The one 
Episode 14 Last


میں آپ کو سب بتاؤ گا ابھی نہیں ۔مصطفیٰ نے کمرے کو کھولنے کی کوشش کی لیکن لاکڈ تھا ۔
مصطفیٰ کو پتہ تھا نہیں کھولے گی بہت ضدی ہے 
اس نے بنا سوچے سمجھے پوری طاقت لگا کر دروازہ توڑ دیا 
رومیہ اور لائبہ چیخ پڑیں
سوری انٹی میں آپ کو ٹھیک کروا دوں گا 
وہ اندر سے حیا کو کھینچ کے لایا اور پھر ان کو سوری کہتے ہوئے نکل پڑا اسے بازوں میں اٹھایا 
چھوڑیں مجھے کہاں لے جا رہے ہیں ۔حیا اس کی بازوں میں مچل رہی تھی جبکہ مصطفی کا چہرہ پتھر سے بھی سخت ہوا تھا 
مصطفیٰ آصف میں تمارے کسی بھی بہکاوے میں نہیں آؤں گی جسٹ لیٹ می گو۔
وہ اسے کار میں بیٹھا چکا تھا اور حیا دروازہ کھولنے لگی ایک بار پھر وہی ہسٹری ریپیٹ ہو رہی تھی 
پہلے وہ اس سے جان چھڑانے کے لیے بھاگ رہی تھی اب وہ اس سے الگ ہونے کے لیے بھاگ رہی تھی 
مصطفیٰ اپنی Aston
Martin
کے لیے اندر گھسا جس کا لنکنگ سسٹم سے حیا تو کیا حیا کی آواز تک باہر نہیں جا سکتی تھی 
مجھے جانے دو ۔حیا اس کے سامنے چیخی پھر رونے لگی 
پلیز مصطفیٰ آپ ایسا نہیں کر سکتے جبکہ ۔۔۔۔
مصطفیٰ خاموشی سے اور تیز ڈرائیو کر رہا تھا 
اتنی تیز ڈرائیونگ پر حیا کانپ گئی حیا اس پر مکوں کی بارش کرنے لگی
لیکن وہ ایسا بنا ہوا تھا جیسے اور کوئی نہیں ہے کار میں 
اس نے کا بلا آخر letnanay pathway Aero klub
لے آیا
حیا نے دیکھا یہاں تو ہر جگہ ہیلی کاپٹر تھے یعنی وہ اسے اپنی زندگی سے بھی نہیں اس ملک سے بھی نکالنے والا ہے 
مصطفیٰ کار سے نکلا حیا کا دل بند ہونے لگا اس نے ہینڈل سختی سے پکڑ لیا 
مصطفیٰ دوسری طرف سے کھولنے لگا مگر حیا نے پکا پکڑے رکھا
حیا ہاتھ ہٹاووہ غصے سے بولا
نن نہیں میں نہیں کھولتی مصطفی نے زور سے کھینچ کر کھولا حیا ایک دم باہر آگی
مصطفیٰ نے اسے بازوں سے میں اٹھانے لگا حیا اسے دھکا دے کر بھاگنے لگی
مصطفیٰ نے سپیڈ لگا کر اسے جھکڑ لیا
حیا بن پانی کی مچھلی کی طرح مچل اٹھی
آپ کو الله کا واسطہ ہے مصطفیٰ مجھے اپنی زندگی سے نہ نکالیں ورنہ میں مر جاؤں گی 
حیا روتے ہوئے بولی
مصطفی نے بازوں میں اٹھایا اور تیزی سے اپنے ہیلی کاپٹر کی طرف آیا۔جس کا نام اس نے حیا مصطفیٰ 887.
Ad رکھا
حیا ابھی تک مچل رہی تھی اپنے ناخنوں کا استعمال پتھر دل شخص کے چہرے پر کیا جس، سے وہ بے انتہا محبت کرتی تھی 
مصطفیٰ ۔۔۔۔
مصطفیٰ نے اسے اندر بٹھایا
اور بیلٹ باندھی وہ واقعی اسے دیوتا کے شکنجے سے نہیں بھاگ سکتی تھی 
وہ بھاگنا بھی نہیں چاہتی تھی لیکن اس کا یہ شکنجہ اسے ہمیشہ کے لیے اس کی زندگی سے نکال دے گا 
اور وہ دوسری طرف آیا
پلیز پلیز نہ خود سے دور کریں 
مصطفی اندر آگیا اس نے مائیکروفون پہنے

Haya mustafa Ad. 887ready to take over

مصطفیٰ بولا
حیا نے بیلٹ کھولنے کی کوشش کی لیکن اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کیسے کھولے
حیا اگر تم کسی چیز کو ہاتھ لگایا تمہیں بہت ماروں گا 
ہم اسٹریلیا کیوں جا رہے ہیں آپ بولتے کیوں نہیں
مصطفیٰ نے ہیلی کاپٹر سٹارٹ کر دیا 
مصطفیٰ میں کود جاؤں گی دروازہ میں نے لاک کر دیا اسے باہر سے ہہی کوئی کھول سکتا ہے 
مصطفیٰ میں نے جس سے محبت کی آپ ہیں میں نے کوئی بیوفائی نہیں کی 
افسوس حیا تم نے محبت تو کی مگر میرا اعتبار نہیں کیا 
میں تمارے گھر والوں کی طرح نہیں ہوں 
میں بچہ نہیں اگر تم میں کچھ غلط نظر آتا تو میں کبھی محبت نہیں کرتا تماری حیا سب کچھ ہے اتنی مصیبت کے باوجود دنیا کا ڈٹ کر مقابلہ کیا 
میں ایک پاک لڑکی کو کیوں چھوڑوں گا 
حیا اس کی بات پر ساکت ہو گئی 
مصطفیٰ کو سب پتہ تھا حیا اس سے ڈرنے لگی تھی 
حیا عجیب ریکائٹ کرنے لگی مصطفیٰ کو شک ہوا اس کوئی تنک کرتا ہے ۔اس نے جب لیٹر پڑھا اسے ساری بات سمجھ آگئ ۔شاہ زیب اسے تنگ کر رہا ہے اسے غصہ تھا حیا، اس سے شیر کیوں نہیں کر رہی 
پھر اس کو پروگ لے آیا جان بوجھ کر شاہ زیب کو پروگ بھیجا ۔۔کسی کے اطلاع کے تھرو کے وہ لوگ یہاں ہیں 
شاہ زیب آیا حیا کو ڈھونڈا کہں نہیں ملی
مصطفی دیکھنا چاہتا تھا کے جب اس کے شوہر کو دیکھے گا کس حد جائے گا اس نے واقعی ہی سب حدیں پار کر دی
مصطفیٰ نے اسے بہت پیٹا پولیس آ گئی ولی نے روکا کیا کر رہے ہو پاگل تو نہیں ہو گئے 
تم نے اور تماری بیوی نے اسے بہت تکلیف دی اب وہ میری ہے وہ حشر کروں گا دنیا یاد کرے گی 
مصطفیٰ تم بالکل نہیں بدلے
جہاں حیا کا معاملہ ہو وہاں میں بالکل نہیں بدلوں گا
تھینک یو مصطفیٰ آپ نے مجھے معتبر کر دیا ساری زندگی احسان مند رہوں گی 
حیا نے روتے ہوئے ہاتھ جوڑ لیے
بے بی ایک بار بول کر دیکھتی تم صرف میری ہو میری 
اب ہم آسٹریا کیوں جا رےحیابولی

Surprise 
کیسا سرپرائز 
ہیلی کاپٹر اتارا حیا نے مسکرا کر اس کا ہاتھ تھام لیا 
حیا کی آنکھوں پر مصطفی نے پٹی باندھی اور بازوں میں اٹھایا 
اس نے پندرہ منٹ کے بعد حیا کو اتارا پٹی کھول دی
حیا کو یقین نہیں آیا خواب ہے یا حقیقت 
امی۔۔۔۔۔۔
حیا میری بچی
امی اور ہارون سامنے تھے 
امی بہت کمزور ہو گئی اور ہارون بھائی بھی اپنی عمر سے بہت بڑے لگ رہے تھے 
حیا بھاگ کر امی سے لیپٹ گئی امی الله نے میری سن لی 
امی ازکا مر گئی میں نے کبھی اس کا برا نہیں چاہا تھا ۔ہارون بولا حیا مجھے نہیں معاف کرو گی
حیا اس بھائی کو معاف کر دو تماری حفاظت نہیں کر سکا
سب کچھ بول جائیں امی ابو؟ 
امی رو پڑی وہ تمارے جانے کے ایک ہفتے بعد دنیا سے چلے گئے 
۔حیا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
مصطفیٰ اس کے پاس آیا ششش رونا نہیں 
بیٹا اللہ تمہیں خوش رکھے جس نے ہمیں ملا دیا امی یہ دی ون ہیں اپنی ون کے لیے کچھ نہیں کر سکتا 
مصطفی مسکراتے بولا
Yes ami i m his the one and she is my one حیا نے مصطفی کو پیار سے دیکھتے کہا 
And they lived happily ever after
ختم شد
 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney