The one 
Episode 2

حیا تم میرے ساتھ Trdelnik چلنا وہاں پہ میری دوست سٹےسی کام کرتی ہے ائی ائیم شور وہاں تمہیں جاب مل جائے گی ۔"
کرسٹینا سے آج اس کی ملاقات ہوئی تھی تو حیا نے اس سے جاب کا ذکر کیا تھا تو جواب میں سٹے سی نے اسے کہا
لوہ جو مشہور اولڈ ڈریڈشن ائسکرئیم پالر ہے ۔"
حیا نے ایک دم کہا
"ہاں وہاں تمہیں مل جائے گی اتنا کام بھی نہیں ہے صبح کے دس بجے سے رات کے سات بجے تک ہوگا اور شاہد سٹے سی کے باس تمہیں کوئی اور شفٹ پہ رکھے 
اماونٹ ویسے اتنی نہیں ہے لیکن چل جائے گی ۔"
"نہیں فل حال جاب ملنا ضروری ہے پیسے تو بس خرچہ پانی چلانے کے کیے چاہیے ڈیرک نے پیسے تو بہت دئے دیں تھے لیکن میں آب گھر نہیں رہ سکتی مجھے کچھ کرنا ہے ۔"
حیا نے تیزی سے کہا کیونکہ وہ فل حال مکث کا ڈپریشن اپنے سر سے نکالنا چاہتی تھی 
"ٹھیک شام کے چار بجے میرے ساتھ چلنا ۔"
"نہیں کرسٹینا تم مجھے جگہ بتادو میں خود ٹرائی کرلو گی اور میں سٹے سی سے بھی مل لو گی ۔"
"چلوں ٹھیک ہے ۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"تمھاری کافی تعریف سنی ہے سٹے سی سے کفیے کیوں چھوڑا تم نے وہاں تو اماونٹ بھی زیادہ مل رہی تھی"۔
جمیز نے اس کی تعریف کرتے ہوئے اس کی سی وی اسے پکرائی 
"اکچلی میں کچھ نئی جاب اکسپرینس کرنا چاہتی تھی اس لیے ۔"
حیا آہستہ لہجے میں بولی 
"اوکے حیا سٹے سی کی خاطر میں تمہیں جاب دیں رہا ہوں مجھے کمپلین نہیں ملنی چاہیے آپ کی جاب ون ٹو فور ہوگی اینڈ اگر مجھے آپ کا کام اچھا لگا آپ کی سیلری بڑھتی جائے گی ۔"
حیا ہولے سے مسکرائی 
"تھینک یو سر ۔"
"او کال می جیمز یہ سر کے تکلف مجھے نہیں پسند ۔"
جیمز نے مسکراتے ہوئے اس سے کہا 
"حیا آپ ملینا سے یونیفورم لے لیے اور کل سے ہمیں جوائن کریں ۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"مکث تو تین دن سے آفس نہیں آرہا تو ٹھیک تو ہے۔" 
مکث نے جیسے ہی دروازہ کھولا 
رائن اس کو دیکھ کر پھٹ پڑا 
مکث خاموشی سے اسے دیکھ کر واپس مڑ پڑا اور صوفے پہ بیٹھ کر وِسکی کے گھونٹ لینے لگا 
"مکث میں کچھ بکواس کررہا ہوں "۔
مکث خاموشی سے گلاس کو غور سے دیکھ رہا تھا اور پھر بےزاری سے ٹیبل پر پٹکھا 
اور اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھا 
رائن نے اس کے گھر کی حالت دیکھی 
یہ مکث کا گھر نہیں ہوسکتا ہر طرف گندگی مکث کو چڑ تھی پھلاوئے سے اور اتنا کنشس ہوتا تھا کے اس نے میڈ نہیں رکھی بلکہ خود پینٹ ہاوس کو صاف کرتا 
اصل میں مکث پرفیکشن کا قائل تھا ُادھر کی چیز اِدھر ہوجائے تو اس کا دماغ گھوم جاتا ہر چیز اسے اپنی جگہ پہ چاہیں ہوتی رائن نے تو صاف صاف اسے سائکو کیس کہتا جو اپنے ٹیبل پر بھی فضول چیزیں نہ برداشت کر پاتا مکث لاپروائی سے سر جھٹکتا ۔
رائن کو حیرانی ہوئی ہر چیز اس کی پرفیکشن دنیا کے خلاف جارہی تھی اس نے کچھ سوچا اور اندر داخل ہوا مکث شاور لیے کر نکلا تھا اور ٹاول سے اپنے بال رگڑ کر بیڈ پہ پھینکا آب واقی رائن کو لگا مکث اپنے ہینگ اور سے نہیں اُترا وہ کھبی مر کر بھی ٹاول بیڈ پہ نہ پھینکتا حلانک یہ نارمل چیز تھی لیکن پھر بھی بھلی نہیں لگ رہی تھی رائن کے لیے 
"ناشتہ کرو گے ؟"
رائن اس کی آواز پر چونکہ 
"یا شیور ۔"
رائن نے پرُسوچ انداز میں اسے دیکھ رہا تھا جو ٹی شرٹ اور شارٹس میں خوبصورت کے باوجود خاصا کمزور لگ رہا تھا 
"مکث حایا سے بات ہوئی ؟"
رائن کی بات پر مکث نے گہرا سانس لیا
‏Ryan can we talk something else
(رائن کیا ہم کوئی اور بات نہیں کرسکتے )
"میں نے ٹونی سے بات کی ہے وہ حیا کو جاب دلا دیں گا ۔"
مکث خاموش رہا اس نے سپرے اٹھایا اور اپنے اوپر کرنے لگا 
"مکث ائم ٹاکنگ ود یو یار ۔"
"سن رہا ہوں میں ۔۔"
مکث کے لہجے میں بےزاری تھی 
"اپنی مام سے کیوں نہیں مل لیتا تو ۔"
رائن اس کے پھیچے کچن میں آیا
"مام فریڈی کے ساتھ فرانس گئیں ہے 
مکث فریج سے واٹر ملن نکالتے ہوئے بولا 
"تو تو کوئی بیوٹز کو کلب سے لے ا ساتھ گزارنے کے لیے ۔"
رائن نے مشورہ دیا 
"تین لڑکیاں ائی تھی باری باری لیکن جیسے ہی وہ گھر میں داخل ہوتی ان کو میں واپس بھیج دیتا ۔"
مکث ہنستے ہوئے سٹرابیریز کو کانٹے سے ملٹٹ چاکلیٹ میں ڈوبو رہا تھا 
"حایا کے وجہ سے ۔"
مکث بائٹ لیے کر خاموشی سے کھانے لگا 
"مکث تمہیں حایا چاہیے ؟؟؟؟"
"مکثملین مارٹن میں تم سے بات کررہا ہوں کہی تمہیں حایا سے پیار تو نہیں ہوگیا ؟"
مکث چونکہ پھر قہقہہ لگا کر ہنس پڑا 
"اریو کریزی میں اور پیار پاگل ہوگیا کس صدی میں رہ رہا ہے تو پیار ویار کچھ نہیں ہوتا اگر ہوتا بھی ہوگا پر میری ڈکشنری میں نہیں ۔"مکث ہنستے ہوئے کافی کا سپ لینے لگا 
"تو پھر تم نے یہ کیوں ایٹیز کے عاشقوں کی طرح حالت بنائی ہے ۔"
رائن کی سنجیدگی آبھی تک قائم تھی 
"کون سی عاشقوں والی حالت بنائی ہے میں نے ۔"
مکث نے ابرو اٹھاتے ہوئے کافی کا ایک اور سپ لیا کپ اور کاونڑ پہ رکھا

"تمہیں پتا ہے آج تمہیں اپنے گھر کی حالت دیکھ کر نہ پریشانی ہورہی ہے نہ کوئی چڑ تم آفس تین دن سے نہیں آرہے حتاکہ تم چھٹی کرنے کے سخت خلاف ہوں 
تم اپنے گھر اور بزنس کے معاملے میں پوزیسو ہوں لیکن ان تین دن میں یہ چیز مجھے دور دور تک نہیں نظر ارہی ائی نو اٹ شڈ بی نارمل بٹ اٹس ناٹ نارمل فورمی 
مجھے سمجھ نہیں اتی مکث وائی کانٹ یو جسٹ فورگیٹ ہر ۔"
"میں اس سے کب یاد کررہا ہوں ہاں اتنا ضرور ہے وہ میری پیاس بڑھاتی جارہی ہے اس لیے بے چین ہوں لیکن پیار والا کوئی سین نہیں ہے ایک دفعہ اسے حاصل کرلو اس کے بعد میرا کوئی سروکار نہیں ہے اس سے ۔"
مکث اپیرن پہن کر باوئل صاف کرنے لگا 
رائن نےگہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا 
...............::..............
"اچھا تو حیا فاطمہ یہ بات تھی تم اس موٹے کے ساتھ ملی ہوں ۔"
ہارون نے حیا کو گھورا 
"بب بھائی ایسا نہیں ہے یہ موٹا عمر خود اگیا تھا میں تو اس سے واپس بھیج رہی تھی ۔"
حیا سپٹا کر عمر کے کان کھینچتے ہوئے بولی 
"نہیں ہارون بھائی وہ ااا امی !!!۔"
حیا نے اس کے کان زور سے کھینچے 
"اگر ہارون بھائی کو کچھ بولا تو سارے سیکرٹ بتادوں گی ۔"
اس نے جلدی سے کان میں بولا "ہاں کیا کہہ رہے تھے عمر ؟"
ہارون نے پہلے حیا کو گھورا پھر عمر کو دیکھ کر پوچھا 
"ہارون بھائی آپ چلے نہیں گئے تھے ۔"
حیا ایک دم بولی 
"ہاں گیا تو تھا پر واپس آنا پڑا موبائل رہ گیا تھا ان کو چھوڑ کر آرہا ہوں لیکن آب میں تم دنوں کا قیمہ بنا کررہوں گا ۔"
"ارے ہارون چلوں یار چھوڑوں انھیں مجھے تم سے ضروری بات کرنی تھی 
ایک دم شاہ زیب نے اس پکارا
حیا نے دیکھا وہ اس سے اشارہ کررہا تھا کے عمر کو بگھائیں حیا سمجھ گئی
"کیا بات ہے شاہ زیب ؟"
ہارون اس کے ساتھ چل پڑا 
"جلدی بھاگ اس سے پہلے ہارون بھائی واقی ہمارا قیمہ بنا دیں 
"لیکن حیا میرا کمیرہ اور ایکس باکس ۔۔۔"
"دفع کرو میں کسی طرح بھیج دو گی فل حال یہاں سے جاوں 
حیا نے اس جلدی سے گیٹ تک چھوڑا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"واو تم تو بہت پیاری لگ رہی ہوں اس آوٹ فٹ میں ۔"
لائبہ اس سے دیکھتیں ہوئے بولی 
پورے دو ہفتے ہوگئے تھے اس سے کام کرتیں ہوئے لائبہ واپس اگئی تھی اور آج اس سے ملنے ائی تھی
حیا نے ان سب وکرز کے جیسے 
وکٹورین لمبی سی گندمی فراک کے ساتھ موٹی سی گرین خوبضورت اپیرن بندھا ہوا تھا بازوں لمبے ڈراک بروان کلر کے تھیں اور بالوں کو اولیو کلر کے رومال سے بندھے وہ واقی کوئی سنڈریلا لگ رہی تھی 
"ویسے تم نا وہ کام کرنے والی سنڈریلا لگ رہی ہوں دیکھانا تمہارا ایک پرنس ائے گا اور تمہاری دنیا بدل دیں گا ۔"
"فضول بات کرنا کوئی لائبہ سے سیکھے کون سا فلیور لو گی ۔"
"بلیو بیری ۔"
لائبہ نے اسے کہا 
وہ بڑی مہارت اور تیزی سے کون میں ائسکریم ڈال رہی تھی اور اس کا کام بہت صاف ستھرا ہوا کرتا تھا 
اس نے ٹوپینک کر کے فورن اسے دیں
"تھینک یو 
یہ لو پیسے ۔"
"نہیں تم رہنے دو میں نے پہ کردی ہے 
حیا اپنے کام میں لگتیں ہوئے بولی 
تھینک یو یار ویسے اس کی ضرورت نہیں تھی 
لائبہ ائسکریم کھاتے ہوئے بولی 
حیا نے اپنے ہاتھ ٹی شو سے صاف کیے اور پھر وہ ٹریڈلنک کے ڈو کو رولر سے لگانے لگی tredlik پروگ کی مشہور ڈرائی پیسڑی تھی
"ویسے یہ کام مجھے کفیے سے زیادہ انٹرسٹنگ لگ رہا ہے ۔"
حیا نے جلدی جلدی سے سارےڈو کو لگایا اور پھر والنٹ کو سپرنکل کیا 
"مونیکا یہ ہوگیا۔"
حیا نے مونیکا کو ٹرے دیں
اور مونیکا نے اس سے لی۔ حیا پھر دوسرا بنانے لگی 
"مجھے لگتا ہے تم بزی ہوں میں زرا کارل سے مل او جب سے ائی ہوں ملی ہی نہیں ہوں رات کو کہی کھانے کیے لیے چلے گئیں
حیا نے اسے دیکھا لیکن اچانک اس کا رنگ ہلدی کے مانند پڑ گیا 
"کیا ہوا حیا ؟"لائبہ نے پھیچے مڑ کر دیکھا 
مکث اور رائن کھڑیں ہوئے تھے اور اس وقت سوٹ میں ہی تھیں شاہد ابھی کام سے نکلے تھے 
مکث فون پہ بات کررہا تھا لیکن اچانک اسے کسی کی نظریں خود پر محسوس ہوئی اس نے دیکھا حیا اور ایک اور لڑکی اسے دیکھ رہی ہے
اس کا بھی منہ کھل گیا اور وہ اب غور سے حیا کو دیکھا رہا تھا 
رائن نے اڈر دیا اور اس کو بولا "مکث تمھیں کیا چاہیے؟"
مکث نے کوئی جواب نہیں دیا وہ بس حیا کو دیکھئیں جارہا تھا حیا نے جلدی سے اپنے ماتھے سے پسینہ صاف کیا اور انکھیں نیچے جکھا کر کام کرنے لگی 
اس سے بہت گھبڑاہٹ شروع ہوگئی تھی وہ اس سے ڈرنا نہیں چاہتی تھی لیکن ڈر رہی تھی 
لائبہ نے اسے کہا "حیا میں اسے کچھ کہوں یا تمہارے ساتھ رہوں ۔"
"نہیں تم جاوں ۔"
حیا تیزی سے بولتی ہوئی ٹرے اٹھا کر اندر چلی گئی 
"مکث بڈی کہاں کھو گئے؟"
مکث چونکہ رائن اسے عجیب نظروں سے دیکھ رہا تھا 
پھر دوبارہ ادھر دیکھا جو وہاں نہیں تھی 
مکث نے گہرا سانس لیا 
"حیا یہاں کام کرتی ہے ۔"
"واٹ حایاا ائی مین یور حایا کدھر ہے ۔"
رائن نے فورن اِدھر اُدھر دیکھنا شروع کردیا 
"اندر چلی گئی ہے ۔"
مکث نے فون کو دیکھا جو اس کے نہ بولنے پر بند ہوگیا تھا اس نے فورن جیب میں رکھا 
"چلوں بیٹھتے ہیں ۔"
"پر ہمیں تو ابھی میٹنگ میں جانا ہے کلارک کے پاس ۔"
رائن نے دو کونز پکری اور اسے بولا 
"کینسل پلیز !"
اس نے فورن جواب دیں کر اس سے کون لی اور فلیور سکیشن کے پاس اگیا جہاں اب حیا اچکی تھی ۔"
حیا نے اسے دیکھا پھر جیسے تھکے ہوئے انداز میں بولی 
"واٹ فلیور سر ۔"
مکث نے اسے کون پکرائی 
حیا نے اس لی پر خاصے ججھکتے ہوئے مکث نے جان بوجھ کر کون تھوڑی دور پکرائی حیا کو غصہ آرہا تھا لیکن ضبط سے اس سے تقربیع چھینے والے انداز میں لی 
اور یہ جھاڑجھنا انداز دیکھ کر مکث نے اپنی بے سکتا دار انے والی مسکراہٹ کو روکا 
رائن اس کے ساتھ کھڑا ہوگیا اور دلچسپی سے حیا کو دیکھ رہا تھا 
حیا نے ان دو خوبصورت مرد کو آپنے اوپر گھورتے ہوئے پایا اس کا دل کیا یہ سامنے پڑا کوکیز کا جار ان کے سر پر پھوڑ ڈالے 
‏Sir what kind of flavour would you like 
حیا ٹہرئے ہوئے مگر زور زور سے ان کو سخت نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی 
مکث مسکرا اٹھا لیکن جواب نہیں دیا بس اسے دیکھے جارہا تھا جو اس وکٹورین فارم گرل فراک میں بلکل سنڈریلا ہی لگ رہی تھی مکث سوچ رہا تھا اگر آج پورا دن بھی لگ جائے تب بھی اس کی نظریں اسے دیکھتیں نہیں تھکی گی 
حیا کا غصے اور بے بسی سے لال چہرہ جس کی خوبصورت انکھوں میں موٹے موٹے انسو کی کسر رہ گئی تھی رائن نے فورن ٹوٹی فروٹی کا فلیور بتایا 
اس نے سر ہلا کر ڈالنا شروع کردیا 
"یار واقی اس میں کچھ ہے جو تو پورے ایک کڑور کی ڈیل کینسل کررہا ہے صرف اس کو دیکھنے کے لیے ۔"
رائن اس سے جرمن لنگیوج میں کہا
مکث کی مسکراہٹ مزید گہری ہوگئی 
حیا نے فورن رائن کو کون پکرا دیں اور وہ مکث کو دیکھ رہی تھی مکث کی نظریں اس پر ابھی تک سٹل تھی 
"یا اللّلہ مجھے صبر دیں ۔"
حیا نے بے اختیار کہا اور اپنے لب زور سے کاٹے ،مٹھیا بھینج لی بس نہیں چل رہ تھا مکث کے شارپ ترین جبرے توڑ ڈالے 
‏Strawberries 
مکث کی خوبصورت سوفٹ آواز نے حیا کو شکر کا سانس لینے پہ مجبور کیا لیکن اگلے پل روک بھی دیا 
‏Because you smell like that absolutely divine and breathtaking 
(کیونکہ تمہاری خشبو بھی اسی طرح کی ہے بلکل دم بخود کردینے والی اور خدا کی قدرت )
مکث کی تعریف پر اس کا چہرہ دھوئے سے بھر گیا شرم اور غصے سے اس نے مکث کو آگ برساتی نظروں سے گھورا
‏You know what Mr Maximilian martin your one of the shameless scoundrel I have ever met 
حیا نے بھی بنا کسی کے لحاظ کیے اسے گالی دیں اور اسے کون پکرائی مکث اب اسے عجیب نظروں سے کون لیتے ہوئے مڑا اور رائن دنگ انداز میں حیا کا جلال دیکھ رہا تھا نہیں اس نے کوئی واویلہ نہیں کیا تھا بلکہ مکث کی بے عزتی آرام سے کی تھی لیکن مکث مارٹن کے لیے عام سی بے عزتی نہیں تھی یہ دنیا کی پہلی لڑکی تھی جس نے اسے حرام کہا تھا اور آج مکثملین مارٹن کے زخم پھر ہرے ہوگئے 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"تھینک یو شاہ زیب بھائی آپ نے عمر کو بچا لیا ۔"
اگلے دن ناشتے کے ٹیبل پر وہ دنوں اکیلے تھے جب حیا نے اس سے کہا
شاہ زیب مسکرایا 
"اینی تھنک فور یو ویسے حیا یہ عمر کون تھا اور اس کا کیا چکر ہے ۔"
شاہ زیب بریڈ پر جیم لگاتے ہوئے بولا 
"عمر ہمارا نیبر ہے
میرا دوست اور ہارون بھائی کا ہونے والا سالا اور دشمن بلکہ جانی دشمن ۔"
حیا ہنستے ہوئے بولی 
"تمہاری سمائیل بہت خوبصورت ہے حیا ۔"
شاہ زیب کے ایک دم کہنے پر حیا نے رُک کر اسے دیکھا 
وہ بھی حیرت اور شرم کے ملے جلے امتزاج سے
شاہ زیب کچھ بولنے لگا ہارون اگیا 
حیا کا رکنا محال ہوگیا اسے محسوس ہورہا تھا جیسے شاہ زیب اسے بہت غور سے دیکھ رہا ہوں 
گھر کے کورڈلیس کی بیل پر وہ مڑی اس نے اٹھایا 
"ہلیو ۔"
"ہیلو ازکا کہاں ہوں تم ؟"
نوروز کی آواز پہ حیا چونکی 
ازکا میں تمہیں اتنے دنوں سے کال کررہا ہوں تم اٹھا کیوں نہیں رہی کدھر غائب تھی 
اب حیا کو جھٹکا لگا تو کیا ازکا کراچی نہیں گئی اگر نہیں گئی تو پھر وہ ہے کہاں 
"ازو کوئی کھڑا ہوا ہے کیا ؟"
نوروز اس کی خاموشی کو سمجھتے ہوئے بولا 
حیا نے ماوف دماغ سے فورن فون رکھا 
"ازکا کدھر ہوگی وہ تو کہہ کر گئی تھی وہ کراچی تائی امی کے پاس جارہی ہے یہ کیا اور اگر ادھر تھی تو تائی امی کے فون سے پتا چل جاتا وہ وہاں یہ سب ہوں کیا رہا ہے ۔"
حیا نے فورن ازکا کا نمبر ملایا 
دو بیل پر فورن اٹھالیا گیا 
"ہلیو امی اسلام وعلیکم !"
ازکا کی آواز پہ حیا کو ناجانے کیوں اس پہ غصہ آیا اس سے اپنی بہن سے محبت تھی لیکن اس کی حرکتوں پر حیا کو زہر لگ رہی تھی 
"ازکا حیا بات کررہی ہوں ۔"حیا نارمل انداز میں بولی 
"اچھا تم ہوں خریت یاد کیسے اگئی میری۔"
ازکا کی آواز میں حیرت تھی 
"بس تمہیں بتانا تھا نوروز بھائی کا فون آیا تھا ۔"
حیا کمرے میں اکر بولی 
ایک منٹ کے لیے تو خاموشی چھا گئی اور حیا کا شک صیح نکلا 
"اچھا نوری کا فون تھا عجیب آدمی ہے تمہیں تو پتا ہے نا حیا وہ نیوزیلینڈ گیا ہوا ہے اسے لگا میں واپس اگئی ہوں ۔"
حیا کو ہنسی ائی 
"مجھے بےوقوف سمجھ رکھا ہے آپ نے کیا آپ اور تائی امی نہیں بتائی گی کے آپ ان کے ساتھ ہے ۔"
حیا کا لہجہ اپنے آپ طنزیا ہوگیا 
"میں کچھ دن اپنی دوست فاطمہ کے گھر رہ رہی ہوں اس کی شادی ہے امی کو میں نے بتا دیا تھا اور تائی کا فون خراب ہے اس لیے نہ امی سے کنٹیکٹ ہے اور نہ نوروز سے ۔"
ازکا تیزی سے بولی 
حیا کو سمجھ نہیں آرہی تھی یا تو اپی پاگل ہے یا اس کو بنا رہی ہے 
"ازکا کیا تمہارا بھی فون خراب تھا جو نہ تم نوروز کو یا امی کو بتاتی یا پھر جیسے تائی کے پاس موبائل تو ہوگا ہی نہیں 
حیا کے طنز پہ بلا آخر ازکا چیخ پڑی 
"کیا بکواس ہے یہ آج تم نے مجھے اس لیے فون کیا ہے میں کہاں ہوں کدھر ہوں اور اگر جدھر بھی ہوں تمہیں کیا تکلیف ہے میں جو کچھ بھی کرو that is none of your business 
حیا کو آج اپنی بہن پر واقی افسوس ہورہا تھا 
"خیر آپ جدھر بھی لیکن ایک دفعہ آپ اپنی عزت کے ساتھ ساتھ بابا کا بھی سوچیں گا اور ساتھ میں امی اور ہارون بھائی کا بھی جن کو آپ پر فخر ہے اور ان کا فخر کو توڑ کر کیسا محسوس ہوگا یہ آپ بہتر جانتی ہوگی ۔"
حیا نے فون بند کردیا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایک دس سال کا بچہ تھا جو رورہا تھا جس کے کپڑے کیچڑ سے بھرئے ہوئے تھے اس کی خوبصورت انکھیں رونے کی وجہ سے سرخ پڑ گئی تھی وہ سڑیٹ کے کونے پہ اپنے سر گھٹنے پہ رکھ کر تھر تھر کانپ رہا تھا اس کے جوتے پھٹے ہوئے تھے وہ دو دن سے بھوکا ،اکیلہ لاوارس پڑا ہوا تھا اس کا کوئی نہیں تھا بازو اور ٹانگوں میں جگہ جگہ زخم کی نیشان تھے 
کسی نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا وہ روتے ہوئے چونکہ 
وہ ایک خوبصورت سی عورت تھی ڈریسنگ سے ڈاکڑ معلوم ہورہی تھی 
"لٹل مین وائی اریو کراینگ ۔"
وہ پیار سے اس کا معصوم چہرہ دیکھتے ہوئے بولی 
وہ پھر سے سسکی لیے کر رو پڑا 
"میرے ساتھ او ۔"
انہوں اپنا ہاتھ سامنے کیا 
اس نے دیکھا لیکن چُپ رہا ونیسا نے دیکھا اس کے جسم میں عجیب قسم کی زخم تھیں اس نے فون سے ٹارچ آن کیا اور دیکھ کر جھٹکا لگا وہ کوڑے اور سگرٹ کے نشیان تھے اس کا دل تڑپ اٹھاوہ بہت ہمدرد لڑکی تھی کسی کو چھوٹی سے تکلیف میں دیکھ کر اس کا دل کانپ جاتا تھا وہ تو پھر نو دس سال کا بچہ تھا اور اتنا شدید زخم اس کے نازک سے جسم پر پڑیں تھے 
ونیسا کی انکھوں میں آنسو اگئیں اس نے بچے کو گود میں اٹھایا 
وہ درد سے سسک پڑا 
"لٹل بوئی تھوڑا سا ہرٹ ہوگا لیکن میں آپ کو ٹھیک کردو گی ۔"وہ اس سے آرام سے کار میں بٹھاتے ہوئے بولی 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"مکث جان چار دن ہوگئیں ہیں تم نے مجھے کال نہیں کیا۔"
ممی کی آواز سنتے ہوئے مکث مسکرا اٹھا 
"سوری ممی بزی تھا آپ سنائیں فریڈی کیسا ہے ؟"
اس نے اپنے چھوٹے بھائی کے بارے میں پوچھا 
"فریڈی بلکل ٹھیک ہے تمہیں یاد کررہا ہے کہتا ہے بھائی کو بھی ساتھ لیے کر چلتے ہیں میں پیرس میں ان کے بغیر بور ہوگیا ہوں واپس انے کا کہہ رہا ہے ۔"
"اسے بولے اکٹینگ نہ کریں مجھے پتا ہے نا وہ میری ڈسپلنری لائف سے چڑتا آب تو آزاد بِنا روک ٹوک کے گھوم رہا ہوگا خوشی خوشی ۔"
مکث ہنستے ہوئے بولا
"تم بھی خوامخواہ اسے اپنے جیسا بنانا چاہتے ہوں ۔"
وہ بھی ہنس کر بولی 
ایک دم فیکس کی آواز پہ مکث چونکہ اور اس نے فیکس اٹھایا تو پرسوچ انداز میں دیکھتے ہوئے بولا 
"ممی میں آپ کو تھوڑی دیر میں کال کرو گا اوکے لویو ۔"
اس نے رائن کو کال ملائی اور اس سے بات کرنے لگا 
"ہاں رائن مجھے جنفیر ہڈسن سے ریلیٹٹ ایک ایک ڈیٹیل چاہیے ۔"
"کیوں خیرت ہے ؟"
رائن نے اس کے لہجے میں انجانی سختی دیکھ کر ٹھٹکا
"فورن بھیجوں مجھے ۔"
مکث تیزی سے بول کر فون بند کر کے صوفے پہ پھینکا اور بار کی طرف بڑھا ڈرنک ڈالنے لگا لیکن پینے کی سکت نہ ہوسکی اس لیے زور سے پھٹک کر کار کی چابی اٹھائی لیکن اس الجھن پڑ گئی وہ دوبارہ مڑا باکس سے نپکن نکالا ٹیبل سے چھینٹے صاف کرکے گلاس دھویا اور احتیاط سے کبرڈ پر رکھ کر گھر کا جائزہ لیا اور نکل پڑا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"حیا کیا بات ہے تم دو دن سے بلکل چپ لگ رہی ہوں طبعیت تو ٹھیک ہے نا تمہاری ؟"
شاہ زیب لاونج میں آیا اور حیا کو خاموشی سے ٹی وی دیکھتیں پاکر پوچھا 
حیا نے اسے دیکھا اور پھر دوبارہ ٹی وی کی طرف متواجہ ہوگئی 
"حیا کیا بات ہے آج تم کھیلنے کے لیے نہیں گئی بلکل چپ چاپ از ایوریتھنک اوکے ؟"
"ایسی کوئی بات نہیں شاہ زیب بھائی !"
حیا کمزور لہجے میں بولی 
"چلو بتاوں کیا بات ہے میں تمہارا دوست ہوں تم مجھ سے سب کچھ شیر کرسکتی ہوں 
اس نے حیا کے کندھے پہ ہاتھ رکھا حیا کے دل کو کچھ ہوا وہ فورن اُٹھی لیکن شاہ زیب نے اس کا بازو پکر لیا 
"بتاوں مجھے کیا ہوا ؟"
"کچھ نہیں ہوا !"
حیا نے نظریں جکھا لی 
"پھر اوپر دیکھوں ۔"
حیا نے پھر بھی نظریں نہیں اٹھائی 
شاہ زیب نے گہرا سانس لیا 
"اچھا ٹھیک ہے آو کسی چاینیز ریسٹورنٹ میں چلتیں ہیں 
پھر تھوڑی سے شاپنگ کرنی ہے اس کے بعد ایک ہفتہ رہ گیا ہے ۔"
حیا نے فورن سر اٹھایا
"آپ جارہے ہیں ۔"
حیا نے پریشانی سے دیکھا 
شاہ زیب چونکہ 
"کیوں مجھے نہیں جانا چاہیے بور ہی ہورہا ہوں کوئی کمپنی ہی نہیں دیں رہا مجھے ۔"
"نہیں آپ مت جائے میں دو گی نا آپ کو کمپنی پورا لاہور گھماو گی ہم ناردن ایریاا چلے گے دیکھنا ۔"
حیا کے تیزی سے بولنے پر شاہ زیب ہنس پڑا 
"اچھا لیکن سارا لاہور تقریباً دیکھ چکا ہوں اور نادرن ایڑیازمجھے خاص اٹریک نہیں کرتے ۔"
"ارے پھر آپ پاکستان میں کیا کررہے ہیں چلے جائے نا ُرکے کیوں ہے 
حیا خفگی سے بولی 
شاہ زیب ہنس پڑا اگر تم اصرار کررہی ہوں تو میں واپس چلا جاتا ہوں ویسے میں نے تمہیں ابھی تک گفٹ نہیں دیا آو چلوں میرے ساتھ شاہ زیب نے اس کا ہاتھ پکر کر اسے گھسیٹ کر اپنے کمرے میں لے گیا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

...
"ڈیوڈ میں یہ بچہ اپنے ساتھ رکھوں گی چاہیے کچھ بھی ہوجائیں ۔"
ونیسا نے ڈیوڈ کو خطمی لہجے میں کہا
"سوچ لو ونیسا تم جزباتی ہورہی ہوں ہم اسے فوسڑ ہوم بھیج دیں گئے ۔"
ڈیوڈ نے ُامید بھرے لہجے میں کہا 
ہم بھی اس کے فوسڑ پیرنٹس بن سکتے ہیں ۔"
"تمہیں پتا ہے مجھے بلکل بھی برابلم نہیں ہوتی اگر یہ ہوکر (طوائف ) کا بیٹا نہ ہوتا جانتی بھی ہوں یہ الویا کا بیٹا ہے جو لندن کی مشہورِ زمانہ کال گرل ہے اوپر سے اس بچے کے پھیچے ایک بہت بڑا کرمنل پڑا ہے دیکھا تھا اس دن جب تم اس کو لیے کر جارہی تھی 
تمھاری کار پہ اٹیک ہوا تھا شکر کرو بے بی اور تم بچ گئیں میں تم دنوں کو کسی حال میں نہیں کھو سکتا ۔"
ڈیوڈ کربناک لہجے میں بولا 
"پر اس بچہ کا کیا قصور اور اس کا کوئی خیال نہیں رکھ سکتی جتنا میں رکھ سکتی ہوں مجھے یہ بچہ بہت اپنا سا لگتا ہے ڈیوڈ میں اسے نہیں چھوڑ سکتی۔"
ونیسا یہ کہتے ہوئے کمرے میں چلی گئی اور ڈیوڈ نے اپنا سر تھام لیا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"حیا تھینک گاڈ ممی مان گئی جب سے رمیض کا اکسیڈنٹ ہوا ہے میرے تو فائدئے ہونے لگے ہیں ۔"
لائبہ آج اس کے پاس پورے ایک ہفتہ بعد ائی تھی اور اسے خوش خبری سنائی کے ممی کارل اور اس کی شادی پر راضی ہوگئی 
حیا نے اسے آفسوس بھری نظروں سے دیکھا 
"شرم کرو لائبہ ایسے کہتے ہیں اپنے بھائی کے بارے میں ،ایک دفعہ ہارون بھائی کو ٹائی فائیڈ ہوگیا میرا رو رو کر برُا حال ہوگیا تھا ۔"
حیا ایک دم کہتے ہوئے چپ ہوگئی آج اس نے پہلی بار اپنے گھر کے فرد کا ذکر کیا تھا وہ بھی لائبہ کے سامنے 
"حیا تمہارا بھی کوئی بھائی ہے کدھر ہوتا ہے سچ میں تم نے کچھ نہیں بتایا ؟"
حیا چونکی پھر اس سے بولی 
"نکاح کب اور کارل اسلام قبول کرچکا ہے ؟"
لائبہ نے جیسے ہار مانتے ہوئے کہا 
"نکاح نہیں سوِل میرج اور کارل اسلام قبول نہیں کررہا میں نے بھی اس سے فورس نہیں کیا ۔"
آب حیا کو جھٹکا لگا 
"کیا مطلب ہے سولِ میرج ایسے تو شادی نہیں ہوسکتی جب تک کارل مسلمان نہ بن جائیں اور انٹی کیسے مان گئی ایسے تو شادی جائز نہیں ہے لائبہ ۔"
حیا زور سے بولی 
"او کم ان حیا زیادہ دقیانوس نہ بنوں میں اسے فورس نہیں کرسکتی اور میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتی ورنہ مجھے وہ چھوڑ دیں گا اس نے تو مجھے نہیں کہا کے تم کرسچن بن جاوں میں اس کی ریلجن کی رسپیکٹ کرتی ہوں اور وہ میری ۔"
لائبہ ناگواری سے بولی 
حیا کو لائبہ کی سوچ پہ بہت غضہ آیا 
"تمہیں پتا ہے یہ کتنا گناہ ہے تمہیں کارل کی خوشی کے لیے اللّٰلہ کو ناراض کررہی ہوں اور تمہارے بچے ٹکنکلئ کرسچن ہو گے تم ایک مسلمان لڑکی ہوں یہ تمہاری خوش قسمتی ہے اور تم جان بوجھ کر اپنے آپ کو دوزخ میں ُگھسنا چاہتی ہوں ۔"
سٹاپ آٹ حیا تمہیں کوئی رائٹ نہیں ہے اور تم کہنے والی کون ہوں جو مجھے دوزخ کا بتارہی ہوں تم کون سی پاکباز ہوں نہ تمہارے خاندان کا پتا ہے گورا لڑکا تمہیں اپنے گھر لے جاتا ہے پتا نہیں تم نے ہی کوئی ایسی حرکت کی ہوگی اور اپنے آپ کو بچانے کے لیے خودکشی کا ڈرامہ کرلیا کے مجھ پر انگلی نہ اٹھائے 
حیا کا منہ کھل گیا اور ساکت نظروں سے لائبہ کا تلخ انداز دیکھ رہی تھی پھر اس نے سوچا سگے رشتوں نے اس کا یقین نہیں کیا یہ تو پھر بھی غیر ہے 
دل پر جبر رکھ کر حیا فورن ُاٹھی اور پھیچے مڑی کے کسی سے بُری طرح ٹکرائی 
سامنے دیکھا مکث گرے سوٹ میں اس کو تھماتے ہوئے دیکھ کرہا تھا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"کیسا لگا گفٹ ؟"
شاہ زیب نے اسے غور سے گفٹ کو دیکھتے ہوئے کہا
"اچھا ہے ۔"
ہاتھ میں باربی ڈول کو دیکھ کر حیا کو ہنسی بھی ائی او عجیب بھی لگا
"سوری مجھے پتا نہیں تھا کے تم اتنی بڑی ہوگئی ہوں اور تمہیں لڑکیوں کے نہیں لڑکوں کے شوق ہے ۔"
شاہ زیب نے ہنس کر بتایا 
"شاہ زیب بھائی !"
"یار یہ شاہ زیب بھائی کیا لگا رکھا ہے میں تمہارا دوست ہوں تم مجھے زیبی بلایا کرو ۔"
حیا اس کے کہنے پر دنگ رہ گئی 
"آپ مجھ سے سات سال بڑے ہیں میں آپ کو زیبی کیوں بلاو ۔"
"کیوں بھائی سب مجھے زیبی بلاتے ہیں جو مجھ سے چھوٹے بھی ہیں ۔"
"وہ بات اور ہے میں آپ سے بہت چھوٹی ہوں۔"
اس نے نظر ُچراتے ہوئے کہا
"آہ تم لڑکیوں کو بھی ایج کا نا مسلہ ہوتا ہے خیر میں کچھ نہیں ُسنے والا مجھے تم نے زیبی ہی کہنا ہے ورنہ میں تم سے بات نہیں کرو گا ۔"
شاہ زیب ناراضگی سے کہتے ہوئے مڑا 
"ارے ٹھیک آج سے آپ زیبی اوکے اینڈ تھینک یو فور دا گفٹ یہ کافی سپیشل ہے ۔"
حیا شرارت سے مسکرائی 
شاہ زیب مڑا اور اس کی بات پہ ہنس پڑا 
"نہیں او کہی ڈنر کرنے چلتے ہیں پھر میں تمہیں تمہارے مطابق گفٹ دو گا ۔"
"پھر تو آپ کو سپورٹ سینٹر یا گمینگ زون جانا پڑیں گا ۔"
حیا نے مسکرا کر کہا
"او میرے خدایا !"
شاہ زیب نے گہرا سانس لیا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے پہر دروازے پہ زور دار دستک ہوئی 
ونیسا ڈر کر ُاٹھی بستر پر دیکھا ڈیوڈ نہیں تھا وہ دوسرے کمرے میں گئی 
"او مائی گاڈ کدھر گیا !"
وہ اسے آوازیں دینے لگی اور جگہ جگہ ڈھونڈ رہی تھی پھر یاد آیا وہ ہمیشہ ڈر کر بیڈ کے نیچے چھپ جاتا ہے 
وہ سیدھا اپنے بیڈ کے نیچے جھکی دروازے پہ َابھی تک دستک جارہی تھی لیکن اسے اس وقت کچھ ُسنائی نہیں دیں رہا تھا دیکھا وہ وہی بیٹھا ہوا تھا 
ونیسا نے اسے پیار سے بلایا 
"اجاوں بے بی نتھنگ گنا ہپین ٹو یو ۔"
لیکن وہ دروازے کی دستک کی وجہ سے ڈر رہا تھا
اچانک دستک آنا بند ہوگئی تو وہ فورن ڈر کر ونیسا کی آغوش میں اگیا
ونیسا نے اس کا ماتھا چوما اور پیار سے اس کو میٹھے میٹھے الفاظ کانوں میں بولنے لگی جس سے وہ آرام سے سو جائیں لیکن وہ سو نہیں پارہا تھا اس کے لیے سب بھولنا مشکل تھا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا نے اس کا بازو زور سے ہٹایا لیکن مکث نے گرفت مضبوط کرلی 
لائبہ نے ان دنوں کو دیکھا پھر تمسخرا انداز میں حیا کو بولی 
"مجھے اسلام کا بتارہی ہوں کارل تمہیں اس لیے اچھا نہیں لگتا کے وہ غیر مسلم ہے اور خود اس بلینیر گورے کے ساتھ روز تمہارا انکاونٹر ہوتا ہے اور میں بے وقوف ۔۔۔۔۔۔"وہ اتنا کہہ کر چلی گئی 
حیا کی انکھیں جل ُاٹھی اس نے زخمی نظروں سے مکث کو دیکھا جو لائبہ کو اور آب اسے دیکھ رہا تھا 
"میرا بازو چھوڑوں مکث !"
"پہلے مجھے بتاوں وہ کیا کہہ کر گئی ہے ۔"
"نن اف یور کن سرن !"
حیا نے اس کا بازو پوری کوشش سے ہٹایا اور اندر گئی 
"سٹے سی کیا میں آج جلدی لیو لے لو میری طبعیت ٹھیک نہیں ہے !"
"ٹھیک ہے نو برابلم آج کافی لڑکیاں کام پر ہے اس لیے جاو ۔۔"
وہ اپنا یونی فورم چینج کر کے جیسے ہی شاپ سے نکلی 
مکث ابھی تک کھڑا تھا 
حیا کا دل کیا اس خوبصورت ترین بندئے کا منہ بگار کر رکھ دیں جو اس کو چین کا سانس لینے نہیں دیں رہا 
وہ اس کو اگنور کر کے جانے لگی کے مکث سامنے اگیا 
"میری بات سن لو حیا اس میں تمہارا فائدہ ہے ۔"
مکث کی بات نے اس کو سلگا دیا 
"میرے یا تمہارے فائدئے کی مسڑ مارٹن !"
"دیکھوں حیا اس میں ہم دنوں کا فائدہ ہے !"
"شٹ اپ بکواس بند کرو اپنی !"
اس کی انکھیں چھلک پڑی 
مکث کے دل کو کچھ ہوا اس نے حیا کے انسو کو صاف کرنا چاہے تو حیا نے اس کا ہاتھ زور سے جھٹکا 
"میری جان چھوڑ دو پلیز تمہیں اپنے کسی پیارے کا واسطہ میری زندگی پہلی سے مصیبت سے بڑھی ہوئی ہے کیوں تنگ کررہے ہوں مجھے ایک سانس ہی باقی ہے اسے تو میرے خدا پر وقف کرنے دوں ورنہ ۔۔۔۔۔"
"ورنہ کیا حیا ؟"
وہ مڑنے لگی کے مکث نے اس کا بازو تھام لیا 
‏Haya can i just talk to you for only 20 min
مکث کی انکھوں میں التجا اگئی جو کھبی کسی کے لیے نہیں ائی تھی اس کا دل بے بس ہورہا تھا وہ کسی طرح حیا کو حاصل کرنا چاہتا تھا
ﺟﺎﺭﯼ ﮨﮯ
 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney