نہیں ہوگا ۔"
انٹی رومیسہ آہستہ اہستہ چلتی کمرئے کی طرف گئی 
حیا نے خدا کا اس کرم پر شکر ادا کیا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ولی تو جیسے ساکت ہوگیا وہ بہت غور سے مکث کو دیکھ رہا تھا جو مصطفیٰ آصف تھا اس کا دوست مسلمان !
وہ غور سے اسے دیکھ رہا تھا بلیک سپورٹس ڈریس میں چہرے کے گرد دھول اور ڈسٹ جس سے اس کو بلکل چڑ نہیں ہوئی سب کو کچھ ویسا تھا بس اس نے کلین شیو کی ہوئی تھی اور چہرے اور انکھوں میں ایک الگ سا تاثر تھا 
مصطفیٰ کے چہرے پہ گہری مسکراہٹ ائی اور وہ تیزی سے بھاگا اور ولی کے گلے لگ گیا 
"رائن برو تم اگئے تم سوچ نہیں سکتے میں نے تمہیں کتنا مس کیا میں جانتا ہو میری موت کا سنتے ہوئے تمہیں کتنی تکلیف ہوئی ہوگی تکلیف تو مجھے بھی ہوئی تھی کے تم لوگوں پہ کیا گزری ہوگی پر کیا کرتا اگر میں نہ مرتا تو مصطفیٰ کیسے پیدا ہوتا ۔"
ولی تو جیسے ساکت تھا اس کا دوست زندہ ہے وہ بھی مسلمان اور اتنے غظیم شخص کا بیٹا ہے اسے اس وقت کچھ سمجھ میں نہیں ارہی تھی 
"میرکل ڈو ہیپن سن ۔"
اسے ڈاکڑ حُسین کی بات یاد اگئی ہاں معجزئے ہوتے ہیں اور یہ دنیا کا سب سے بڑا معجزہ تھا مکث بچ گیا اور مسلمان بھی بن گیا 
"رائن کہی شاک میں تو نہیں چلے گئے ۔"
مصطفیٰ اس سے الگ ہوا اور اس کے چہرے کو ہاتھوں سے پکر کر جنجھوڑا 
Buddy I'm alive !!!just believe it 

رائن نہیں محمد ولی !
آب مصطفیٰ شاکڈ میں چلا گیا کیونکہ ولی نے اردو میں اسے جواب دیا
"واٹ !!!"
"کیوں تو مسلمان بن سکتا ہے میں نہیں ۔"
ولی نے اس کے کندھے پر مکا مارا 
مصطفیٰ نم انکھوں سے مسکرا دیا اور اسے کھینچ کر گلے لگایا 
"کمینے میرے ہی نقل کرنا تو !!!
"ابے کیسی نقل میں تو تیری سو کالڈ موت کے چار مہینے بعد مسلمان بنا تیری کیا سٹوری ہے ۔"
"مصطفیٰ ہنسا
"وہ ایک لمبی کہانی ہے ۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مکث اندر داخل ہوا 
اولویا جو سوئی ہوئی تھی کسی کے زور سے دروازہ کھولنے پر اس نے ہلکی سے انکھیں کھولی 
‏Wake up drama queen 
مکث پتھر سے بھی سخت لہجے میں بولا 
اولویا اٹھی اسے یقین نہیں ایا اس کا بیٹا اس کے گھر اگیا ہے 
"مکث میرے بچے ۔"
"ہاں بد قسمتی سے ۔"
مکث نے عجیب نظروں سے اولویا کو دیکھا 
اولویا بامشکل ہی اٹھ پائی 
"لیٹے رہیے ویسے بھی میری بات سُن کر اپنے دوبارہ بستر پہ ہی گر جانا ہے ۔"
جنفیر اندر ائی 
"مکث ایسے کوئی بات نہ کرنا جس سے اولی کو کوئی نقصان پہنچے ۔"
"جو دوسروں کا نقصان کرتی رہی تو یہ کیوں بھول گئی کے ان کی بھی باری ہوسکتی ہے ۔"
مکث ہنسا 
جنفیر کو اس کی ہنسی سے خوف ایا جبکہ اولویا اُٹھ کر اس کے قریب ائی اس چھونے لگی کے مکث بدک کے پھیچے ہوا جیسے سانپ نے ڈس لینا ہے 
اولویا کے دل سے ہوک اٹھی 
"مکث !"
"آپ بولیے لیکن خبردار مجھے چھونے کی کوشش کی سمجھی آپ ۔"
مکث تیزی سے بولا 
"مکث مجھے معاف کردوں میں بہت ظالم ماں ہو بلکہ میں تو ماں کہلانے کے قابل ہی نہیں ہو ۔"
اولویا نے مکث کے سامنے ہاتھ جوڑ دئے اور روتے ہوئے بولی 
"صیح کہا آپ نے آپ تو ماں کے نام پر گالی ہے سریسلی ائی لائک یور ہانسٹی !۔"
مکث نے تو آج سارے بدلے چکانے کا ارداہ کیا ہوا تھا 
"پلیز مکث فور گاڈ سیک تم چلے جاو اولویا کی طبعیت خراب ہوجائے گی ۔"
"نہیں جینی بولنے دو اسے صیح کہہ رہا ہے بلکل ٹھیک کہتے ہو تم بیٹا میں ماں کے نام پر ایک گالی ہو ۔"
"اوکے میں آپ سے مزید بات نہیں کرنا چاہتا کیونکہ میں نہیں چاہتا کے میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجائے سو ائی ہیو ٹو گو بٹ ون تھنگ ائی ٹیل یو اولیویا یور نھتنگ بٹ ا بلڈی ہوکر جو صرف لوگوں کے دل سے کھیل سکتی ہے مگر جیت نہیں سکتی تم ایک کوڑا ہو ایک کچرے کا ڈھیر ہو اور کچھ نہیں اور میرے درخواست یا وارنگ سمجھ لو اگر میرے سامنے دوبارہ انے کی کوشش کی تو تم زیادہ بہتر سمجھ سکتی ہو ۔"
مکث کا لہجہ سخت ہونے کے باوجود ناجانے کیوں رندھ گیا 
جبکہ اولویا کو اپنا آپ کھبی اتنا غلیظ نہیں لگا تھا جتنا آب لگ رہا تھا یہ کوئی کہتا تھا تو اس کو اتنا بُرا نہ لگتا اس کے اپنے خون نے کہہ دیا وہ ایک کچرے کا ڈھیر ہے 
"اولی مجھے معاف کردوں میری وجہ سے اولی اولی ۔"
لیکن اولویا ہوش و خرو سے بیگانہ ہوگئی 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"ویسے میں نے سوچا مجھے تو کوئی لمبی سے دھاڑی والا نظریں جکھائے ہوئے شلوار قمیض میں مصطفیٰ ملے گا لیکن تم تو بلکل ویسے ہی ہو ۔"
ولی اس کے ساتھ کار میں بیٹھا ہوا تھا 
"شاہد ایسا ہوتا تو بھی تو ویسا ہی ہے بلکل نہیں بدلا ۔"
مصطفیٰ کہاں چھوڑنے والا تھا 
"دھاڑی رکھنا اچھی بات ہے سنتِ بنوی ﷺ ہے لیکن میں بلیو کرتا ہو ہمیں اپنے عمل پر زیادہ دھیان دینا چاہیے اس کو بدلنا چاہیے نہ کے ظاہری حُلیے سے خود کو بدلے اس سے زیادہ انسان پھر شو اوف کرنے لگ جائے گا یہ ایک قسم کا شِرک ہی ہوگا ہمیں باتیں کرنے والے بن جائے گے لیکن عمل نہیں کرے گے تو میں عام سا مسلمان ہی ٹھیک ہو منافق بنے سے ہزار گنا بہتر ۔"
"تو پھر دوست میرے بھی یہی سوچ ہے میں ظاہر سے زیادہ اپنے دل اور عمل کو بدلنے میں یقین رکھتا ہو اللّٰلہ کو آپ کے اچھے عمال ہی چائیے ۔"
مصطفی ٰ اہستگی سے بولا 
"میں بتا نہیں سکتا مصطفیٰ کے میں کتنا خوش ہو تمہیں دیکھ کر میں گھر جاکے شُکرانے کے دو نفل پڑھوں گا ۔"
مصطفیٰ موڑ کاٹتے ہوئے ہنس پڑا 
"ویسے عجیب بات ہے تو آزاد ہوگیا لیکن تو نہ میرے پاس ایا نہ انٹی نہ فریڈی سے اور نہ ہی حیا سے ملنے ۔"
مصطفی ٰ نے ایک دم بریک لگائی 
"حیا !"
"ہاں مصطفیٰ حیا تمہاری حیا تمہاری اوبزیشن کہاں چلی گئی مجھے یقین تھا تو ہمارے لیے بے شک نہ آتا لیکن حیا کے کیے تو ضرور آتا ۔"
مصطفیٰ خاموش رہا پھر ایک دم کار چلانے لگا 
"ممی سے اس لیے نہ مل سکا کیونکہ خود کو ٹھیک کرنے میں اتنا مصروف تھا کے میں چاہتا تھا پہلے اللّٰلہ کو خوش کرو پھر باقیوں کا سوچوں ۔"
"باقیوں سے مراد اس میں حیا بھی ہے ۔"
ولی اچانک بولا
"حیا تو خوش ہوئی ہوگی میں مرگیا ہو۔"
ولی اگے سے کچھ بولنے لگا کے اچانک چُپ ہوگیا پھر کچھ سوچ کے مسکرایا 
"مصطفیٰ حیا کی شادی ہوگئی ہے ۔"
مصطفیٰ اپنا اکسیڈنٹ کرواتے بچا کیونکہ اس سے سٹیرنگ لوز ہوگیا تھا اور سامنے ٹرک آرہا تھا اس نے فورن کار کو اور ٹیک کی اور ایک طرف فورن بریک مار کر روکی 
"ولی نے رُکی ہوئی سانس بھال کی آج تو مر جانا تھا 
"کیا کہا تم نے !!"
مصطفیٰ مکث والے انداز میں بولا 
ولی کھکھلا کر ہنس پڑا 
"تو تو بلکل ویسا ہی ہے مزاق کررہا ہو نہیں ہوئی شادی اس کی پڑھ رہی ہے۔"
ولی نے اتنا کہا اس نے یہ نہیں بتایا کے وہ یہاں رہتی ہے 
مصطفیٰ نے اسے گھور کر دیکھا اور سر جھٹکا 
"ہاں تو کیا کر لیتی اچھا تھا مجھ سے بہتر ہی کوئی ملتا ۔"
مصطفیٰ کو اپنے ہی لفظوں پر غصہ ایا واقی میں حیا کے معاملے وہ نہیں بدلا تھا کیسے جان نکل گئی تھی جب یہ سنا تھا کے وہ شادی کرُچکی ہے اور میں پاگل چار مہینے سے آزاد ہونے کے باوجود اس سے بے خبر رہا 
مصطفیٰ اپنے آپ سے بولا 
"کیا سوچ رہا ؟ کہی مسڑ کوئی پلینگ تو نہیں کررہے ۔"
ولی شرارت سے بولا 
مصطفی نے ایک ہاتھ سے اس کے بازو پر زوردار مکا مارا 
اف !تو کیا چیز ہے ۔"
مکث نے کار کوسٹا میں روکی 
"او کافی پیتے ہیں ۔"
مصطفیٰ کار سے اتر کر بولا 
"لیکن یہاں !ہم ڈرائیو وئے سے لیے سکتے تھے 
"کوئی نہیں بہت سی باتیں کرئے گے ویسے کہاں ٹہرے ہوئے ہو ۔"
"ہوٹل میں ۔"
ولی بولا 
"اچھا فورن سامان وہاں سے لیے گے اور میرے گھر پہ رہئے گا ٹھیک ہے ۔"
مصطفیٰ کی چین کو انگلیوں سے گھماتے ہوئے بولا 
اور اس کے ساتھ اندر داخل ہوا 
ساری لڑکیوں نے اس بے انتہا پرُکشش مردوں کو دیکھا جو واقی لڑکیوں کا دل کسی بھی محنت کیے بنا چُرا سکتے تھے 
ولی گرے شرٹ اور بلیو جینز میں کافی ہنڈسم لگ رہا تھا جبکہ مصطفیٰ نیوی بلیو شرٹ کف کو کونے تک موڑے 
انکھوں میں Dolce and Gabbana کی گلاسس ٹکائے براون بال سٹائلش انداز میں ہلکے سے اس کے ماتھے پر گرے ہوئے تھے اور اس کے کلین شیو میں اس کے قاتل کردینے والے ڈمپل نے واقی لڑکیوں کو وہی مار دینا تھا ایسے تو نہیں کہتے اسے لیڈی کلر 
مصطفیٰ کاؤنٹر پر ایا اور اس نے کاونڑ پر ہلکی سی ٹیپنگ کی 
کوسٹا یونی فورم میں پھیچے سے بروان بال پونی میں باندھے لڑکی پلاسٹک کپ سڈینڈ میں رکھ رہی تھی اسے کسی کا گمان ہوا لیکن وہ گمان نہیں یقین تھی وہ پھر سر جھٹک کر اوپر دیکھنے لگا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا کا اچانک اس ٹیپنگ سے دل رُک گیا یہ ٹیپنگ! نہیں لیکن آج تک کسی کسٹمر نے ٹیپنگ نہیں کی تھی حیا نے آہستہ سے پلاسٹک کے کپ رکھ کر مڑی تو وہ جہاں تھی وہی رُک گئی مصطفیٰ جو اوپر منیو میں کچھ دیکھ رہا تھا ولی کے کندھے تھپ تھپانے پر اس نے دیکھا ولی اسے کاؤنٹر کی طرف اشارہ کررہا تھا 
مصطفیٰ نے اس طرف دیکھا تو اس کا بھئ منہ کھل گیا کہانی جہاں سے شروع ہوئی تھی آج وہی پر اگئی جہاں وہ پہلی بار ملے تھے اور پورے ایک سال ایک دوسرے سے بچھرگئے مصطفیٰ اور حیا کے لیے وہ ایک سال نہیں پورے ایک صدی تھی وہ دنوں ساکت نظروُں سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ان دنوں کی انکھوں میں کیا کیا نہیں تھا 
ولی نے ان دنوں کو شاکڈ دیکھا تو اس کے چہرے پہ گہری مسکراہٹ آگئ 
بلا آخر جب ان کو یقین ہوگیا وہ دونوں گمان نہیں یقین ہے تو دونوں کے منہ سے صرف ایک لفظ نکالا
"مکث!"
مکث 
حیا
ان دنوں کی زبان سے یہی لفظ نکلا 
ولی مسکرا اٹھا اور پھر حیا کو دیکھتے ہوئے بولا 
"اسلام و علیکم دیکھ لو حیا تمہارا مکث میرا مطلب ہے مصطفیٰ آصف زندہ ہے ہمیں تو اس انسان نے ڈرا دیا کتنا تڑپایا ہے ایک سال لیکن بہتری کے لیے بھی تھا کے یہ شاہد پھر مسلمان نہ بن پتا "
حیا کا منہ کُھل گیا 
مصطفی خاموشی سے حیا کو گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا 
اور حیا ساکت مصطفی کو دیکھے جارہی تھی پھر اچانک اسے ساری بات سمجھ میں ائی تو اس کا دماغ گھوم اٹھا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی مکث گھٹیا حرکت کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے وہ اس کے مائنڈ کے ساتھ گیمز کھیل رہا تھا وہ اسے اپنے خیالوں میں جھگڑنا چاہتا تھا کتنا کمینہ تھا حیا کا غصہ ساتویں آسمان کو پہنچ گیا مطلب یہ ولی بھی ڈھونگ رچا رہا تھا غصے میں انسان کو کوئی عقل نہیں رہتی اس لیے وہ کیا سے کیا کرجاتا ہے اپنی زندگی بھی داو پہ لگا دیتا ہے اور دوسروں کی بھی آب یہی چیز حیا کررہی تھی 
"حیا کچھ بولوں گی نہیں تمہارا مصطفی !!
"شٹ آپ جسٹ شٹ آپ اگر آپ نے ایک لفظ بھی کہا تو ۔"
حیا زور سے چلائی پورے لوگ اس کی چیخنے پر اس کی طرف دیکھنے لگے 
مصطفی کا منہ کھل گیا جبکہ ولی ساکت ہوگیا
حیا کاؤنٹر سے نکلی اور ایک رکھ کر مصطفیٰ کو تھپڑ مارا 

"حیا !!!"
جاری ہے
 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney